وَيَنصُرَكَ ٱللَّهُ نَصۡرًا عَزِيزًا
and Allah will help you with a mighty help.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 48:1-10
From the above one can judge the position of God’s representative on Earth nominated by Him. To contravene such an authority by thought, word, or deed (with which Khalifa II is charged) is a treason and condemnable to perpetual perdition unless absolved by penance. Those who fight against God and the Prophet (Divine Light) shall be treated as per Couplet 33 Surah Five (The Table).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:2-3
٢۔ "" ماتقدم "" اور "" ماتأ خّر "" سے کیا مراد ہے ؟
زیر بحث آ یت میں یہ بیان ہُوا ہے کہ خدافر ماتاہے : فتح مبین کے سایے میں تیرے پہلے گناہ بھی اورآیندہ کے گناہ بھی بخشش دیئے ہیں، اس بارے میں کہ متقدم اورمتأ خر (پہلے اور آیندہ کے ) سے کیا مراد ہے ، مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔ بعض نے ماتقد م کوآدم وحوا کے عصیان اورترکِ اولیٰ کی طرف اشارہ سمجھاہے ،اور ماتأ خّر کو امت کے گناہوں کی طرف ۔ بعض دوسروں نے ما تقدم کونبوّت سے قبل کے مسائل سے مربُوط جاناہے ، اور ماتأ خّر کونبوّت سے بعد کے ساتھ مربوط سمجھاہے ۔ بعض نے ماتقدم کو ان ( گناہوں ) سے جوصلح حدیبیہ سے پہلے ہُوئے تھے ، اور ماتأ خّر کواُن سے جوصلح کے بعد ہُوئے ، مربُوط سمجھاہے ۔ لیکن اس تفسیر کی طرف توجہ کرتے ہُوئے ،جوہم نے آ یت کے اصل معنٰی کے ب ارے میں خاص طور پر صلح حدیبیہ کے مسئلہ کے ربط میں . بیان کی ہے ، یہ واضح ہوجاتاہے کہ اس سے مراد و ہ تمام ناروا نسبتیں اور گناہ ہیںجو وہ اپنے گمان کے مطابق پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی طرف گزشتہ زمانے میں منسُوب کرتے رہتے تھے یاآیندہ کرتے ، اوراگریہ عظیم کامیابی نصیب نہ ہوئی ہوتی تو وہ ان تمام گناہوں کوقطعی و یقینی خیال کرلیتے ، لیکن اس کامیابی کے حصول کے ساتھ گذشتہ نا روا نسبتیں بھی ختم ہوگئیں ،اوروہ بھی جن کے بارے میں ممکن تھا کہ آ آ یندہ نسبت دیتے ۔ اس تفسیر کاایک دوسراشاہدوہ روایت ہے ، جوامام علی ابن مُوسیٰ الرضا علیہ السلام سے منقول ہوئی ہے کہ مامون نے جس وقت اس آ یت کے متعلق سوال کیا توامام علیہ السلام نے جواب میں فرمایا : مشرکین مکّہ کے نزدیک کسی شخص کاگناہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ سنگین نہیں تھا، کیونکہ وہ ٣٣٠بتوں کی پرستش کیاکرتے تھے ، جس وقت پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں توحید کی طرف دعوت دی توان پر بہت گراں گزرا ،اورانہوںنے کہا: کیااس نے ہمارے سب خدا ئوں کوایک خدامیں تبدیل کردیاہے ؟ یہ تو ایک عجیب بات ہے ... ہم نے ہرگز اس قسم کی کوئی بات اپنے آبائو اجداد سے نہیں سُنی ، یہ توایک بہت بڑا جُھوٹ ہے ۔ لیکن جس وقت خدانے (صلح حدیبیہ کے بعد ) اپنے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے فتح کردیا ،توخدا نے فرمایا، اسے محمد ہم نے تیر ے لیے فتح مبین فراہم کی ہے تاکہ توحید کی طرف دعوت دینے کی بناء پر مشرکین عرب کے نزدیک جتنے گناہ تونے پہلے کیے تھے یا آ یندہ کرے گا ان سب کوبخش دیا،کیونکہ بعض مشرکین مکّہ تواس دن ایمان لاچکے تھے ، اور بعض مکّہ سے باہر نکل گئے تھے .اورایمان نہیں لائے تھے ،لیکن ان میں اب توحید کاانکار کرنے کی جرأ ت باقی نہیں رہی تھی، لہٰذاپیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا گناہ ان کی نظر میں بھی کامیابی کی بناء پر بخشا گیا، جس وقت مامون نے یہ سُنا تو کہا بارک اللہ ، اے ابوالحسن( ١) ۔ ١۔ نورالثلقین ، جدل ٥،صفحہ ٥٦)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:2-3
