سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
Soon We shall show them Our signs in the horizons and in their own souls until it becomes clear to them that He is the Real. Is it not sufficient that your Lord is witness to all things?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 41:53
[Pooya/Ali Commentary 41:53] Aqa Mahdi Puya says: Truth always prevails. It spreads across to the uttermost corners of the earth, as it did in the case of Islam. Its intensive diffusion in the hearts and souls of people is even more extraordinary than its extensive spread. Makka where the mission of the Holy Prophet began became the hotbed of conspiracies and hostilities against the religion of Allah, but with a handful of godly men of distinguished valour, among whom Ali stands high and unique, the Holy Prophet destroyed the power base of evil beyond recovery. Refer to the defensive battles like Badr, Uhad, Khandaq, Khaybar, Hunayn etcetera, described in various verses of the Quran (Ali Imran: 13, 121 to 168; Anfal: 5 and 16; Baqarah: 214, 251; Ahzab: 1 to 3, 9 to 27, Bara-at: 25 to 27) and also found in all the authentic books of history written by the well-known Muslim as well as non-muslim scholars. There are several signs of Allah in these battles manifested through the valour of Ali ibn abi Talib which have no parallel in the history of mankind. Allah is the absolute truth, so He Himself is the best witness. In one of his supplications Imam Ali said: "O He who proves His (eternal) existence by His signs that exist in every thing."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:53-54
۳۔ ” آفاقی “ اور” انفسی “ آ یات
ہم ہرچیز کاتوانکار کرسکتے ہیں لیکن اس کائنات میں خود اپنے اندراور اپنے باہر ایک منظم اورحیرت انگیز نظام ہرگرنہیں کرسکتے . بعض اوقات ایسابھی ہوتاہے کہ ایک ماہر اور سپیشلسٹ شخص آنکھ ، دماغ یادل کی اسر ار آمیز بناوٹ کے بار ے میں تحقیقات کرتاہے اوراس بار ے میں لکھی گئی کتابوں کامطالعہ کرتاہے پھر بھی اس بات کااعتراف کرتاہے کہ اس موضوع کے سلسلے میں ابھی بہت کچھ تحقیق کرناباقی ہے۔ پھر یہ بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ آج کے محققین کے علوم تاریخی اعتبار سے لاکھوں دانشوروں اور سائنس دانوں کے مسلسل مطالعات کانچوڑ اور نتیجہ ہیں۔ اس طرح سے ہم جہاں بھی اور جسے بھی دیکھیں اس کے ماوراخدا وند متعال کی بے انہتا قدرت اورعام کے آثار دکھائی دیتے ہیں . اور جو انگور ی بھی زمین سے اگتی ہے زبان حال کے ساتھ ” وحد ہ لاشکرلہ “ کہہ کرسر اٹھاتی ہے ،اورجس ذّر ے کابھی دل چیز یں اس کے درمیان سے ایک آفتاب پھوٹتاہے۔ اسی پراکتفا کرتے ہوئے بہتر یہی ہے کہ اس جہان کے اہم اور پیچیدہ موضوعات سے چشم پوشی کرکے سادہ اوراپنے آ پ کے مسائل کاتجزیہ و تحلیل کریں. پھر بھی اس مبداٴ عظیم و برتر کے وجودپر روشن دلائل میں سے مناسب معلوم ہوتاہے کہ ہم آیہاں پردومثالیں پیش کریں۔ ۱۔ یقینا آپ جانتے ہیں کہ ہرانسان کے پاؤں کے تلوے میں ایک خاص قسم کاخلا یاگڑھا موجودہے جو عام طور پر کوئی اہم چیزمعلوم نہیں ہوتا ،لیکن جب ہم یہ سنتے ہیں کہ فوج میں بھرتی کے خصوصی معائنے کے وقت جن افراد کے پاؤں میں اس قسم کاخلانہیں ہوتا بھرتی نہیں کیاجاتایاامید میں بھیجنے کے بجائے انہیں دفتری کاموں میں کھپا یاجاتاہے .توپھر پتہ چلتاہے کہ جس چیز کوہم عام اور سادہ سی بات سمجھ کرنظرانداز کردیتے ہیں اس کی وجودا نسانی کے لیے کس قدر اہمیت ہے او ر وہ یہ کہ اس کے نہ ہونے کی وجہ سے انسان کھڑا ہوجائے تو بہت جلد تھک جاتاہے . فن سپاہ گری کے اظہار کے موقعے پر چلنے یاد وڑنے کی لازمی توانائی سے قاصر ہوتاہے یہی وجہ ہے کہ ہمیں اعتراف کرنا پڑ تاہے کہ اس کا ئنات کاسارا نظام جچا تلااورکسی حساب کتاب کے تحت ہے حتٰی کہ پاؤ کے تلوے کاخلابھی۔ ۲۔ انسان کی آنکھوں اورمنہ میں پانی کے چشمے پھوٹ رہے ہیں . جو نہایت ہی ظریف اور باریک سو راخوں سے تمام زندگی مسلسل کام کرتے رہتے ہیں . اگر یہ نہ ہوتے تو انسان میں دیکھنے کی قدرت ہوتی نہ بولنے اور غذاکو چنانے اور نگلنے کی طاقت . بالفاظ دیگران دوبظاہر چھوٹی لیکن نہایت اہم چیزوں کے بغیر انسانی زندگی ناممکن تھی۔ اگرآنکھ کی سطح ہمیشہ مرطوب نہ ہوتوڈھیلوں کی گردش تکلیف دہ بن جائے بلکہ ناممکن ہوجائے اور جب پلکیں آپس میں ملیں تو اس سطح کوچھیل کررکھ دیں بلکہ آنکھ کی حرکت ہی بالکل بندہو کر رہ جائے۔ اگرزبان،گلا اورمنہ مرطوب نہ ہوں تو بات کرنا ناممکن ہوجائے اورغذ ا کو نگلنا محال ہوجائے . آپ نے تجربہ کیا ہوگ. کہ جب کسی کامنہ یاگلا خشک ہوجاتاہے تو اس کے لیے بات کرناتوبجائے خود سانس لینا بھی دشوار ہوجاتاہے ،غذاکھانا یااسے نگلنا تو دور کی بات رہی.آپ خودہی اندازہ کیجئے کہ اگر یہ پانی اور تری مکمل طور پر منقطع ہوجائے توا نسان کاکیابنے ؟ ناک کے اندر ونی حصے کو بھی مرطوب ہوناچاہیئے تاکہ سانس کی ہمیشہ کی آمدورفت آسانی سے جاری رہے۔ یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ جو پانی آنسوؤں کی نالیوں کے ذر یعہ سے نکل کرنا ک میں آجاتاہے اور اسے فالتو یااضافی پانی کہتے ہیں اسی کے ذر یعہ ناک ہمیشہ تر رہتا ہے اور جس ظریف و بار یک سوراخ سے یہ پانی بہتا رہتاہے اگربالفرض ایک دن کے لیے آنکھ کایہ پانی سیلاب کی صورت میں چہرے پر بہتا رہے اورانسان کے چہرے کو بگاڑ کررکھ دے اور نہایت ہی بد نما بنادے۔ اگران سوراخوں کی کشش کی وجہ سے آنسو ؤں کے چشموں کاتوازن بگڑجائے پھر بھی یہی صورت حال درپیش ہو۔ لعاب دہن کی نالیوں کی بھی یہی کیفیت ہے اگرلعاب دہن کم ہو توزبان ،منہ اور گلا خشک ہوجائیں اور اگر زیادہ ہوجائے تو بات کرنی دشوار ہوجائے اور منہ سے پانی بہنے لگے۔ آنکھ کے پانی کی ترکیب کچھ اس طرح سے ہے کہ اس کاذائقہ نمکین ہوتاہے اوراس سے آنکھ کی ظریف ولطیف صورت کی مکمل حفاظت ہوتی ہے اور جب بھی آنکھ میں گردو غبار یاکوئی اور چیز پڑجاتی ہے تووہ پانی خود کار صورت میں بہنا شروع کردیتاہے اور جب تک اسے باہر نہیں پھینک دیتا تھمنے میں نہیں آتا۔ آنکھ کے پانی کے برخلاف لعاب دہن کی ترکیب ہی کچھ ایسی ہے کہ اس کاکوئی ذائقہ نہیں ہے تاکہ غذا کاذائقہ اچھی طرح محسوس کیاجائے اوراس میں نمکیات کاوجود غذا کے ہاضمے کے لیے موٴ ثرعامل ہے۔ اگران دوچشموں کے فز یکل اور کیمیکل پہلوؤں پرغورکیا جائے اوران کے جچے تلے اورحساب و کتاب کے تحت نظام کی ظرافت ، منفعت اور برکت کے بار ے میں سوچ بچار سے کام لیاجائے توہمیں یقین ہوجائے گا کہ کائنات کایہ نظام اندھے اور بہرے ” اتفاق “ کانتیجہ نہیں ہوسکتا . اسی ایک انفسی آیت جو بظاہر ایک چھوٹی سی آیت ہے کا مطالعہ ہم پرظاہرکرتاہے کہ ذات خدا وند متعال برحق ہے ” سَنُریہِمْ آیاتِنا فِی الْآفاقِ وَ فی اٴَنْفُسِہِمْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اٴَنَُّ الْحَق“۔ حضرت امام جعفرصاد ق علیہ السلام ” توحید مفضل “ نامی مشہورحدیث میں جو پروردگار عالم کی آفاقی اورانفسی آیات سے لبریز ہے ،اسی مطلب کی طرف ایک با معنی اشارہ فر ماتے ہیں۔ ای مفضل ! تاٴ مل الریق ومافیہ من المنفعة ،فانہ جعل یجری جر یاناً دائماًالی الفسم ،لیبل الحلق والکھم اة فلایجف ، فان ھذہ المواضع لوجعلت کذالک کان فیہ ھلاک الانسان ، ثم کان لاتستطیع ان یسیغ طعاماً اذالم یکن فی الفم بلة تنفذہ ، تشھد بذالک المشاھدة ۔ اے مفضل ! لعاب دہن اوراسکے فوائد کے با ر ے میں ذراغور کرو ، یہ لعاب ہمیشہ منہ میںچلتارہتاہے ، تاکہ حلق اور چھوٹی سی زبان ( جس کاغذا نگلنے میں اہم کر دار ہے ) کوہمیشہ مرطوب رکھے . اور اسے خشک نہ ہونے دے کیونکہ اگریہ اعضاء خشک ہو جائیں توانسان ہلاک ہوجائے اوراصولی طور پر اگرمنہ میں رطوبت نہ ہو تو انسان غذا نہیں نگل سکتا ، تجربہ اورمشاہدہ اسی بات کا گواہ ہے ( 1)۔ انسانی جسم کے علاوہ ا نسانی روح بھی عجائبات کا خزانہ ہے جس نے تمام علماء اور دانشوروں کو حیران اور ششدرکررکھاہے . اس کائنات میں اس قسم کی لاکھوں کروڑوں آیات بیّنات موجودہیں جوسب کی سبب بیک زبان کہہ رہی ہیں” انہ الحق “ ۔ یہیں پرہم بھی سیدالشھداء حضرت امام علیہ السام کے ہم صدا ہو کر کہتے ہیں۔ عمیت عین لاتراک خداوندا ! ندھی ہوجائے وہ آنکھ جوتجھے نہ دیکھے۔ سورہ ٴحٰم سجدہ (فصّلت ) کی تفسیر اختتام کوپہنچی 1۔ بحارالانوار جلد ۳ ،ص ۷۷ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:53-54
چھوڑے اوربڑ ے جہان میں حق کی نشانیاں
یہ سورہٴ حٰم سجدہ کی آخری دو آیات ہیں ، جن میں دواہم مطالب کی طرف اشارہ کیاگیاہے ، جو درحقیقت اس پوری سور ت کی جملہ مباحث کاخلاصہ ہیں . پہلی آیت توحید( یاقرآن ) کے بار ے میں گفتگو کررہی ہے اور دوسری معا د کے بار ے میں۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے:ہم بہت جلد انہیں کائنات کے اطرف و آفاق میں اوراسی طرح خود ان کے نفوس میں اپنی نشانیاں دکھلائیں گے،تاکہ انہیں اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ خدا حق ہے (سَنُریہِمْ آیاتِنا فِی الْآفاقِ وَ فی اٴَنْفُسِہِمْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اٴَنَُّ الْحَق)۔ سورج ،چاند اور ستاروں کی تخلیق اوران پرصحیح انداز میں حاکم نظام ،حوانات ،نباتات ،پہاڑوں ،سمندروں ، دریاؤں کی آفر ینش اوران کے بے شمار اورحیران کن عجائبات اس کے بے شماراسرار آمیز گو نا گو ں موجودات کہ جن کی تخلیق سے ہرروز نئے نئے انکشافات ہوتے رہتے ہیں اوران میں سے ہرایک خدا وند متعال کی ذات اقدس کی حقا نیت پرواضح دلیل ہے آفاقی آیات کہلاتی ہیں۔ اورانسانی جسم کی تخلیق ، انسانی دماغ کی حیرت انگیز ساخت ، دل ، رگوں اور ریشوں اورہڈیوں کی منظم حرکت ، نطفے کاانعقاد ،رحم مادرمیں جنین کی پرورش اوران سب سے بڑھ کرروح انسانی کے حیرت انگیز اسرار و رموز کہ جن میں سے ہرایک پروردگار عالم اورخالق کائنات کی کتابِ معرفت کاایک گوشہ ہے ، انفسی آیات کہلاتی ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ یہ آیات اس سے پہلے پروردگار عالم کی طرف سے بڑ ی حد تک دکھائی جاچکی ہیں لیکن ” سنریھم “ کی طرف توجہ کرتے ہوئے جو کہ فعل مضارع ہے اور استمرار پردلالت کررہاہے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آیات کے دکھانے کایہ عمل مسلسل جاری ہے . اگرکوئی شخص لاکھوں سال تک زندہ رہے پھر بھی ہرزمانے میں آیات الہٰی کانیا نمونہ دیکھے گا کیونکہ اس کائنات کے اسرارختم ہونے میں نہیں آتے۔ سائنس اورانسان شناسی کے تمام ( خواہ وہ علم تشریح ہو یا ... فز یالوجی ... علم نفسیات ... ہو یا ... و غیرہ اور وہ علم الاشیاء جو نباتات،حیوا نات،اشیاء فطرت اور ہیت وغیرہ کے بار ے میں گفتگو کرتاہے درحقیقت کائنات کی یہ چیزیں توحید اور معرفت الہٰی کی کھلی کتاب ہیں کیونکہ یہ عام طور پر حیرت انگز اسرا ر ور موز سے پردہ اٹھاتی ہیں جواس کائنات کے اصلی خالق کے علم و حکمت اور بے انہتا قدرت پردلالت کرتے ہیں۔ بعض اوقات ان علوم میں سے ایک علم بلکہ ان علوم کے بیسوں رشتوں میں سے ایک رشتہ کے لیے ا یک دانشور کی تما م زندگی وقف ہوجاتی ہے . آخرکار وہ بھی تھک کریہی کہتاہے کہ افسوس ! کہ میں اس سے کچھ بھی نہ جان سکا، جوکچھ معلوم کیاہے اس نے مجھے مزید لاعلمی اور جہالت کی طرف راہنمائی کردی ہے۔ آخر میں اس لطیف اوردلچسپ بیان کو ایک اورخوبصورت اور بامعنی جملہ کے ساتھ مکمل کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے : آ یاان کے لیے یہ بات کافی نہیں ہے کہ خدا ہرچیز پرشاہد اور گواہ ہے (اٴَ وَ لَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اٴَنَّہُ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ شَہیدٌ )۔ (۱)۔ اس سے بڑھ کراور کیا شہادت ہوسکتی ہے کہ اس نے اپنی قدرت کے خط تکوین کے ذریعے تماموجودات کی پیشانی پر ، تمام درختوں کے پتوں پر،تمام پھولوں کی پنکھڑ یوں پر، ذہن کے تمام اسرار آمیز طبقوں پر ، آنکھ کے نفس و ظریف پردوں پر،آسمان کے صفحے پراور زمین کے دل پر گویاہر ہر چیز پرا پنی توحید کی نشانیاں لکھ کراپنی تکوین کاشاہد بنادیاہے۔ جو کچھ اورپر بیان کیاگیا اس آیت کی دومعروف تفسیروں میں سے ایک ہے کہ جس کہ بنا پر آیت کی تمام گفتگو مسئلہ توحید اور آفاق وانفس میں آیات حق کے ظہور کے بار ے میں ہے۔ رہی دوسری تفسیرتووہ اعجاز قرآن کے سلسلہ میں ہے . جس کاخلاصہ یہ ہے کہ خدا وند عالم اس آیت میں فرماتا ہے ہم نے اپنے گو ناگوں معجزات اور مختلف نشانیاں انہیں دکھائی ہیں جو جز یرہ نمائے عرب کے مختلف حصوں میں بھی اور دنیا کے دوسرے مقاما ت پر بھی اورخودان مشرکین کے بار ے میں بھی ہیں تاکہ انہیں معلوم ہوجائے کہ یہ قرآن برحق ہے۔ آفاقی نشانیوں سے مراد جنگ اورمنطقی مناظروں کے مختلف میدانوں میں اسلام کی کامیابی ، پھر دنیا جہان کے مختلف مقامات پر جہاں جہاں دین اسلام پہنچا اورلوگوں کے افکار واذہان پرحکومت کرنے لگا،ان آیات کے نزول کے وقت جو لوگ مکہ میں بظاہر اس حد تک اقلیت میں تھے کہ کسی قوم کی بھر پور سر گرمی کامظاہرہ نہیں کرسکتے تھے حتٰی کہ انھوں نے پروردگار کے حکم سے ہجرت کی ، لیکن مختصر سے عرصے میں ہر جگہ ان کے جھنڈ ے تلے آگئی اوران کے دین کی دنیا کے عظیم طبقات میں پذیر ائی ہونے لگی۔ جب کہ ” آ یات انفسی “ سے مراد جنگ بدر میں مسلمانوں کی مشرکین مکہ پر کامیابی اور فتح مکہ کے دن اسلام کاغلبہ اور بہت سے لوگوں کے دلوں میں نور اسلام کااثر ونفوذ ہے۔ ان آفاقی اورا نفسی آیات نے بتایا ہے کہ قرآن مجید برحق ہے۔ جوخدا تمام چیزوں کاگواہ ہے اس نے قرآن کی حقا نیت پر بھی گواہی دی ہے۔ ان دونوں تفسیروں کے اپنے قرینے اور اپنی اپنی جیحات ہیں لیکن اسی آیت اور بعد کی آیت کے ذیل کی طرف توجہ کرنے سے پہلی تفسیر زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے ( ۲)۔ اس آیت کی تفسیرمیں اور بھی اقوال ہیں لیکن چونکہ زیادہ وزنی معلوم نہیں ہوئے لہذا ہم انہیں ذکر کر نے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اس سورت کی آخر ی آیت اس مشرک ، مفسد اور ظالم ٹولے کی بد بختی کااصل سرچشمہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہے :آگاہ رہو کہ وہ پروردگار کی ملاقات اورقیامت کے دن کے بار ے میں شک وشبہ میں مبتلا ہیں (اٴَلا إِنَّہُمْ فی مِرْیَةٍ مِنْ لِقاء ِ رَبِّہِمْ اٴَلا إِنَّہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ مُحیطٌ )۔ چونکہ حساب و کتاب اور سزا وجزا پرانہیں ایمان نہیں ہے لہذا ہرجرم کاارتکاب کرگزر تے ہیں اور ہر شرمناک انجام دے دیتے ہیں، ان کے دلوں پرغفلت اور غرور کے پردے پڑے ہوئے ہیں اور پر وردگار سے ملاقات کی فراموشی نے انہیں عظمت انسانیت کی بلندی سے پستی میں دھکیل دیاہے۔ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ ” خدا ہرچیز پرمحیط ہے ( اٴَلا إِنَّہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ مُحیطٌ )۔ ان تمام اعمال ، گفتار اور نیتیں خداکی بار گاہ علم میں مکمل طورپر عیاں ہیں اور یہ سب کچھ قیامت کی عظیم عدالت کے لیے اکٹھا ہو رہاہے۔ ” مریہ “ (بروزن ” جزیہ“ یا بروزن ” قریہ “ ) کسی امر کے بار ے میں فیصلہ کرلینے کے بعداس میں ڈانواں ڈول ہونے کے معنی میں ہے . بعض اسے بڑے شک وشبہ کے معنی میں سمجھتے ہیں . اس کلمہ کااصل سرچشمہ ” مریت الناقة “ اونٹنی کود وہ لینے کے بعد اس کے پستانوں کو اس اُمید کے ساتھ زور زور سے نچوڑ ناکہ شاید بچا کھچا دودھ بھی نکل آئے . چونکہ یہ کام شک وشبہ کی بناء پر انجام پایا ہے اسی لیے یہ کلمہ بھی ” شک و شبہ “ کے معنی میں استعمال ہوتاہے۔ اگر ” مجادلہ “ کو ”مراء“ کہتے ہیں تو بھی اسی لیے کہ انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ جو کچھ قریق مخالف کے ذہن میں ہوتاہے اسے باہر نکل دے۔ درحقیقت آخر ی جملہ معاد کے بار ے میں کفار کے بعض شکوک و شبہات کاجواب ہے جن میں سے کچھ شبہات یہ بھی ہیں کہ یہ بات کس طرح ممکن ہے کہ یہ منتشر اورپھر مخلوط مٹی جدا ہو جائے ؟کون سی طاقت ہرانسان کے اجزاء کو یکجاکرسکے گی ؟ علاوہ بریں پوری تاریخ کے تمام انسانوں کی نیتوں،اعمال او رگفتار سے کون آگاہ ہوسکتاہے ؟ قرآن مجید ان تما م سوالوں کے جواب میں کہتاہے : جو تمام چیزوں کااحاطہ کئے ہوئے ہے اس پر یہ تمام باتیں روشن ہیں تما م چیزوں پر اس کے علمی احاطہ ک یدلیل تمام چیزوں پر اس کی تدبیر ہے،یہ کیونکہ ہوسکتاہے کہ مدبر عالم دنیا جہان کے حالات سے بے خبر ہو ؟ بعض مفسرین نے اس آیت کو بھی مسئلہ توحید سے متعلق سمجھاہے نہ کہ مسئلہ معاد کے،وہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ پروردگار عالم کی توحید کے با ر ے میں اس قسم کے استد لا لات متعصب اورضدی مزاج کفار کے لیے موٴ ثر ثابت نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کے لیے مفید ہوتے ہیں وہ توتوحید کی روشن ترین دلیل یعنی خداکی ہرجگہ پر موجود گی کے بھی منکر ہیں تو یہ کیسے ہوسکتاہے کہ وہ توحید کے دلائل سے کیونکہر بہرہ ورہوسکتے ہیں ؟ ( ۳)۔ لیکن اگر دیکھاجائے تو قرآن مجید میں ” لقاء اللہ “ کی تعبیرعموماًقیامت کے لیے کنایہ ہوتی ہے لہٰذا یہ تفسیر بعید معلوم ہوتی ہے۔ ۱۔ آیت کے اس جملہ کی ترکیب جیساکہ بعض مفسرین نے کہاہے ” با“ زائدہ ہے اور ” ربک “ فاعل کی جگہ پر ہے اور” انہ علیٰ کل شی ء شھید “ اس کابدل ہے اوراسکامعنی یوں ہوگا ” اولم یکفھم ان ربک علیٰ کل شیء شہید “ ۔ ۲۔ پہلی تفسیر کی یہ چار ترجیحات ہیں۔ پہلی یہ کہ آیات کی تعبیرات زیادہ ترتوحید ی دلائل کے بار ے میں۔ دوسری یہ کہ آفاق اورانفس کی تعبیر توحید کی نشانیوں سے زیادہ ہم آہنگ ہے۔ تیسری یہ کہ ” اولم کیف بربک انہ علی شی ء شہید “ مسئلہ توحید اور پر وردگار کی ذات پاک کی حقانیت کی تکو ینی شہاد ت کی طرف اشارہ ہے۔ چوتھی یہ کہ بعد کی آیت معاد کے بار ے میں گفتگو کررہی ہے اور معلوم ہے کہ مبدا ٴ اور معاد ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہیں۔ دوسری تفسیر کی بھی تین ترجیحات ہیں۔ پہلی یہ کہ ا” انہ “ کی ضمیر مفر د غائب کے لیے ہے ،جبکہ ” اٰ یاتنا “ میں ضمیرمتکلم مع الغیر کے لیے ہے اورمناسب یہی ہے کہ ہر ایک ضمیر ایک خاص مقصد کو بیان کرے۔ دوسری یہ کہ اس سے پہلے کی آیت خاص طور پرقرآن کے لیے ہے۔ تیسری یہ کہ ” سنر یھم “ جو کہ فعل مضارع ہے اور اس مناسبت کا متقاضی ہے کہ مذ کورہ آیات بعد میں دکھائی جائیں گی ( البتہ ہم نے تین میں ان ترجیحات کاجواب دے دیاہے ) ( غور کیجئے گا )۔ ۳ ۔تفسیر المیزان ، جلد ۷ ،ص ۴۳۲۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:53-54
