يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
O you who have faith! Be wary of Allah, and seek the means of recourse to Him, and wage jihad in His way, so that you may be felicitous.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:35
[Pooya/Ali Commentary 5:35] Wasilah is a means of access to a thing or a being. If Allah had willed He could have guided mankind directly through inspiration, but in His infinite wisdom, He had not deemed it desirable. He selected and appointed His representatives to convey His message and laws to people and administer their affairs in every age. Please refer to pages 1 to 7, and the commentary of al Baqarah: 2 to 5, 30 to 38, 48, and 124 to know that the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt are the only means of approach to Allah. Thus wasilah or means of access to Allah is to faithfully follow the Holy Prophet and the holy Imams of his holy house, who have been thoroughly purified by Allah (Ahzab: 33). The Holy Prophet said: "I and Ali are from one divine light." "I will soon be called back, so I will have to go away from you, but I leave behind, amid you, the thaqalayn (two weighty indispensable influential authorities), the book of Allah and my Ahl ul Bayt. Should you be attached to these two, never, never shall you go astray, after me, for verily these two will never be separated from each other; and, joined together, they shall meet me at the spring of Kawthar." "My Ahl ul Bayt amongst you are like the ark of Nuh. He who sails on it will be safe; but he who holds back shall be drowned and lost.".
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:35
توسل کی حقیقت
اس آیت میں روئے سخن اہل ایمان کی طرف ہے اور نجات کے لئے انھیں تین حکم دیئے گئے ہیں پہلے فرمایا گیا ہے ۔ اے ایمان والو! تقویٰ اور پرہیزگاری اختیار کر(یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ ) ۔ اس کے بعد حکم دیا گیا ہے تقرب الہٰی کا وسیلہ اختیار کرو( وَابْتَغُوا إِلَیْہِ الْوَسِیلَةَ) آخر میں راہ خدا میں جہاد کا حکم دیا گیا ہے ( وَجَاہِدُوا فِی سَبِیلِہِ)ان سب احکام پر عمل کا نتیجہ ہو گا کہ تم نجات پا جاوٴ گے (لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ) ۔ اس آیت میں جس موضوع کو زیر بحث لایا جانا چاہئیے وہ اس میں اہل ایمان کو وسیلہ تلاش کرنے کے لئے دیا جانے والا حکم ہے ۔ ” وسیلہ “ قرب حاصل کرنے کو کہتے ہیں یا اس چیز کو کہتے ہیں جو لگاوٴ اور رضا و رغبت سے دوسرا کا قرب حاصل کرنے کا باعث بنے لہٰذا آیت میں لفظ ”وسیلہ “ ایک وسیع مفہوم کو حامل ہے اس کے مفہوم میں ہر وہ کام اور چیز شامل ہے جو پر ور دگار کی بار گاہِ مقدس سے قریب ہونے کا باعث ہو اس میں اہم ترین خدا اور پیغمبر اکرم پر ایمان لانا او رجہاد کرنا، ،نیز نماز، زکوٰة،روزہ اور خانہ خدا کا حج ، اسی طرح صلہ رحمی، راہ خدا میں پنہاں ویا آشکار خرچ کرنا اور ایسا اچھا اور نیک کام اس کے مفہوم میں داخل ہے ہے جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ میں فرمایا ہے : ان افضل ماتو سل بہ المتوسلون الیٰ اللہ سبحانہ و تعالیٰ الایمان بہ و برسلہ والجھاد فی سبیلہ فانہ ذروة الاسلام، وکلمة الاخلاص فانھا الفطرة و اقام الصلوٰة فانھا الملة و ایتاء الزکوٰة فانھا فریضة واجبة و صوم شھر رمضان فانہ جنة من العقات وحج البیت و اعتمارہ فانھما ینتفیان و یرحضان الذنب، وصلة الرحم فانھا مثراة فی المال و مغساة فی الاجل، و صدقہ السر فانھا تکفر الخطینة و صدقة العلانیة فانھا تدفع میّة السوء و صنائع المعروف فانھا تقی مصارع الھوان۔ یعنی بہترین چیز اجس کے ذریعے اور وسیلے سے تقرب ِ الہٰی حاصل ہو سکتا ہے وہ خدا اور اس کے پیغمبر پر ایمان لانا اور جہاد کرنا ہے کہ جو ہسارِ اسلام کی چوٹی ہے اسی طرح جملہٴ اخلاص ( لاالہ الااللہ ) کہ جو وہی فطرتِ توحید ہے اور نما ز قائم کرنا کہ جو آئین اسلام ہے اور زکوٰة کہ جو واجب فریضہ ہے او رماہ رمضان کے روزے کہ جو گناہ اور عذاب ِ خدا کے سامنے سپر ہیں اور حج و عمرہ کہ جو فقرو فاقہ اور پریشانی کو دور کرتے ہیں اور گناہوں کو دھو ڈالتے ہیں اور صلہ رحمی کہ جو مال و ثروت کو زیادہ اور زندگی کو طویل کرتا ہے اور مخفی طور پر خرچ کرنا کہ جو گناہوں کی تلافی کا باعث بنتا ہے اور ظاہری طور پر خرچ کرنا کہ جو ناگہانی اور بری موت کو دور کرتا ہے اور نیک کہ جو انسان کو ذلت و خواری کے گڑھے میں گرنے سے بچا تے ہیں ( سب تقرب الہٰی کا وسیلہ ہیں ) یہ یاد وہانی ضروری ہے یہاں یہ مقصد ہر گز نہیں کہ کوئی چیز ذات ِ پیغمبر یا امام سے مستقل طور پر مانگی جائے بلکہ مراد اعمال ِ صالح بجا لانا ہے پیغمبر و امما کی پیروی کرنا ہے ، ان کی شفاعت کا حصول ہے یا پھر ان کے مقام و مکتب کا واسطہ دینا ہے ( جوکہ خود ایک قسم کا احترام ہے اور اس سے واسطہ دینے والے کی نظر میں ان کی حیثیت و مقام کی اہمیت ظاہر ہو تی ہے اور یہ بھی ایک قسم کی خدا کی عبادت ہے ) اور اس ذریعے خدا سے مانگا جائے تو اس میں کوئی بوئے شرک نہیں اور نہ ہی یہ قرآن کی دوسری آیات کے خلاف ہے اور نہ ہی یہ زیر بحث آیت کے عمومی مفہوم سے متجا وز ہے ( غور کیجئے گا) ۔ انبیاء، آئمہ اور خدا کے نیک بندوں کی شفاعت بھی کہ جو صراحت ِ قرآنی کے مطابق تقرب ِ الہٰی کا ذریعہ ہے وسیلہ کے وسیع مفہوم میں داخۺ ہے ۔ اسی طرح پیغمبر اور امام کی پیروی بھی بار گاہ ِ الہٰی کی قربت کا موجب ہیں یہاں تک کہ خدا کو انبیاء، آئمہ اور صالحین کے مرتبہ و مقام کا واسطہ بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے کیونکہ ان کا ذکر در اصل ان کے مقام او رمکتب کو اہمیت دینے کے مترادف ہے ۔ جن لوگوں نے زیر نظر آیت کو ان کے مفاہیم میں سے کسی ایک کے ساتھ مخصوص قرار دیا ہے ان کے پاس در حقیقت اس تخصیص کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے کہ کیونکہ جیسے ہم کہہ چکے ہیں لغوی مفہوم کے لحاظ سے ہر چیز جو تقرب کا سبب بنے ” وسیلہ “ ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:35
