وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
As for the thief, man or woman, cut off their hands as a requital for what they have earned. [That is] an exemplary punishment from Allah, and Allah is all-mighty, all-wise.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:38
[Pooya/Ali Commentary 5:38] Next to high moral education and deep religious upbringing, it is fear of consequences, as experience proves, that keeps in check the tendency to steal and thieve. Adultery destroys purity of character and rends asunder the peace and harmony of human society. Thievery upsets the social and economic structure of the social life of a community. It snatches away happiness from the people and exposes them to misery. Therefore, these two crimes have been particularly underlined for severe punishment. The penalty prescribed in this verse is a divine statute, and is not to be taken lightly. Adultery and thievery are the "hallmark" of modern (so-called) civilised nations. They have failed to keep these crimes in check because they do not agree with the injunctions prescribed by Islam. One day they will be destroyed by adultery and thievery if not by their nuclear weapons.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:38-40
چور کی سزا
قبل از ایں چند آیات میں ” محارب “ یعنی ڈرادھمکا کر علی الاعلان مسلح ہو کر لوگوں کی جان و مال او رناموس کے خلاف حملہ کرنے والے شخص کے بارے میں احکام بیان ہوئے ہیں ۔ اسی مناسبت کی بنا پر ان آیات میں چور کہ جو مخفی طور پر لوگوں کا مال لے جاتا ہے ، کے بارے میں حکم بیان ہوا ہے ۔ پہلے فرمایا گیا ہے : چورمرد اور عورت کا ہاتھ کاٹ دو (وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا اٴَیْدِیَہُمَا ) ۔ یہاں چور مرد کو چور عورت پر مقدم رکھا گیا ہے چونکہ چوری کے سلسلے میں اصلی عامل زیادہ تر مرد ہوتے ہیں لیکن ارتکاب ِ زنا کے موقع پر زیادہ اہم عامل اور محرک بے لگام عورتین ہوتی ہیں ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے : یہ سزا ان کے اعمال پر ہے جو انھوں نے انجام دئیے ہیں اوریہ خداکی طرف سے عذاب ہے (جَزَاءً بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِنْ اللهِ ) ۔ اس جملہ میں در حقیقت اس طرف اشارہ ہے کہ اول تویہ سزا ان کے اکام کا نتیجہ ہے اور ایسی چیز ہے جو انھوں نے خود اپنے لئے خرید ی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ ایک طرح سے پیش بندی اور حق و عدالت کی طرف باز گشت سے کیونکر ” نکال “کا معنی ہے ایسی سزا جو پیش بندی کے لئے ترک گناہ کے مقصد کے لئے ہو۔ در اصل اس لفظ کا معنی ہے ” لگام “ بعدازاں ہر ا سکام کے لئے استعمال ہو نے لگا جو انحراف اور کج روی سے روکے ۔ آیت کے آخر میں اس لئے منادہ یہ وہم ہو کہ مذکورہ سزا عادلانہ نہیں ، فرمایا گیا ہے : خدا قادر و توانا ہے لہٰذا کوئی وجہ نہیں کہ وہ کسی سے انتقام لے اور حکیم بھی ہے اس لئے وہ کسی کو بلا وجہ نہیں دے(وَاللهُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ) ۔ بعد والی آیت میں ان کے لئے لوٹ آنے کا راستہ کھولتے ہوئے فرماتا ہے : اس ظلم کے بعد جو شخص توبہ کرلے اور اصلاح و تلافی کو راہ اپنائے خدا اسے بخش دے گا کیونکہ وہ بخشنے والا مہر بان ہے ( فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِہِ وَاٴَصْلَحَ فَإِنَّ اللهَ یَتُوبُ عَلَیْہِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ) ۔ کیا توبہ کرنے سے صرف اس کا گناہ بخشا جائے گا یا چوری کی سزا ( ہاتھ کاٹنا) بھی ساقط ہو جائے گی ۔ اس سلسلے میں ہمارے فقہاء میں یہی مشہور ہے کہ اگر وہ اسلامی عدالت میں چوری ثابت ہوجانے سے پہلے کرلے تو چوری کی حد بھی بر طرف ہ وجائے گی لیکن جب دو عادل گواہوں کے ذریعے اس کا جرم ثابت ہوجائے تو پھر تو بہ سے حد ساقط نہیں ہو گی ۔ در اصل حقیقی توبہ جس کی طرف آیت میں اشارہ کیا گیا ہے وہ ہے جو عدالت میں ثبوت جرم سے پہلے انجام پائے ورنہ تو ہر چیز چور جب اپنے آپ کو سزا کے سامنے پائے گا اظہار توبہ کرے گا اور اس طرح تو کسی پر سزا جاری ہی نہ ہوگی ۔ دوسرے لفظوں میں ” اخباری توبہ “وہ ہے جو شرعی عدالت میں جرم ثابت ہونے سے پہلے انجا م پائے ورنہ ” اضطراری توبہ “ ہو گی اور اضطراری توبہ تو ایسی ہے جسے عذاب الہٰی یا آثار موت دیکھ کر کی جائے اور ایسی توبہ کی کوئی قیمت نہیں ۔ چوروں کے بارے میں توبہ کا حکم بیان کرنے کے بعد روئے سخن اسلام کے عظیم پیغمبر کی طرف کیا گیا ہے ، فرمایا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا آسمانوں اور زمین کا مالک ہے ا ور جس طرح مناسب سمجھتا ہے ان میں تصرف کرتا ہے ، جس شخص کو سزا کا مستحق سمجھتا ہے سزا دیتاہے اور جسے بخشش کے لائق سمجھتا ہے بخش دیتاہے اور وہ ہر چیزپر قدرت رکھتا ہے ( اٴَلَمْ تَعْلَمْ اٴَنَّ اللهَ لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ یُعَذِّبُ مَنْ یَشَاءُ وَیَغْفِرُ لِمَنْ یَشَاءُ وَاللهُ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:38-40
چند اہم نکات
۱۔ چور کو سزا دینے کی شرائط: دیگر احکام کی طرح اس حکم میں قرآن نے بنیادی بات بیان کی ہے اس کی تفصیل سنت ِ پیغمبر پر چھوڑدی ہے ، روایاتِ اسلامی سے جو کچھ معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ ہاتھ کاٹنے کی اس اسلامی حد کے اجراء کے لئے بہت سی شرائط ہیں جن کے بغیر اسے جاری کرنا جائز نہیں ہے ان میں سے کچھ شرائط ہیں : ۱) چوری کیاہو امال کم از کم ایک چوتھائی دینار کی مالیت کا ہونا چاہئیے۔ ۱ ۲) مال محفوظ جگہ سے مثلاً گر، دوکان یا اندر کی جیب سے چوری کیا جائے ۔ ۳) چوری قحط سالی کے زمانے میں جبکہ لوگ بھوک زدہ ہو تے ہیں او ر انھیں کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی ، نہ ہوئی ہو۔ ۴) چور عاقل و بالغ ہو اور ا س نے حالت ِ اختیار میں یہ کام کیا ہو۔ ۵)باپ کا بیٹے کے مال سے چوری کرنا یا ایک شریک کا شرکت والے مال سے چوری کرنا اس حکم میں نہیں آتا ۔ ۶)باغ کے درختوں سے بھل کی چوری کو بھی اس حکم سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ۔ ۷) ہر وہ موقع جہاں چور کے لئے اشتباہ کا احتمال ہو کہ اس نے دوسرے کے مال کو اشتباہ سے اپنا مال سمجھتے ہوئے لیا ہے ، بھی اس حکم سے مستثنیٰ ہو گا ۔ کچھ اور شرائط بھی ہیں جن کی تفصیل فقہی کتب میں آئی ہے ۔ اشتباہ نہ ہو کہ مذکورہ شرائط کی صورت ہی میں چوری حرام ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ مذکورہ حد کا اجراء ان شرائط سے مخصوص ہے ورنہ چوری تو ہر شکل و صورت ، ہر مقدار، اور ہر کیفیت سے اسلام میں حرام ہے ۔ ۲۔ ہاتھ کاٹنے کی مقدار : روایات اہل بیت علیہم السلام سے استفادہ کرتے ہوئے ہمارے فقہا میں مشہور یہی ہے کہ دائیں ہاتھ کی صرف چار انگلیان کاٹی جائیں نہ کہ اس سے زیادہ۔ اگر چہ فقہاء اہل سنت اس سے زیادہ کے قائل ہیں ۔ ۳۔ کیا یہ سخت سزا ہے ؟ : مخالفین ِ اسلام اور کچھ ناواقف مسلمانوں کی طرف سے بارہا یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ یہ اسلامی سزا بہت سخت ہے اور اگرآج کی دنیا میں یہ سزا نافذ ہو جائے تو بہت سے ہاتھ کٹ جائیں ، علاوہ ازیں اس حکم کے اجراء سے ایک شخص نہ صرف اپنے بدن کے ایک اہم حصے سے محروم ہو جائے گا بلکہ ساری عمر کے لئے لوگوں کی انگشت نمائی کاشکار ہو جائے گا ۔ اس سوال کے جواب میں ان حقائق کی طرف توجہ کرنا چاہئیے ۔ ۱) جیسا کہ ہم نے اس حکم کی شرائط میں کہا ہے کہ یہ حکم ہر چور کے لئے نہیں ہے ، بلکہ چوروں کے ایک خطر ناک گروہ کے لئے ہے ۔ ۲) اس جرم کے ثبوت کے لئے اسلام میں چونکہ خاص شرائط معین ہیں لہٰذا اس سے بہت کم لوگوں پر یہ سزا جاری ہو گی ۔ ۳) کم معلومات رکھنے والے لوگ جو بہت سے اعتراضات اسلامی قوانین پر کرتے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک حکم کو مستقل طور پر دوسرے تمام احکام سے الگ کرکے بحث کرتے ہیں ۔ بالفاظ دیگر وہ اس حکم کو سوفی صد غیر اسلامی معاشرے میں فرض کرتے ہیں لیکن اگر ہم توجہ رکھیں کہ اسلام صرف اسی ایک حکم کا نام نہیں بلکہ وہ احکام کے ایک مجموعے کا نام ہے اور اگر یہ تمام احکام کسی معاشرے پر حکمران ہوں تو عدالت ِ اجتماعی وجود میں آجائے ، فقر و تندستی کے خلاد جنگ کی جائے، تعلیم و تربیت صحیح ہو اور آداب و اخلاق ، آگاہی، بیداری اورتقویٰ کا دور دورہ ہو۔ اس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس حکم کے زیر اثر آنے والے لوگوں کی تعدا کس قدر کم ہوگی ۔ کہیں اشتباہ نہ ہو، مقصد یہ نہیں کہ آج کے مختلف معاشروں میں یہ حکم جاری نہ ہو بلکہ مراد یہ ہے کہ فیصلہ اور قضاوت کرتے وقت ان تمام پہلو وٴں کو نظر میں رکھنا چاہئیے۔ خلاصہ یہ کہ حکومت ِ اسلامی کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے تمام افراد کو بنیادی ضروریات مہیا کرے ، انھیں ضروری تعلیم دلائے اور ان کی اخلاقی تربیت کرے واضح ہے کہ پھر ایسے ماحول میں غلط کار افراد بہت کم ہوں گے ۔ ۴) اگر آج ہم دیکھتے ہیں کہ چور زیادہ ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسا حکم جاری نہیں ہوا لہٰذا جس علاقے میں اسلامی حکم جار ی ہوتا ہے ( مثلاً سعودی عرب میں گذشتہ سالوں میں یہ حکم جاری ہوتا تھا) وہاں بہت اچھا امن و امان ہو تا ہے ۔ خانہ خدا کے بہت سے زائرین سوٹ کیس ، بٹوے اور تھیلے حجاز کے گلی کوچوں میں پڑے دیکھتے ہیں انھیں کوئی شخص ہاتھ لگانے کی جراٴت نہیں کرتا یہاں تک کہ گمشدہ چیزوں کے ادارے کے مامورین آتے ہیں اور انھیں اس ادارے میں لے جاتے ہیں او رمالک نشانی بتا کر لے جاتے ہیں اسی طرح رات کو بغیر در وازوںکے اکثر دکانیں کھلی پڑی رہتی ہیں او رکوئی ان میں چوری نہیں کرتا ۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ اسلامی حکم اگر صدیوں تک جاری ہوتا رہا اور اس کی پناہ میں صدر اسلام کے مسلمان امن امان کی زندگی بسر کرتے رہے لیکن صد یوں میں گنتی کے صرف چند افراد پر یہ حکم جاری ہوا ۔ ایک ملت کی صد یوں کی زندگی کے لئے چند غلط کار افراد کے ہاتھ کاٹ دیئے جائیں تو کیا یہ کوئی زیادہ قیمت ہے ۔ ۴۔ ایک اعتراض کا جواب : بعض لوگ کہتے ہیں کہ ایک چوتھائی دینار کی چوری پر حد کا اجراء کیا مسلمان کی جان کے بارے میں اعتراضات کے اسلامی احکام کے منافی نہیں کیونکہ اسلام تو مسلمان کے لئے ہر قسم کی گزند سے محفوظ رہنے کا قائل ہے اور ایک انسان کی چار انگلیان کاٹنے کی دیت اسلام نے بہت زیادہ معین کی ہے ۔ جیساکہ بعض تواریخ سے معلوم ہوتا ہے ، اتفاقاً یہی سوال اسلام کے ایک عظیم عالم مرحوم سید مرتضیٰ علم الھدیٰ سے تقریباً ایک ہزار سال پہلے ہوا تھا ، سائل نے شعر کی صورت میں اپنا سوال یوں پیش کیا : ید بخمس مئین عجد و دیت ما بالھا قطعت فی ربع دینار یعنی وہ ہاتھ جس کی دیت پانچ سو دینار ہے ۔ (توجہ رہے کہ پانچسو دینار پانچ انگلیاں کاٹنے پر ہے ، لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں فقہائے اہل بہت (علیه السلام) کے نزدیک چوری میں چار انگلیاں کاٹی جاتی ہیں ) ۔ ایک چوتھائی دینار کے بدلے کیوں کاٹا جاتا ہے ۔ سید مرتضیٰ نے اس کے جواب میں یہ شعر ارشاد فرمایا: عز الامانة اغلا ھا و ارخصھا ذل الخیانة فانھم حکمة الباری یعنی امانت کی عزت نے اس ہاتھ کو گراں قیمت بنادیا تھا لیکن خیانت کی ذلت نے اس کی قیمت گرادی ۔ تم ذرا حکمت ِ الہٰی کو سمجھو۔ ۲ ۴۱۔ یَااٴَیُّہَا الرَّسُولُ لاَیَحْزُنْکَ الَّذِینَ یُسَارِعُونَ فِی الْکُفْرِ مِنْ الَّذِینَ قَالُوا آمَنَّا بِاٴَفْوَاہِہِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوبُہُمْ وَمِنْ الَّذِینَ ہَادُوا سَمَّاعُونَ لِلْکَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِینَ لَمْ یَاٴْتُوکَ یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِہِ یَقُولُونَ إِنْ اٴُوتِیتُمْ ہَذَا فَخُذُوہُ وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُوا وَمَنْ یُرِدْ اللهُ فِتْنَتَہُ فَلَنْ تَمْلِکَ لَہُ مِنْ اللهِ شَیْئًا اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ لَمْ یُرِدْ اللهُ اٴَنْ یُطَہِّرَ قُلُوبَہُمْ لَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَلَہُمْ فِی الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیمٌ ۔ ۴۲۔ سَمَّاعُونَ لِلْکَذِبِ اٴَکَّالُونَ لِلسُّحْتِ فَإِنْ جَائُوکَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ اٴَوْ اٴَعْرِضْ عَنْہُمْ وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْہُمْ فَلَنْ یَضُرُّوکَ شَیْئًا وَإِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ إِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ۔ ترجمہ ۴۱۔ اے ( خدا کے ) رسول! وہ لوگ جو زبان سے کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور ان کے دل ایمان نہیں لائے اور وہ راہ کفرِ کفر میں ایک دوسرے پر سبقت کرتے ہیں ، تم ان کے بارے میں غم نہ کرو اور یونہی یہودیوں کے بارے میں ( جو اسی راہ پر چلتے ہیں ) وہ زیادہ آپ کی باتیں سنتے ہیں تاکہ تمہاری تکذیب کے لئے کوئی بات ہاتھ آجائے وہ دوسرے لوگوں کے جاسوس ہیں جو لوگ خود تمہارے پاس نہیں آئے وہ باتوں کو ان کی جگہ سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اگر ( جو ہم چاہتے ہیں ) تمہیں دیں ( او رمحمد تمہاری خواہش کے مطابق فیصلہ کریں ) تو اسے قبول کرلو، ورنہ دوری اختیار کرو( اور اس پر عمل نہ کرو )اور جسے خدا ( اس کے پے در پے گناہوں کی وجہ سے )سزا دینا چاہے تو کوئی اسے بچا نہیں سکتا وہ ایسے لوگ ہیں کہ خدا ان کے دلوں کی پاکی نہیں چاہتا ۔ انھیں دنیا میں رسوائی نصیب ہو گی اور آخرت میں وہ عذاب عظیم سے دو چار ہو ں گے ۔ ۴۲۔ وہ تمہاری باتیں بہت غور سے سنتے ہیں تاکہ انھیں جھٹلائیں وہ مال حرام زیادہ کھاتے ہیں ۔ اگر وہ تمہارے پاس آئیں تو ان کے درمیان قضاوت کرو یا ( اگر مصلحت ہو ) تو انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دو اور اگر ان سے صرف نظر کرلو تو وہ تمہیں نقصان نہیں پہنچاسکتے اور ار ان کے درمیان فیصلہ کرو تو عدالت سے کام لو کہ خدا عدل کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔ ۱۔دینار سے مراد سکہ دار سونے کا ایک مثقال ِ شرعی اور مثقال شرعی برابر ہے ۱۸ چنے کے دانوں کے یعنی عام مثقال کا ۴/۳حصہ ۲۔ تفسیر آلوسی جلد ۲ صفحہ ۶ پر بھی یہ واقعہ منقول ہے لیکن وہاں سید م