أَمِ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ وَهُوَ يُحْيِي الْمَوْتَى وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
Have they taken awliya besides Him? [Say,] ‘It is Allah, who is the [true] Wali, and He revives the dead, and He has power over all things.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 42:9
[Pooya/Ali Commentary 42:9]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:9-12
سوره شوری/ آیه 9- 12
۹۔اٴَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِہِ اٴَوْلِیاء َ فَاللَّہُ ہُوَ الْوَلِیُّ وَ ہُوَ یُحْیِ الْمَوْتی وَ ہُوَ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیرٌ ۔ ۱۰۔وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فیہِ مِنْ شَیْء ٍ فَحُکْمُہُ إِلَی اللَّہِ ذلِکُمُ اللَّہُ رَبِّی عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ إِلَیْہِ اٴُنیبُ ۔ ۱۱۔فاطِرُ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ جَعَلَ لَکُمْ مِنْ اٴَنْفُسِکُمْ اٴَزْواجاً وَ مِنَ الْاٴَنْعامِ اٴَزْواجاً یَذْرَؤُکُمْ فیہِ لَیْسَ کَمِثْلِہِ شَیْء ٌ وَ ہُوَ السَّمیعُ الْبَصیرُ ۔ ۱۲۔ لَہُ مَقالیدُ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشاء ُ وَ یَقْدِرُ إِنَّہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلیم۔ ترجمہ ۹۔ آیاانہوں نے خداکے علاوہ دوسروں کو اپناولی بنالیاہے ؟ جبکہ ولی توصرف اللہ ہے اور وہی مُردوں کوزندہ کرتاہے اوروہی ہرچیز پرقادر ہے۔ ۱۰۔ تم جس چیز میں بھی اختلاف کرتے ہو اس کافیصلہ خدا کے ہاتھ ہے ، وہی خدامیراپروردگار ہے ، میں نے اسی پر بھروسہ کیاہے اوراسی کی طرف پلٹ جاؤں گا ۔ ۱۱۔ وہ ہی آسمانوں اور زمین کو پیداکرنے والاہے اور تمہاری جنس ہی سے تمہارے لیے جوڑا بنایا ہے اورجانور وں میں بھی جوڑے بنائے ہیں . اوراسی (جورے ہونے کے ) کے ذریعے تمہاری تعداد بڑھاتاہے ، اس کی مثل کوئی چیز نہیں ہے وہی سننے اور دیکھنے والاہے۔ ۱۲۔ آسمانوں اور زمین کی چابیاں اسی کے پاس ہیں . جن کے لیے چاہتا ہے اس کارزق وسیع کر دیتاہے اور جس کے لیے چاہتا ہے محدود کردیتاہے یقینا وہ ہرچیزسے آگاہ ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:9-12
ولی مطلق صرف خدا ہے
چونکہ گزشتہ آیات کی تفسیرمیں یہ حقیقت بیان ہوئی تھی کہ خداکے سوا کوئی بھی ولی اور مددگار نہیں ہے . زیر نظرآیات میں اس حقیقت کی تائید اورغیر خداکی ولایت کی نفی میں کچھ معتبر اورمضبوط دلائل پیش کئے جارہے ہیں . چنانچہ سب سے پہلے تعجب اورانکار کے اندر میں ارشاد فرمایاگیا ہے : آ یاانہوں نے خداکے علاوہ دوسروں کواپناولی بنالیاہے (اٴَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِہِ اٴَوْلِیاء َ ) (۱). جبکہ ولی توصرف خدا ہے (فَاللَّہُ ہُوَ الْوَلِیُّ). لہذا اگروہ اپنے لیے کوئی ولی اورسرپرست بنانابھی چاہتے ہیں توانہیں چاہیے کہ خداکو ہی بنائیں کیونکہ گزشتہ آیا ت میں اس کی ولایت کے دلائل اس کی صفات کمالیہ کے ساتھ ہی بیان ہوچکے ہیں یعنی جو خداوند عزیز وحکیم ہے ، جو مالک ، علی اورعظیم ہے ، جوغفور اوررحیم ہے . یہ سات اوصا ف جو ابھی بیان ہوچکے ہیں بذات خود خداوند عالم کی ولایت کے لیے بہتر ین دلیل ہیں۔ اس کے بعد ایک دلیل بیان کرتے ہوئے فر مایا گیا ہے : وہی مردوں کوزندہ کرتاہے( وَ ہُوَ یُحْیِ الْمَوْتی ). اور چونکہ معا د اورقیامت کامعاملہ اسی کے ہاتھ میں ہے اورانسان کی سب سے بڑی پریشانی اس کے مرنے کے بعد دوبارہ زندگی کی کیفیت کے بار ے میں ہے لہٰذااسی کی ذات پرتوکل کرنا چاہیے نہ کہ کسی اور پر ۔ پھرتیسری دلیل بیان فر ماتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہی ہرچیز پرقادر وتوانا ہے (وَ ہُوَ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ قَدیر). یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ” ولی “ ہونے کی اصل شرط قدرت رکھنے اورصحیح معنوں میں قادر ہونے میں مضمر ہے۔ بعد کی آیت میں اللہ تعالیٰ اپنی ولایت کی چوتھی دلیل کو اس صورت میں بیان کرتاہے : ” تم جس چیزمیں اختلاف کروگےاس کا فیصلہ خداکے ہاتھ میں ہے “ اور وہی تمہارے اختلافات ختم کرسکتاہے (وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فیہِ مِنْ شَیْء ٍ فَحُکْمُہُ إِلَی اللَّہِ) ۔ جی ہاں ! ولایت کی ایک شان یہ بھی ہے کہ جولوگ اس کے پرچم تلے زندگی بسر کررہے ہوں اگران کے درمیان کسی قسم کااختلاف ہوجائے تو وہ صحیح فیصلے کے ذریعے اس اختلاف کو ختم کردے . کیابت یاشیاطین کہ جنہیں معبود بنالیاگیاہے اس بات کی قدرت رکھتے ہیں یاپھریہ کام خدا وند عالم کی ذات کے ساتھ خاص ہے ؟ جو ہرقسم کے اختلافات حل کرنے کے ذ ریعوں سے بھی آگاہ ہے حکیم بھی ہے اوراپنے فیصلہ پرعملدر آمد کروانے کی قدرت بھی رکھتاہے . لہذا خداوند عزیز وحکیم ہی کوحاکم ہونا چاہیئے نہ کہ کسی اورکو ۔ اگرچہ بعض مفسرین نے ” مَا اخْتَلَفْتُمْ فیہِ مِنْ شَیْء ٍ “ کے مفہوم کوآیات متشابہ بہات کی تاٴ ویل کے بار ے میں اختلافات یاصرف قانونی لڑائی جھگڑوںمیں محدود کرنے کی کوشش کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آیت کامفہوم وسیع ہے اوراس مفہوم میں ہرقسم کے اختلافات آجاتے ہیں خواہ وہ معارف الہیٰہ او ر عقائد کے بار ے میں ہوں یااحکام تشریعی کے بار ے میں اور یاقانونی معاملات وغیرہ میں.کیونکہ انسانی معلومات محدود اورناچیز ہوتی ہیں لہٰذا ان کے درمیان پیداہونے والے اختلاف کوعلم حق کے سرچشمہ فیض اورحی کے ذریعے دور کیاجانا چاہیئے ۔ خداوند عالم کی پاک ذات میں ولایت کے انحصار کے مختلف دلائل ذکرکرنے کے بعد پیغمبرالسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی ارشاد فرمایاگیاہے : ” وہی خدا میرا پروردگار ہے “ جس میں کمال کی یہ صفات پائی جکاتی ہیں (ذلِکُمُ اللَّہُ رَبِّی ) (۲)۔ ” اسی لیے تو میں نے اسے اپناولی اورمددگار منتخب کیاہے ، اسی پر توکل کیاہے اور تمام مشکلات ومصائب کے وقت اسی کی جانب رجوع کرتاہوں (عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَ إِلَیْہِ اٴُنیب). یہ بات بھی قابل تو جہ ہے ” ذالکم اللہ ربی “ کاجملہ خدا وند عالم کی ربوبیت مطلقہ کی طرف اشارہ ہے یعنی ایسی مالکیت جس میں تدبیربھی پائی جاتی ہو ، اور ربوبیت کی دوقسمیں ہیں . ایک تو ربوبیت تکو ینی جو کائنات کانظام چلانے کے لیے ہوتی ہے اوردوسری ربوبیت تشریعی جوخدا وندعالم کے سفیروں کے ذریعے احکام وقوانین وضع کرنے اور لوگوں کوہدایت اور تبلیغ کرنے کے لیے ہوتی ہے۔ اسی بنیاد پر اس کے بعد ” توکل “ اور” انابہ “ کے الفاظ آئے ہیں جن میں سے پہلا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ تکوینی نظام میں اپنے تمام امور کو خدا کے سپرد کرد یا جائے اور دوسرا اس امرکی جانب کہ تشر یعی امور کی باز گشت بھی اسی کی ذات کی جانب ہے ( غور کیجئے گا ) (۳). بعد کی آیت خداوند کریم کی ولایت مطلقہ کی پانچویں دلیل بھی ہوسکتی ہے اورمقام ربوبیت اورتوکل وانابہ کی لیاقت اور اہلیت کی دلیل بھی ہوسکتی ہے . فرمایاگیاہے : وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کووجو دبخشا ہے (فاطِرُ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ ). ” فاطر “ ”فطر“ (بروزن سطر) کے مادہ سے ہے جس کاصل معنی کسی چیز کوپھاڑ نا ہے . جو کہ ” قطّ “ کے مقابل میں ہے جس کامعنی بعض لوگوں کے بقول عرض میں کاٹنا ہے . گویا چیز وں کی تخلیق کے وقت عدم کا تاریک ردہ چاک ہوجاتاہے اور ہستی اس سے باہر نکل آتی ہے . اسی مناسبت کے تحت ہی جب خرماکے خوشہ کاغلاف شق ہوتاہے اور خوشہ اس سے باہر نکلتاہے تو اسے ”فطر“ (بروزن شتر ) کہتے ہیں ( ۴). البتہ یہاں پرآسمانوں اور زمین سے مراد تمام آسمان ، زمین اوران میں موجود تمام چیز یں ہیں . کیونکہ خداوندعالم کی خلاقیت ان سب پر محیط ہے۔ پھرخدا کے دوسرے افعال کی توصیف کرتے ہوئے قرآن کہتاہے : تمہاری جنس ہی سے تمہارے لیے جوڑا بنایا ہے اورجانوروں کے بھی جوڑے بنائے ہیں اورتمہیں اس ( جوڑے ہونے کے ) ناطے سے بڑھا تااورپھیلاتاہے (جَعَلَ لَکُمْ مِنْ اٴَنْفُسِکُمْ اٴَزْواجاً وَ مِنَ الْاٴَنْعامِ اٴَزْواجاً یَذْرَؤُکُمْ فیہِ) (۵) ۔ یہ بذات خود پر وردگارعالم کی تدبیراوراس کی ربوبیت اور ولایت کی عظیم نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے انسانوں کے لیے جوڑا بھی انسانی جنس ہی سے بنایا ہے کہ ایک طرف تورو حانی طور پر اس کی تسکین وآرام کاسبب ہے اور دوسری طر ف اس کی نسل کی بقاء تولید اوراس کے وجود کو بر قرار رکھنے کاذریعہ ہے۔ اگرچہ قرآن مجیدنے ” یذرؤ کم “ ( تم انسانوں کوبڑھاتا اورپھیلاتاہے ) کہہ کر انسانوںمخاطب کیاہے لیکن ظاہر سی بات ہے کہ نسل کے بڑھانے کاسلسلہ جانوروں اور دوسرے زندہ موجو دات میں بھی جاری اورساری ہے . لیکن درحقیقت خداوندعالم نے سب کوایک خطاب میں جمع نہ کرکے انسانی عظمت کو بر قرار رکھاہے . لہٰذا خطاب صرف انسانوں ہی کو کیاہے تاکہ اس آیت میں جوتیسری صفت بیان ہوئی ہے وہ یہ کہ ” اس جیسی کوئی چیز نہیں ہے -- ( لیس کمثلہ شی ء ). دراصل یہ جملہ تمام خدا ئی صفات کی معرفت کی بنیاد ہے . جب تک اس جملے کوپیش نظرنہ رکھا جائے خدا کی کسی بھی صفت کی حقیقت تک رسائی نہیں کرسکتا . کیونکہ ” معرفة اللہ “ کی راہ کے راہیوں کے لیے جوسب سے زیادہ اورخطرناک مقام آتاہے وہ ”تشبیہ کا مقام ‘ ‘ کہ جہاں پر وہ اسے مخلوق کی صفات سے تشبیہ دیتے ہیں اوریہ امر اس بات کا سبب بن جاتاہے کہ انسان شرک کی گھاٹی میں جاگرتاہے۔ بالفاظ دیگر خدا ہر لحاظ سے غیرمحدود اور لامتناہی وجود ہے اوراسکے علاوہ بھی ہے وہ ہر لحاظ سے محدود اورمتنا ہی ہے عمر،قدرت،علم،حیات،ارادہ،فعل غرض ہر لحاظ سے اور اسی چیزکانام ” تنزیہ “ ہے جس کے ذریعے خداوند عالم کوممکنا ت کے تمام نقائص سے پاک سمجھاجاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے مفہوم ایسے ہیں جوغیر خداکے لیے توثابت ہیں لیکن ذات خدا وند ذوالجلال کے لیے ان کا اطلاق بے معنی ہے.