يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ
O mankind! Indeed, We created you from a male and a female, and made you nations and tribes that you may identify yourselves with one another. Indeed the noblest of you in the sight of Allah is the most Godwary among you. Indeed Allah is all-knowing, all-aware.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 49:13
[Pooya/Ali Commentary 49:13] This is addressed to all mankind and not to the Muslims only, though it is understood that in a perfect world the two would be synonymous. All races of men, white, brown and black are His creation. Allah has made them to vary in colour, language and mode of life, and has placed them in different lands, but before Him they are all one and cherished by Him alike, and he is most honoured who is most righteous. The Holy Prophet said: "Do not take pride in superior birth, tribe or nation." Even the descendants of the Holy Prophet, known as sharif or sayyid, have been forbidden to give themselves airs on account of their relationship with him because it will not save them from punishment on the day of judgement if they have transgressed the boundaries laid down by Allah. Imam Ali bin Husayn Zaynal Abidin said: "The hell has been made ready for those who disobey Allah, be he a most important person in the society; and only those who obey Allah will go into paradise, be he a slave." It is reported that a Muslim bought a slave who appealed to the people gathered in the auction square that he who was ready to allow him to pray behind the Holy Prophet should buy him, and the slave was always in the rows formed behind the Holy Prophet. After a few days the Holy Prophet noticed his absence. He went to his place. He was sick. After three days he died. The Holy Prophet personally attended to his funeral rites, bathed him, gave him a shroud and buried him. When mahajirs and ansar showed signs of astonishment this verse was revealed. It is said that once the disciples of Isa asked him as to who was to be considered as superior among men. Isa took a handful of dust in his hand and said: "All man are from the dust and they shall return to dust. In the eyes of God he is most honoured who is most righteous." This verse renders null and void all distinctions based on race, colour, caste and social position. Taqwa (obedience to Allah and His laws) is the only criterion for superiority or honour. The Holy Prophet said: "No man is superior to another on account of race or colour, taqwa (wisdom and piety) alone is the distinction." In this way man finds his individual as well as collective freedom, material progress and spiritual happiness, peace and order in Islam. To have an idea of taqwa refer to the commentary of Baqarah: 2 to 5 and 177. Maximum degree of taqwa is found in the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:13