سوره فتح/ آیه 2- 3
٢۔لِیَغْفِرَ لَکَ اللَّہُ ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَ ما تَأَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکَ وَ یَہْدِیَکَ صِراطاً مُسْتَقیماً ۔ ٣۔ وَ یَنْصُرَکَ اللَّہُ نَصْراً عَزیزاً۔ ترجمہ ٢۔ مقصد یہ تھاکہ خداتیر ے گذشتہ اورآئندہ کے وہ گناہ جن کی وہ تیر ی طرف نسبت دیتے تھے ،بخش دے ، اور تجھ پر اپنی نعمت کوتمام کردے، اور تجھے راہ راست کی طرف ہدایت کرے ۔ ٣۔ اور شکست ناپذ یر کامیابی کوتیرے نصیب کرے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:2-3
فتح مبین کے عظیم نتائج
ان دو آیات میں فتح مبین (صلح حدیبیہ )جوگذشتہ آ یت میں بیان ہوئی تھی .کے پُر برکت نتائج کے ایک حِصّہ کی تشریح ہوئی ہے ،فرماتاہے : مقصد یہ تھاکہ خداتیرے پہلے اور بعد کے گناہ بخشش دے اوراپنی نعمت کوتجھ پرتمام کردے اورتجھے راہ راست کی ہدایت کرے (لِیَغْفِرَ لَکَ اللَّہُ ما تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَ ما تَأَخَّرَ وَ یُتِمَّ نِعْمَتَہُ عَلَیْکَ وَ یَہْدِیَکَ صِراطاً مُسْتَقیماً ) ۔ اور تجھے شکست ناپذیر فتح تک پہنچا ئے :(وَ یَنْصُرَکَ اللَّہُ نَصْراً عَزیزاً ) ۔ اوراس طرح سے خدانے اپنے پیغمبر کوفتح مبین کے سائے میں چار عظیم نعمتیں عطافرمائیں : مغفرت ،تکمیل نعمت ،ہدایت ونصرت ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 48:2-3
١۔ چند اہم سوالات کے جواب
یہاں بہت سے سوالات پیش ہُوئے ہیں اور قدیم ترین زمانہ سے لے کراب تک مفسرین ان سوالات کے جواب دے رہے ہیں ۔ خصوصاً پہلی خدائی نعمت یعنی گذشتہ اور آ یندہ کے گنا ہوں کی مغفرت کے بارے میں ذیل کے متین سوال پیش ہُوئے ہیں ۔ ١۔جب کہ پیغمبر مقام ِ عصمت کی بنا پر ہرگناہ سے پاک ہیں توپھر اس جُملہ سے کیامراد ہے ؟ ٢۔بالفرض اگرہم اعتراض سے صرف نظر بھی کرلیں تو فتح حدیبیہ اور گناہوں کی آمرزش کے درمیان کونا ساربط ہے ۔ ٣۔اگر ماتاخر سے مراد آ یندہ کے گناہ ہیں تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ جوگناہ ابھی واقع ہی نہیں ہُوااُسے معاف کیاجائے ؟ کیا یہ آیندہ کے لیے ار تکاب گناہ کی اجازت نہیں ہے ؟ مفسرین میں سے ہرایک نے کسی نہ کسی صورت میں ان اعتراضا ت کاجواب دیاہے ،لیکن جامع ترین جواب اوران آ یات کی دقیق تفسیر کی یہ تک پہنچنے کے لیے ایک بات کاذِکر کرناضروری معلوم ہوتاہے ۔ اوروہ اہم بات یہ ہے کہ ہم فتح حدیبیہ کاآمر زش گناہ کے مسئلہ کے ساتھ ربط معلوم کریں ،کیونکہ اُو پر کے تینوں سوالات کے اصل جواب کی چابی اسی میں چھپی ہوئی ہے ۔ تاریخی واقعات اور حوادث پر غور وفکر کرنے سے ہم اس نتیجے پر پہنچنے ہیں کہ :جس وقت کوئی سچا مذہب یامکتبِ خیال ظاہر ہوتاہے ،اور وہ قائم ہونے کی کوشش کرتاہے ، تو بے ہودہ رسم و رواج کے وفادار.