لِّيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَيُكَفِّرَ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَكَانَ ذَلِكَ عِندَ اللَّهِ فَوْزًا عَظِيمًا
That He may admit the faithful, men and women, into gardens with streams running in them, to remain in them [forever], and that He may absolve them of their misdeeds. That is a great success with Allah.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 48:5
[Pooya/Ali Commentary 48:5] As said in verse 2, the sins of those to whom tranquillity is sent down (refer to the preceding verse) will be removed, because such men never have doubts about the bonafides of the messenger of Allah, as done by one of his companions mentioned in the commentary of verse one. The facility of pardon, forgiveness and protection is not available to deserters, deviators, doubters and hypocrites as made clear in verse 6. The wrath of Allah will encircle the doubters. There is no greater evil than to throw doubt upon Allah and His prophet. Doubting is a disease which takes roots when there is no sakina (tranquillity) in the heart.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:5-7
فتح مبین کا ایک اور نتیجہ
شیعہ اوراہل سنّت مفسرین کی ایک جماعت نے نقل کیاہے ، کہ جس وقت اس سُورہ کی ابتدائی آ یات میں پیغمبر اسلام کوفتح مبین ، اتمام نعمت ،ہدایت اور نصرت کی بشارت دی گئی ، توبعض مسلمانوں نے جو حوادث حدیبیہ سے دل تنگ اور پریشان تھے ، عرض کیا۔ ھنیئا لک یارسول اللہ !لقد بین اللہ لک ماذ ایفعل بک ،فما یفعل بنا ؟ فنزلت : لید خل المُؤمنین و المُؤ منات ...۔ اے خدا کے رسول پر تمام خدائی نعمتیں آپ کومبارک، خدا نے جوکچھ آپ کو دیاہے یاد ے گا اُسے تواس نے بیان کردیاہے ،ہمیں وہ کیا دے گا ؟اس موقع پرپہلی زِیر بحث آ یت نازل ہوئی ، اور مومین کوبشار ت دی کہ ان کے لیے بھی بڑا ثواب اوراجر ِ عظیم ہے (١) ۔ بہرحال یہ آ یات اس طرح صلح حدیبیہ سے مربوط لوگوں کے افکار میں مختلف عمل ، اوراس کے وزنی نتائج کے بارے میں گفتگو کررہی ہیں ،اور ہر گروہ کی سرنوشت کواس عظیم آزمائش کی بھٹی میں مشخص کرتی ہیں۔ پہلے فرماتاہے کہ اس عظیم فتح کادوسرا مقصد یہ تھاکہ صاحب ایمان مردوںاور عورتوں کوجنت میں داخل کرے ، جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں (لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنینَ وَ الْمُؤْمِناتِ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہارُ) ۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے ، اور یہ عظیم نعمت ہر گز ان سے چھینی نہیں جائے گی (خالِدینَ فیہا ) ۔ اس کے علاوہ یہ مقصد بھی تھا کہ ان کے بُرے اعمال پرپردہ ڈال دے اور انہیں معاف کردے (وَ یُکَفِّرَ عَنْہُمْ سَیِّئاتِہِم) ۔ اور یہ خداکے نزدیک ایک عظیم کامیابی ہے (وَ کانَ ذلِکَ عِنْدَ اللَّہِ فَوْزاً عَظیماً )(٢) ۔ اس طرح سے خدانے ان چار نعمتوں کے مقابلہ میں،جوفتح مبین میں اپنے پیغمبرکودیں .دوعظیم نعمتیں مومنین پر بھی ارزانی فرمائیں ،بہشت جاودانی اپنی تمام نعمتوں کے ساتھ، اور عفو ودرگزران کی لغز شوں سے،یہ اس روحانیاطمینان اور سکون کے علاوہ ہے ،جوانہیںاس دنیا میں عطا فرمایاہے ، اوران تینوں نعمتوں کامجموعہ ایک فوز عظیم یعنی بہت بڑی کامیابی ہے ، ان لوگوں کے لیے جو اس امتحان کی کٹھالی سے صحیح وسالم باہر نکل آ ئے ۔ لفظ فوز جس کا قرآن مجید میں عام طور پر عظیم کی صفت کے ساتھ ذکر ہوا ہے ،اور بعض اوقات مبین اور کبیر کے ساتھ بھی آ یا ہے ، مفردات میں راغب کے قول کے مطا بق کامیابی اور خیرات کاسلامتی کے ساتھ حصُول ہے .اور یہ اُسی صورت میں ہے کہ اس میں آخرت کی نجات بھی ہو، اگرچہ مادی دنیا کی نعمتوں کے کھو بیٹھنے کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو ۔ ایک مشہور روایت کے مطابق جب امیر المؤ منین علی علیہ السلام کافرقِ مبارک محرب عبادت میںخطا کار زمانہ عبدالرحمن بن ملجم کی شمشیر سے شگافتہ ہوا توآپ نے بأ واز بلند فرمایا : فز تُ و ربّ الکعبُة کعبہ کے رب کی قسم میں کامیاب ہوا ۔ (اور میرے سعادت مانہ پرمیر ے خون سے دستخط ہوگئے ہیں ) ۔ ہاں بعض اوقات پر ورد گار کے امتحانات ایسے سخت اور طاقت فرسا ہوتے ہیں جو کمز ورایمان والوں کوجڑ سے اکھاڑ پھینک دیتے ہیں اور ان کے دلوں کواُلٹ دیتے ہیں .صرف سچے مومنین ہی جوسکینہ اور اطمینان کی نعمت سے بہرہ مند ہوتے ہیں . مقابلہ مین ڈٹتے ہیں ، اور وہ قیامت میں اس کے ثمرات و نتائج سے بھی بہرہ مند ہوں گے ، اور واقعاً یہ ایک فوز عظیم ہے ۔ لیکن اس گروہ کے مقابلہ میں بے ایمان منافقین ومشرکین کاایک گروہ تھا . جن کی سرنوشت کی بعد والی آ یت میں اس طرح تصویرکشی ہوئی ہے،: دوسرا مقصد یہ ہے منافق مردوںاور عورتوں اور مشر ک مردوں اور عوتوں کی سزا دے (وَ یُعَذِّبَ الْمُنافِقینَ وَ الْمُنافِقاتِ وَ الْمُشْرِکینَ وَ الْمُشْرِکات) ۔ وہی کہ جوخدا کے متعلق بُراگمان کرتے تھے :( الظَّانِّینَ بِاللَّہِ ظَنَّ السَّوْء ِ ) ۔ ہاں ! پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اور مومنین کی مدینہ سے روانگی کے وقت یہ گمان رکھتے تھے کہ یہ گروہ ہرگزصحیح وسالم مدینہ پلٹ کرنہیں آ ئے گا ،جیساکہ اسی سُورہ ٔ کی آیہ ١٢ میں بیان ہواہے بَلْ ظَنَنْتُمْ أَنْ لَنْ یَنْقَلِبَ الرَّسُولُ وَ الْمُؤْمِنُونَ ِلی أَہْلیہِمْ أَبَداً ۔ اور مشرکین بھی یہی گمان رکھتے تھے کہ محمد اس تھوڑی سی جمعیّت کے ساتھ ، اورکافی اسلحہ نہ رکھنے کی وجہ سے صحیح وسالم مدینہ کی طرف نہیں لوٹیں گیے ، او راسلام کاستارہ بہت جلد غروب ہوجائے گا ۔ اس کے بعد عذاب اور سزا کی وضاحت کرتے ہُوئے چار عنوانوں کے تحت اس کی تشریح کرتاہے۔ فر ماتاہے ، حوادث اور بُر ے اثرت ونتائج صرف اسی گروہ پرنازل ہونگے (عَلَیْہِمْ دائِرَةُ السَّوْء)(٣) ۔ دائرة لغت میں حوادث اوران روئیدادوں کے معنی میں ہے جوانسان کوپیش آ تی ہیں . چاہے وہ اچھی ہوں یابُری ،لیکن یہاں لفظ سوء کے ذکر کرنے کی وجہ سے نا مطلوب جوادث ہی مراد ہیں ۔ دوسرے یہ کہ خدانے ان پرغضب کیاہے (وَ غَضِبَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ ) ۔ اورانہیں خدانے اپنی رحمت سے بھی دور کردیاہے (وَ لَعَنَہُمْ ) ۔ اور آخر میں ان کے لیے ابھی سے جہنم فراہم کررکھی ہے اوروہ کیاہی بُرا انجام ہے (وَ أَعَدَّ لَہُمْ جَہَنَّمَ وَ ساء َتْ مَصیراً)(٤) ۔ قابل ِ توجہ بات یہ ہے کہ میدان حدیبیہ میں زیادہ ترمسلمان مرد تھے ، اوران کے مقابل میں بھی منافق ومشرک مرد تھے ، لیکن اوپر والی آ یات میں قرآن نے اس فوزِ عظیم اوراس عذاب الیم میں عورتوں اورمردوں کومشترک شمارکیاہے ، یہ اس بناء پر ہے کہ باایمان مرد جو میدان جنگ میں حاضر ہوتے ہیں ، صاحبِ ایمان عورتوں کی پشتیبانی کے بغیر اوراسی طرح منافق مرد منافق عورتوں کی ہمکاری کے بغیر اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے ۔ اصولی طورپر اسلام مردوں ہی کادین نہیں ہے ، کہ عورتوں کی شخصیّت کو نظر انداز کردے ،لہٰذا ہراس مقام پر جہاںعورتوں کے نام کانہ ہوناکلام میں انحصاری مفہوم پیداکرتاہو وہاں عورتوں کاذکر صراحت کے ساتھ پیش کرتاہے،تاکہ معلوم ہوجائے کہ اسلام کا تعلق تمام انسانوں سے ہے ۔ آخر ی زیر بحث آ یت میں ایک مرتبہ پھر خدا کی قدرت کی عظمت کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے کہتاہے آسمانوں و زمین کے لشکر اورفوجیں خداہی کے لیے ہیں .اور خدا عزیز وحکیم ہے (وَ لِلَّہِ جُنُودُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ کانَ اللَّہُ عَزیزاً حَکیماً) ۔ یہ بات ایک مرتبہ اہل ایمان کے مقامات اورنعمتوں کے ذیل میں بیان ہوچکی ہے ، اورایک مرتبہ یہاںمنافقین اور مشرکین کے عذاب اور سزائوں کے ذیل میں آ ئی ہیں تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ وہ خداجس کے زیر فرمان آسمانوں اور زمین کے سارے لشکر ہیں وہ اس پر بھی قدرت رکھتاہے اوراس پر بھی اسے نوانائی حاصل ہے . جس وقت اس کا دریا ئے رحمت موجزن ہوتاہے توجن میں لیاقت وشا ئستگی ہوتی ہے ، وہ جہاں کہیں بھی ہوں ان کے شامل حا ل ہوتاہے ، اور جس وقت اس کے قہرو عضب کی آگ شعلہ زن ہو توپھر کسی مجرم میں یہ طاقت نہیں ہے کہ وہ فرار کرسکے ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ مومنین کے ذکر کے وقت خداکی علم وحکمت کے ساتھ توصیف ہوئی ہے ،جومقام ِ رحمت کے ساتھ مناسب ہے،لیکن منافق ومشرک لوگوں کے لیے خدا کی قدرت وحکمت کے ساتھ توصیف ہوئی ہے ،جومقام عذاب کے ساتھ مناسب ہے ۔ آسمانوںاور زمین کے لشکر وں سے کیا مراد ہے ؟ یہ لفظ ایک وسیع معنی رکھتاہے ، جوخداکے فرشتون کے لشکروں کو بھی شامل ہے ،اور صاعقہ زلزلوں طوفان سیلابوں امواج اور دوسری غیر مرئی طاقتوں کے لشکروں کوبھی ، جن سے ہم آگاہی نہیں رکھتے ، کیونکہ یہ سب اللہ کے لشکرہیں اوران کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں ۔ ١۔ تفسیر "" مراغی "" جلد ٢٦ ،صفحہ ٨٥ وتفسیر ابو الفتوح رازی "" جلد ١٠ ،صفحہ ٢٦ وتفسیر روح المعانی ،جلد ٢٦ صفحہ ٨٦۔ ٢۔اس بیان کے مطابق "" لید خل "" اوراسی طرح "" یعذب"" کاجُملہ جوبعد والی آ یت میں آ ئے گا "" لیغفر"" کے جُملہ پر عطف ہے . مفسر ین کے ایک گروہ نے منجملہ : شیخ طوسی نے "" تبیان "" میں اور "" طبرسی "" نے "" مجمع البیان ""میں اورابو الفتوح رازی نے اپنی تفسیر میں اسی معنی کو انتخاب کیاہے ،جبکہ ایک دوسرے گروہ نے "" لیرز دادو اایماناً "" پر عطف سمجھاہے ،حالانکہ نہ وہ اوپر والے شان نزول ہے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی کفّار کی سزا اور مجازات کے ساتھ ۔ ٣۔ ""سوء "" بر وزن "" نوع""""صحاح اللغتہ "" کے قول کے مطابق مصدری معنی رکھتاہے ،اور "" سوء "" بروزن "" کور"" اسمِ مصدر کے معنی میں ہے .لیکن بقول کشاف دونوں کاایک ہی معنی ہے ۔ ٤۔ "" مصیرا"" مختلف حالات کے معنی میں ہے ،جس تک انسان یکے بعد دیگر سے پہنچتا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:5-7
خدا کے بارے میں سوء ظن کون لوگ رکھتے ہیں ؟
سوء ظن کی کبھی تو اپنی طرف نسبت ہوتی ہے ، اور کبھی دوسرں کی طرف اور کبھی خداکی طرف جیساکہ حسن ظن بھی تین ہی حصّوں میں تقسیم ہوتاہے ۔ اپنے متعلق جوسوء ظن ہوتاہے کہ اگروہ فراط کی حد تک نہ پہنچے تو وہ تکامل وارتقاء کی سیڑ ھی ہے اور وہ اس بات کاسبب بن جاتاہے کہ انسان اپنے اعمال کونسبت سخت گیر اور بال کھال نکالنے والا بن جائے ، اور نیک اعمال سے پیداہونے والے عجب وغرور کو روک دے ۔ اسی بناء پر علی علیہ السلام مشہور خُطبہ ہمام میں پرہیز گاروں کی تعریف وتوصیف میں فر ماتے ہیں ۔ فھم لانفسھم متھمون ، ومن ،اعمالھم مشفقون ، اذازکی احد منھم خاف مما یقال لہ ،فیقول : نااعلم بنفسی من غیری و ربی اعلم بی منّی بنفسی ، اللّٰھم لا تؤ اخذنی بما یقو لون ، واجعلنی افضل مما یظنون،واغفرلی مالایعلمون۔ وہ اپنے آپ کو متہم کرتے ہیں،اوراپنے اعمال سے ڈ رتے ہیں ،جس وقت ان میں سے کسی ایک کاتزکیہ وتعریف کی جائے ،تو جوکچھ اس کے بارے میں کہاگیاہے ، اُس سے ڈ رتا ہے ، اور کہتاہے : میں اپنے بارے میں دوسروں کی نسبت زیادہ آگاہ ہوں اورمیرا پروردگارمیرے اعمال کومجھ سے بھی زیادہ جانتاہے،خداوندا!جوکچھ یہ لوگ کہتے ہیںاس پر میرا مؤ اخذہ کرنا اور مجھے اس چیز سے ، جووہ میرے بارے میں خیال کرتے ہیں ، برتر قراردے اور میری جن باتوں کاانہیں علم نہیں ہے وہ مجھے بخش دے ۔ لیکن اگریہ سوزظن لوگوں کے بارے میں ہو توممنوع ہے ،مگر ایسے مواقع پرجبکہ فساد اور خرابی معاشرے پرغلبہ کرے ،توپھر خوش فہمی ٹھیک نہیں ہے ،( انشاء اللہ اس کی تشریح وتنزیل سورۂ حجر کی آ یت ١٢ کے ذیل میں آ ئے گی) ۔ باقی رہاخدا کے بارے میں سوء ظن یعنی اس کے وعدہ کے بار ے میں ، اس کی بے پایاں رحمت وکرم کے بارے میں ،تووہ بہت ہی بُرا اور تبارہ کردینے والاہے ، اور ایمان کی کمزور ی کی نشانی ، بلکہ بعض اوقات توایمان کے نہ ہونے کی علامت ہے ۔ قرآن بے ایمان افراد یاضعیف الایمان لوگوں کے سوء ظن کوخصوصاً اجتماعی سخت قسم کے حوادث اور آزمائش کے طوفانوں کے ظہورکے موقع پر . باربار ذکر کرتاہے ،کہ مومنین ایسے مواقع پر کس طرح پورے حسنِ ظن کے ساتھ ، اور پر وردگار کے لطف کی داستان میں منافقین اور ان کے ہم خیال لوگوں نے بھی سوء ظن کیااور کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اوران کے یارو انصار اس سفر میں جاتورہے ہیں لیکن وہ اس سے واپس نہیں لوٹیں گے .گویا انہوں نے خدا کے وعدوں کوفراموش کردیا. یااُس کے بارے میں بدگمان تھے ۔ اس کاایک واضح نمونہ خصوصیّت کے ساتھ جنگِ احزاب میں . جبکہ مسلمان سخت دبائو کی حالت میں تھے . ظاہر ہُوا ،خدانے ایک گروہ کے بُرے گمانوں کی سخت مذمت کی ۔ ِذْ جاؤُکُمْ مِنْ فَوْقِکُمْ وَ مِنْ أَسْفَلَ مِنْکُمْ وَ ِذْ زاغَتِ الْأَبْصارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَناجِرَ وَ تَظُنُّونَ بِاللَّہِ الظُّنُونَا ،ہُنالِکَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُونَ وَ زُلْزِلُوا زِلْزالاً شَدیداً ۔ وہ وقت یاد کرو جب (لشکر احزاب )اُوپر کی طرف سے بھی اورنیچے کی طرف سے بھی شہر میں داخل ہوگیا ( اور مدینہ کامحاصرہ کرلیا ) اوراس وقت کو(یاد کرو )جب شدّت ِوحشت سے آنکھیںخیرہ ہوگئیں ، اور جانیں لبوں تک آ گئی تھیں ، اور تم خداکے بارے میںبُرے بُرے گمان کررہے تھے ، اس موقع پر مومنین کی آزمائش ہوگئی او ر وہ ہل کررہ گئے (احزا ب : آ یت ١٠ ،١١) ۔ یہاں تک کہ سورۂ آل عمران کی آ یت ١٥٤ میں ایسے گمانوں کو ظن الجاھلیة ( زمانہ جاہلیّت کے گمان )کہاہے ۔ بہرحال خداسے اوراس کے رحمت وکرم اور لطف وعنایت کے وعدہ کے متعلق حسن ظن ایمان کی اہم نشانی ،اور نجات وسعادت کے مؤ ثر وسائل میں سے ہے ۔ یہاں تک کہ رسول خدا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے ایک حدیث میں آ یاہے ۔ لیس من عبد یظن باللہ خیراً الّاکان عند ظنہ بہ!: کوئی بندہ خداکے بارے میںحسن ظن نہیں رکھتا مگر یہ کہ خداس کے گمان کے مطابق اس سے سلوک کرتاہے ( 1) ۔ ایک دوسری حدیث میں اما م علی ابن موسی الرّضا علیہ السلام سے آ یاہے ۔ احسن باللہ الظن ، فان اللہ عزو جل یقول انا عندظن عبد ی المؤ من بی ، ان خیر فخیر ، وان شرفشر :۔ خداکے ساتھ اپنے ظن وگمان کواچھا رکھو کیونکہ خدا وند عزوجل فرماتاہے ، میں اپنے بندہ ٔ مومن کے ظن وگمان کے پاس ہوتاہوں، اگروہ میرے بارے میں اچھاگمان رکھتاہو تو میں اس سے اچھا سلوک کرتاہوںاوراگروہ بُرا گمان رکھتا ہو ، توبُرا سُلوک ہوگا (2) ۔ آخر میں ایک دوسری حدیث میں پیغمبر اکر م(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے آ یاہے ۔ ان حسن الظن باللہ عزّ وجل ثمن الجنة : خدا کے ساتھ حسن ظن رکھنا جنّت کی قیمت ہے ( ۳) ۔ اس سے زیادہ سہل اور آسان قیمت اورکیا ہوگی ؟اوراس سے زیادہ قیمتی مال و متاع اور کونسا ہوگا ۔ 1۔بحارالانوار ، جلد ٧٠ ،صفحہ ٢٨٥۔ 2۔بحارالانوار ، جلد ٧٠ ،صفحہ ٣٨٥۔ ۳۔بحارالانوار ، جلد ٧٠ ،صفحہ ٣٨٥۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:5-7
سوره فتح/ آیه 5- 7
٥۔لِیُدْخِلَ الْمُؤْمِنینَ وَ الْمُؤْمِناتِ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْأَنْہارُ خالِدینَ فیہا وَ یُکَفِّرَ عَنْہُمْ سَیِّئاتِہِمْ وَ کانَ ذلِکَ عِنْدَ اللَّہِ فَوْزاً عَظیماً ۔ ٦۔وَ یُعَذِّبَ الْمُنافِقینَ وَ الْمُنافِقاتِ وَ الْمُشْرِکینَ وَ الْمُشْرِکاتِ الظَّانِّینَ بِاللَّہِ ظَنَّ السَّوْء ِ عَلَیْہِمْ دائِرَةُ السَّوْء ِ وَ غَضِبَ اللَّہُ عَلَیْہِمْ وَ لَعَنَہُمْ وَ أَعَدَّ لَہُمْ جَہَنَّمَ وَ ساء َتْ مَصیراً ۔ ٧۔ وَ لِلَّہِ جُنُودُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ کانَ اللَّہُ عَزیزاً حَکیماً ۔ ترجمہ ٥۔ (اس فتح مبین سے ایک اور )مقصد یہ تھاکہ صاحبِ ایمان مردوںاورصاحب) ایمان عورتوں کو( بہشت کے )باغوں میں داخل کرے ، جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہیں ، اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے اور ان کے گناہوں کوبخش دے اور یہ خدا کے نزدیک بہت بڑ ی کامیابی ہے ۔ ٦۔ اوعر ( اس کے علاوہ )منافق مردوں اور منافق عورتوں ، اور مُشرک مردوں، اور مشرک عورتوں کوجوخدا کے بار ے میں بُرے بُرے گمان رکھتے ہیں عذاب کرے ، اور وہ بُرے حادثات ،(جن کے وہ مومنین پر نازل ہونے کے منظر ہیں )صرف انہی پر نازل ہوں گے ، خدانے ان پر غضب کیاہے اور انہیں اپنی رحمت سے دُور رکھّاہے ،اور جہنم ان کے لیے آمادہ وتیار ہے ، اور یہ کتنا بُرا نجام ہے ۔ ٧۔آسمانوں اور زمین کے لشکر صرف خدا کے لیے ہیں ، اور خدا شکست ناپذیر اورحکیم ہے ۔