سوره حجرات/ آیه 13
١٣۔یا أَیُّہَا النَّاسُ ِنَّا خَلَقْناکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَ أُنْثی وَ جَعَلْناکُمْ شُعُوباً وَ قَبائِلَ لِتَعارَفُوا ِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللَّہِ أَتْقاکُمْ ِنَّ اللَّہَ عَلیمخَبیر۔ ترجمہ ١٣۔ اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیداکیاہے ، اور تمہارے قبیلے اور کنبے بنادیئے تاکہ تم ایک دوسرے کوپہنچان سکو، لیکن تم میں سے زیادہ مکرم وگرامی خدا کے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے اورخدا علیم وخبیر ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:13
تقویٰ بہترین انسانی صفت
گذشتہ آ یات میں رُوئے سُخن مو منین کی طرف تھا، اورخطاب یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا کی صورت میں تھا، اور متعدد آیات کے ضمن میں ، وہ باتیں ،جوایک مو من معاشرے کوخطرے سے دوچار کرتی ہیں،بیان کی ہیں ، اور ان سے منع کیاہے ۔ جبکہ زیربحث آ یت میں ،سارا انسانی معاشرہ مخاطب ہے او روہ اہم ترین اصل اوربنیاد ، جونظم وثبات کی ضامن ہے ،بیان کرتاہے.اورکاذب اور چھوٹی اقدار کے مقابلہ میں حقیقی انسانی اقدار کی میزان کو مشخص کرتاہے اور فرماتاہے ۔ اے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مراد اور ایک عورت سے پیدکیاہے اور تمہیں شعوب وقبائل قرار دیاہے .تاکہ تم ایک دوسرے کوپہنچان سکو(یا أَیُّہَا النَّاسُ ِنَّا خَلَقْناکُمْ مِنْ ذَکَرٍ وَ أُنْثی وَ جَعَلْناکُمْ شُعُوباً وَ قَبائِلَ لِتَعارَفُوا) ۔ لوگوں کی ایک مرداورا یک عورت سے خلقت سے مراد، وہی انسانوں کے انساب کی آدم وحواکی کی طرف بازگشت ہے ، اس بناء پرچونکہ وہ سب کے سب ایک ہی جڑسے ہیں ،لہٰذا کوئی وجہ نہیں ہے کہ وہ نسب وقبیلہ کے لحاظ سے ایک دوسرے پرفخر کریں اوراگرخدا نے قبیلہ اور گروہ کے لیے کچھ خصوصیات خلق کی ہیں ، تووہ لوگوں کی اجتماعی زندگی کے نظم وضبط کی حفاظت کے لیے ہے ،کیونکہ یہ فرق اور تفاوت شناخت اورپہنچان کے لیے ہے اورافراد کی پہچان کے بغیر انسان معاشرے میں کوئی نظم وضبط قائم نہیں ہوسکتا،کیونکہ اگروہ سب کے سب یکساں اورایک دوسرے کے مشابہ اورمانند ہوتے توسارے انسانی معاشرے کوفتنہ وفساد گھیر لیتا ۔ اس بارے میں شعوب (جمع شعببروزصعب)لوگوں کے ایک عظیم گروہ کے معنی میں ،اور قبائل جمع قبیلہکے درمیان کیافرق ہے ؟ مفسرین نے مختلف احتمال دئیے ہیں ۔ ایک جماعت نے تویہ کہاہے کہ شعوب کادائرہ قبائل کے دائرے سے زیادہ وسیع ہے ،جیساکہ موجودہ زمانہ میںشعب کا ایک ملت وقو م پراطلاق ہوتاہے ۔ بعض شعوب کوطوائف عجم کی طرف اشارہ ، اور قبائل کوطوائف عرب کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔ اور آخر میں بعض نے شعوب کوانسان کے جغرافیائی منطقوں کی طرف منسُوب ہونے کے لحاظ سے ،اورقبائل کو نسل اورخون کی طرف منسُوب ہونے سے متعلق سمجھاہے ۔ بہرحال قرآن مجید زمانہ جا ہلیّت کے بزرگ ترین فخر و مباہات کے سبب ، یعنی نسب وقبیلہ پرفخر کوختم کرنے کے بعد واقعی اورحقیقی انسانی اقدار اورحقیقی انسانی اقدار کے معیار کوبیان کرتے ہُوئے مزید کہتاہے: تم میں سے زیادہ مکرم وگرامی خداکے نزدیک وہ ہے جو تم میں سے زیادہ متقی ہے (انَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللَّہِ أَتْقاکُم) ۔ اس طرح سے تمام ظاہری اورمادی امتیازات پرخطِ بطلان کھینچتے ہُوئے بڑائی کی واقعیت وحقیقت کو مسئلہ تقویٰ و پرہیزگاری اورخوفِ خدامیں قرا ر دیتاہے ،اورکہتاہے کہ خدا کے تقرب اوراس کی ساحت قدس سے نزدیکی کے لیے کوئی امتیاز سوائے تقویٰ کے مؤثر نہیں ہے ۔ اور چونکہ تقویٰ ایک روحانی اورباطنی صفت ہے ، جسے سب سے پہلے انسان کے دل وجان میں مستقر ہونا چاہیئے اورممکن ہے کہ اس کے مدعی تو بہت ہوں، مگر اس سے متصف بہت کم ہوں، لہٰذا آ یت کے آخر میں مزید کہتاہے خدا علیم وخبیر ہے(انَّ اللَّہَ عَلیم خَبیر) ۔ وہ پرہیزگار وں کواچھی طرح سے پہچانتاہے، اوران کے درجہ پرتقویٰ وخلوصِ نیّت اوران کی پاکیزگی اورصفائی سے آگاہ ہے ان کواپنے علم کے مطابق مکرم و محترم اورگرامی رکھتاہے، اورجروپاداش دیتاہے، جُھوٹے دعویداروں کوبھی پہچانتاہے اورانہیں سزا اور عذاب دیتاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:13
١۔ سچی اور جُھوٹی قدریں
اس میں شک نہیں کہ ہرانسان فطرتاً اس چیز کاخواہاں ہے کہ وہ ایک صاحب قدر وافخار ہستی قرارپائے ،لہٰذا اسی وجہ سے اقدار کوکسب کرنے کے لیے اپنے پُورے وجُود کے ساتھ کوشش کرتاہے ۔ لیکن اقدار کے معیار کوپہچان تہذیبوں اورتمدنوں کے اختلاف کی وجہ سے کامل طورسے مختلف ہے ،اوربعض اوقات جھوٹی قدریں سچی قدروں کی جگہ لے لیتی ہیں ۔ کوئی گروہ اپنی واقعی اورحقیقی قدروقیمت کسی معروف و معتبر قبیلہ کے ساتھ انتساب میں سمجھتاہے،لہٰذا اپنے قبیلہ اورطائفہ کے مقام کی شان کے لیے ہمیشہ ہاتھ پائوں مارتارہتاہے،تاکہ اس کوبڑا اوربزرگ بنانے کے طریقہ سے خود کواس اور طائفہ کے مقام کی شان کے لیے ہمیشہ ہاتھ پاؤں مارتارہتاہے، تاکہ اس کوبڑا اوربزرگ بنالے کے طریقہ سے خود کواس سے منسُوب کرنے کے ذر یعہ بڑا کرے ۔ خاص طورسے زمانہ جاہلیّت کی اقوام کے درمیان انساب و قبائل کے ذریعہ افتخار سب سے زیادہ رائج موہو م افتخار تھا، یہاں تک کہ ہرقبیلہ خود کو بر ترقبیلہ اور ہر نسل خود کو والاتر نسل سمجھتی تھی، افسوس کی بات یہ ہے کہ ابھی تک اس کی تلچھٹ اوربقایاجات بہت سے افراد واقوام کی روح کی گہرائیوں میں موجود ہیں ۔ ایک دوسرا گروہ مال ودولت کے مسئلہ اورکاخ وقصر وخدم وحشم اورایسی چیزوں کامالک ہونے کوقدروقیمت کی نشانی سمجھتاہے،اورہمیشہ اسی کے لیے کوشش کرتارہتاہے، جبکہ ایک اور جماعت اور سیاسی بلند مقامات کوشخصیت کامعیار سمجھتی ہے ۔ اوراس طرح سے ہرگروہ اپنے مخصوص راستے پرقدم اُٹھاتاہے،اورکسی ایک خاص قدر و منزلت سے اپنادل باندھتاہے اوراسی کو معیار سمجھتاہے ۔ لیکن چونکہ یہ سب امور، ایسے متزلزل اورذات سے خارج اورمادی اور جلدی گزرجانے والے امورہیں،اسلامی جیساایک آسمانی دین ہر گزان کی موافقت نہیں کرسکتا، لہٰذان سب پرخط بطلان کھینچتے ہُوئے ، انسان کی واقعی اورحقیقی قدرو قیمت کواس کی ذاتی صفات ، خصوصاً تقویٰ وپرہیزگاری ایفائے عہد اورپاکیز گی میں شمارکرتاہے، یہاں تک کہ علم دانش جیسے اہم موضوعات کے لیے بھی .اگر وہ ایمان وتقویٰ اوراخلاقی قدروں کی راہ میں کام نہ آئیں ۔ کسی اہمیت کاقائل نہیں ہے ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ قرآن ایک ایسے ماحول میں ظاہر ہوا، جہاں قبیلہ کی قدروقیمت تمام قدروں سے زیادہ اہم شمارہو تی تھی، لیکن یہ خود ساختہ بُت ٹوٹ پھُوٹ گیا اورانسانوں کو خون وقبیلہ ورنگ ونژاد (نسل) و مال و مقام اورمال ودولت کی قید سے آزاد کردیا، اور اسے اپنے آپ کوپانے کے لیے اس کی جان و رُوح کے اندر اوراس کی بلند صفات میں رہبری کی ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اُن شان ہائے نزول میں ،جواس آ یت کے لیے بیان کی گئی ہیں،ایسے نکات دکھائی دیتے ہیں جواس دستورالہٰی کی گہرائی کی حکایت کرتے ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ : فتح مکّہ کے بعد پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے حکم دیاکہ اذان کہیں بلال نے خانہ کعبہ کی چھت پرچڑھ کراذان کہی تو عتاب بن اسید نے جوآزاد کیے گئے لوگوں میں سے تھا، کہا، میں خدا کاشکرکرتاہوں کہ میراباپ دُنیاسے رخصت ہوگیا اوراس نے یہ دِن نہ دیکھااور حارث بن ہشام نے بھی کہا:کیارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کواس کالے کوّے کے علاوہ اورکوئی نہیں ملا؟(تو اوپر والی آ یت نازل ہوئی اورحقیقی اور واقعی قدروقیمت کامعیار بیان ہوا)(۱) ۔ بعض دوسرے مفسرین نے یہ کہاہے کہ آ یہ آ یت اس وقت نازل ہوئی جب پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے یہ حکم دیاتھاکہ بعض موالی کو لوگ بیٹی کا رشتہ دیں (موالی آزاد شاہ غلاموں یاغیرعرب کوکہتے ہیں) توان لوگوں نے تعجب کیااورکہااے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کیاآپ یہ حکم دیتے ہیں کہ اپنی بیٹیاں موالی کودیں؟تو یہ آ یت نازل ہوئی اوران بے ہودہ افکار پر خط بطلان کھینچا( ٢) ۔ یاایتھا النّاس ان اللہ قد اذھب عنکم عیبة الجاھلیة ، وتعا ظمھاباٰ بائھا، فالناس رجلان: رجل برتقی کریم علی اللہ ، وفاجرشقی ھین علی اللہ ، والنّاس بنواٰدم، وخلق اللہ اٰدم من تراب ، قال اللہ تعالیٰ : یا ایّھاالناس اناخلقنا کم من ذکرو انثٰی وجعلنا کم شعوباًوقبائل لتعار فواان اکرمکم عنداللہ اتقاکم ان اللہ علیم خبیر: اے لوگو!خدانے جاہلیت کے نگ و عیب اور آباؤ اجداد اوربزرگوں پرفخر و مباہات کرنے کو ختم کردیاہے،لوگوں کے صرف دوگروہ ہیں:نیکو کارصاحب تقویٰ اورخدا کے ہاں قدروقیمت رکھنے والے، یابد کار وشقی اور بارگاہ خداوندی میں پست وحقیر سب کے سب لوگ آدم کی اولاد ہیں ، اورخدانے آدم کو مٹی سے پیداکیاہے، جیساکہ فرماتاہے: ایسے لوگو!ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیداکیاہے اور تمہیں اس لیے شعوب وقبائل قرار دیاہے، تاکہ تمہاری پہچان ہوسکے، خداکے نزدیک زیادہ مکرم وگرامی وہ ہے جوتم میں سے سب سے یادہ پرہیزگار ہے اورخدا دانا اور آگاہ ہے ( ٣) ۔ کتاب آداب النقوس طبرسی میں آ یاہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ایام تشریق کے دوران (جوذی الحجہ کے ١١، ١٢ اور١٣ کے دِن ہیں) سرزمین منی میں ،جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک اونٹ پرسوار تھے ، لوگوں کی طرف رُخ کرکے فر مایا: یاایھاالناس!الاان ربکم واحد وان اباکم واحد، الالا فضل لعربی علی عجمی ولا بعجمی علی عربی، ولا سود علی احمر والا لاحمرعلی اسود، الا بتقویٰ الاھل بلغت ؟ قالوا نعم!