وَلَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ
When the Son of Mary was cited as an example, behold, your people raise an outcry.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 43:57
[Pooya/Ali Commentary 43:57] Isa was a man and a prophet. Some of the churches, founded after him, worshipped him as God and as the son of God. The pagans of Makka who worshipped their own false gods did not like the idea of referring to Isa who was introduced to them by the Christians as God, an alien God to them. So they ridiculed him; but they did not know that Isa was neither God nor the son of God, he was one of the great prophets, and had a limited mission to reform the children of Israil. Refer to the commentary of Baqarah: 140; Ali Imran: 45 to 59, 114 to 118; Nisa: 157 to 159, 171; Ma-idah: 5; 20, 44, 45, 67, 85, 113, 114, 117, 119, 121; Bara-at :30, 31;Maryam: 16 to 37 for prophet Isa. The Holy Prophet said: "0 Ali, you are like Isa. Many have gone astray in his love or in his hostility." The hypocrites among those present there said: "Is there no better example than this?". Thereupon these verses were revealed. Ahmed bin Hambal in his Musnad and Ibn Hajar in his Sawa-iq al Muhriqah have confirmed this tradition. Aqa Mahdi Puya says: "He" in verse 61 refers to Isa. According to Sahih Muslim the Holy Prophet said: "When Isa will descend from the heaven among you, the leader (of mankind) will be a man from among you." Refer to the commentary of Bara-at: 32, 33 for the reappearance of Imam Muhammad bin Hasan al Qa-im along with whom Isa will also come. See Maryam: 36 for verse 64. "Jesus said: 'Begone, Satan! Scripture says: you shall worship the Lord your God and worship Him alone'." (Matthew 4: 10)
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 43:57-67
Emergence of Messiah, 12th Divine Light and Ali with is descendents are contemporaneous events of Resurrection and the faithful should not be upset when the Ahl al-Bayt are represented, since their position has been likened with Aaron to Moses, being clarified by the Prophet they are all Divine Lights, being on the right way, and their enemies in Bani Umayyah – Bani Abbas and their followers of like mindedness, out of jealousy proceeding by ignoring their Divine selection made them blind hearted and gained them nothing beyond temporary worldly power, for their worldly intrigues. They (Divine Lights) cannot be likened with political pedagogues who, when they are trapped by their own followers, in their conflicting speeches admit they are not prophets and yet maintain leadership on what they view the field, changing as it does with times due to their disregard for Divinity.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 43:57-62