چند قابل توجہ باتیں
۱۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ توسل سے مراد یہ نہیں کہ کوئی شخص پیغمبر یا آئمہ (علیه السلام) سے حاجت طلب کرے بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کے مقام و منزلت کو بار گاہ ِ خدا میں رابطے کا وسیلہ قرار دے یہ در حقیقت خدا کی طرف ہی توجہ کرنا ہے کوینکہ پیغمبر کا احترام بھی اس بنا پر ہے کہ وہ خدا کے بھیجے ہوئے تھے اور انھوں اسی راہ میں قدم بڑھا یا ہے ہمیں ایسے لوگوں پر تعجب ہوتا ہے کہ جو اس قسم کے توسل کو شرک کی ایک قسم خیال کرتے ہیں حالانکہ شرک تو یہ ہے کہ خدا کی صفات اور افعال میں کسی کو خدا کا شریک سمجھا جائے لیکن ایساتوسل جس کا ہم نے ذکر کیا ہے کسی طرح سے بھی شرک سے مشابہ نہیں ہے ۔ ۲۔ بعض لوگ چاہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم اور آئمہ کی حیات اور وفات میں فرق کریں حالانکہ مذکورہ روایات میںسے اکثر وفات کے بعد کے زمانے سے مربوط ہیں سے قطع نظر بھی ایک مسلمان کی نظر میں انبیاء اور آئمہ علیہم السلام وفات کے بعد بر زخ میں ایسی حیات رکھتے ہیں جیسی قرآن نے شہداء کے بارے میں بیان کی ہے اور کہا ہے : انھیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں ۔( آل عمران ۱۶۹) ۳۔ بعض پیغمبراکرم سے دعا کی درخواست کرنے اور خدا کو ان کے مقام کی قسم دینے میں بھی فرق پر اصرار کرتے ہیں وہ دعا کی درخواست کو جائز سمجھتے ہیں اور اس کے علاوہ کو ممنوع سمجھتے ہیں حالانکہ منطقی طور پر ان میں کوئی فرق نہیں ۔ ۴۔ اہل سنت کے بعض مولفین اور علماء خصوصاً وہابی حضرات بڑی ہٹ دھرمی سے توسل کے سلسلے میں وارد ہونے والی روایات کو ضعیف ثابت کرنے کے در پے رہتے ہیں ۔ وہ فضول اور بے اعتراضا ت کے ذریعے انھیں طاق نسیان کردیا چاہتے ہیں ۔ ان کی بحث اس طرح سے ہوتی ہے کہ ایک غیر جانب دار شخص محسوس کرتا ہے کہ عقیدہ انھوں نے پہلے بنا لیا ہے اور پھر اپنے عقیدے کو رویات ِ اسلامی پر ٹھونسنا چاہتے ہیں اور جو کچھ ان کے عقیدے کے خلاف ہے اسے راستے سے ہٹا دینا چاہتے ہیں حالانکہ ایک محقق ایسی غیر منطقی اور تعصب آمیز بحث کو ہر گز قبول نہیں کرسکتا ۔ ۵۔جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں توسل والی روایات حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں یعنی اس قدر زیادہ ہیں کہ ہمیں اسناد کی تحقیق سے بے نیاز کردیتی ہیں ۔ علاہو ازیں ان میں صحیح روایات بھی بہت سی ہیں لہٰذا بعض دیگرکی اسناد میں ردو قدح کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ ۶۔ جو کچھ ہم نے کہا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ رویات جو اس آیہ کے ذیل میں وارد ہوئی ہیں اور ان میں ہے کہ پیغمبر اکرم لوگوں سے فرماتے تھے کہ خدا سے میرے لئے وسیلہ کی دعا کرو ۔ یاکتاب کافی میں حضرت علی (علیه السلام) کا یہ فرمان کہ ” وسیلہ “ جنت میں بالاترین مقام ہے ایسی روایات آیت کی مذکورہ بالا تفسیر کے منافی نہیں کیونکہ جیسے ہم نے بار ہا نشاندہی کی ہے ، وسیلہ میں تقرب ِ پر وردگار کا ہر مفہوم شامل ہے اور خدا سے پیغمبر اکرم کا تقرب اور جنت میں بلند ترین درجہ اس کا ایک مقام ہے ۔ ۳۶۔ إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا لَوْ اٴَنَّ لَہُمْ مَا فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا وَمِثْلَہُ مَعَہُ لِیَفْتَدُوا بِہِ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیَامَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْہُمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ۔ ۳۷۔ یُرِیدُونَ اٴَنْ یَخْرُجُوا مِنْ النَّارِ وَمَا ہُمْ بِخَارِجِینَ مِنْہَا وَلَہُمْ عَذَابٌ مُقِیمٌ۔ ترجمہ ۳۶۔جو لوگ کافر ہو گئے ہیں ، اگر روئے زمین میں جو کچھ ہے اس کے برابر ان کے پاس ہو اور وہ روز قیامت سزا سے نجات کے لئے فدیہ کے طور پر دے دیں تو بھی ان سے قبول نہیں کیا جائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا ۔ ۳۷۔ وہ ہمیشہ چاہیں گے کہ آگ سے نکل آئیں لیکن وہ اس سے نکل نہ پائیں گے ، اور ان کے لئے پائیدارعذاب ہوگا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:35
روایات ِ اسلامی اور توسل
بہت سی شیعہ سنی روایات سے بھی یہ بات واضح ہو تی ہے کہ توسل کے مذکورہ مفہوم میں کوئی اشکام نہیں ہے بلکہ یہ ایک اچھا طریقہ شمار ہوتا ہے ۔ ایسی روایات بہت زیادہ ہیں اور بہت سی کتب میں مذکورہیں ۔ ہم نمونہ کے طور پر اہل سنت کی کتب سے چند روایات نقل کرتے ہیں : ۱۔ کتاب ” وفاء الوفا“ اہل سنت کے ایک مشہور عالم سمبودی کی تالیف ہے اس کتاب میں ہے : بار گاہ خدا میں رسول اللہ اور ان کے مقام و مرتبہ کے وسیلے سے آپ کی والادت سے پہلے ، آپ کی ولادت کے بعد ،آپ کی رحلت کے بعد ، عالم برزخ کے دوران میں اور قیامت کے دن ، شفا عت طلب کرنا جائز ہے ۔ اس کے بعد وہ اس روایت کو نقل کرتے ہیں جس میں ہے کہ حضرت آدم(علیه السلام) نے پیغمبر اسلام کو وسیلہ قرار دیا چونکہ آپ پیغمبراسلام کے آئندہ پیدا ہونے کے بارے میں جانتے تھے۔ حضرت آدم (علیه السلام) نے بارگاہِ الہٰی میں یوں عرض کیا: ”یارب اسئلک بحق محمد لما غفرت لی “ خدا وند!بحق محمد تجھ سے در خواست کرتا ہوں کہ مجھے بخش دے 1 اس کے بعد صاحب ” وفا ء الوفاء“ نے ایک اور حدیث ، راویانِ حدیث کی ایک جماعت جس میں نسائی اور ترمذی جیسے مشاہیر علماء شامل ہیں کے حوالے سے پیغمبر اکرم کی زندگی کے دوران میں توسل کے جواز کے بارے میں بطور شاہد نقل ہے حدیث کا خلاصہ یہ ہے : ایک نابینا نے پیغمبر اکرم سے اپنی بیماری سے شفا کے لئے دعا کی درخواست کی تو پیغمبر اکرم نے اسے حکم دیا کہ اس طرح دعا کرو۔ ”اللھم انی اسئلک و اتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمة یا محمد انی توجھت بک الیٰ ربی فی حاجتی لتقضی لی اللھم شفعہ فی “ یعنی خدا یا ! میں تجھ سے تیرے پیغمبر جو نبی ٴ رحمت ہے کے صدقے میں سوال کرتا ہوں اور تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ، اے محمد! میں آپ کے وسیلے سے اپنی حاجت روائی کے لئے اپنے پروردگار کی طرف متوجہ ہوتا ہوں خدا یا! انھیں میرا شفیع قرار دے ۔ 2 اس کے بعد صاحب الوفاء الوفاء نے آنحضرت کی وفات کے بعد آپ سے توسل کے جواز میں یہ روایت نقل کی ہے : حضرت عثمان کے زمانے میں ایک حاجت مند پیغمبراکرم کی قبر کے پاس آیا اور نماز پڑھ کر اس نے اس طرح دعا کی : ”اللھم انی اسئلک و اتوجہ الیک بنبینا محمد نبی الرحمة یا محمد انی اتوجہ بک الیٰ ربک ان تقضی حاجتی “ یعنی خدا وندا ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اور اپنے پیغمبر جو نبی ِ رحمت کے وسیلے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں ۔ اے محمد ! میں آپ کے پر وردگار کی طرف متوجہ ہوتا ہوں تاکہ میری مشکل آسان ہو جائے۔ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ فوراً اس کی مشکل حل ہو گئی ۔ 3 ۲۔ کتاب ”التوصل الیٰ الحقیقة التوسل“ کا موٴلف نے جو توسل کے بارے میں بہت سخت گیر ہے ، ۲۶ احادیثمختلف کتب اور مصادر سے نقل کی ہیں جن سے توسل کا جواز ظاہر ہوتا ہے اگر چہ موصوف نے ان احادیث کی اسناد میں کیڑے نکالنے کی کوشش کی ہے لیکن واضح ہے کہ روایات جب بہت زیادہ ہوں اور حد تواتر تک پہنچ جائیں تو پھر سند حدیث میں کوئی خدشہ اور ردو قدح کی گنجائش باقی نہیں رہتی اور توسل و وسیلہ کے بارے میں منابع اسلامی میں مذکورہ روایات حد تواتر سے بھی زیادہ ہیں ۔ ان میں سے ایک روایت صواعق میں اہل سنت کے مشہور امام شافعی سے نقل کی گئی ہے وہ اہل بیت ِ رسول سے متوسل ہونے کے بارے میں کہتے ہیں : آل النبی ذریعتی وھم الیہ وسیلتی ارجو بھم اعطی عنداً بید الیمین صحیفتی اہل بیت رسول میرا وسیلہ ہیں ۔ وہ اس کی بار گاہ میں میرے تقرب کا ذریعہ ہیں میں امید کرتا ہوں کہ ان کے ذریعے سے کل قیامت کے دن میر انامہ اعمال میرے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا ۔ 4 نیز بیہقی سے صاحب ِ صواعق نے نقل کیا ہے کہ خلیفہ دوم کی خلافت کے زمانے میں ایک مرتبہ قحط پڑگیا ، حضرت بلاچند صحابہ کے ساتھ پیغمبراکرم کی قبر انور کے پاس آئے اور یوں کہنے لگے : ” یا رسول اللہ استسق لامتک فانھم قد ھلکوا “ یعنی اے رسول خدا ! اپنی امت کے لئے اپنے خدا سے بارانِ رحمت طلب کیجئے کیونکہ ممکن ہے کہ وہ ہلاک ہو جائے۔ 5 یہاں تک کہ ابن حجر سے کتاب” الخیرات الحسان “ میں منقول ہے کہ امام شافعی جن دنوں بغداد میں تھے امام ابو حنیفہ کی زیارت کے لئے گئے اور اپنی حاجات کے لئے ان سے متوسل ہو ئے ۔ 