بطور مثال بعض کا م ہمارے لیے آسان ہوتے ہیں اوربعض سخت ، بعض چیزیں ہم سے دور ہیں اور بعض نزدیک،بعض اوقعات ماضی میں رونماہوئے ہیں اوربعض حال اورمستقبل میں رو نما ہوں گے . اسی طرح بعض چیزیں ہمارے لیے چھوٹی ہیں اوربعض بڑی ہیں . کیونکہ ہمارا وجود محدود ہے اوردوسری چیزوں کے ساتھ موازنہ کرنے سے یہ مفہوم پیداہوتاہے لیکن جو وجود ہر لحاظ سے غیر متناہی ہے اورازل اورابد پرمحیط ہے اس کے لیے اس قسم کے معانی کاتصّور کرنا ہی غلط ہے . نزدیک یا دور کاسوال اس کے نزدیک بے معنی سی بات ہے . سب اس کے نزدیک ہیں . اس کے لیے مشکل اورآسان کی اصطلاح کوئی حقیقت نہیں رکھتی سب کا م اس کے آسان ہیں . ماضی اورمستقبل کامفہوم اس کے لیے بے معنی مفہوم ہیں اس کے لےی سب حال ہی حال ہے اوریہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ ان معانی کے ادراک کے لیے خوب غور وخوض کی ضرورت ہے اورذہن کوان تمام چیزوں سے خالی کرناہوگا جن کا وہ خو گر ہوچکا ہے . اسی لیے توہم کہتے ہیں وجود خدا کی معرفت توآسان ہے لیکن اس کی صفات کی شناخت ہی مشکل ہے . امیرالمو منین علی بن ابی طالب علیہ السلام نہج البلاغہ میں فر ماتے ہیں : و ماالجلیل واللطیف والثقلیل والخفیف والقوی والضعیف فی خلقہ الا سواء چیزیں خوا ہ بڑی ہوں یاچھوٹی ، بھاری ہوں یاہلکی ، طاقتور ہوں یاکمزور،تخلیق و پیدائش میں سے یکساں ہیں اور اس کی قدرت کے سامنے سب ایک سی ہیں( ۶)۔ آیت کے آخر میں اس کی پاک ذات کی ایک اور صفت کو بیان کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے : وہ سننے اور دیکھنے والا ہے ( و ھوالسمیع البصیر ). جی ہاں وہی خالق بھی ہے اور مد بر بھی ، سننے والابھی ہے اوردیکھنے والابھی ہے . اس کے باوجود نہ توا س کی کوئی مثال ہے نہ شبیہ اور نظیر . اس لیے اسی کے سائیہ ولایت و ربوبیت میں پنا ہ لینی چاہیے اوراس کے غیر کی بندگی کاجو اگردن سے اتار کرپھینک دینا چاہیے ۔ زیر نظر آیات میں سے آخری آیت میں خدا وند عالم کی تین اور صفات بیان کی جارہی ہیں کہ جن میں سے ہر ایک صفت ولایت اور ربوبیت کے مسئلے کو خاص اندازمیں پیش کررہی ہے۔ سب سے پہلے فرمایاگیا ہے ہے : آسمانوں اور زمین کی چابیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں (لَہُ مَقالیدُ السَّماواتِ وَ الْاٴَرْضِ ). اسی لیے جوشخص بھی جو کچھ رکھتاہے سب اسی کا ہے اجوکچھ حاصل کرناچاہتاہے اسی سے حاصل کر ے .صرف چابیاں ہی اس کے ہاتھ میں نہیں بلکہ زمین وآسمان کے خزانے بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں : وللہ خزائن السماوات والارض آسمانوں اور زمین کے خز انے خدا ک لیے ہیں . ( منافقوں / ۷ ). ” مقالید “ ” مقید “ ( بروزن ” اقلید“ ) کی جمع ہے جس کامعنی ہے چابی . یہ کلیہ بہت سے مقامات پرکنایہ کی صورت میں کسی چیز پرکا مل تسلط حاصل ہونے کے معنی میں استعمال ہوتاہے . مثلاً کہاجاتاہے کہ اس کام کی چابی میرے ہاتھ میں ہے ، یعنی وہاں تک رسائی اوراسے سرکرنے اوراس پر تسلط پانے کاسارا اختیار میرے پاس ہے . ( اس لفظ کی اصل ، اور خصوصیات کی تفصیل تفسیرنمونہ جلد ۱۹ سورہ ٴ زمر کی آیت ۶۳ کے ضمن مین بیان ہوئی ہے ). بعدکی صفت ( جو کہ درحقیقت پہلی صفت کانتیجہ ہے ) کے بارے میں فرمایاگیاہے : جس کے لیے چاہے رزق کے کشادہ کردے اور جس کے لیے چاہے روزی تنگ کردے (یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَشاء ُ وَ یَقْدِر). چو نکہ خزائن عالم اسی کے ہاتھ میں ہیں لہٰذا ہرشخص کارزق وروزی بھی اسی کے دست قدرت میں ہے .ا پنی مشیّت کے مطابق جوکہ اس کی حکمت سے ظاہر ہوتی ہے اوربند گان خدا کی مصلحت بھی اسی میں ہوتی ہے رزق تقسیم کرتاہے۔ چونکہ تمام موجودات کورز ق سے بہر ہ مند کر نا، ان کی ضروریات اوردوسری بہت سی خصوصیات کو جاننے اوران سے آگاہ ونے پر موقوف ہے لہٰذا آخری صفت کے بار ے میں فرمایاگیاہے : وہ ہرچیز کوجانتاہے ( إِنَّہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلیمٌ ). یہاں بعینہ وہی بات ہورہی ہے جوسورہٴ ہود کی چھٹی آیت میں آئی ہے کہ : وَ ما مِنْ دَابَّةٍ فِی الْاٴَرْضِ إِلاَّ عَلَی اللَّہِ رِزْقُہا وَ یَعْلَمُ مُسْتَقَرَّہا وَ مُسْتَوْدَعَہا کُلٌّ فی کِتابٍ مُبین روئے زمین پرکوئی بھی چلنے والاایسا نہیں ہے جس کی روزی خداکے ذمہ نہ ہو . وہ اس کے رہنے اور منتقل ہونے کی جگہ کوجانتاہے . یہ سب کچھ کتاب مبین میں درج ہے۔ تو اس طرح سے چار آیات میں خدا کی گیارہ (ذاتی اورفعلی ) صفات بیان ہوئی ہیں . یعنی اس کی ولایت مطلقہ ، مردوں کو زندہ کرنا ،ہرچیز پرقدرت رکھنا، آسمان وزمین کی تخلیق ، انسانوں کے جوڑے جوڑے بنانا اورانہیں پھیلانا اوربڑھا، اس کاشریک نہ ہونا، سننے اور دیکھنے والاہونا ،آسمان وزمین کے خزانوں پرقدرت رکھنا ، رازق ہونا اور تمام چیزوں سے آگاہ اورعالم ہونا ۔ یہ صفات بیان کے لحاظ سے ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں اور سب اس کی ولایت اور ربوبیت کی دلیل ہیں نتیجتاً توحید عبادت کے ثبوت کاراستہ ہیں۔ ۱۔ زمخشری نے کشاف میں اور فخر الدین رازی نے تفسیر کبیر میں اوردوسرے بہت سے مفسرین نے یہاں پر” ام “ کامعنی استفہام انکاری لیا ہے . اوربعض دوسرے مفسرین مثلاً طبرسی نے مجمع البیان میں اورقرطبی نے الجامع لاحکام القرآن میں اسکامعنی ” بل “ کا لیاہے۔ ۲۔ اس جملے کے آغاز میں لفظ ” قُل “ مقدر ہے لہٰذاصرف یہی جملہ اوراس کے بعد کاجملہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زبانی اداہو رہاہے . اور ” مَا اخْتَلَفْتُمْ فیہِ مِنْ شَیْء ٍ “ کاجملہ پروردگار عالم کے بیانات کاتسلسل ہے اورجن لوگوں نے اس کے علاوہ کوئی اورموٴ قف اپنایا ہے ظاہراًوہ صحیح نہیں ہے۔ ۳۔ المیزان جلد ۱۸ ،ص ۲۳۔ ۴۔”فطر “ کے معنی کے سلسلہ میں تفسیرنمونہ کی پانچویں جلد میں سورہ انعام کی آیت ۱۴ کے ذیل میں دلچسپ گفتگو ہوچکی ہے . یہاں پر اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ ۵۔”فیہ “ کی ضمیر یاتو ” تدبیر “ کی طرف لوٹ رہی ہے یاپھر” جعل ازوا ج “ کی طرف ضمنی طورپر یہ بھی بتاتے چلیں کہ ”یذ رؤ “ ” ذراٴ “ (بروزن ” زرع “ ) کے مادہ سے ہے جس کامعنی ” تخلیق “ اور ” پیدائش “ ہے لیکن تخلیق ایسی جس سے مخلوق ظاہر ی طورپر منصہ شہود پر آجائے ارو یہ لفظ پھیلانے اور منتشر کرنے کے معنی میں آتاہے۔ ۶۔ نہج البلاغہ خطبہ ۱۸۴۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:9-12
۱۔ خدائی صفات کی معرفت
چونکہ ہماری معلومات بلکہ ہماراتمام وجود محدود ہے لہٰذاہم لامحدود ذات خدا وند عالم کی کُنہ وحقیقت تک نہیں پہنچ سکتے ، کیونکہ کسی چیز کی حقیقت سے آگاہ ہی دراصل اس کے احاطہ کرنے کے معنی میں ہوتاہے ، اسی لیے ایک محدود چیزکسی لامحدود ذات کاکیسے احاطہ کرسکتی ہے ؟ نیز جس طرح اس کی ذات کی حقیقت سے آشنا ئی مشکل ہے اسی طرح اس غیر محدود ذات کی صفات کے بار ے میں بھی آگاہ ہی ہم جیسے محدود افراد کے بس سے باہر ہے کیونکہ اس کی صفات بی تو عین ذات ہوتی ہے۔ بنابریں ہم خداکی ذات اورصفات کے بارے میں جوکچھ بھی جانتے یاسمجھتے ہیں وہ صرف اپنے ایک اجمالی علم کی بناء پر ہے جس کازیادہ ترمحور اس کے آثار ہیں۔ پھر یہ کہ ہمارے الفاظ ، ہماری روزمرہ کی زندگی کی ضروریات پورا کرنے کے لیے ہوتے ہیں اور برحق خداکی لامحدود ذات اورصفات کوبیان نہیں کرسکتے.