۲۔ خدا کے احاطہ کی حقیقت
یہ تصور ہر گز نہیں کرنا چاہیئے کہ خدا وندعالم چیزوں کااحاطہ ایسے کئے ہوئے ہے جیسے کرہ ٴ زمین کاہو انے احاطہ کیاہوا ہے ، کیونکہ اس قسم کااحاطہ اس کی محدودیت کی دلیل ہوتاہے بلکہ خدا وند عالم کاتمام چیزوں پراحاطہ نہایت ہی دقیق اورلطیف رکھتاہے اور وہ ہے تمام موجود ات کااپنی ذات میں اس کے وجود مقدس کے ساتھ وابستہ ہونا ۔ دوسرے لفظوں میں اس ساری کائنات میں سوائے ایک پاک ذات کے کسی بھی چیز کا و جود اصالت نہیں رکھتا اور قائم بالذات نہیں ہے اور دوسرے تمام ممکنہ موجودات کاوجود اس طرح اسی کی ذات کے سہارے قائم اوراسی سے وابستہ ہے کہ اگر ایک لمحے کے لیے یہ رابط ختم ہوجائے تو تمام کائنات تباء و بر باد ہوجائے۔ اور یہ احاطہ اس حقیقت کا نا م ہے جسے امیر الموٴ منین علی علیہ السلا م کے الفاظ میں نہج البلاغہ کے خطبہ اوّل میں ذکر کیاگیاہے . امام علیہ السلام فرماتے ہیں : مع کل شی ء لابمقارنة و غیر کل شیء لا معز ایلة خدا ہرچیز کے ساتھ ہے لیکن ان کے ہم پلہ نہیں ، ہرچیز کاغیر ہے لیکن ان سے جدا نہیں۔ اور شاید یہ وہی چیز ہے جسے حضرت امام حسین علیہ السلام نے اپنی مشہور ، معنی خیز ، مطالب سے لبر یز دعائے عرفہ میں بیان فرمایا ہے : ایکون لغیرک من الظھور مالیس لک ، حتی یکون ھو المظھرلک ؟ متی غبت حتی تحتاج الی دلیل ید ل علیک ؟ومتی بعد ت حتی تکون الاثار ھی التی توصل الیک ؟ عمیت عین لاتراک علیھا ر قیبا ! وخسرت صفقة عبد لم تجعل لہ من حبک نصیبا پروردگار ا ! کیادوسری موجودات کے لیے کوئی ایساظہور ہے جوتیر ے لیے نہ ہو کہ وہ تیری نشاندہی کریں؟توکب مخفی ہو اہے کہ تجھے کسی دلیل کی ضرورت ہو کہ وہ تیرے وجود پردلالت کرے ؟توکب دور ہو ا ہے کہ کا ئنات میں تیرے آثار ہمیں تیری طرف راہنمائی کریں؟اندھی ہوجائے وہ آنکھ جوتجھے اپنانگران سمجھ کرنہ دیکھے اورنقصان اٹھائے بندے کی وہ تجارت جس میں تیری محبت کاکوئی حصہ نہ ہو ( 1)۔ ایک شاعر کہتاہے۔ کے رفتہ ای زدل کہ تمنا کنم تورا : کے گشتہ ای نہفتہ کہ پیدا کنم تورا با صد ہزار جلوہ برون آمدی کہ من : باصد ہزار دیدہ تماشد کنم تورا تو میرے دل سے گیا کب ہے کہ تیرے دیدار تمنا کروں اور تو کب مجھ سے غائب ہوا ہے کہ تجھے تلاش کروں ؟ تو لاکھوں جلووں کے ساتھ ظہور پذیر ہے اور میں لاکھوں نگاہوں کے ساتھ تیرا دیدار کررہاہوں۔ 1۔ دعائے عرفہ سے اقتباس . یہ مشہور دعا روزِ عرفہ کے اعمال میں دعاکی مشہور کتابوں میں درج ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:53-54
۱۔ برہان نظم اور برہان صدیقین