شان ِ نزول
سیر ت ابن ِ ہشام میں ہے ۔ ایک دن رسُول ِ خدا ولید بن مغیرہ کے ساتھ مسجدمیں تشریف فر ماتھے کہ نصر بن حارث بھی ان کے ساتھ آکر بیٹھ گی.قریشی سردار وں کے کئی اورلوگ بھی اس محفل میں بیٹھے ہُو ئے تھے . رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے ان سے بات کی تونصربن حارث آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے مقابلے میں کھڑا ہو گیا .رسُو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے بُت پرستی کے غلط ہونے کو ثابت کرتے ہُو ئے منطقی دلائل کے ذریعے اس خاموش کر دیااور پھر ان کے سامنے اس آ یت کی تلاو ت کی ۔ ” انکم وما تعبد ون من دُون اللہ حصب جھنم انتم لھاواردون لو کان ھٰؤ لاءِ اٰلھة ماور دوھاوکل فیھا خالدون ...“۔ تم لوگ اورخدا کے علاوہ وہ معبُود کہ جن کی تم پرستش کرتے ہو جہنم کاایندھن بنو گے ، اور تم سب اس میں داخل ہوگے . اگریہ خدا ہوتے توکبھی جہنم میں نہ جاتے اور تم سب اس میں ہمیشہ رہو گے “۔ اس واقعے کے بعد آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )اپنی جگہ اُٹھ کر چلے گئے. اسی اثناء میں عبداللہ بن زبعری آ گیااوران لوگوں سے مِل گی. ولید نے عبداللہ سے کہا:نصر بن حارث تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے مقابلے میں عاجز آ گیاہے اورکوئی جواب نہیں دے سک. محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کا گمان ہے کہ ہم اور ہمارے سارے معبُود جہنم کاایندھن ہیں ، عبد اللہ نے کہا:خداکی قسم ! اگر میں اسے دیکھتا توضر وراس کوجواب دیتا . تم اس سے پوچھو کہ اگراسی ہی صورتِ حال ہے توکیا سب عابد اور معبُود جہنم میں جائیں گے ؟پھر ہم توفرشتوں کی عباد ت کرتے ہیں،یہودی عزیزکی اور نصار یٰ عیسٰی بن مریم کی دپھر کیا حرج ہے کہ ہم فرشتوں اور عزیز وعیسٰی جیسے انبیاء کے ساتھ ایک ہی جگہ پر ہوں ) ۔ یہ جواب ولیداور دوسر ے حاضر ین کو بہت پسند آ یا .ان کے نزدیک یہ ایک دندان شکن جواب تھ. چنانچہ انہوں نے آنحضر ت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی خدمت میں )جاکر یہی کچھ کہا ، تو آنحضرت نے ارشاد فرمایا :جی ہاں ! جیسے بھی معبُود بننا پسند ہے وہ اپنے عابدوں کے ساتھ جہنم میںجائے گا اور یہ بُت پرست تو درحقیقت شیطانوں کی عبادت کرتے تھے اور جن چیزوں کی عبادت کاشیطان انہیں حکم دیتاتھا ۔ اس موقع پر سُورہ انبیاء کی آ یت ۱۰۱ نازل ہوئی کہ : ”ان ّ الّذین سبقت لھم منّاالحسنٰی اولئک عنھامبعدون “ جن لوگوں سے ہم نے اس سے قبل نیکی کاوعدہ کیاتھا ( وہ با ایمان لوگ جو معبُود بننے پر ہر گز راضی نہیں تھے )وہ اس سے دُور رکھے جائیں گے ۔ اس سلسلے میں زیر تفسیر آ یت’ ’وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلاً إِذا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّونَ“بھی نازل ہوئی ( ۱) ۔ ۱۔ سیرت ابن ہشام جلد اوّل ص ۳۸۵تھوڑ ے سے اختصار کے ساتھ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 43:57-62
کون سے معبُود جہنّمی ہیں ؟