لہٰذا علم وقدرت،حیات و ولایت اورمالکیت جیسے الفاظ جو کہ اس کی صفات ثبوتیہ اورصفات سبیہ کوبیان کرتے ہیں درحقیقت ان کا اصل معنی کچھ اور ہی ہے.یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ہمیں ایسی تعبیرات دیکھنے میں آتی ہیں جو بادی النظرمیں متنا قض اور متضاد معلوم ہوتی ہیں معلوم ہوتی ہیں لیکن جب ان پراچھی طرح غور وخوض کیاجائے تو کچھ اورحقیقت سامنے آتی ہے .مثلاً ہم کہتے ہیں کہ خدا ” اول “ بھی ہے اور” آخر “ بھی ’ ’ ظاہر “ بھی ہے اور ’ ’ باطن “ بھی . سب کے ساتھ بھی ہے مگران کے ہمراہ نہیں ، سب سے جداہے لیکن ان سے اجنبی نہیں۔ البتہ اگران الفاظ کے معیار اورمفہوم کے ساتھ محدود اورممکن موجودات کے متعلق بات کریں تو یہ چیز سمجھ میں آتی ہے کوجو چیز اوّل ہوتی ہے وہ آخر نہیں ہوسکتی اور جوظاہر ہوتی ہے وہ باطن نہیں ہوسکتی . لیکن ان الفاظ کوغیر متنا ہی اور لامحدودذات کے افق میں دیکھناچاہیں تو سب اس میں جمع ہیں . کیونکہ غیر متناہی وجود اول ہونے کے باوجود آخر ہے اور ظاہر ہونے کے ساتھ باطن ہے۔ جب یہ بات سمجھ آگئی تو ہم یہیں پرایک اوربات کہیں گے اور وہ یہ کہ اس کی اجمالی اورجلالی صفات کی معرفت کے بے جوسب سے ضروری اوراہم بات پیش نظررکھنی چاہیئے وہ یہ ہے کہ حقیقت ہمیشہ پیش نظر رہے کہ ” نہ تو کوئی چیزاس کی مثل ہے اور نہ ہی وہ کسی کے مشابہ ہے “ ( لیس کمثلہ شی ء ). امیر المو منین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے اسی حقیقت کوبڑی وضاحت کے ساتھ نہج البلاغہ کے خطبات میں بیان فرمایا ہے ، مثلاً: ماوحد ہ من کیفہ ، ولا حقیقة اصاب من مثلہ ،ولاایاہ عنی من شبھہ ، ولاصمدہ من اشارالیہ و توھمہ جوشخص اس کی کیفیت کاقائل ہوااس نے اسے اکیلا نہ جانا اور جس نے اس کے لیے شبیہ اورمثال قرار دی وہ اس کی ذات کی حقیقت تک رسائی حاصل نہ کرسکا اور جس نے اسے کسی کے مشابہ سمجھا اس نے اس کاقصد نہیں کیا اور جو اس کی طرف اشارہ کرے گا یااپنے وہی وگمان میں لے آئے گا وہ اسے منزہ نہیں سمجھے گا ( 1). ایک اورمقام پر ارشاد فر ماتے ہیں : کل مسمی بالوحدة غیرہ قلیل ہروہ چیز کووحد ت کے نام سے موسوم کیاجائے وہ بہت قلیل اورکم مقدار میں ہوتی ہے سوائے ذات خدا کے کیونکہ اس کی وحدت اس کی غیر متناہی عظمت پرواضح دلیل ہے ( 2). مختصر یہ کہ صفات خدا وند ی کے باب میں ، ہمیشہ ” لیس کمثلہ شی ء “ ( اس کے مانند کوئی چیز نہیں ) کاچراغ لے کرحرکت کرنی چاہیئے اور ” لم یکن لہ کفوً احد “ ( اس کے مانند ومشابہ کوئی چیز نہیں ) کے پرتومیں اسے دیکھنا چاہیئے اورعبادات وغیرہ میں ” سبحان اللہ “ ( وہ پاک وپاکیزہ ہے ) کا ارشارہ بھی اسی حقیقت کی طرف ہے۔ 1۔ خطبہ ،ص ۱۸۶۔ 2۔ خطبہ . ۶۵ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:9-12
۳۔ خداکے رازق ہونے کے بار ے میں کچھ باتیں۔
الف:روزی کے وسیع اور تنگ ہونے کا معیارکیاہے ؟یہ بات توہمیشہ ذہن میں رہنی چاہیئے کہ کسی کے رزق کی وسعت کبھی انسان کوروزی کی وسعت کے ذریعے آزماتاہے اوربے انتہامال اس کے اختیار میں دے دیتا ہے اورکبھی معیثت کی تنگی کی وجہ سے اس کے صبراستقامت اور پامردی اکاامتحان لیناچاہتا ہے اوراس سے ان صفات کو پروان چڑھاتاہے۔ کبھی تو ایسا ہوتاہے کہ مال و دولت کی فراوانی صاحبان مال کے لیے وبال جان بن جاتی ہے اوران سے ہرقسم کاسکھ اور چین چھین لیتی ہے . چنانچہ سور ہ ٴ توبہ کی ۵۵ ویں آیت میں ارشاد ہوتاہے : فَلا تُعْجِبْکَ اٴَمْوالُہُمْ وَ لا اٴَوْلادُہُمْ إِنَّما یُریدُ اللَّہُ لِیُعَذِّبَہُمْ بِہا فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ تَزْہَقَ اٴَنْفُسُہُمْ وَ ہُمْ کافِرُونَ ان لوگوں کے مال و دولت اوراولاد کی فراوانی تجھے حیران نہ کردے . خداتو یہی چاہتاہے کہ انھیں اس ذریعے سے دنیا وی زندگی میں عذاب دے اوروہ کفر کی حالت میں مریں۔ سورہ ٴ موٴ منون کی آیات ۵۵.۵۶ میں فرمایا گیا ہے : اٴَ یَحْسَبُونَ اٴَنَّما نُمِدُّہُمْ بِہِ مِنْ مالٍ وَ بَنینَ ،نُسارِعُ لَہُمْ فِی الْخَیْراتِ بَلْ لا یَشْعُرُونَ کیاوہ گمان کرتے ہیں کہ ہم نے جوا نہیں مال و اولاد عطاکی ہے اس لیے ہے کہ ان پراچھائیوں کے درواز ے کھول دیئے ہیں ،ایسانہیں ہے،وہ اس بات کو نہیں سمجھتے ۔ ( ب ):روزی کامقرر کرنااس کی تلاش کے منافی نہیں : روزی کے بار ے میں خدا وند عالم کی طرف سے تقدیر کی جو آیات قرآن مجید میں آئی ہیں ان سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہیئے کہ چونکہ خدا وند عالم نے انسان کی روزی تو مقرر فرماہی دی ہے لہٰذااس بار ے میں تلاش اورکوشش کی کیاضرورت ہے . اس بات کوسستی کابہانہ بنا کرانفرادی ااوراجتماعی کوششوں سے فرار نہیں کرناچاہیئے.و گرنہ سوچ قرآن مجید کی ان اکثرو بیشتر آیات کے خلاف ہوگی جن میں سعی و کوشش اور تلاش وحصول کو کامیابی کامعیار سمجھا گیاہے۔ مقصد یہ ہے کہ تمام تلاش اورکو ششوں کے باوجود بھی کبھی ہم واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ کوئی ایسا ہاتھ کار فر ماہوتاہے کہ ان سب کو ششوں کا نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا اور کبھی اس کے بالکل برعکس ہوتاہے ایسا اس لیے ہے تاکہ دنیا کو معلوم ہوجائے کہ اس عالم اسباب کے پس پردہ ذات ” مسبب الاسباب “ کادست قدرت کار فر ماہے۔ بہرحال سستی اور کاہلی کی وجہ سے حاصل ہونے والی محرومیوں کی ہرگز خدا کے کھاتے میں نہیںڈالنا چاہیئے کیونکہ اس نے توپہلے دن سے فرمادیا ہے کہ تلاش وکوشش کے مطابق روزی ملے گی ۔ (ج):رزق صر ف دنیاوی نعمتوں ہی کا نام نہیں:رزق اور روزی کاوسیع معنی ہے جو معنوی اور روحانی روزی پر بھی بولاجاتا ہے . بلکہ حقیقت میں روزی کہتے ہی معنوی رزق کو ہیں . دعاؤں میں بھی اسی معنوی روزی کے بار ے میں رزق کالفظ اکثر مقام پر بولاگیاہے.مثلاً حج کے بار ے میں ہم دعامنگتے ہیں۔ اللھم ارز قنی حج بیتک الحرام اطاعت کی توفیق اورمعصیت سے دوری کے لیے کہتے ہیں : اللھم ارز قنی توفیق الطاعة و بعد المعصیة ... “ ماہ رمضان کی دعاؤں میں کہتے ہیں ( ۱۵ ویں روزے کی دعا میں) : اللھم ارزقنی فیہ طاعة الخاشعین اوراسی طرح دوسری چیزوں کے بار ے میں ہے۔ (د) : قرآن مجید اور روزی کی کثرت :قرآ ن مجید نے چند امور ایسے ذکر کئے ہیں جو بذات خود انسانی تربیت کے لیے تعمیر ی درس کی حیثیت رکھتے ہیں ،ایک مقام پر ارشاد فر ماتاہے : لئن شکرتم لاز یدنکم اگر تم نے نعمتوں کاشکر ادا کیا( انہیں اپنے صحیح مصرف میں خرچ کیا) تو تمہیں زیادہ نعمتیں عطاکروں گا ۔( ابرہیم ./۷) ایک دوسرے مقام پر لوگوں کوتلاش وحصول روزی کی دعوت دیتے ہوئے فرماتاہے : ہُوَ الَّذی جَعَلَ لَکُمُ الْاٴَرْضَ ذَلُولاً فَامْشُوا فی مَناکِبِہا وَ کُلُوا مِنْ رِزْقِہ خدا تو وہ ذات ہے جس نے زمین کو تمہارے لیے خاضع اور خاشع بنادیاہے تاکہ تم اس کی پشت پر چلو پھر و اوراس کے رزق سے کھا ؤ پیو۔ ( ملک / ۱۵) ایک اورمقام پر تقویٰ اورپر ہیز گاری کووسعت رز ق کامعیار بتایا ہے ،ارشاد ہوتاہے : وَ لَوْ اٴَنَّ اٴَہْلَ الْقُری آمَنُوا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنا عَلَیْہِمْ بَرَکاتٍ مِنَ السَّماء ِ وَ الْاٴَرْضِ یعنی اگرروئے زمین کے لوگ ایمان لے آئیں اور تقویٰ اختیار کرلیں توہم آسمان و زمین کی برکتیں ان کے لیے کھول دیں۔ ( اعراف / ۹۶) ( ھ ):رزق کی تنگی اور تربیتی مسائل : بعض اوقات ایسابھی ہوتاہے کہ اگر لوگوں پر رزق کی تنگی اس لیے کی جاتی ہے تاکہ ان کی طرف سے پیدا ہونے والے فتنہ وفساد کے آگے بندباندھاجاسکے جیساکہ اسی سورہ ( شوریٰ ) کی ۲۷ ویں آیت میں ہے : ولو بسط اللہ الرزق لعبادة البغو افی الارض اگرخداپنے بندوں کے لیے روزی کشادہ کردے تو وہ ظلم وطغیان کی راہ اختیار کرلیں۔ (و) :رزق صرف خداکے ہاتھ میں ہے :قرآن مجید نے اس بات پر زور دیاہے کہ انسانوں کو چاہیئے کہ وہ اپنا روزی رسان صرف خدا کوجانیں اور غیر خداسے کبھی روزی نہ مانگیں اوراس کے ساتھ خداپر ایمان اور توکل کے بعد سعی و کوشش سے کام لیں سو رہٴ فاطر کی تیسری آیت میں ارشاد فرمایا گیاہے : ہَلْ مِنْ خالِقٍ غَیْرُ اللَّہِ یَرْزُقُکُمْ مِنَ السَّماء ِ وَ الْاٴَرْض آیاخدا کے علاوہ کوئی اورخالق ہے جو تمہیں زمیں آوسمان سے روز ی بہم پہنچائے ؟ سورہ ٴ عنکبوت کی آیت ۱۷ میں ارشاد فرمایا گیا ہے : فابتغوا عنداللہ الرزق رزق صرف خدا ہی سے مانگو۔ اس طرح کاحکم دے کرانسان کے اندر عزت نفس، بے نیاز ی ، خود داری اورغیر وابستگی کی روح کو اجاگر کردیاہے۔ روزی کی تقسیم ،زندگی بسرکرنے کے لیے رزق کی تلا ش ، روزی کے اسباب کے سرچشمے کے بار ے میں ہم نے تفسیر نمونہ کی ۱۱ویں جلد ( سور ہ نحل کی ۷۱ ویں آیت کے ذیل ) میں اور نویں جلد ( سور ہ ٴ ہود کی چھٹی آیت کے ذیل میں ) تفصیل سے گفتگو کی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 42:9-12
۲۔ ایک ادبی نکتہ
” لیس کمثلہ شی ء “ میں ” کاف “ حرف تشبیہ ہے ، جس کامعنی ہے ” مثل “ اور یہ پوراجملہ مل کریہ معنی دے گا ” اس کی مثل جیسی کوئی چیز نہیں ہے “ اس لفظی تکرار کی وجہ سے بہت سے مفسرین نے ” کاف “ کو زائدہ تسلیم کیاہے جوعام طور پر تاکید کے لیے آتاہے . فصحاء عرب کے کلام میں ایسی ہزا روں مثالیں ملتی ہیں۔ لیکن یہاں پر ایک نہایت ہی لطیف حوادث سے نہیں ب بھا گناچاہیئے جن میں اس قدر شجاعت ، بہادری ،عقل اورہوش وخرد ہو. ( یعنی جن لوگوں میں تمہارے جیسی صفات پائی جائیں انہیں یہ کام کرنا چاہیئے ). زیر بحث آیات کایہ معنی ہوگا: خدا وند عالم کی مثل کی مثل کبھی نہیں ہوسکتی جس میں وسیع علم اور عظیم و لا متناہی صفات پائی جائیں۔ یہ نکتہ بھی پیش نظر رہے کہ بعض ارباب لغت کے بقول چند الفاظ ایسے ہیں جو” مثل “ کامعنی دیتے ہیں . البتہ اس کے مفہوم کے جامع ہونے کو نہیں پہنچ سکتے ۔ ” ند “ ( بروزن ضد ) کالفظ وہاں بولاجاتاہے جہاں پرصرف جو ہر اورماہیت میں شبا ہت مقصود ہو ۔ ” شبہ “ کالفظ وہاں بو لاجاتاہے جہاں کیفیت کی بات درپیش ہو ۔ ” مسا وی “ کااطلاق وہاں ہوتاہے جہاں پرتعداد ( کمیّت ) کی بات کرنی مقصود ہو ۔ ”شکل “ وہاں پر بولتے ہیں جہاں پر مقدار کی بات ہو ۔ لیکن ”مثل “ کا مفہوم وسیع اور عام ہے کہ جس میں سب مفاہیم جمع ہیں . یہی وجہ ہے کہ جب خداوند عالم اپنی ذات سے ہرقسم کی شبیہ ونظیر کی نفی کرناچاہتا ہے توفرماتاہے ” لیس کمثلہ شی ء “ ( 1). 1۔ مفردات راغب . مادہ ” مثل “ ۔