ہم جانتے ہیں کہ فلسفی حضرات توحید کے دلائل میں سے دو دلیلوں کوبہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، سب سے پہلے بر ہان ِ نظم کوپھر برہان صدیقین ۔ برہان نظم : جیساکہ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ اس برہان کو کہتے جو اس کائنات اوراس کے مبداٴ کے علم و قدرت کے اسرار و رموز کی طرف اہنمائی کرتی ہے . قرآن مجید اس روشن اورواضح دلیل کے سات استد لالات سے پُر ہے اور ہر جگہ پر زمین و آسمان ، عالم حیات اورمختلف موجو دات میں حق کی نشانیوں کے مختلف نمونے پیش کرتاہے اسی سے اس کی ذات کی طرف راستے رکھلتے ہیں۔ یہ دلیل تمام طبقات کے لیے قابل ادراک ہے اور ہرشخص اپنی سمجھ اور معلومات کے مطابق اس سے استفادہ کرسکتا ہے . بڑے بڑے علماء و دانشو ر اپنی سمجھ کے مطابق اور کم تعلیم یافتہ یاان پڑھ لوگ اپنی سمجھ کے مطابق ۔ برہان صدیقین : یہ وہ برہان ہے جس کے ذریعے ”ذات “ سے ”ذات“ تک پہنچتے ہیں ، اور بار ی تعالیٰ کے واجب الوجود سے ہی اسی کی ذات کی حقیقت تک رسائی ہوتی ہے .دوسرے لفظوں میں اس برہان میں ممکنات اورمخلوقات عالم اس کے وجود کے اثبات کاذریعہ نہیں ہیں بلکہ اسی کی ایک پاک ذات ہی اسی کی ذات پردلیل ہے اور ” یامن دل علی ذاتہ(1) یاشہداللہ انہ لاالہٰ الا ھو “ ( خدا گواہی دیتا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں )( 2) کامصداق ہوتی ہے۔ یہ ایک پیچیدہ فلسفی لال ہے اور اس کی مبادیات کاعلم رکھنے والوں کے علاوہ کوئی بھی اس کی گہرائیوں تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے اور یہاں پرہمارامقصد اس کی تفصیل بیان کرنا نہیں ہے کیونکہ اس کی جگہ فلسفی کتابیں ہیں ، بلکہ ہم تو یہاں پرصرف یہ حقیقت واضح کرناچاہتے ہیں کہ بعض مفسرین نے آیت ” سَنُریہِمْ آیاتِنا فِی الْآفاق “ کے آغاز کو برہان نظم اور علت و معلول کی طرف اشارہ سمجھاہے ( اٴَ وَ لَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اٴَنَّہُ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ شَہیدٌ ) کوبرہان صدیقین کی طرف اشارہ سمجھا ہے لیکن خود آیت کے اندر اس بات پرکوئی واضح قرینہ موجود نہیں۔ 1۔ دعائے صباح منقول ازعلی علیہ السلام ۔ 2۔ سور ہ آل عمران آیت . ۱۸۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 41:53-54
سوره فصلت/ آیه 53- 54
۵۳۔سَنُریہِمْ آیاتِنا فِی الْآفاقِ وَ فی اٴَنْفُسِہِمْ حَتَّی یَتَبَیَّنَ لَہُمْ اٴَنَُّ الْحَقُّ اٴَ وَ لَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اٴَنَّہُ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ شَہیدٌ ۔ ۵۴۔ اٴَلا إِنَّہُمْ فی مِرْیَةٍ مِنْ لِقاء ِ رَبِّہِمْ اٴَلا إِنَّہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ مُحیطٌ ۔ ترجمہ ۵۳۔ ہم بہت جلد انھیں کائنات کے اطراف میں ان کے اپنے نفوس میں اپنی نشانیاں دکھلائیں گے ، تاکہ واضح ہوجائے کہ وہ حق ہے . آ یا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیراپر وردگار ہرچیز پرشاہد اور گواہ ہے۔ ۵۴۔آگاہ رہو کہ وہ اپنے پروردگار کی ملاقات کے بار ے میں شک وشبہ میں پڑے ہوئے ہیں لیکن خداہر چیزکا احاطہ کئے ہوئے ہے۔