قال لیبلغ الشاھد الغائب۔ اے لوگو!جان لو کہ تمہارا خداایک ہے، تمہارا باپ بھی ایک ہے نہ تو عرب کوعجم پرکوئی برتری ہے ، اور نہ ہی عجم کوعرب پر ، نہ کسی کا لے کوکسی گورے پر اور نہ ہی کسی گورے کو کالے پر ، مگرتقویٰ اور پرہیزگاری کے ساتھ ، کیامیں نے خداکاحکم تمہیں پہنچادیاہے؟ سب نے کہا:ہاں!آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا:یہ بات حاضرین غائبین تک پہنچادیں(٤) ۔ ایک اور دوسری حدیث میں بھی مختصر اورپُر معنی جملوں میں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے یہ منقول ہواہے : ان اللہ لاینظرالیٰ احسابکم ، ولاالیٰ انسابکم ، ولا الیٰ اجسامکم ،ولاالیٰ اموالکم ولکن ینظرالیٰ قلوبکم، فمن کان لہ قلب صالح تحنن اللہ علیہ، وانّماانتم بنو اٰدم واحبکم الیہ اتقاکم۔ خداتمہارے گھرانے اور نسب کی وضع وکیفیّت کو نہیں دیکھتا، نہ تمہارے جسموں کی طرف نہ تمہارے مال و متال کی طرف ، لیکن وہ توتمہارے دلوں کی دیکھتاہے، جوشخص صالح اور نیک دل رکھتاہے تو خدااس پرلطف و محبت کرتاہے، تم سب آدم کی اولاد ہو اور تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محبُوب وہ ے جوتم میں زیادہ متقی ہے ( ٥) ۔ لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ ان وسیع بکثرت اورپُر بار تعلیمات کے باوجود اب بھی مسلمانوں کے درمیان کچھ لوگ نسل وخون اور زبان کے مسئلہ پر تکیہ کرتے ہیں ، یہاں تک کہ وہ ان چیزوں کی وحدت کو اخوت اسلامی اور وحدت دینی پرمقدم سمجھتے ہیںاور انہوںنے زمانہ جاہلیّت کی عصبیّت کودوبارہ زندہ کردیاہے، اورگرچہ ان پراس راستے میں سخت مصائب اٹھانے پڑے ہیں ،لیکن معلو م ایساہوتاہیکہ وہ بیدارہوناہی نہیں چاہتے اور نہ اسلام کے حکم کی طرف لوٹناچاہتے ہیں اور خداوند عالم سب لوگوں کو جاہلیّت کے تعصبات کے شرسے محفوظ رکھے ۔ اسلام نے جاہلیّت کی عصبیت جوجس شکل وصُورت میں ہو، مبارزہ کیاہے تاکہ پُورے عالم کے مسلمانوں کو،چاہے وہ جس نسل وقو م و قبیلہ سے ہوں، ایک پرچم کے نیچے جمع کرے ، نہ کہ قو میت ونسل کے پرچم تلے اور نہ ہی کسی دوسرے پرچم کے نیچے، کیونکہ وہ جس نسل وقو م و قبیلہ سے ہوں ایک پرچم کے نیچے جمع کرے ، نہ کہ قو میت ونسل کے پرچم تلے اور نہ ہی کسی دوسرے پرچم کے نیچے ، کیونکہ اسلام ہر گزاس قسم کے تنگ و محدود نظریات کوقبول نہیں کرتااوران سب کو موہو م اور بے بنیاد شمارکرتاہے. یہاں تک کہ ایک حدیث میں آ یاہے کہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے جاہلیّت کی عصبیت کے بارے میں فرمایا: دعوھا فانھامنتنہ۔ اسے چھوڑدو، یہ بدبو دار متعفن چیزہے ( ٦) ۔ لیکن اس متعفن اور بد بو دار فکر کو بہت سے ایسے لوگ جوظاہر اً اپنے کو مسلمان شمارکرتے ہیں، اورقرآن اوراخوتِ اسلامی کادم بھر تے ہیں، اب تک گلے کیوں لگائے ہُوئے ہیں؟کیاانہیں معلو م نہیں ہے! کتنا زیبا اورخوبصورت ہوگاوہ معاشرہ جواسلامی قدروں کے معیار اِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللَّہِ أَتْقاکُمْ کی بنیاد پرتعمیر ہوگا، اور نسل ،مال ، دولت ،جغرافیائی منطقوں اور طبقوں کی جھوٹی قدریں ختم ہوجائیں گی ہاں!تقوائے الہٰی ، اندرونی مسئولیت کااحساس، خواہشات کے مقابلہ میں قیام ، اورراستی ، و دوستی ،پاکی وحق و عدالت کاپابند ہونا ، صرف یہی چیزیں انسانی قدروں کامعیار وں کامعیار ہیں.