ان آ یات میں کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کے خدا ہونے کے بارے میں اورا ن کی اور بتُّوں کی خدائی کے بارے میں مشرکین کے عقیدے کی نفی کی بات کی گئی ہے اور گزشتہ آ یات میں حضرت مُوسٰی علیہ السلام کی دعوت اوران کی فر عونی بُت پرستوں کے ساتھ محاذ آ رائی کاجوتذ کر ہ کیاگیاہے ، اس کے تتمہ کی صُورت میں بیان ہورہی ہیں اور زمانہ رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کے مشر کو ں بلکہ تمام کائنات کے مشر کوں کے لیے زبردست تنبیہ بھی ہے ۔ اگرچہ یہ آ یات مجمل صُورت میں گفتگو کررہی ہیں ، لیکن خود ان آ یات میں اور قرآن کی دوسری آ یات میں قرینہ پایا جاتاہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ مختلف مفسرین کی طرح طرح کی تفسیروں کے برعکس ان کامضمون کسی طرح بھی پیچیدہ نہیں ہے ۔ پہلے فر مایاگیاہے: اور جب مریم کے بیٹے کی مثا ل بیان کی گئی تواس سے تیری قوم کے افراد ہنسنے اور رو گردان ہو گئے ( وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلاً إِذا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّونَ) (1) ۔ یہ مثال کیاتھی اور کس نے عیسٰی بن مریم علیہ السلام کے بارے میںپیش کی تھی ؟یہ وہ سوال ہے کہ جس کے جواب میں مفسر ین میں اختلاف ہے آ یت کی تفسیر کے سمجھنے کاراز بھی خود اسی میں مضمر ہے، لیکن بعد کی آ یات میںغور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ ”مثل “مشرکین کی طرف سے تھی اورا ن کی بُتوں ہی سے متعلق تھی ، کیونکہ بعد کی آ یات میں ہے ۔ ” ما ضربوہ لک الّاجد لاً “ انہوں نے یہ مثال صرف بیان ہی جھگڑ ے کے لیے کی تھی ۔ اس حقیقت کو اور شانِ نزول میں بیان ہونے والے حقائق کے پیش نظر یہ بات واضحہوجاتی ہے کہ مثال سے مرادوہی چیز ہے، جب مشر کین نے یہ آ یت : ”إِنَّکُمْ وَ ما تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ ُ“ ” تم اور خدا کے علاوہ تمام وہ معبُود جن کی تم عبادت کرتے ہو ، جہنم کاایند ھن ہیں “ (سورہٴ انبیاء ، ۹۸) ۔ سننے کے بعد استہزار اور مذاق کے طورپرکہی تھی اور وہ یہ تھی کہ عیسٰی بن مریم علیہ السلام بھی تومعبُود تھے اور اس آ یت کی رُو سے انہیں بھی جہنم میں جاناچاہیئے، اس سے بہتراور کیا ہو سکتاہے کہ ہم اور ہمار ے بُت حضرت عیسٰی علیہ السلام کے ہمسا ئے ہوں. انہوں نے یہ کہااور کھِل کھِلاکر ہنسنے لگے اورخوب مذاق اڑانے لگے ۔ پھر انہوں نے کہا:آ یاہمار ے خدا بہتر ہیں یاعیسٰی مسیح علیہ السلام (وَ قالُوا اٴَ آلِہتُنا خَیْرٌ اٴَمْ ہُوَ) ۔ اگر وہ جہنم میں جائیں گے توہمار ے معبُودتوان سے بڑھ کر نہیں ہیں ۔ لیکن تجھے معلوم ہوناچاہیئے کہ وہ تمام حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں . ” اوران لوگوں نے جومثال تجھ سے بیان کی ہے تووہ صرف جھگڑنے کے لیے ہے (ما ضَرَبُوہُ لَکَ إِلاَّ جَدَلاً ) ۔ ” بلکہ یہ لوگ توہیں ہی کینہ پر ور اورجھگڑالو “اور حق کے خلاف باطل کاسہارا لیتے ہیں (بَلْ ہُمْ قَوْمٌ خَصِمُون) (2) ۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ صرف وہیم معبُود جہنم میںجائیں گے جو اپنے لیے عبادت کرنے والوں کی عبادت پرراضی تھے ، جیسے فرعون کہ جس نے لوگوں کواپنی عبادت کی دعوت دی تھی نہ کہ مسیح جیسے، جولوگوں کے اس قسم کے عمل سے بیزار تھے، اور بیزا ر ہیں ۔ ” بلکہ وہ توصرف ایک بندہ تھا جسے ہم نے اپنی نعمتوں سے نوازا“ہم نے اسے منصب عطاکر کے لوگوں کی ہدایت کے لیے مبعوث کیاتھا (إِنْ ہُوَ إِلاَّ عَبْدٌ اٴَنْعَمْنا عَلَیْہِ ) ۔ اوراسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے ایک نمونہ بنایا (وَ جَعَلْناہُ مَثَلاً لِبَنی إِسْرائیلَ ) ۔ اس کابغیر باپ کے شکم مادر سے پیدا ہوناخدا کی آ یات میں سے ایک آیت تھ.گہوارے میں باتیں کرناایک اور آ یت اور پھراس کاہر ایک معجزہ عظمت ِ الہٰی اوراس کی اپنی نبوّت کی واضح نشانی تھی .عیسٰی ساری زندگی خدا کی بندگی میں رہا اور تمام لوگوں کواسی کی بندگی کی دعوت دیتا رہا .جیساکہ خدا تعالیٰ خود کہتاہے: جب تک وہ اس دُنیامیں تھا ، اُس نے توحیدکی راہ سے کسی کو بھٹکنے کی اجازت نہ دی جبکہ عیسٰی علیہ السلام کی الو ہیّت یاتثلیث کے خر افاتی عقیدے کی بنیاد ان کے بعد لوگوں نے ڈالی ( 3) ۔ یہ بات بھی لائق توجہ اورقابلِ ذکر ہے کہ شیعہ ااور سُنی طریقوں سے منقول ہو نیوالی متعدد روایات میں موجود ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے حضرت علی علیہ السلام سے فر مایا: ’ ’ ان فیک مثلامن عیسٰی احبہ قوم فھلکو اھیہ وابغضہ قوم فھلکو افیہ فقال للنافقون امارضی لہ مثلا الا عیسٰی، فنزلت قو لہ تعالیٰ” وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ مَثَلاً إِذا قَوْمُکَ مِنْہُ یَصِدُّونَ“۔ ” تمہارے اندر عیسٰی کی علامتیں موجُود ہیں، کچھ لوگوں نے توان سے محبت کی اور اس قدر غلو کیاکہ انہیںخدا کہنے لگے ، اوراسی وجہ سے وہ ہلاکہ ہو گئے اور کچھ لوگوں نے ان سے دشمنی کااظہار کیا(جیساکہ یہودیوں نے کیا کہ وہ ان کے قتل پر کمر بستہ ہوگئے “ وہ بھی ہلاک ہوگئے ۔(اسی طرح کچھ لوگ تمہیں خدا سمجھیںگے اور کچھ لوگدشمنی پر کمر باندھ لیں گے )تو منافقین نے جب یہ با ت سُنی تواس کامذاق اڑاتے ہوئے کہاکہ عیسٰی کے علاوہ انہیں کوئی مثال نہیںملی ؟تواس موقع پر مندرجہ بالاآ یت نازل ہوئی ”وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْیَمَ -...“۔ مندرجہ بالا گفتگواس روایت کامتن ہے جسے اہل سنت کے مشہورعالم حافظ ” ابو بکربن مر دو یہ “نے اپنی کتاب ” مناقب “میں ذکر کیا ہے ( منقول از کشف الغمہ ص ۹۵) ۔ بعینہ اسی چیز کومیر محمد صالح کشفی ترمذی نے تھوڑ سے فرق کے ساتھ اپنی کتاب مناقبِ مرتضوی میں قلمبند کیاہے ۔ اس بات کو بہت سے اہل سنّت علماء اور عظیم شیعہ علمااپنی متعددکتابوںمیں نقل کیا ہے . کہیں پر تو انہوں نے اس کے ساتھ مندرجہ بالا آ یت کو ذکر کیاہے اور کہیں پرذکر نہیں کیا ( 4) ۔ آ یات میں موجُود قرینوں سے معلوم ہوتاہے کہ یہ مشہورحدیث ایک قسم کی مطابقت کی حیثیت رکھتی ہے، اس کی شانِ نزول نہیں ہے ، باالفاظ دیگر آیت کی شان ِنزول تووہی عیسٰی علیہ السلام کی داستان،مشرکین عرب کی گفتگو اوران کے بُت تھے ، لیکن چونکہاس سے مِلتا جُلتاایک اور تاریخی واقعہ پیغمبراکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی مذ کورہ تاریخی گفتگو کے بعدرو نما ہوالہذا پیغمبر ِ السلام(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے اس مقام پر بھی یہ آ یت فر مائی ، کیونکہ یہ ماجرا بھی مختلف جہات سے اس کے ایک مصداق کی حیثیت رکھتاہے ۔ بعد کی آ یت میں اس لیے کہ انہیں یہ وہم نہ ہو کہ خدا کوان کی بندگی کی ضرورت ہے ، وضاحت کرتے ہُو ئے بیان فر مایاگیا ہے :اگرہم چاہیں تو زمین پر تمہار ی جگہ فر شتے لے آ ئیں کہ جو تمہار ے جانشین ہوں (وَ لَوْ نَشاء ُ لَجَعَلْنا مِنْکُمْ مَلائِکَةً فِی الْاٴَرْضِ یَخْلُفُون) ۔ وہ فرشتے کہ جو فرمان حق کے تابع ہیں اوراس کی اطاعت و بندگی کے سوا او ر کچھ نہیں جانتے ۔ کچھ مفسرین نے یہاںپرایک او ر تفسیر ذکر کی ہے، جس کی وجہ سے آ یت کا مفہوم یوں ہوگا ” اگر ہم چاہیں تو تمہاری اولاد کو فرشتے بنادیںجو زمین میں تمہار ے جانشین ہوں “۔ لہذا تم اس بات پر تعجب نہ کرو کہ عیسیٰ بغیرباپ کے پیدا ہُو ئے ہیں . خدا تواس بات پر بھی قادر ہے کہ فرشتے جوایک علیٰحدہ نوع ہیں انسانوں سے پیدا کرے ( 5) ۔ اور چونکہ انسان سے فرشتوں کاپیدا ہوناکسی طرح مناسب معلوم نہیں ہوتالہذا بعض عظیم مفسرین نے اس سے فرشتہ صفت لوگ مراد لیے ہیں . ان مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم تعجب نہ کرو کہ مسیح جیساخدا کاایک بندہ حُکم ِخداسے مردوں کوزندہ کرنے اور بیماروں کوشفا بخشنے کی طاقت رکھتاہے، جبکہ وہم مخلص اور فر مانِ الہٰی کاتابع بھی ہو ،اگر خداچاہے تو تمہاری اولادمیں سے ایسے لوگوں کو پیداکردے جن کی تمام صفات اور عادات فرشتوں کی سی ہوں ( 6) ۔ بعد کی آ یت میںحضرت عیسٰی علیہ السلام کی اورخصوصیت کی طرف اشارہ کرتے ہُو ئے فر مایاگیاہے : وہ تو یقیناقیامت کی آگا ہی کا ایک سبب ہے (وَ إِنَّہُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَة) ۔ یااس لحاظ سے کہ متعدداسلامی روایات کے مطابق عیسٰی علیہ السلام کا آسمان سے نزُول آ خر ی زمانے میں ہوگااور یہ قیامت کے قیام کی دلیل ہے ۔ جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو یہ فر ما تے سُناہے : ” ینزل عیسی بن مر یم فیقول امیر ھم تعا ل صلی بنا ، فیقولاان بعضکم علی بعض امراء ، تکر مة من اللہ لھذہ الامة “۔ عیسٰی اتریں گے اور مسلمانوں کا امیر ( یہاں پر امیر سے مراد حضرت مہدی علیہ السلام جیسا کہ دوسر ی احادیث سے معلوم ہوتاہے) ان سے کہے گا ،آ یئے اور ہمیں نماز پڑ ھایئے ! او ر وہ کہیں گے نہ ، امیر تمہیں میں سے ہوگایہ عزت اللہ نے اس امت کو عطا فر مائی ہے . وپھرحضرت عیسیٰ جناب امام مہدی علیہ السلام کی اقتداء کریں گے ( ۸) ۔ ایک اورحدیث میں جناب رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )فرماتے ہیں ۔ ” کیف انتم اذا نزل فیکم ابن مریم وامامکم منکم “۔ تمہارااس وقت کیاحال ہوگاجب مریم کے فرزندتمہارے درمیان نازل ہوں گے جب کہ تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا ( ۹) ۔ بہر حال حضرت مسیح علیہ السلام پر لفظ ” علم “کااطلاق ایک قسم کی تاکیداورمبالغہ کی صورت میں ہے، جواس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ان کا نزُول یقیناقیامت کی ایک نشانی ہے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ”انّہ “میںموجودضمیر ” قرآن “کی طرف لوٹ رہی ہو ، جس کے مطابق آ یت کا معنی یوں ہوگا:قرآن جوکہ آ خر ی کتاب ہے، اس کانزُول قیامت کے قریب ہونے کی دلیل ہے اورقیامت کے قائم ہونے کی خبر دیتاہے ۔ لیکن آ یات کاسیاق و سباق جوحضرت عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق ہے ، پہلی تفسیر کی تقویت کرتاہے ۔ بہرحال اس کے فوراًبعد فر مایاگیاہے قیامت کا قیام یقینی ہے اوراس کاواقع ہو نا نزدیک ہے ، ” اور تم لوگ ہرگز اس میں شک نہ کرو “ (فَلا تَمْتَرُنَّ بِہا ) ۔ نہ تو عقیدے کے لحاظ سے اور نہ ہی عمل کے لحاظ سے ،جیسا کہ غافل لوگ کررہے ہیں، اور میری پیروی کرو کہ یہی سید ھاراستہ ہے “ (وَ اتَّبِعُونِ ہذا صِراطٌ مُسْتَقیم) ۔ لیکن شیطان تو چاہتاہے کہ ہمیشہ تمہیںغافل اور بے علم رکھے ، لیکن تمہیں خود ہوش سے کام لینا چاہیئے کہ ” کہیں شیطان تمہیں راہ خدا اور بر وز قیامت اپنی تقدیر سنوار نے سے تمہیںروک نہ دے ، کیونکہ وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے “ (وَ لا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیْطانُ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُبینٌ ) ۔ اس نے اپنی عداوت اور دشمنی کااظہارتو روز اوّل ہی سے کر دیاتھا، جب اس نے تمہارے ماں باپ(آدم وحوا)کے دل میںوسوسہ اڈال کر بہشت سے نکلو ا دیاتھااوردوسر ی مرتبہ اس نے قسم کھائی کہ ” مخلصین “کے سوا باقی تمام بنی آدم کو گمراہ کرکے چھوڑ ے گا .لہٰذاتم ایسے قسم کھانے والے دشمن کے مقابلے میں کیونکہ خاموش بیٹھ سکتے ہو اوراسے اس بات کی اجازت کیسے دے سکتے ہو کہ وہ تمہار ی روح اور جسم پر غلبہ پالے اوراپنے مسلسل وسوسوں سے تمہیں سیدھی راہ سے روک دے ۔ 1۔" یصدون" "صد" کے مادہ سے ہے (اگراس کافعل مضارع صاد کرکے کسرہ کے ساتھ ہو، تواس کامعنی کھلکھلا کرہنسنا ،ٹھٹھے مارنا اورشورمچانا (جیساکہ عام طورپر کسی کا استہزارکرنے کے وقت کیاجاتاہے) (ملاحظہ ہو لسنا العرب مادہ "صدر")۔ ۲۔"خضمون" "خضم"(بروزن "فطن")کی جمع ہے جس کامعن ہے بہت ہی لڑنے جھگڑنے والا"۔ ۳۔مفسرین نے مندرجہ بالاآ یات کی تفسیرمیں اوربھی کئی احتمال ذکرکیےہیں اور ان میں سے مجموعی طورپر کوئی بھی آ یات کے مضامین میں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ۱۔کچھ لوگوں نے کہاہے کہ مشرکین نے جو” مثال “بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے آنی آ یات میں حضرت عیسٰی علیہ السلام اوران کی سرگزشت کاذکر کرنے کے بعد کہاکہ ” محمد “ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)اس بات کے لیے راہ ہموارکررہاہے، کہ وہ ہمیں اپنی قدائی کی دعوت دے “ ۔ لیکن قرآن مجید آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کا دفاع کرتے ہُو ئے کہتاہے” نہ توعیسٰی ابوہیّت کے مد عی تھے اور نہ ہی وہ ہوں گے ۔ ۲۔بعد نے کہا ہے کہ مندرجہ بالاآ یت میں ” مثل “سے مراد وہ تشبیہ ہے جو خدا تعالیٰ نے سورہٴ آلِ عمران کی آ یت۵۹میں حضرت عیسٰی علیہ السلام اورحضرت آدم علیہ السلام کے بارے میںذکر فر مائی کہ : ” إِنَّ مَثَلَ عیسی عِنْدَ اللَّہِ کَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَہُ مِنْ تُرابٍ ثُمَّ قالَ لَہُ کُنْ فَیَکُون“ ” اللہ کے نز دیک عیسٰی علیہ السلام آدم کے مانند ہے کہ جسے خدانے مٹی سے بنایا، پھر فر مایاکہ ہوجا، پس وہ ہوگیا“۔ اگر عیسٰی باپ کے بغیر پیداہواہے ، توکوئی تعجب کی بات نہیں ہے ، کیونکہ آدم تو ماں اور باپ (دونوں )کے بغیر مٹی سے پیدا کیاگیاہے ) ۔ ۳۔” بعض نے کہا ہے کہ ” مثل “سے مراد مشرکین کی وہ باتیں ہیں جو وہ کہتے تھے کہ ” اگر عیسٰی علیہ السلام کی عبادت کرسکتے ہیں تو ہم کیوں نہ اپنے معبودوں کی عبادت کریں ، جواُن سے افضل ہیں “۔ لیکن مندرجہ بالاآ یات میں جوخصوصیات بیان کی گئی ہیں اگران کی طرف دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ مذکورہ تینوں تفسیروں میں سے کوئی بھی ٹھیک نہیں ہے .کیونکہ آیا ت سے بخوبی معلوم ہوتاہے : ۱۔یہ مثل خود مشرکین کی طرف سے تھی ۔ ۲۔ایسی بات تھی جوان کی نگاہوں میںعجیب وغریب اورمضحکہ خیز تھی ۔ ۳۔ایسی چیز تھی جوعیسٰی کی الوہیت کے خلاف تھی ۔ ۴۔ان کے اس مقصد کوپوراکررہی تھی جس کی وجہ سے ایک جھُوٹی بات پرجھگڑاکھڑا ہوگیاتھا ۔ ۴۔مزید معلومات کے لیے کتاب ” احقاالحق “ جلد ۳ص ۳۹۸، تفسیر نورالثقلین جلد ۴،ص ۶۰۹اور تفسیر ” مجمع البیان“ کی طرف انہی آ یات کے ذیل میں رجوع فرمائیں ۔ 5۔پہلی تفسیرکوطبرسی نے مجمع البیان میں شیخ طوسی ۺنے تبیان میں اور بعض مفسرین نے انتخاب کیاہے ، جبکہ دوسری تفسیر کوقرطبی ۺ ، فخر رازی آلُوسی نے اپنی کتاب روح المعانی میں ، زمخشری نے کشاف میں اور مراغی نے دوسرا معنی دو معانی میں سے ایک کے طورپر نقل کیاہے ۔ ۶۔تفسیر المیزان اسی آیت کے ذیل میں ۔ ۷۔پہلی تفسیر کے مطابق” من “بدل کے لیے ہے . جبکہ دوسری اور تیسر ی تفسیر کے مطابق ” من “” نشو ید “ہے ۔ لیکن ان سب تفسیروں میں سے پہلی تفسیر آ یت کے ظاہری معنی کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتی ہے باقی سب بعیدمعلوم ہوتی ہے ( ۷) ۔ ۸۔اس حدیث کوصاحبِ تفسیر ” مجمع البیان“ نے ” صحیح مسلم “ سے اسی آ یت کے کے ذیل میں نقل کیاہے ۔ ۹۔تفسیر مجمع البیان اسی آ یت کے ذیل میں اور تفسیر روح المعانی جلد ۵، ص ۸۰۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 43:57-62
سوره زخرف/ آیه 57- 62
۵۹۔ إِنْ ہُوَ إِلاَّ عَبْدٌ اٴَنْعَمْنا عَلَیْہِ وَ جَعَلْناہُ مَثَلاً لِبَنی إِسْرائیلَ ۔ ۶۰۔وَ لَوْ نَشاء ُ لَجَعَلْنا مِنْکُمْ مَلائِکةً فِی الْاٴَرْضِ یَخْلُفُونَ ۔ ۶۱۔وَ إِنَّہُ لَعِلْمٌ لِلسَّاعَةِ فَلا تَمْتَرُنَّ بِہا وَ اتَّبِعُونِ ہذا صِراطٌ مُسْتَقیمٌ ۔ ۶۲۔ وَ لا یَصُدَّنَّکُمُ الشَّیْطانُ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُبینٌ ۔ ترجمہ ۵۷۔او رجب مریم کے بیٹے کی مثال بیان کی گئی تواس سے تیر ی قوم کے لوگ ہنسنے ( اور مذاق کرنے )لگے ۔ ۵۸۔اور بول اُٹھے کہ بھلا ہمارے معبُود اچھے ہیںیاوہ ( عیسٰی اورا گر ہمارے معبود جہنم میں ہیں تووہ بھی جہنم میں ہے ، کیونکہ وہ بھی توایک معبُود تھا)ان لوگوں نے جو مثال تجھ سے بیان کی ہے وہ توصرف جھگڑنے کو ہے ، جبکہ وہ لوگ توہیں ہی کینہ پر ور اور جھگڑالو ۔ ۵۹۔اور وہ تو بس ایک بندہ تھاجسے ہم نے اپنی نعمتوں سے نواز ااوراسے ہم نے بنی اسرائیل کے لیے ایک نمونہ بنایا ۔ ۶۰۔اوراگرہم چاہتے تو زمین پر تمہاری جگہ پر فرشتوں کو قرار دے دیتے جو ( تمہارے )جانشین ہوتے ۔ ۶۱۔اور وہ تو یقیناقیامت کی آگاہی کاسبب ہے ( عیسٰی کانُزول قیامت کے قریب ہونے کی علامت ہے )تم لوگ ہرگز اس میں شک نہ کرو اور میری پیروی کرو ، یہی سیدھاراستہ ہے ۔ ۶۲۔اور کہیں شیطان تمہیں( راہِ خدا سے )روک نہ دے ، کیونکہ وہ تو تمہارا کھلم کُھلّام دشمن ہے ۔