قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ وَإِن تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُم مِّنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
The Bedouins say, ‘We have faith.’ Say, ‘You do not have faith yet; rather, say, ‘‘We have embraced Islam,’’ for faith has not yet entered into your hearts. Yet if you obey Allah and His Apostle, He will not stint anything of [the reward of] your works. Indeed Allah is all-forgiving, all-merciful.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 49:14
[Pooya/Ali Commentary 49:14] The desert Arabs, in general, were uncertain in their faith. Their hearts and minds were petty, and they thought of petty things, while Islam demands complete submission to the will of Allah. The reference here is to the Bani Asad who came to profess Islam in order to get charity during a famine. This verse refers to the actual possibility of professing faith as lip-profession, without a deep, inward and living assurance of the heart which in fact is the basis of reward given by Allah to His sincere servants. The lip-profession was resorted to because of many advantages available to the Muslims. Aqa Mahdi Puya says: Real submission to the will of Allah creates iman (conviction which enters and abides in the heart). So those who say: "We submit," can be called Muslims but they are not mumins, whereas mumin is necessarily a muslim. Islam is the outer circle and iman is the inner core. Islam is submission and iman is the full realisation of the faith with complete conviction. Both can be verbal declaration without conviction, and both can be from the bottom of the heart, real and sincere. For a full description of a true mumin for whom verse 13 assigns superiority and honour see commentary of Baqarah: 177 and Bara-at: 119.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:14-15
شان نزول :
بہت سے مفسرین نے اس آ یت کے لیے ایک شان نزُول بیان کی ہے ، جس کاخلاصہ اس طرح ہے : قبیلۂ بنی اسد کاایک گروہ ،قحط اور خشک سالی کے ایک سال میں ، مدینہ میں وارد ہوا ، اورانہوں نے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے کچھ مدد حاصل کرنے کے لیے زبان پرشہادتیں جاری کیں، اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے کہاکہ عرب کے دوسرے قبائل نے سوار یوں پر سوار ہوکرآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے جنگ کی ،لیکن ہم اپنے بیوی بچوں کے ساتھ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آ ئے نہیں اور ہم آپ نے (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی جنگ نہیں کی ، دراصل وہ اس طر یقہ سے یہ چاہتے ہیں تھے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پراحسان جتلائیں ، اس وقت اُوپر والی آ یات نازل ہوئیں، ( اورانہیں بتایا کہ اسلام ظاہر ی ہے اورایمان ان کے دل کی گہرا ئیوںمیں نہیں ہے، علاوہ ازیں اگرو ہ ایمان لائے بھی ہیں، تو اس سے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)پر کوئی منّت اوراحسان نہیں رکھنا چاہیے . بلکہ خدانے ان پراحسان کیاہے کہ انہیں ہدایت کی ہے ) ( ١) ۔ لیکن اس شانِ نزُول کا وجُود، دوسرے تمام مواقع کی طرح ، آ یت کے مفہو م کی عمو میت سے ہرگز مانع نہیں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:14-15
سوره حجرات/ آیه 14- 15
