هُوَ الَّذِي أَنزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَّعَ إِيمَانِهِمْ وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا
It is He who sent down composure into the hearts of the faithful that they might enhance in their faith. To Allah belong the hosts of the heavens and the earth, and Allah is all-knowing, all-wise.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 48:4
[Pooya/Ali Commentary 48:4] Tranquillity was sent down on those who had no doubt at all at any time about the truthfulness of the religion of Allah preached by the Holy Prophet. Ibn Abbas says that the Holy Prophet first infused the unity of Allah (tawhid) into the minds of the people, then prescribed salat, sawm, zakat, hajj and jihad, and after that enjoined love of Ali. The love of Ali was enjoined to provide mankind with the ideal to be followed in every walk of life, material as well as spiritual. The Holy Prophet and Ali are from one and the same light, infallible and thoroughly purified. They never worshipped any ghayrallah (other than Allah). See commentary of Baqarah: 124. There are forces at the command of Allah which, if directed, control the thoughts and feelings of the living beings in the universe and mobilise them to serve the fulfilment of the will of Allah. In addition to the physical strength and intellect of the believers, these forces also played their role in the success of Islam. Aqa Mahdi Puya says: Those, to whose hearts the bounty of sakina (tranquillity) is sent down, never deviate from the right path under any circumstances. This is a manifest distinction on account of which a true believer can be recognised.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:4
١۔بے مثال آرام وسکون
اگرایمان کا ثمر اور نتیجہ اسی سکون وآرام کے مسئلہ کے سوا اور کچھ نہ ہوتا ، تویہی کافی تھا کہ انسان اپنے پُورے وجودکے ساتھ اس کااستقبال کرے ، جبکہ اس میں دوسرے ثمرات و برکات بھی موجود ہیں ۔ مؤ منین اور بے ایمان لوگوں کی حالت کامطالعہ اس حقیقت کوواضح کردیتاہے ، کہ دوسرا گروہ ایک دائمی اضطراب اور پر یشانی کی حالت میں بسر کرتاہے ، جب کہ پہلا گروہ بمیثا ل اطمینانِ قلب سے بہرہ مند ہے ، اوراس کے سائے میں ہے ۔ ہر گز خدا کے سواکسِی سے نہیں ڈ رتا : وَ لا یَخْشَوْنَ أَحَداً ِلاَّ اللَّہَ (احزاب ، ٣٩) ۔ ان کے اہنی ارادے میں اس کی اور اُس کی ملامت وسرزنش ہرگز اثر انداز نہیں ہوتی (وَ لا یَخافُونَ لَوْمَةَ لائِم) ( مائدہ ،٥٤) ۔ جوکچھ ہاتھ سے چلا جائے اس پر ہر گز غمگین نہیں ہوتے اور جوکچھ ان کے پاس ہوتاہے اس سے زیادہ دل بستگی نہیں رکھتے ، اور یہ دونوںاصول اس بات کاسبب بنتے ہیں کہ گذشتہ اور آیندہ کے لحاظ سے ان کاوحی سُکون متزلزل نہ ہو (لِکَیْلا تَأْسَوْا عَلی ما فاتَکُمْ وَ لا تَفْرَحُوا بِما آتاکُم) ( حدید . ٢٣) ۔ اور بالا آخر سخت اور شدید حوادث کے مقابلہ میں ہرگز بھی سست اورکمزور نہیں ہوتے ، اور کسی غم کواپنے پاس بھٹکنے نہیں دیتے ۔ گویا مومنین ہمیشہ اپنے دشمن سے برتر رہتے ہیں : وَ لا تَہِنُوا وَ لا تَحْزَنُوا وَ أَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ ِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنینَ (آل عمران . ١٣٩) ۔ مؤ من میدان ِ جوادث میں خود کو تنہا نہیں سمجھتا،خداکے لطف وحمایت کے ہاتھ کوہمیشہ اپنے سر پرمحسوس کرتاہے اور فر شتوں کی مدد نصرت کواپنے وجود میں محسُوس کرتاہے ۔ جب کہ بے ایمان لوگوں پر چھائی ہوئی بے چینی اوراضطراب ان کی گفتار ورفتار سے .خصوصاً جب حوادث کے طوفان چل رہے ہوں . پورے طو ر پر محسوس ہوتاہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:4
٣۔ سکون کے دو اہم وسیلے
زیربحث آ یت کے ذیل میں ہم نے دوجُملے پڑھے ہیں، جن میں سے ہرایک سکینہ اور مؤ منین کے آرام واطمینان کے عوامل کو بیان کرتاہے ،: پہلا تو وَ لِلَّہِ جُنُودُ السَّماواتِ وَ الْأَرْض ( آسمانوں اور زمین کالشکر خداکے لیے ہے اوراس کے حکم کے ماتحت ہے ) کاجُملہ ہے .اوراس کے بعد دوسرا وَ کانَ اللَّہُ عَلیماً حَکیماً ( خدا علیم و حکیم ہے ) کاجملہ ہے ۔ پہلا جُملہ انسان سے کہتاہے کہ اگر توخدا کے ساتھ ہوتوزمین وآسمان کی ساری قوتیں تیرے ساتھ ہیں،اور دوسراجُملہ اس سے یہ کہتاہے کہ خدا تیر ے احتیاجات،مشکلات اورمصیبتوں کوبھی جانتاہے اورتیر ی جدّوجہد تیر ی کوششوں اور اطاعت و بندگی سے بھی باخبرہے اوران دونوں اصولوں کے ہوتے ہُوئے کیسے ممکن ہے کہ انسان کوسکون قلب اوراطمینان خاطر حاصل نہ ہو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:4
٢۔ مراتب ایمان کاسلسلہ
ایمان چاہے علم وآگاہی اورمعرفت کے معنی میں ہو ،اور چاہے حق کے سامنے تسلیم وقبولیّت کی رُوح کے معنی میں ، کئی درجے اور سلسلہ ،مراتب رکھتاہے ، کیونکہ علم کے کئی درجے ہوتے ہیںاورقبول کرنے اور سر تسلیم خم کرنے کے بھی مختلف مراتب ہوتے ہیں ، یہاتک کہ عشق کے لگائو اورایمان سے توأم محبت میں بھی فرق ہوتاہے ۔ زیربحث آ یت جو یہ کہتی ہے : لِیَزْدادُوا یماناً مَعَ یمانِہِم : بھی اسی حقیقت پر ایک تاکید ہے ، اسی بناء پر ایک مومن آدمی کوایمان کے کسِی ایک مرحلہ پر ہرگز رکنانہیں چاہیئے ،وہ ہمیشہ خود گری کرتے ہُوئے علم اور عمل کے ذ ریعہ بالا تر درجات کی طرف قدم بڑ ھاتاہے ۔ ایک حدیث میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ہے : ان الا یمان عشر د رجاٰت بمنزلة السلم یصعد منہ مرقاة بعد مرقاة ۔ ایمان کے دس درجے ہیں مثل سیڑھی کے ،جس کے ایک درجہ پر اُس سے اُوپر جاتے ہیں (1) ۔ ایک دوسری حدیث میں آ پ علیہ السلام ہی سے منقول ہے : خدانے ایمان کوسات حصّوں پرتقسیم کیاہے ،نیکی ،صدق ،یقین ،رضا ، وفا، علم اور حِلم .پھر اسے لوگوں کے درمیان تقسیم کردیا، جوشخص ان تمام ساتوں حِصّوں کاحامل ہے ، وہ کامل و معتمد مؤ من ہے .لوگوں میں سے بعض توایک حِصّہ رکھتے ہیں ،بعض دو اور بعض تین ،یہاں تک کہ بعض سات تک پہنچ جاتے ہیں ۔ اس کے بعد امام علیہ السلام نے مزید فر مایا: جووظیفہ اور ذمہ داری دوحصوں والے کی ہے .