جواپنے وجود کو خطرے میں پاتے ہیں . ہر قسم کی تہمت اور نا روانسبت اس کے سرتھو پتے ہیں ،افواہیں پھیلا تے ہیں،جھوٹی باتیں کرتے ہیں،اس کے مختلف نقض گنواتے ہیں اوراس انتظار میں رہتے ہیں کہ دیکھیں اس کاانجام کیاہوتاہے ۔ اگریہ مکتب اپنی پیش رفت کی راہ میں شکست سے دو چار ہوجائے ،تومخالفین کے ہاتھ میں ، ناروا نسبتوں کی ایک محکم دستاویز آ جاتی ہے ، اوروہ چیخنے چلا نے لگتے ہیں . ہم نے کہانہیں تھا کہ اس طرح ہے ،ہم کہتے ہیں تھے کہ یہ بات ہے ؟۔ لیکن جب وہ کامیابی سے ہم کنا ہوجائے ، اوراپنے پرو گراموں کوکٹھن آزمائش سے گز رتے ہُوئے پورا کرلے ، تو تمام ناروانسبتیںخود بخود ختم ہوجاتی ہیں اور تمام اس طرح کے فقرے ہم نے نہیں کہاتھا ؟افسوس وندامت میں بدل جاتے ہیں، اوراس کی جگہ ، ہم نہیں جانتے تھے ،ہمیں معلوم نہیں تھا جیسے فقرے آ جاتے ہیں ۔ خصوصاً پیغمبر اسلام کے بارے میںیہ ناروا نسبتیں اورخیالی گناہ بہت زیادہ تھے ، آپ کوجنگ طلب ،آگ بھڑ کانے والا، سچے رسم و رواج کی پرداہ نہ کرنے والا، افہام وتفہیم کے ناقابِل،اوراسی قسم کی دوسری باتوں کا مرتکب سمجھتے تھے ۔ صلح حدیبیہ نے اچھی طرح سے نشاندہی کردی کہ آپ کادین .دشمنوں کے خیال کے برخلاف ،ایک ترقی کرنے والااورخدائی دین ہے ،اور آپ کے قرآن کی آ یات انسانوں کے نفوس کی تربیت کی ضامن ، اور ظلم وستم وخو نر یزی کو ختم کرنے والی ہیں ۔ وہ خانۂ خدا کااحترام کرتے ہیں ، بلاوجہ کسی قوم وقبیلہ پرحملہ نہیں کرتے ،دلیل کے ساتھ جچی تلی بات کرتے ہیں ، اُن کے پیرو کار اُن کے عاشق ہیں، وہ واقعاً تمام انسانوں کوان کے محبُوب اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں اوراگر اس کے شمن جنگ کواس کے اوپر سوارہی نہ کردیں ، تووہ صلح اورامن وسلامتی کے طالب ہیں ۔ اس طرح سے صلح حدیبیہ نے ، وہ تمام الزام جن کی ہجرت سے پہلے اورہجرت کے بعد ،یاوہ تمام تہمتیں جن کی اس ما جرے سے پہلے یہاں تک کہ وہ گناہ بھی جن کے آپ کی طرف آیندہ نسبت دینے کا امکان تھا، ان سب کو دھودیا.اور چونکہ خدانے پیغمبر کویہ کامیابی نصیب فرمائی، لہٰذا یہ کہاجاسکتاہے کہ خدانے ام سب لودجودیا۔ نتیجہ اس کا یہ ہے کہ یہ الزامات واقعی الزام نہیں تھے ،بلکہ ایسے الزام تھے جوخیالی لوگوں کے افکار میں تھے ، جنہیں انہوں نے باور کرلیاتھا ، جیساکہ سورۂ شعراء کی آ یت ١٤ میں مُوسیٰ علیہ السلام کی داستان میںبیان ہواہے کہ مُوسیٰ علیہ السلام نے بارگاہ ِ خدا میں عرض کیا۔ ولھم علی ذنب فاخاف ان یقتلون :فرعونیوں کامیرے اوپر ایک گناہ ہے ، میں ڈ رتاہوں کہ وہ مجھے اس گناہ کے جُرم میں قتل کردیں گے حالانکہ آپ کاگناہ بنی اسرائیل کے ایک مظلوم آدمی کی مدد کرنے اورفر عونیوںمیں سے ایک ستمگر کی سر کوبی کے سوا اور کچھ نہ تھا ۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ نہ صرف گناہ نہیں تھا،بلکہ مظلوم کی حمایت تھی ،لیکن فرعونیوں کی نظر میں وہ گناہ شمار ہوتا تھا ۔ دوسرے لفظوں میں ذنب لغت میں کسِی کام کے بُرے آثار اوراس کے پیچھے آنے والے نتائج کے معنی میں ہے ، ظہور ِ اسلام نے آغاز میں مشرکین کی زندگی کودرہم برہم کرکے رکھ دیا .لیکن بعد کی کامیابیاں اس بات کا سبب بن گئیں کہ وہ نتائج فر اموشی کے سپرد کردیئے جائیں ۔ اگرلوگ ہمارے پرانے اور فرسودہ گھر کو جواس وقت ہماری پناہ گاہ کا کام دیتاہے اورہم اس سے دل بستگی رکھتے ہیںخراب کردیں ،توممکن ہے کہ ہم اس کام کوان کی خطا اور غلطی کہیںاوراُسے ان کا ایک گناہ سمجھیں،لیکن جب ایک محکم اور آ راستہ عمارت اس کی جگہ بنادی جائے اورہماری تمام پریشانیاں دور کردی جائیں . توپھر ہمارا فیصلہ کلی طورپر بدل جائے گا ۔ مشرکین مکّہ ہجرت سے پہلے بھی اورہجرت کے بعد بھی اسلام اورپیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے بارے میں غلط قسم کے خیالات وتصور رکھتے تھے ،بعد والی کامیابیوں نے اُن سب پر خط بطلان کھینچ دیا۔ ہاں !اگرہم ان گناہوں کی آمرز ش کافتح حدیبیہ کے ساتھ تعلق نظرمیں رکھیں تومطلب مکمل طورپر واضح ہوجائے گا ، وہ رابط جو لیغفرلک اللہ کی لام سے معلوم ہوتاہے اور آ یت کے معنی کھولنے کے لیے کلید رمز ہے ۔ لیکن جنہوںنے اس نکتہ کی طرف توجہ نہیں کی وہ یہاں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقام عصمت کو زیر سوال لے آ تے ہیں .اورآپ کے لیے ( نعوذ باللہ ) گناہوں کے قائل ہُوئے ہیں. جنہیں خدانے فتح حدیبیہ کے سائے میں بخش دیاہے یاپھر آ یت کاظاہر کے برخلاف معنی کیاہے ۔ ان میں سے بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس سے مراد گناہ ہی ہیں ۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد وہ گناہ ہیں جن کے لوگ پیغمبر کے بارے میں مرتکب ہُوئے تھے ،مثلاً اذیت اور تکلیفیں جوصلح حدیبیہ کے بعد ختم ہوگئیں (اس صورت میں ) ( ذنب کی مفعول کی طرف اضافت ہوئی نہ کہ فاعل کی طرف) ۔ اور یااُسے ترکِ اولیٰ کے معنی میں لیاہے ۔ یافرضی گناہوں کے معنی سے تفسیر کیا ہے کہ فرض کرو اگر توآیندہ یاگذ شتہ زمانے میں گناہ کامرتکب ہوا ہوتا توہم اُسے بخش دیتے ۔ علاوہ ازیں وہ خود ایک رہبر ورہنما کامحتاج ہوگا جواُسے ہدایت کرے ۔ اور بہت سی دوسری تفسیریں بھی ہیں،جوظاہر کے خلاف ہیں ، اور ان میں اہم اشکال یہ ہیں . کہ وہ آ مر زش گناہ کاارتباط صلح حدیبیہ کے مسئلہ سے منقطع کردیتی ہیں ۔ بہترین تفسیروہی ہے جس کی طرف اُوپر اشارہ ہواہے،جوتینوں سوالات کا یکجا جواب دیتی ہے .اورآ یت کے جُملوں کے ارتباط کومشخص کرتی ہے ۔ یہ سب بحث توان چاروں نعمتوں میں سے پہلی نعمت کے بارے میں ہے ،اور جوخدانے صلح حدیبیہ کے سائے میں پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم) کودی تھی ۔ اب باقی رہ گیا پروردگار کی نعمت کی تکمیل ،صاف اورمستقیم راستے کی طرف ہدایت ،اورشکست ناپذ یر خدا ئی نصرت ، توحدیبیہ کی کامیابی کے بعد یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے ، جوکسِی پر مخفی رہی ہو ، اسلام نے تیز ی کے ساتھ وسعت پیدا کی ،آ مادہ دلوں کوتسخیر کیا، اس کی تعلیمات کی عظمت سب پر آشکار ہوئی ، زہر یلے پرو پیگنڈ وں کونا کارہ کردیا اورخدا کی نعمت کو کامل کردیا، اور عظیم کامیابیوں کی طرف راہِ مستقیم کواس طرح سے ہموار کیا، کہ فتح مکّہ کے واقعہ میں لشکرِ اسلام نے بغیر کسی مذاحمت کے دشمن کااہم ترین قلعہ فتح کرلیا۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 48:3
[Pooya/Ali Commentary 48:3] A comprehensive promise of help is given to make the Holy Prophet's mission triumphant and spread all over the world.