نہ کہ ان کی غیر ،اگر چہ موجودہ معاشروں کے پریشان حال بازار میں یہ اصل قدریں بھلادی گئی ہیں اور جھوٹی قدروں نے ان کی جگہ لے لی ہے ۔ زمانہ ٔجاہلیّت کی قدروں کے نظام میں ، جو آباؤاجداد ، و دولت اوراولاد پرفخر کرنے کے محور پرچکر لگاتاتھا، ایک مٹھی بھر چوراور ڈاکوپر ورش پاتے تھے، لیکن اس نظام کے بد ل جانے سے اور اِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللَّہِ أَتْقاکُمْ کی بلندو بالااصل کے احیاء سے ، سلمان وابوذر عمار یاسر و مقداد ، جیسے انسان حاصل ہوئے ۔ انسانی معاشروں کے انقلاب میں اہم چیزان کی قدروںکے نظام کاانقلاب ہے، اوراس اصل اصیل اسلامی کااحیاء ہے .ہم اس گفتگو کوپیغمبرگرامی اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں جس میںآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: کلکم بنو اٰدم، واٰدم خلق من تراب ، ولینتھین قو م یفخرون باٰ بائھم اولیکونن اھون علی اللہ من الجعلان: تم سب آدم کی اولاد ہو، اوراآدم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں، آباؤ اجداد کے ذ ریعے ایک دوسرے پرفخرکرنے سے پرہیزکرو، ورنہ تم خداکے نزدیک ان حشرات اورکیڑے مکوڑوں سے ، جو گندگی میںڈوبے ہُوئے ہوتے ہیں، زیادہ حقیر اور پست ہوجاؤ گے ( ٧) ۔ ١۔"" روح البیان "" جلد ٩،صفحہ ٩٠۔ تفسیر قرطبی میں بھی یہی شان نزول بیان کی گئی ہے جلد ٩،صفحہ ٦١٦٠۔ ٢۔سابقہ مدرک ۔ ٣۔"" تفسیر قرطبی "" جلد ٩،صفحہ ٦١ ٦١۔ ٤۔مدرک سابق صفحہ٦١، ٦٢ اس روایت میں "" احمر"" کی تعبیر سُرخ جلد کے معنی میں نہیں ہے ، بلکہ گندم گوں کے معنی میں ہے ،کیونکہ زیادہ تولوگ اس ماحول میں اسی قسم کے تھے، اتفاقاً لفظ "" احمر"" روایات میں خود گندم "" پر بھی اطلاق ہواہے ۔ ٥۔مدرک سابق صفحہ٦١، ٦٢ اس روایت میں "" احمر"" کی تعبیر سُرخ جلد کے معنی میں نہیں ہے ، بلکہ گندم گوں کے معنی میں ہے ،کیونکہ زیادہ تولوگ اس ماحول میں اسی قسم کے تھے، اتفاقاً لفظ "" احمر"" روایات میں خود گندم "" پر بھی اطلاق ہواہے ۔ ٦۔"" صحیح مُسلم"" (مطابق فی ظلال )جلد٧ صفحہ ٥٣٨۔ ٧۔ ""فی ظلال ""جلد٧ صفحہ ٥٣٨۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 49:13
٢۔تقویٰ کی حقیقت
جیساکہ ہم دیکھے چکے ہیں، قرآن نے تقویٰ کوعظیم امتیاز قرار دیاہے اور صرف اسی کوانسانوں کی قدرو منزلت کے ناپنے کامعیار سمجھاہے ۔ ایک دوسری جگہ تقویٰ کوبہترین زادراہ اور تو شہ شمار کیاہے اورکہتاہے وَ تَزَوَّدُوا فَِنَّ خَیْرَ الزَّادِ التَّقْوی ( بقرہ ۔١٩٧) ۔ ایک اور جگہ تقویٰ کے لباس کوانسان کے لیے بہترین شمارکر تاہے وَ لِباسُ التَّقْوی ذلِکَ خَیْر ( اعراف۔٢٦) ۔ متعد د آ یات میں ، انبیاء کی دعوت کے ابتدائی اصولوں میں سے ایک کو تقویٰ کہاہے اورآخر میں ایک اورجگہ اس موضوع کی اہمیت کواس حد تک اور پر ے کیاہے کہ خداکو اصل تقویٰ شمار کرتے ہُوئے کہتاہے : ہُوَ أَہْلُ التَّقْوی وَ أَہْلُ الْمَغْفِرَة (مدثر۔ ٥٦) ۔ قرآن تقویٰ کونورالہٰی سمجھتاہے کہ جہاں وہ راسخ ہوجائے علم و دانش کی تخلیق کرتاہے :وَ اتَّقُوا اللَّہَ وَ یُعَلِّمُکُمُ اللَّہ (بقرہ ۔ ٢٨٢) ۔ اور نیکی و تقویٰ کوایک دوسرے کو قرین شمارکرتاہے: وَ تَعاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَ التَّقْوی (مائدہ ۔ ٢) ۔ اور عدالت کوتقویٰ کاقرین کہتاہے: اعْدِلُوا ہُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوی ( مائدہ ۔ ٨) ۔ اب دیکھنا یہ چاہیئے کہ اس عظیم معنوی سرمایے اور اس عظیم ترین انسانی افتخار یعنی تقویٰ کی ان تمام امتیاز ات کے ساتھ حقیقت کیاہے؟ قرآن نے کچھ ایسے اشارے بیان کیے ہیں جو تقویٰ کی حقیقت سے پردہ اُٹھاتے ہیں، متعد د آ یات میں تقویٰ کی جگہ قلب کوشمارکیا ہے، ان میں ایک جگہ کہتاہے: أُولئِکَ الَّذینَ امْتَحَنَ اللَّہُ قُلُوبَہُمْ لِلتَّقْوی وہ لوگ جورسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے سامنے اپنی آواز یں دھیمی رکھتے ہیں اورادب کی رعایت کرتے ہیں ،وہ ایسے لوگ ہیں جن کے دلوں کاتقویٰ کے قبول کرنے کے لیے خدانے امتحان لے لیاہے ( حجرات۔٣) ۔ قرآن نے تقویٰ کو فجور کامقابل قرار دیاہے جیساکہ سورۂ شمس کی آ یہ ٨ میں بیان ہوا: (فَأَلْہَمَہا فُجُورَہا وَ تَقْواہا) خدانے انسان کوپیداکیاہے، اوراس کوفجور اور تقویٰ کی راہ دکھادی ۔ قرآن ہراس عمل کو،جس نے رُوح اخلاص وایمان یعنی نیک و پاکیز ہ نیت سے سرچشمہ حاصل کیاہو، تقویٰ کی بنیاد پرشمار کرتاہے، جیساکہ سورۂ توبہ کی آ یت ١٠٨ میں مسجد قبا کے بارے جس کے مقابلہ میں مسجد ضرار بنائی گئی تھی .فرماتاہے: لَمَسْجِد أُسِّسَ عَلَی التَّقْوی مِنْ أَوَّلِ یَو م أَحَقُّ أَنْ تَقُو م فیہ وہ مسجد جوپہلے دن سے ہی تقویٰ کی بنیادپر بنی ہے ،ز یادہ حق رکھتی ہے کہ تو اسی میں نماز پڑھے ۔ ان آیا ت کے مجمُوعہ سے اچھی طرح معلو م ہوجاتاہے کہ تقویٰ وہی مسئولیت اورذمہ داری کااحساس ہے، جودل میں ایمان کے راسخ ہوجانے کے بعدا نسانی وجود پرحکو مت کرتاہے، اوراس کو فسق وفجور اور گناہ سے باز رکھتاہے اور نیکی و پاکی وعدالت کی طرف دعوت دیتاہے،انسان کے اعمال کوخالص اوراحن کی فکرونیت کوآلودگیوں سے صاف کرتاہے ۔ جب ہم اس لفظ کی لغوی اصل وبنیاد کی طرف لوٹتے ہیں، تو پھر بھی ہم اسی نتیجہ پرپہنچتے ہیں ،کیونکہ تقویٰ وقایة سے کسی چیزکی حفاظت و نگہداری میں کوشش کرنے کے معنی میں ہے اوراس قسم کے مواقع پرمراد ، روح وجان کی ہرقسم کی آلودگی سے حفاظت،اور ایسے امور میں جن میں خدا کی رضا ہو اپنی قدرتوں کو ایک مرکز پرلاناہے۔ بعض بزرگوں نے تقویٰ کے لیے تین مراحل بیان کیے ۔ ١۔ صحیح اعتقادات کی تحصیل کے ذریعہ عذاب جاودانی سے نفس دکو محفوظ رکھنا ۔ ٢۔ ہرقسم کے گناہ سے پرہیز کرنا چاہے وہ ترک واجب ہویافعل معصیّت۔ ٣۔ اپنے آپ کو ہراس چیز سے بچانا جوانسان کے دل کواپنی طرف مشغول رکھتی ہے، اورحق سے منحرف کرتی ہے، اور یہ خواص بلکہ خاص الخاص لوگوں کاتقویٰ ہے ( ۱) ۔ امیر المو منین علی علیہ السلام نے (نہج البلاغہ )میں تقویٰ کے سلسلہ میں کئی منہ بولتی اورزندہ تعبیریں بیان فرمائی ہیں. اورتقویٰ ان مسائل میں سے ہے جس میں حضرت کے بہت سے خطبوں ، خطوط اورکلمات قصار میں تکیہ ہواہے ۔ ایک جگہ تقویٰ کاگناہ اورآلودگی سے موازنہ کرتے ہُوئے اس طرح فر ماتے ہیں ۔ الا وان الخطایاخیل شمس حمل علیھا اھلھا، وخلعت لجعھا، فتفحمت بھم فی النّار !الاوان التقوی مطایا ذلل حمل علیھا اھلھا، واعطوا از متھا فاورد تھم الجنة !: جان لوکہ گناہ سرکش سواریوں کے مانند ہیں ، جن پر گنہگارسوار ہوتے ہیںاورجن کی لگا میں ٹوٹی ہوئی ہوتی ہیں ۔