الَّذِينَ يَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ
Those who bear the Throne, and those who are around it, celebrate the praise of their Lord and have faith in Him, and they plead for forgiveness for the faithful: ‘Our Lord! You embrace all things in mercy and knowledge. So forgive those who repent and follow Your way and save them from the punishment of hell.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 40:7
[Pooya/Ali Commentary 40:7] Refer to the commentary of Baqarah: 255 and Zumar: 75. This verse confirms the doctrine of intercession. Refer to the commentary of Baqarah: 48 and 123.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:7-9
۲۔ دعا کیسے کی جائے ؟
ان آیات میں حاملین ِ عرش ، مومنین کودعاکرنے کے آداب بتاتے ہیں . چنانچہ سب سے پہلے خداوندعالم ذو الجلال کے نام سے متمسک ہونے کادرس دیتے ہیں (رَبَّنا)۔ پھر اسے جلال و جمال کی صفات سے متصف کرتے ہیں اوراس کی بے پایاں رحمت اور ناپیدا کنار علم سے مدد حاصل کرنے کا سبق دیتے ہیں ( وَسِعْتَ کُلَّ شَیْء ٍ رَحْمَةً وَ عِلْماً )۔ اورآخر میں دعاکرنے اور مسائل کواہمیت کے پیش نظر ترتیب کے ساتھ بیان کرنے اوران شرائط کو دعا کے ساتھ ملانے کادرس دیتے ہیں جو قبولیت ِ دعاکا سبب بنتے ہیں (فَاغْفِرْ لِلَّذینَ تابُوا وَ اتَّبَعُوا سَبیلَک)۔ پھر دعا کوخدا کی جمالی صفات کاذکر کرکے ختم کرنے کاطریقہ بتاتے ہیں ۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس دعامیں حاملین عرش نے اوصاف ِ الہٰی میں سے پانچ بہترین اور اہم ترین صفات کاانتخاب کیاہے خداکی ربوبیت ،رحمت ،قدرت ،علم اورحکمت۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:7-9
۱۔ حاملین عرش کی چار دعائیں
یہاں پر یہ سوال آتاہے کہ ان پر چار دعاؤں کا آپس میں کیافرق ہے ؟ آیاان میں سے بعض دعاؤں کاتکرار نہیں ہے ؟ لیکن اگرتھوڑاساغور وفکر کیاجائے تو معلوم ہوگا کہ ہردعا ایک علیحدہ مطلب پر دلالت کررہی ہے . سب سے پہلے وہ مومنین کے لیے بخشش اور گناہوں کے آثار مٹادیئے جانے کی درخواست کرتے ہیں ۔ یہ بات جہاں پرہرعظیم نعمت تک پہنچنے کامقدمہ ہے وہاں پر خود بھی ایک مطلوب اور پسند یدہ بات ہے ، اس سے بڑھ کر اور کیامہر بانی ہو سکتی ہے کہ انسان خود کو پاک و پاکیزہ محسوس کرے . اس کا خدا اس سے راضی ہو اور وہ اپنے خداسے راضی ہو ؟جی ہاں بہشت اور دوزخ کے موضوع سے ہٹ کر بھی خداکے بندوں کے لیے یہ احساس نہایت قابلِ فخر اور بہت ہی باعظمت احساس ہے ۔ دوسرے مرحلے پر فرشتے انہیں جہنم سے دور رکھنے کی درخواست کرتے ہیں اور یہ بھی بذاتِ خودان کی روحانی تسکین کاایک بہترین اور اہم ترین ذریعہ ہے ۔ تیسرے مرحلے پر بہشت کے حصوں کی درخواست کرتے ہیں نہ صرف خودان مومنین کے لیے بلکہ ان کے عزیز و اقارب کے لیے بھی کہ جن کا جود مومنین کی روحانی تسکین اورقلبی مسرت کاسبب ہوتاہے ۔ تیز چونکہ ہم جہنم کے علاوہ عرصہٴ محشر میں اور بھی کئی قسم کی مشکلات اور مصائب کاسامنا کرناہوگا جیسے محشر کا ہولناک منظر ، تمامخلو ق کے سامنے رسوائی ، لمبی مدت کاحساب و کتاب و غیرہ تو وہ اپنی ایک او ر دعامیں خداسے درخواست کرتے ہیں کہ مومنین کو اس دن کی ہر قسم کی ناخوشگواری اور رسوائیوں سے دور رکھے تاکہ وہ مکمل سکون ،اطمینان ، عزت اوراحترام کے ساتھ بہشت بریں میں داخل ہو جائیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:7-9
۳۔ دعاؤں کا آغاز ”ربّنا“ سے کیوں ؟
ٓآیات ِ قرآنی کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ” اولیاء اللہ “ خواہ وہ انبیاء ہوں پافرشتے اورخدا کے نیک اورصالح بندے دعاکرتے وقت اپنی گفتگو کا آغاز ” ربّنا“ یا ” ربّی“ سے کیا کرتے تھے . چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام عرض کرتے ہیں : ربّنا ظلمناانفسنا پروردگار ا ! میں نے اور میری بیوی نے اپنے اوپر زیادتی کی ہے ( اعراف . ۲۳) حضرت نوح علیہ السلام عرض کرتے ہیں : ربّ اغفر لی ولوالدی اے میرے رب ! میری اورمیرے ماں باپ کی مغفرت فرما(نوح . ۲۸) حضرت ابراہیم علیہ السلام کہتے ہیں : رَبَّنَا اغْفِرْ لی وَ لِوالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسابُ اے ہمارے پر ور دگار ! میری اور میری ماں باپ کی اس دن مغفرت فرماجس دن حساب بر پاہوگا ۔ ( براہیم . ۴۱) حضرت یوسف علیہ السلام عر ض کرتے ہیں : ربّ قد اٰ تیتنی من الملک ”اے میرے پر وردگار تونے مجھے حکومت عطافرمائی ہے ۔ ( یوسف . ۱۰۱) حضرت موسٰی علیہ السلام عرض کرتے ہیں : َ رَبِّ بِما اٴَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اٴَکُونَ ظَہیراً لِلْمُجْرِمینَ اے میرے پروردگار ! چونکہ تونے مجھے نعمتیں عطاکی ہیں لہذا مجرمین کی پشت پناہی نہیں کروں گا ۔ (قصص ۔ ۱۷) حضرت عیسٰی علیہ السلام عرض کرتے ہیں : رَبَّنا اٴَنْزِلْ عَلَیْنا مائِدَةً مِنَ السَّماء ِ پر ور دگار ا ! ہم پر آسمان سے مائدہ نازل فرما ۔ ( مائدہ . ۱۱۴) حضرت خاتم الانبیاء پیغمبرعظیم الشان صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عرض کرتے ہیں ۔ ربّ اعوذ بک من ھمزات الشیاطین پر ور دگارا ! اس شیطانی وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہون ۔ ( مومنو ن. ۹۷) سورہ ٴ آل عمران کی آخری آیات کے مطابق مومنین اس جملے کو بار بار دہراتے ہیں جن میں سے ایک حصّہ یہ بھی ہے : ربّنا ماخلقت ھٰذا باطلاً پروردگارا! ان بڑے بڑے آسمانوں اورچوڑی چکلی زمین کوتونے بے فائدہ پیدا نہیں کیا ۔ ان تعبیرات سے بخوبی سمجھاجاسکتاہے کہ بہترین دعاوہ ہے جو ربوبیت ِپر وردگارکے ذکر سے شروع ہو . یہ ٹھیک ہے کہ ” اللہ “ کا مبارک نام خدا کے تمام ناموں کاجامع ہے لیکن چونکہ اس کی مہر بان ذات سے دعا کارابط ربوبیت کے مسئلے سے مناسب رکھتاہے لہذا یہدوسرے تمام ناموں سے زیادہ مناسب اور شایان شان ہے اور ربوبیت بھی ایسی جو خدا وند کریم کی طرف سے انسان کے ابتدائی لمحات سے شروع ہوکر اس کی زندگی کے آخر لمحے بلکہ اس کے بعد بھی اسے اپنے زیر سایہ لیے رہتی ہے اوراسے الطاف ِ الہٰی میں غرق رکھتی ہے ( 1)۔ 1۔ ” تفسیر کبیر “ ازفخررازی . اسی آیت میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:7-9