اسے ایک حصّہ والے کے کندھے پرنہ رکھو ،اور جوبات تین حصّوں والے سے مربُوط ہے اسے دوحصّوں والے کے دوش پر نہ ڈالو، کہیں ایسانہ ہو کہ ان کابارزیادہ ہوجائے اور وہ زحمت میں جاپڑ یں (2) ۔ یہاں سے واضح ہوجاتاہے کہ وہ چیز جوبعض سے نقل کی گئی ہے کہ ایمان میں کمی و زیاد تی نہیں ہے ،بہت ہی بے بنیادسی بات ہے کیونکہ وہ تو وہ علمی واقعات کے ساتھ سازگار ہے اور نہ ہی اسلامی روایات کے ساتھ ، لگاّ کھاتی ہے ۔ 1۔ بحارالانوار ، جلد ٦٩ ،صفحہ ١٦٥۔ 2۔ "" کافی "" جلد ٣ باب درجات الاایمان ، حدیث ١۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:4
مؤ منین کے دلوں پرنزول سکینہ
گذشتہ آ یات میں جو کچھ بیان ہُوا ہے ، وہ اتنی عظیم نعمتیں تھیں جوخدانے فتح مبین (صلح حد یبیہ ) کے سایے میں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوعطا فرمائی تھیں ،لیکن زیر بحث آ یت میں اس عظیم نعمت کے بارے میں بحث کررہا ہے جواس نے تمام مومنین کومرحمت فرمائی ہے،فر ماتاہے : وہی توہے ،جس نے مومنین کے دلوں میں سکون اوراطمینان نازل کیا، تاکہ ان کے ایمان میں مزید ایمان کااضافہ کرے (ہُوَ الَّذی أَنْزَلَ السَّکینَةَ فی قُلُوبِ الْمُؤْمِنینَ لِیَزْدادُوا یماناً مَعَ یمانِہِمْ ) ۔ اورسکون واطمیان ان کے ذیل دلوں پرنازل کیوں نہ ہو ، در آ نحالیکہ آسما نوں اور زمین کے لشکر خدا(وَ لِلَّہِ جُنُودُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ کانَ اللَّہُ عَلیماً حَکیماً) ۔ یہ سکینہ کیاتھا ؟ ضروری ہے کہ ہم پھر صلح حدیبیہ کی داستان کی طرف لوٹیں اوراپنے آپ کو صلح حدیبیہ کوفضا میں اس فضاء میں جوصلح کے بعد پیدا ہوئی ، تصورکریں تاکہ آ یت کے مفہوم کی گہرائی سے آشنا ہوسکیں ۔ پیغمبر( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک خواب دیکھاتھا ، ایک رؤ یا ئے الہٰی ورحمانی کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد الرام میں داخل ہورہے ہیں. اور اس کے بعد خانہ ٔ خداکی زیارت کے عزم کے ساتھ چل پڑے زیادہ ترصحابہ یہی خیال کرتے تھے کہ اس خواب اوررؤ یائے صالحہ کی تعبیر اس سفر میں واقع ہوگی ، حالا نکہ مقدر میں ایک دوسری چیز تھی . یہ بات تو ایک ہوئی ۔ دوسری طرف مسلمانوں نے احرام باندھا ہواتھا ، اور وہ قربانی کے جانور اپنے ساتھ لائے تھے ،لیکن ان کی توقع کے برخلاف خانہ ٔ خدا کی زیارت کی سعادت تک نصیب نہ ہوئی ، اورپیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دے دیا کہ مقام ِ حدیبیہ میں ہی قربانی کے اونٹوں کونحر کردیں . کیونکہ ان کے آداب وسنن کابھی اوراسلامی احکام ودستور کا بھی یہی تقاضا تھاکہ جب تک مناسک عمرہ کوانجام نہ دے لیں احرام سے باہر نہ نکلیں ۔ تیسری طرف حدیبیہ کے صلح نامہ میں کچھ ایسے امور تھے جن کے مطالب کوقبول کرنابہت ہی دشوار تھا، منجملہ ان کے یہ کہ اگر قریش میں سے کوئی شخص مسلمان ہوجائے اور مدینہ میں پناہ لے لے تومسلمان اُسے اس کے گھر والوں کے سپرد کردیں گے ،لیکن اس کے برعکس لازم نہیں تھا ۔ چوتھی طرف صلح نامہ کی تحریر کے موقع پر قریش اس بات پرتیار نہ ہُوئے کہ لفظ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام کے ساتھ لکھاجائے ، اورقریش کے نما ئندسے سہیل نے اصرار کرکے اسے حذف کرایا ، یہاں تک کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کے لکھنے کی بھی موافقت نہ کی ، اوروہ یہی اصرار کرتارہا کہ اس کے بجائے بسمک اللّٰھم لکھاجائے ،جواہل مکہ کی عادت اور طریقہ کے مطابق تھا، واضح رہے کہ ان امور میں سے ہر ایک علیٰحدہ علیٰحدہ ایک نا گوار امر تھا ، چہ جائیکہ وہ سب کے سب مجموعی طورپر سے .اسی لیے ضعیف الایمان لوگوں کے دل ڈ گمگاگئے ، یہاں تک کہ جب سورہ فتح نازل ہوئی تو بعض نے تعجب کے ساتھ پوچھا: کونسی فتح ؟ ! یہی وہ موقع ہے جب نصرت الہٰی کومسلمانوں کے شامل حال ہونا چاہئے تھا، اور سکون و اطمینان ان کے دلوں میں داخل ہوتا تھا. نہ یہ کہ کوئی فتور اورکمزور ی ان میں پیدا ہوتی تھی ، بلکہ لِیَزْدادُوا یماناً مَعَ یمانِہِمْ کے مصداق ان کی قدرت ِ ایمانی میں اضافہ ہوناچاہیئے تھا .اوپر والی آ یت ایسے حالات میں نازل ہوئی ۔ سکینہ اصل میں سکون کے مادہ سے ولی آ رام واطمینان کے معنی میں ہے ،جوہرقسم کے شک و تردد اور وحشت کوانساب سے زائل کردیتاہے ،اور اس کو طوفان حووادث میں ثابت قدم رکھتاہے ۔ ممکن ہے اس سکون میں اعتقادی پہلو ہو ،اور وہ اعتقاد میں ڈ گمگانے سے بچا ئے ،یااس میں عملی پہلو ہواس طرح سے کہ وہ انسان کوثبات قدم ، مقا ومت اورصبر وشکیبائی بخشے ، البتہ گذشتہ مباحث کی مناسبت سے اور خود آ یت کی تعبیر یںیہایں زیادہ ترپہلے معنی کی طرف نظر جاتی ہے ،جبکہ سورۂ بقرہ کی آ یہ ٢٤٨ داستان طالوت و جالوت میں زیادہ ترعملی پہلوئوںپرتکیہ کرتی ہے ۔ مفسرین کی ایک جماعت نے سکینہ کے لیے کچھ اورمعنی بھی ذکر کیے ہیں ، جن کی بازگشت آخر کار اسی تفسیر کی طرف ہے ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ بعض روایات میں سکینہ کی ایمان کے ساتھ تفسیر ہوئی ( ١) اور بعض دوسری روایات میں نسیم جنت سے جوایک خاص صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور مومنین کوسکون وآرام بخشتی ہے ( ٢) ۔ جوکُچھ بیان ہوا ہے ،یہ بھی ان کے لیے ایک تائید ہے ،کیونکہ سکینہ ایمان کی پیدا وار ہے ، اور نسیم بہشتی کی طرح آرام بخشش ہوتی ہے ۔ یہ نکتہ بھی قابل ِتوجہ ہے ،کہ سکینہ کے بارے میں انزال ( نازل کرنے )کی تعبیر ہوئی ، اورجیساکہ ہم جانتے ہیں . یہ تعبیر قرآن مجید میں بعض اوقات ،ایجاد ، وخلقت اوربخشش کے معنی میں آ تی ہے ، اور چونکہ ایک عالی مقام سے ایک پست مقام کی طرف سے اس لیے اس تعبیر کی خوبی واضح ہے ۔ ١۔تفسیر برہان ،جلد ٢،صفحہ ١١٤۔ ٢۔تفسیر برہان ،جلد ٢،صفحہ ١١٤۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:4
سوره فتح/ آیه 4
4۔ہُوَ الَّذی أَنْزَلَ السَّکینَةَ فی قُلُوبِ الْمُؤْمِنینَ لِیَزْدادُوا یماناً مَعَ یمانِہِمْ وَ لِلَّہِ جُنُودُ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ کانَ اللَّہُ عَلیماً حَکیماً۔ ترجمہ 4۔ وہی تو ہے جس نے مؤ منین کے دلوں میں سکون و اطمینان نازل کیا، تاکہ ان کے ایمان میں مزید ایمان کااضافہ ہو ، اور آسمانوں اور زمین کے لشکر خداہی کے لیے ہیں اور خدا دانا و حکیم ہے ۔