إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لِيَفْتَدُوا بِهِ مِنْ عَذَابِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
Indeed if the faithless possessed all that is on the earth, and as much of it besides, to redeem themselves with it from the punishment of the Day of Resurrection, it shall not be accepted from them, and there is a painful punishment for them.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:36
[Pooya/Ali Commentary 5:36] All the riches of the world, and two times more, shall be of no use if the disbelievers offer it as ransom on the day of judgement to save themselves from the painful punishment of the fire wherein they shall abide for ever.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:36-37
تفسیر
گذشتہ آیت میں مومنی کو تقویٰ ، راہ جہاد اور وسیلہ تلاش کرنے کا حکم دیا گیا تھا اب ان دو آیات میں گذشتہ حکم کا سبب بیان کرنے کے حوالے سے بے ایمان اور آلودہٴ گناہ افراد کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے : جو لوگ کافر ہو گئے ہیں اگر چہ روئے زمین میں ہے اس جتنا سر مایہ رکھتے ہوں اور اسے روز قیامت سے سزا سے نجات کے لئے دے دیں تو ان سے قبول نہیں کیا جائے گا او ران کے لئے دردناک عذاب ہو گا ( إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْ اٴَنَّ لَہُمْ مَا فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا وَمِثْلَہُ مَعَہُ لِیَفْتَدُوا بِہِ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْہُمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ) ۔ یہی مضمون سورہٴ رعد آیہ ۴۷ میں بھی ہے ۔ اس سے خدائی سزا کے بارے میں انتہائی تاکید ظاہر ہو تی ہے اور یہ کسی بھی سرما ئے اور طاقت کے ذریعےاس سے رہائی حاصل نہیں کی جاسکتی چاہے وہ سرمایہ ساری زمین کے برابر یا اس سے بھی زیادہ کیوں نہ ہو، نجات فقط ایمان، تقویٰ ، جہاد اور عمل ہی سے حاصل ہو سکتی ہے ۔ اس کے بعد اس سزا کے دائمی ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ ہمیشہ چاہیں گے کہ جہنم کی آگ سے باہر نکل آئیں لیکن نکل نہ سکیں گے اور ان کی سزا باقی اور برقرار رہے گی ( یُرِیدُونَ اٴَنْ یَخْرُجُوا مِنْ النَّارِ وَمَا ہُمْ بِخَارِجِینَ مِنْہَا وَلَہُمْ عَذَابٌ مُقِیمٌ) ۔ دائمی سزا اور کفارکے دوزخ میں ہمیشہ رہنے کی بحث انشاء اللہ سورہ ہود آیہ ۱۰۸ کے ذیل میں آئے گی ۔ ۳۸۔ وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا اٴَیْدِیَہُمَا جَزَاءً بِمَا کَسَبَا نَکَالًا مِنْ اللهِ وَاللهُ عَزِیزٌ حَکِیمٌ۔ ۳۹۔ فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِہِ وَاٴَصْلَحَ فَإِنَّ اللهَ یَتُوبُ عَلَیْہِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ۔ ۴۰۔ اٴَلَمْ تَعْلَمْ اٴَنَّ اللهَ لَہُ مُلْکُ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ یُعَذِّبُ مَنْ یَشَاءُ وَیَغْفِرُ لِمَنْ یَشَاءُ وَاللهُ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیرٌ۔ ترجمہ ۳۸۔چور مرد اور چور عورت کا ہاتھ اس کے انجام دئیے گئے عمل کی پاداش میں خدائی سزا کے طور پر کاٹ دو، خدا توانا اور حکیم ہے ۔ ۳۹۔لیکن جو شخص ظلم کرنے کے بعد توبہ ، اصلاح اور تلافی کرلے توخدا اس کی توبہ قبول کرلے گا ، کیونکہ خدا بخشنے والا مہر بان ہے ۔ ۴۰۔کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خدا آسمانوں اور زمین ک امالک اور حکمران ہے جسے چاہتا ہے ( اور مستحق سمجھتا ہے ) سزا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ( او راہل سمجھتا ہے ) بخش دیتا ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے ۔