اوروہ ان کوتعرجہنم میں لے جاکر سر کے بل ٹپک دیتی ہیں لیکن تقویٰ ایسی آرام وہ اورسبک رفتار سواری ہے جن کے مالک ان پر سوار ہوتے ہیں ، توان کی لگا میں ہاتھ میں لیے ہوتے ہیں، اور وہ انہیں بہشت کے وسط میں لے جاکر داخل کردیتی ہے (۲) ۔ اس لطیف تشبیہ کے مطابق ، تقویٰ وہی اپنے آپ کو بچائے ،نفس پرکنڑول کرنے ، اور شہوات پرتسلط کی حالت ہے درحالیکہ تقویٰ کا نہ ہونا، سرکش شہوات کے مقابلے میں سر تسلیم خم ہونا، اوران پر ہرقسم کے کنڑول کاختم ہوجاناہے۔ ایک اور دوسری جگہ فرماتے ہیں: اعلمواعباداللہ ان التقوی دار حصن عزیز، والفجور دار حصن ذلیل، لا یمنع اھلہ ، ولایحرزمن لجاًالیہ ، الا وبالتقوی تقطع حمة الخطایا: اے بندگانِ خدا، جان لوکہ تقویٰ ایک مستحکم او شکست ناپذیر قلعہ ہے ، لیکن فسق وفجور اور گناہ ایک کمزور اور بے وفاع حصار ہے ، جواپنے اہل کوآفات وبلیات سے نجات نہیں دیتا، اورجوشخص اس کی پناہ لے گا وہ امان میں نہیں ہے، جان لو کہ انسان صرف تقویٰ کے ذریعہ ہی گناہ کی گزند سے بچ سکتاہے (۳) ۔ ایک اورمقام پرمزید فرماتے ہیں: فا عتصموا بتقوی اللہ فان لھا ، حبلاً وثیقاً عروتہ و معقلامنیعاذ روتہ۔ تقویٰ الہٰی کو مضبُوطی کے ساتھ تھام لو کیونکہ وہ ایک محکم رشتہ اورعروة الوثقی ہے ،اورایک قابلِ اطمینان پناہ گاہ ہے ( ۴) ۔ ان تعبیرات کے مجموعہ سے تقویٰ کی حقیقت اوررُوح اچھی طرح واضح ہوجاتی ہے ۔ یہ نکتہ بھی یاد آوری کے لائق ہے کہ تقویٰ ایمان کے درخت کاپھل ہے، اوراسی بناء پراس عظیم سرمائے کوحاصل کرنے کے لیے ایمان کی بنیادوںکو محکم ب بنانا چاہیئے ۔ البتہ اطاعت پرعمل درآمد اور گناہ سے پرہیز ، اور اخلاقی پرو گراموں پرتوجہ ، تقویٰ کونفس میں راسخ کرتی ہے اوراس کانتیجہ انسان کی رُوح اور جان میں نور یقین اورایمانِ شہود ی کا پیداہونا ہے اور نور تقویٰجتنا بڑھتا جاتاہے، اتناہی نوریقین بھی زیادہ ہوتاجاتاہے، لہٰذاہم اسلامی روایات میں دیکھتے ہیں کہ تقویٰ کو ایمان سے ایک درجہ بلند ، اور یقین سے ایک درجہ نیچے شمار کیاجاتاہے ۔ امام علی بن مُوسیٰ رضا علیہ السلام فرماتے ہیں: الا یمان فوق ،ا لاسلام بدرجہ ، والتقوی فوق الایمان بد رجة ، والیقین فوق التقوی بدر جة، و ماقسم فی الناس شی ء اقل من الیقین : ایمان اسلام سے ایک درجہ بلند ہے ، اور تقویٰ ایمان سے ایک درجہ اُونچا ہے اوریقین تقویٰ سے ایک درجہ اونچاہے اور لوگوں کے درمیان کوئی چیز یقین جتنی کم تقسیم نہیں ہوتی (۵) ۔ ہم اس بحث کو ان معروف اشعار کے ساتھ ، جوتقویٰ کی حقیقت کوایک مثال کے ضمن میں واضح کرتے ہیں، ختم کرتے ہیں ۔ خل الذ نوب صغیرھا و کبیرھا فھوا التقی واصنع کماش فوق ار ض الشوک یحذ رمایری لاتحقرن صغیرة ان الجبال من الحصی تمام چھوٹے بڑے گناہوں کوچھوڑ دے، بس تقویٰ یہی ہے ۔ اور اس شخص کی مانند ہو جا، جو کسی خار زار زمین سے گزر رہاہے، اوراپنے لباس اور دامن کو اس طرح سمیٹتاہے کہ کہیں اس میں کانٹانہ چب جائے ، اور ہمیشہ اپنے اطراف پر نظر رکھتاہے۔ ہر گز کسی گناہ کوچھوٹانہ سمجھنا ، کیونکہ بڑ ے بڑے پہاڑ چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے مل کرہی بنتے ہیں۔ ۱۔بحارالاانوار ،جلد ٧٠،صفحہ ١٣٦۔ ۲۔نہج البلاغہ ،خطبہ ١٦۔ ۳۔نہج البلاغہ ، خطبہ ١٥٧۔ ۴۔نہج البلاغہ ، خطبہ ١٩٠۔ ۵۔بحارالانوار ،جلد ٧٠صفحہ ١٣٦۔