۴۔ عرش کیاہے ؟
ہم کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ ہمارے یہ الفاظ جوہماری محدودو ناچیز زندگی کی کیفیت بیان کرنے کے لیے وضع کیے گئے وہ خدا وند جل وعلاکی عظمت تو بجائے خوداس کی عظیم مخلوق کی عظمت کو بھی بیان نہیں کرسکتے یہی وجہ ہے کہ ہم ان الفاظ کے کنایہ پر مبنی معانی سے استفادہ کرتے ہوئے اس دھندلکے سے اس عظمت کو کچھ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان الفاظ میں سے ایک”عرش “ بھی ہے جس کا لغوی معنی ”چھت “ پا”لمبی ٹانگوں والاتخت“ ہے جو کرسی کے مقابلے میں آتا ہے کیونکہ اس کی ٹانگیں چھوٹی ہوتی ہیں .پھر یہ لفظ قدرتِ خدا کے تخت کے بار ے میں ”عرشِ پر ور دگار “ کے نام سے بولا جانے لگا ۔ عرشِ خدا وندی سے کیامراد ہے اور یہ کلمہ کس معنی کے لیے کنایہ ہے ؟اس سلسلے میں مفسرین ،محدّثین اور فلاسفہ کے مختلف نظر یات ہیں ۔ بعض نے اس کامعنی ” خدا وند عالم کا بے انتہا علم “ سمجھاہے ۔ بعض نے ” خدا کی مالکیت اورحاکمیت “ کامعنی بتایاہے ۔ بعض نے کہاہے کہ اس سے مراد خداکی کمالی اور جلالی صفات ہیں کیونکہ ہرایک صفت اس کے مقام کی عظمت کو بیا ن کرتی ہے ،جیساکہ بادشاہوں کے تخت ان کی عظمت کی نشانی سمجھے جاتے ہیں۔ مندرجہ بالا تینوں تفاسیر کی رو سے ” عرش “ کامفہوم پر ور دگار عالم کی صفات کی طرف لوٹ جاتاہے نہ کہ کسی اورخارجی وجود کی طرف ۔ بعض روایات جواہل بیت اطہار علیہم السلام کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں وہ بھی اسی بات کی تائید کرتی ہیں .جیساکہ ” حفص بن غیاث “ بیان کرتے ہیں : ” کسی نے حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے ” وسع کر سیہ السماوت والارض “ کی تفسیر کے متعلق سوال کیاتو آپ علیہ السلام نے فرمایا : ” اس سے مراد خداکاعلم ہے “ ( 1)۔ ایک اور حدیث میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا : ” عرش “ سے مراد خداکا وہ علم ہے جس سے اس نے ابنیاء کوواقف کیا اور ” کرسی “ سے مراد وہ علم ہے جس سے کسی کو بھی آگاہ نہیں کیا ( 2)۔ جبکہ بعض دوسرے مفسرین نے کچھ اور روایات سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ”عرش“ اور” کرسی “ خلاّق عالم کی دوعظیم مخلوقات ہیں ۔ بعض مفسرین نے کہاہے کہ عرش سے مراد مجموعہ ٴ کائنات ہے ۔ بعض نے یہ بھی کہاہے کہ زمین و آسمان مجموعی طو ر پر کرسی کے اندر موجودہیں بلکہ زمین و آسمان کرسی کے سامنے ایسے ہیں جیسے صحرائے عظیم میں ایک عدد انگشتری اور کرسی عرش کے سامنے ایسے ہے جیسے اس انگشتری کے سامنے زمین و آسمان۔ کبھی”عرش “ کااطلاق انبیاء ، اوصیاء اور کامل مومنین کے دلوں پر کیاگیاہے. جیسے کہ ایک حدیث میں آیا ہے کہ ان قلب الموٴمن عرش الرحمن موٴمن کادل خدا کاعرش ِ الرحمن (3)۔ نیز حدیث قدسی میں آیاہے : لم یسعنی سمائی ولا ارضی وو سعنی قلب عبدی الموٴ من میرے آسمان و زمین مجھے اپنے اندر نہیں سماسکتے لیکن میرے مومن بندے کادل میراٹھکانا ہے ( 4)۔ لیکن معنی عرش کی حقیقت تک پہنچنے کے لیے ... جہاں تک انسانی بس کی بات ہے ... بہترین طریقہٴ کار یہ ہے کہ قرآن میں اس کے استعمال کے مقامات کااچھی طرح سے جائزہ نہیں ۔ قرآن پاک کی بہت سی آیات میں یہ تعبیر دیکھنے میں آتی ہے : ثم الستوٰی علی العرش خدا وند عالم ( تخلیق کائنات کے بعد ) عرش پر مسلّط ہوگیا( 5)۔ اس سلسلے کی بعض آیات کے فوراً بعد ” ید بر الامر “ کاجملہ ملتاہے یاایسی تعبیریں جوخداوندعالم کے علم وتدبیرپرکچھ اورآیات میں ” عرش“ کی صفت بھی بیان کی گئی ہے جیسے سورہ ٴ توبہ کی آیت ۱۲۹میں: وھورب العرش العظیم کچھ آیات میں ان ملائکہ کاتذ کرہ ہے جو عرش کے ارد گرد رہتے ہیں جیسے وَ تَرَی الْمَلائِکَةَ حَافِّینَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْش کہیں پر فرمایا گیاہے : وکان عرشہ علی المآء ان تعبیروں سے اوران کے علاوہ دوسری تعبیروں سے جو اسلامی روایات میں وارد ہوئی ہیں یہ نتیجہ بخوبی نکالا جاسکتاہے کہ عرش کے لفظ کامختلف معانی پر اطلاق ہوتاہے ہرچند کہ ان سب کی بنیاد ایک ہے ۔ ”عرش “کاایک معنی تو وہی ” حکومت ، مالکیت ور کائنات کانظام چلانا “ ہے . کیونکہ عام طورپر معمولی گفتگو میں بھی عرش کالفظ کسی صاحبِ اقتدار کے اپنے ملک پر مکمل کنٹرول کے لیے کنایہ کے طورپر استعمال ہوتاہے . مثلاً عام طور پر کہتے ہیں ” فلان ثل عرشہ “ جو اس بات کا کنایہ ہے کہ ” اس کاراج سنگھاسن ڈول گیا ۔ فارسی میں بھی کہاجاتاہے : ” پا یہ ہای تخت اور ہم شکست “ ۔ اس کے تخت کے پائے ٹوٹ گئے ہیں ۔ عرش کاایک اورمعنی ” پوری کائنات “ ہے کیونکہ تمام کائنات ہی اس کی عظمت کی نشانی ہے ۔ کبھی ” عرش “ کا اطلاق ”عالم بالا“ پر اور” کرسی “ کا ”عالم زیرین“ پر ہوتاہے ۔ بعض او قات ” عالم ماوراء ِطبیعت “ کو ”عرش “کہتے ہیں اورعالم مادی خواہ زمین اورآسمان ہوں سب کو ” کرسی کہتے ہیں ،جیساکہ ” آیت الکرسی “ میں آیاہے : وسع کرسیہ السماوات والارض نیز چونکہ خداکی معلومات اور مخلوقات اس کی پاک ذات سے جدانہیں ہیں لہذا کبھی” علم الہٰی “ پر بھی ”عرش “ کاطلاق ہواہے ۔ اگر مومن بندوں کے پاک و پاکیزہ دل کو ”عرش الرحمان“ کہاگیاہے تواس لئے کہ وہ اس کی پاک ذات کی معرفت کامقام اوراس کی عظمت اور قدر ت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ۔ بنابریں قرائن سے ہی سمجھا جائے گا کہ کون سامعنی کس موقع پرمراد لیاجاسکتاہے ؟لیکن یہ بات بھی بہرحال اپنے مقام پر مسلّم ہے کہ معنی خواہ کوئی مراد لیاجائے عرش کالفظ خداوند ذو الجلال کی بزرگی اورعظمت کو ہی بیان کرے گا ۔ جس آیت کی ہم تفسیر کررہے ہیں اس میں حاملین عرش کاتذکرہ ہے ممکن ہے یہاں پر عرش سے مراد خدا وندعالم کی حکومت اور نظمِ کائنات کو چلاناہواورحاملین ِعرش سے مراد اس کی حاکمیت اور تدبیر عالم کے نافذ کرنے والے ہوں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد تمام کائنات ہویاپھر ” عالم ماورا ء طبیعت “ ہو اوراس کے حامل وہ فرشتے ہوں جو اس کا ئنات کی تدبیرکے ستونوں کوبحکم خدااپنی دوش پر اٹھائے ہو ئے ہیں۔ 