6 نیز صحیح دارمی میں ابو الجوزاء سے منقول ہے : ایک سال مدینہ میں سخت قحط پڑا تو بعض لوگوں نے حضرت عائشہ سے شکایت کی ، انھوں نے کہا: قبر پیغمبر کے اوپر چھت میں ایک سوراک کریں تاکہ قبر پیغمبر کی بر کت سے خدا کی طرف سے بارش نازل ہو، ان لوگوں نے ایسا کیا تو بہت زیادہ بارش برسی ۔ تفسیر آلوسی میں مندرجہ بالا احادیث میں سے متعدد نقل کی گئی ہیں اس کے بعد ان کاتفصیلی تجزیہ کیا گیا ہے حتی کہ ان احادیث کے بارے میں سخت رویہ اختیار کیا گیا ہے آخر میں مجبوراً صاحب مقامِ پیغمبر سے متوسل ہونے سے نہیں روکتا ، خواہ حیات پیغمبروں میں ہو یا آپ کی رحلت کے بعد ۔ پھر مزید تفصیلی بحث کے بعد کہا ہے ۔ خدا کی بار گاہ میں رسول اللہ کے علاوہ کسی اور سے متوسل ہونے میں بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ جسے وسیلہ بنایا جائے وہ بار گاہ الہٰی میں مقام و منزلت رکھتا ہو۔ 7 رہیں شیعہ کتب تو ان میں یہ بات اتنی واضح ہے کہ کوئی حدیث نقل کرنے کی ضرورت ہی نہیں۔ 1 ۔ وفا ء الوفاء جلد ۳ صفحہ ۱۳۷۱، کتاب ” التوصل الیٰ الحقیة التوسل“ میں بھی بیہقی کی ” دلائل النبوة“ کے حوالے سے یہ روایت مذکورہے ۔ 2۔ وفا ء الوفاء، صفحہ ۱۳۷۳۔ 3 وفا ء الوفاء صفحہ ۱۳۷۳۔ 4۔ التوصل صفحہ ۳۲۹۔ 5 ۔ التوصل صفحہ ۲۵۳۔ 6 ۔ التوصل صفحہ ۳۳۱ ۔ 7 ۔ روح المعانی جلد ۴ ، صفحہ ۱۱۴، ۱۱۵۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:35
قرآن اور توسل
قرآن کی دیگر آیات سے بھی اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ کسی نیک انسان کے مقام کو بار گاہ ِ وسیلہ قرار دینا اور اس کی وجہ سے خدا سے کوئی چیز طلب کرنا کسی طرح بھی ممنوع نہیں ہے اور یہ توحید کے منافی نہیں ہے سورہٴ نساء آیت ۶۴ میں ہے : ولو انھم اذظلموا انفسھم جاؤ ک فاستغفروا اللہ و استغفر لھم الرسول لوجدوا اللہ تواباً رحیما ۔ اور جب ان لوگوں نے اپنے نفسوں پر ظلم کیا ( اور گناہ کے مرتکب ہو ئے ) اگر تمہارے پاس آجاتے اور خدا سے مغفرت طلب کرتے او رتم بھی ان کے لئے طلب مغرفت کرتے تو خدا کو توبہ قبول کرنے والا اور رحیم و مہر بان پاتے۔ نیز سورہ یوسف آیہ ۹۷ میں ہے کہ برا درانِ یوسف نے اپنے باپ سے در خواست کی کہ وہ بار گاہ خدا وندی میں ان کے لئے استغفا ر کریں اور حضرت یعقوب(علیه السلام) نے بھی ان کی اس درخواست کو منظور کرلیا ۔ سورہٴ توبہ آیت ۱۱۴ میں بھی حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے بارے میں ہے کہ انھوں نے اپنے باپ ۱ کے لئے طلب مغفرت کی یہ امر بھی دوسرے لوگوں کے لئے انبیاء کی دعا کے موٴثر ہو نے کی تائید کرتا ہے اسی طرح قرآن کی دیگر متعدد روایات سے بھی اس بات کی تائید ہو تی ہے ۔ ۱۔ یہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے چچا کی کی طرف اشارہ ہے جنہیں وہ اپنے باپ کے بمنزلہ سمجھتے تھے ( مترجم ) ۔