١٤۔قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَ لکِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْیمانُ فی قُلُوبِکُمْ وَ ِنْ تُطیعُوا اللَّہَ وَ رَسُولَہُ لا یَلِتْکُمْ مِنْ أَعْمالِکُمْ شَیْئاً ِنَّ اللَّہَ غَفُور رَحیم (۔ ١٥۔ِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَ رَسُولِہِ ثُمَّ لَمْ یَرْتابُوا وَ جاہَدُوا بِأَمْوالِہِمْ وَ أَنْفُسِہِمْ فی سَبیلِ اللَّہِ أُولئِکَ ہُمُ الصَّادِقُونَ ۔ ترجمہ ١٤۔باد یہ نشین عربوں نے کہا:ہم ایمان لائے ہیں، کہہ دے !تم ایمان نہیں لائے ہو لیکن تم یہ کہو کہ ہم اسلام لے آ ئے ، اور ابھی تک ایمان تو تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا ، اگر تم خدااور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے توو ہ تمہارے اعمال کی پوری پوری جزادے گا، بیشک خدا غفور و رحیم ہے ۔ ١٥۔واقعی مو من توصرف وہی لوگ ہیں جو خدااوراس کے رسُول پرایمان لائے ہیں، اورپھر انہوں نے کبھی شک نہیں کیا، اوراپنی جان اور مالوں کے ساتھ انہوںنے راہِ خدا میں جہاد کیا ہے اور وہی سچے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:14-15
اسلام "" اور "" ایمان "" کافرق
گذشتہ آ یات میں انسانوں کی قدروقیمت کے معیار یعنی تقویٰ کے بارے میں گفتگو تھی، اور چونکہ تقویٰ ایمان کے درخت کاپھل ہے، وہ بھی وہ ایمان جو دل وجان کی گہرائیوں میں نفوذ کرے ،لہٰذا زیربحث آ یات میں ایمان کی حقیقت کو پیش کرتے ہُوئے اس طرح بیان ہوا ۔ باد یہ نشین اعراب نے کہا:ہم ایمان لائے ہیں، ان سے کہہ دے : تم ایمان نہیں لائے ہو، بلکہ یہ کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں، لیکن ایمان تو ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہواہے ۔:(قالَتِ الْأَعْرابُ آمَنَّا قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَ لکِنْ قُولُوا أَسْلَمْنا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْیمانُ فی قُلُوبِکُمْ) ۔ اس آ یت کے مطابقاسلام اور ایمان میں فرق یہ ہے کہ اسلام ایک ظاہری قانونی شکل رکھتاہے، اورجو شخص زبان پرشہادتیں جاری کرتاہے، مسلمانوں کی صف میں شامل ہوجاتاہے، اوراس پر اسلام کے احکام جاری ہوجاتے ہیں ۔ لیکن ایمان ایک واقعی اور باطنی امر ہے ، اوراس جگہ انسان کادل ہے، نہ کہ اس کی زبان اوراس کاظاہر۔ مُمکن ہے اسلام کے مختلف محرکات ہوں یہاں تک کہ مادی محرکات اور شخصی منافع، لیکن ایمان حتمی طورپر معنوی محرکات سے علم کاآگاہی سے غذا حاصل کرتاہے، اور وہی ہے کہ جس کی شاخوں پرتقویٰ کاحیات بخش پھل ظاہر ہوتاہے ۔ یہ وہی چیزہے جوپیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے ایک واضح اور ناطق عبارت میں منقول ہوئی ہے: الاسلام علانیة ، والا یمان فی القلب: اسلام ایک آشکار اور ظاہری چیزہے، لیکن ایمان کی جگہ دل ہے (١) ۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے ۔ الا سلام یحقن بہ الدم تؤ دی بہ الا مانة ، وتستحل بہ الفروج،والثواب علی الایمان (٢) ۔ نیز اسی دلیل کی بناء پربعض روایات میں اسلام کامفہو م اقرار لفظی میں منحصر سمجھاگیاہے ، جبکہ ایمان کاعمل کے ساتھ اقراء کی صُورت میں تعارف کرایاگیاہے :( الا یمان اقرار وعمل والاسلام اقرار بلا عمل ) ( ٣) ۔ یہی معنی اہک دوسری تعبیرمیں اسلا م وایمان کی بحث میں بیان ہوئے ہیں فضل بن یسار کہتاہے کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے سُنا ہے ، آ پ علیہ السلام نے فرمایا: ان الایمان یشارک الاسلام ، ولا یشارکہ الاسام ، ان یمان ماوقر فی القلوب، والاسلام ماعلیہ الصنا کع والمراریث و حقن الدماء : ایمان تو اسلا م کے ساتھ شریک ہے، لیکن اسلام ایمان کے ساتھ شریک نہیں ہے، دوسرے لفظوں میں ہرمو من مسلمان ہے ،لیکن ہرمُسلمان مو من نہیںہے، ایمان وہ ہے جو دل میں ساکن ہو، لیکن اسلام ایک ایسی چیزہے جس کے مطابق نکاح، میراث اورخون کی حفاظت کے قوانین جاری ہوتے ہیں( ٤) ۔ لیکن مفہو م کایہ فرق اس صُورت میں ہے جب یہ دونوں الفاظ ایک دوسرے کے مقابلہ میں قرار پائیں، لیکن جب الگ الگ بیان کیے جائیں ، تو ممکن ہے کہ اسلام اسی چیز پر بو لاجائے ، جس پر ایمان کا اطلاق ہوتاہے، یعنی دونوں الفاظ ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد زیربحث آ یت میں مزید ارشاد ہوتاہے، اگر تم خدا اوراس کے رسُول کی اطاعت کروگے تو وہ تمہیں تمہارے اعمال کاثواب کامل طورپر عطا کرے گا اور تمہارے اعمال کی جزاء میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی،( وَ ِنْ تُطیعُوا اللَّہَ وَ رَسُولَہُ لا یَلِتْکُمْ مِنْ أَعْمالِکُمْ شَیْئاً ) ۔ کیونکہ خدا غفور ورحیم ہے ( ِنَّ اللَّہَ غَفُور رَحیم) ۔ لایلتکم لیت (بروزن ریب)کے مادہ سے حق کو کم کرنے کے معنی میں ہے( ٥) ۔ آخر ی جُملے حقیقت میں ایک مُسلم قرآنی اصل کی طرف اشارہ میں، کہ اعمال کے قبول ہونے کی شرط ایمان ہے ، کہتاہے، اگرتم خدااور رسُول پر قلبی ایمان رکھتے ہو، جس کی نشانی خدااوراس کے رسُول کے فر مان کی اطاعت ہے تو تمہارے اعمال کی قدر کی جائے گی ، اوعر خداتمہار ی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی قبول کرلے گا، اوران کا اجر دے گا، یہاں تک کہ اس ایمان کی برکت سے وہ تمہارے گناہوں کوبخش دے گا، کیونکہ وہ غفور ورحیم ہے ۔ اور چونکہ اس امر باطنی یعنی ایمان کا حصول کوئی اسان کام نہیں ہے، لہٰذا بعد والی آ یت میں اس کی نشانیاں پیش کرتاہے، ایسی نشانیاںجو مو من کو، مسلم سے ، اور سچّے کوچھوٹے سے ،اور پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی دعوت کوعاشقانہ طورپر قبُول کرنے والوں کو، جان کی حفاظت یا مالِ دنیا کے حصول کی خاطر ایمان کااظہار کرنے والوں سے ،اچھی طرح سے جدا کردیتی ہیں، فرماتاہے: واقعی مو منین وہ لوگ ہیںجوخدا اوراس کے رسُول پرایمان لائے ہیں، اس کے بعد انہوںنے کبھی کوئی شک وشبہ نہیں کیااوراپنے اموال اورنفسوس کے ساتھ راہ خدا میں جہاد کیاہے (امَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَ رَسُولِہِ ثُمَّ لَمْ یَرْتابُوا وَ جاہَدُوا بِأَمْوالِہِمْ وَ أَنْفُسِہِمْ فی سَبیلِ اللَّہِ) ۔ ہاں !ایمان کی سب سے پہلی نشانی، اسلام کی راہ میں شک وشبہ او ر دودلی نہ کرناہے، دوسری نشانی اموال کے ساتھ جہاد کرنا، اورتیسری نشانی جو سب سے زیادہ افضل ہے و برترہے، نفسوں (جانوں)کے ساتھ جہاد کرناہے ۔ کیسے ممکن ہے کہ ایمان دل میں راسخ نہ ہو، جبکہ انسان محبوب کی راہ میں مال و جان کے خرچ کرنے سے مضائقہ نہیں کرتا ۔ لہٰذاآیت کے آخر میں مزید کہتاہے ۔: اسی قسم کے لوگ راست گو ہیں ، اورایمان کی روح ان کے وجود میں موجزن ہے (أُولئِکَ ہُمُ الصَّادِقُون) ۔ اس معیار کو، جسے قرآن نے سچّے مو منین اور اسلام کااظہار کرنے والے جھُوٹوں کی شناخت کے لیے بیان کیاہے، قبیلہ بنی اسدکے فقراء میں منحصر نہیں ہے ، بلکہ یہ ہرزمانہ کے لیے واقعی مو منین کوجھُوٹے دعویداروںسے جدا کرنے کے لیے ، اوران لوگوں کے دعوں کی قدروقیمت کی نشاندہی کرنے کے لیے ، جوہرجگہ اسلام کادم بھر تے ہیں، اوراپنے آ پ کوپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کاطلب گار سمجھتے ہیں، لیکن ان کے عمل میں معمولی نشانی بھی ایمان واسلام کی نظر نہیں آ تی ۔ ان کے مقابلہ میں ایسے لوگ ہیں جو نہ صرف کوئی دعویٰ نہیں رکھتے ، بلکہ ہمیشہ اپنے آپ کوکم تر شمارکرتے ہیں ،لیکن اس کے باوجود ایثار وقربانی کے میدان میں سب سے آگے ہوتے ہیں ۔ اوراگر ہم اس قرآنی معیار کو واقعی مو منین کی جانچ کے لیے استعمال کریں تو معلو م نہیں لاکھوں کروڑوں مدعیان اسلام کے انبوہ کے درمیان میں سے کس قدر واقعی مؤ من نکلیں، اورکس قدر ظاہری مسلمان؟! ١۔ "" مجمع البیان ، جلد ٩، صفحہ ١٣٨۔ ٢۔"" کافی "" جلد ٢"" باب ان الاسلام یحقن بہ الدّم "" حدیث ٢٧١۔ ٣۔"" کافی "" جلد ٢"" باب ان الاسلام یحقن بہ الدّم "" حدیث ٢٧١۔ ٤۔ اصول کافی ،جلد٢ "" باب ان الا یمان بشرک الاسلام"" حدیث ٣۔ ٥۔ اس بناء پر مذ کورہ فعل اجوف یائی ہے ،اگر"" ولت"" (مثال واوی ) کا مادہ بھی اسی معنی میں آتاہے ۔