1۔ بحارالانوار جلد۵۸ ،ص ۲۸ (حدیث ۴۶ .۴۷)۔ 2۔ بحارالانوار جلد۵۸ ،ص ۲۸ (حدیث ۴۶ .۴۷)۔ 3۔ بحارالانوار جلد ۵۸ ،ص ۳۹۔ 4۔ بحارالانوار جلد ۵۸ ،ص ۳۹۔ 5۔سور ہ اعراف ، ۵۴ . سورہ یونس ، ۳ . سورہ رعد ، ۲ . سورہ فرقان ،۵۹ . سورہ سجدہ ،۴. اور سورہ حدید۴۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:7-9
سوره مؤمن/ آیه 7- 9
۷۔الَّذینَ یَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَہُ یُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَ یَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذینَ آمَنُوا رَبَّنا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْء ٍ رَحْمَةً وَ عِلْماً فَاغْفِرْ لِلَّذینَ تابُوا وَ اتَّبَعُوا سَبیلَکَ وَ قِہِمْ عَذابَ الْجَحیمِ ۔ ۸۔ رَبَّنا وَ اٴَدْخِلْہُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتی وَعَدْتَہُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ آبائِہِمْ وَ اٴَزْواجِہِمْ وَ ذُرِّیَّاتِہِمْ إِنَّکَ اٴَنْتَ الْعَزیزُ الْحَکیمُ ۔ ۹۔ وَ قِہِمُ السَّیِّئاتِ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّئاتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہُ وَ ذلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظیمُ ۔ ترجمہ ۷۔ جوفرشتے عرش کواٹھا ئے ہوئے ہیںاوروہ جواس کے اردگرد ( طواف کررہے ) ہیں وہ خدا کی تسبیح اور حمد بجالاتے ہیںاوراس پر ایمان رکھتے ہیں اورموٴمنین کے لیے استغفار کرتے ہیں .(اورکہتے ہیں پر ور دگار ا ! تیری رحمت اورعلم سب چیزوں پرحاوی ہیں .توان لوگوں کی مغفرت فرما جنہوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پرچلے اورتوانہیں جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھ ۔ ۸۔ (وہ عرض کر تے ہیں ۹پروردگار ا ! تو انہیں بہشت برین کے باغوں میں داخل فرماجن کاتونے ان سے وعدہ کیاتھا اوراسی طرح ان کے نیک آباء واجداد ، ازواج اوراولاد سے کیونکہ توعزیز بھی ہے اورحکیم بھی۔ ۹۔ اورانہیں برائیوں سے بچا،جسے تُو نے برائیوں سے بچالیااسے اپنی رحمت میںشامل فرمالیا اور یہی توعظیم کامیابی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:7-9
حاملانِ عرش ہمیشہ موٴ منین کے لیے دعاگو ہیں
گزشتہ آیات کے تیور بتارہے ہیں کہ یہ اس وقت نازل ہوئی تھیں جب مسلمان اقلیت میں تھے اورمحرومی کی زندگی بسر کررہے تھے اوران کے دشمن طاقت ، تسلط اوروافروسائل کے لحاظ سے عروج پر تھے ۔ ان آیات کے بعد زیرنظر آیات درحقیقت اس لیے نازل ہوئیں تاکہ سچّے مومنین کو اس بات کی خوشخبری سنائیں کہ وہ ہرگز تنہا نہیں ہیں اور نہ ہی وہ خود کو تنہامحسوس کریں کیونکہ عرش الہٰی کے حامل خدا کے مقرب ترین اورعظیم ترین فرشتے ا ن کے ہم صدا ،دوست اورطرفدار ہیں اور ہمیشہ ا ن کے لیے دعاکرتے رہتے ہیں . اس دنیامیں بھی اوراس جہان میں ہمیشہ ان کی کا میابی کے لیے دعاگوں ہیںیہی چیز زمانہ ٴ ماضی کے مومنین کی طرح زمانہٴ حال اورآئندہ زمانہ مومنین کے لیے تسلّی خاطر اوردلجمعی کابہت بڑا ذریعہ ہے ۔ فر مایاگیا ہے: جوفرشتے عرش کواٹھائے ہوئے ہیں اوروہ فرشتے جوعرش کے ارد گرد رہتے ہیںخدا کی تسبیح اورحمد بجالانے ہیں،اسی پر ایمان رکھتے ہیں ورموٴمنین کے لیے استغفار کرتے ہیں (الَّذینَ یَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَہُ یُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَ یَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذینَ آمَنُوا) ۔ وہ اپنی باتوں میں کہتے ہیں : پروردگا ر ا ! تیری رحمت اورتیرا علم سب چیزوں پر حاوی ہے ( تو اپنے بندوں کے گناہوں سے باخبرہے اوران کی بابت رحیم بھی ہے ) خدا وندا ! ان لوگوں کوبخش دے جنہوں نے توبہ کی اورتیری راہ کواختیار کیا انہوں نے جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھ (رَبَّنا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْء ٍ رَحْمَةً وَ عِلْماً فَاغْفِرْ لِلَّذینَ تابُوا وَ اتَّبَعُوا سَبیلَکَ وَ قِہِمْ عَذابَ الْجَحیم) ۔ یہ گفتگو مومنین کو اس بات کی طرف متوجہ کررہی ہے کہ صرف تم ہی عبادتِ خدااوراس کی حمد و تسبیح بجانہیں لاتے،تم سے پہلے خدا کے مقرب ترین فرشتے یعنی حاملانِ عرش اوراس کاطواف کرنے والے فرشتے اس کی حمد وتسبیح بجالارہے ہیں ۔ ساتھ ہی کفار کو بھی تنبیہ کی جارہی ہے کہ تم ایمان لاؤیانہ لاؤ اس کے نزدیک ایک جیسی بات ہے کیونکہ اسے کسی کے ایمان کی ضرورت نہیںاس قدر فرشتے اسکی حمد و تسبیح بجالاتے ہیں جن کاتصوّر بھی نہیں کیاجاسکتا اس کے باوجود کہ اسے کسی کی حمد و ثنا بجالانے کی ضرورت نہیں اس قدر فرشتے اسکی حمد وتسبیح بجالاتے ہیں جن کاتصوّر بھی نہیں کیاجاسکتا اس کے باوجود کہ اسے کسی کی حمد و ثنا بجالانے کی ضرورت نہیں ہے . وہ ان سب چیزوں سے بے نیاز بر تر اور بالاتر ہے ۔ ساتھ ہی مومنین کویہ خبر بھی دی جارہی ہے کہ تماس دنیا میں اکیلے نہیں ہو... اگر چہ بظاہر اس ماحول میں تم اقلیت میں ہوکا ئنات کی طاقتور ترین غیبی طاقتیں اورحاملین ِ عرش تمہارے حامی اور دعا گو ہیں جو ہمیشہ خداسے یہی دعا کرتے رہتے ہیں کہ تمہیں اپنے عفو اور رحمتوں میں شامل فرمائے . تمہارے گناہوں کومعاف کردے اور تمہیں جہنم کے عذاب سے محفو ظ رکھے ۔ اس آیت میں ایک بار پھر”عرش “ کافکر ملتا ہے اور حاملین ِ عرش اوران فرشتوں کی دعا ؤ ں کی بات ہو رہی ہے جوعرش کے ارد گرد رہتے ہیں . اگر چہ مختلف سورتوں کی تفسیر کے سلسلے میں ہم اس موضوع پر کافی روشنی ڈال چکے ہیں ( ۱) پھر بھی چند اہم نکات کی بحث میں ہم اس کی کچھ اور تشریح کریں گے ۔ مومنین کے بار ے میں حاملین ِ عرش کی دعا ؤں کاسلسلہ بعد والی آیت میں بھی ملتاہے . چنانچہ قرآن کہتاہے : خدا وند ا ! جس بہشت برین کاتونے ان سے وعدہ کیاہے اس میں انہیں داخل فرما ( رَبَّنا وَ اٴَدْخِلْہُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتی وَعَدْتَہُمْ )۔ اور اسی طرح ان کے نیک آبا ؤ اجداد ، ازواج اور اولاد کو بھی (وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ آبائِہِمْ وَ اٴَزْواجِہِمْ وَذُرِّیَّاتِہِمْ) (۲)۔ کیونکہ تو ہرچیز پر غالب ہے اور ہرچیز سے باخبر ہے (إِنَّکَ اٴَنْتَ الْعَزیزُ الْحَکیم)۔ یہ آیت جو ” ربّنا “ سے شروع ہوئی ہے حاملانِ عرش اورمقامِ الہٰی کی عاجزانہ اور ملتمسا نہ درخواست ہے جو وہ اپنے پروردگار کے لطف و کرم کے حصول ِ کے لیے ایک مرتبہ پھر اس کے مقامِ ربوبیت کاسہارا لے کرمومنین کے لیے نہ صرف دوزخ سے نجات کی درخواست کرتے ہیں بلکہ ان کے بہشت کے باغ ِ بریں میں داخل ہونے کی التجاء بھی کرتے ہیں . نہ صرف ان کی اپنی ذات کے لیے بلکہ ان کے آباوا جداد اوراولاد کے لیے بھی جو ان کے ہم مسلک اور ہم گام ہیں اوراس کی عزت و قدرت جیسی صفات کے واسطے سے یہ دعا مانگ رہے ہیں ۔ ان آیات میں جس وعدہ کی طرف اشارہ ہوا ہے اس سے مراد وہی وعدہ ہے جوخدانے اپنے نبیوں کے ذ ریعے لوگوں سے کیاہے ۔ موٴ منین کی دو حصوں تقسیم سے اس حقیقت کاپتہ چلتاہے کہ کچھ مومنین کاشمار توصفِ اول میں ہوتاہے اور وہ یہ لوگ ہوتے ہیں جو فرامین کے بجالانے میں پوری کوشش کرتے ہیں اور کچھ کا شمار اس صف میں نہیں ہوتا اور یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے گروہ کی طرف نسبت رکھتے ہیں اوراس کی کسی حد تک پیروی کی وجہ سے فرشتوں کی دعاؤں میں شامل ہیں۔ ان آیا ت میں جس وعدہ کی طرف اشارہ ہوا ہے اس سے مراد وہی وعدہ ہے جو خدانے اپنے نبیوں کے ذریعے لوگوں سے کیاہے ۔ مومنین کی دوحصوں میں تقسیم سے اس حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ کچھ مومنین کاشمار توصفِ اول میں ہوتاہے اور یہ وہ لوگ ہوتے ہیں ہیں جو فر امین الہٰی کے بجا لانے میں پوری کوشش کرتے ہیں اور کچھ شمارا س صف میں نہیں ہوتا اور یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے گروہ کی طرف نسبت رکھتے ہیں اوراس کی کسی حد تک پیروی کی وجہ سے فرشتوں کی دعا ؤں میں شامل ہیں ۔ پھر یہ فرشتے مومنین کے بار ے میں اپنی چوتھی دعامیں کہتے ہیں: تو انہیں برائیوں سے محفوظ رکھ کیونکہ جنہیں تو اس دن کی برائیوں سے محفوظ رکھے گا وہی تیری رحمت میں شامل ہوں گے (وَ قِہِمُ السَّیِّئاتِ وَ مَنْ تَقِ السَّیِّئاتِ یَوْمَئِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہُ )۔ آخری کار وہ اپنی دعااس جملہ پر ختم کرتے ہیں :اور یہ ہے عظیم کامیابی (وَ ذلِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظیمُ )۔ اس سے بڑھ کر او ر کیا کا میابی ہو سکتی ہے کہ انسان کے گناہ بخش دیئے جائیں ، عذاب اور برائیاں اس سے دور کردی جائیں ، وہ رحمت الہٰی میں شامل ہوجائے ،بہشت برین میں داخل ہوجائے اوراس کے تعلق سدار اور قریبی رشتہ دار بھی اس سے جاملیں۔ ۱۔ تفصیل تفسیر نمونہ کی چھٹی جلد ، سور ہ اعراف کی آیت ۵۴ کے ذیل میں ، نویں جلد ،سورہ ہود کی آیت ۷ کے ذیل میں اور دوسری جلد سورہ بقرہ کی آیت ۲۵۵ کے ذیل میں تفصیل بیان ہوچکی ہے ۔ ۲۔ ” و من صلح“ کاجملہ ” واد خلھم “کے جملے کی ضمیرپرمعطوف ہے ۔