فَٱصۡبِرۡ إِنَّ وَعۡدَ ٱللَّهِ حَقّٞ وَٱسۡتَغۡفِرۡ لِذَنۢبِكَ وَسَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّكَ بِٱلۡعَشِيِّ وَٱلۡإِبۡكَٰرِ
So be patient! Allah’s promise is indeed true. Plead [Allah] for forgiveness of your sin, and celebrate the praise of your Lord morning and evening.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:51-55
سوره مؤمن/ آیه 51- 55
۵۱۔إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنا وَ الَّذینَ آمَنُوا فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ یَوْمَ یَقُومُ الْاٴَشْہادُ ۵۲۔ یَوْمَ لا یَنْفَعُ الظَّالِمینَ مَعْذِرَتُہُمْ وَ لَہُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَہُمْ سُوء ُ الدَّارِ ۵۳۔ وَ لَقَدْ آتَیْنا مُوسَی الْہُدی وَ اٴَوْرَثْنا بَنی إِسْرائیلَ الْکِتابَ ۵۴۔ ہُدیً وَ ذِکْری لِاٴُولِی الْاٴَلْبابِ ۵۵۔ فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّہِ حَقٌّ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ بِالْعَشِیِّ وَ الْإِبْکار ترجمہ ۵۱۔ یقینا ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی مدد کرتے ہیں جوایمان لائے ،دنیاوی زندگی میں بھی اور جس دن گو اہان اٹھ کھڑے ہوں گے ۔ ۵۲۔ جس دن ظالموں کی عذرخواہی انہیں کوئی فائدہ نہیں بخشے گی اوران کے لئے خدا کی لعنت اورانہی کے لیے براگھر ( اور ٹھکانا ) ہے ۔ ۵۳۔ ہم نے موسٰی کوہدایت عطافرمائی اور بنی اسرائیل کوکتاب ( تورات ) کاوارث قرار دیا ۔ ۵۴۔ایسی کتاب جوصاحبان عقل کے لیے ہدایت اور یاد آوری کاسبب تھی ۔ ۵۵۔صبر اور شکیبائی اختیار کرو کیونکہ خدا کاوعدہ سچاہے اوراپنے گناہوں پراستغفار کرواوراپنے پروردگا کی حمد اور تسبیح بجالاؤ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:51-55
ہم مومنین کی مدد کرتے ہیں
چونکہ گزشتہ آیات میں جہنمیوں کے باہمی احتجاج اور گفتگو کاتذ کرہ تھا کہ وہ وہاں پرنہ تو ایک دوسرے کی مدد کرسکیں گے اور نہ ہی کوئی دوسران کی مدد کوآئے گا . پھر ان سے قبل کی آیات میں مومن آ ل فرعون جیسے مرد مجاہداور بطل حریت کی داستان اوراسے خداکی حمایت حاصل ہونے کاذکر تھا ،لہذا زیرتفسیر آیات میں ایک قاعدہ کلیہ کے تحتددنیا و آکر ت میں ابنیاء اور مومنین کی نصرت کابیان ہے ۔ ارشاد فرمایاگیاہے : یقینا ہم اپنے رسولوں کی اوران لوگوں کی دنیاوی زندگی میں بھی اور جس دن تمام گواہ اٹھ کھڑے ہوں گے اس دن بھی مددکریں گے ( إِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنا وَ الَّذینَ آمَنُوا فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا وَ یَوْمَ یَقُومُ الْاٴَشْہادُ )۔ ایسی بے دریغ حمایت جس کی مختلف طرح سے تاکیدکی گئی ہے . ایسی حمایت جوغیر مشرو ط ہوگی . اسی لیے تو اس کے پیچھے پیچھے مختلف کا میابیاں بھی ہیں . یعنی دلائل وگفتگو میں کامیابی ، جنگوں میں کامیابی ،مخالفین پرعذاب بھیج کر انہیں نیست و نابود کردینے کی صورت میں کامیابی اور غیبی امداد بھیج کر دل کوتقویت پہنچانے اور روح کوطاقتور بنانے کی صورت میں کامیابی ۔ اس مقام پر ہم ” روزقیامت “ کے بار ے میں ایک نئی تعبیر دیکھ رہے ہیں اوروہ ہے ” یوم یقوم الاشھاد “ ( جس دن گواہ اٹھ کھڑے ہوں گے )۔ ” اشھاد “ ” شاھد “ یا ” شھید “ کی جمع ہے ( جس طرح ”اصحاب “ صاحب کی اور” اشراف “ شریف کی جمع ہے ) اور ہر صورت میں گواہ کے معنی میں ہے اور یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ وہ گواہ کون ہیں ؟ اس بار ے میں مختلف اقوال ہیں جن کوایک جااکٹھا کیاجاسکتاہے ۔ ۱۔ اس سے مراد انسان کے اعمال پر نگران فرشتے ہیں ۔ ۲۔ اس سے مرادانبیاء ہیں جواپنی امتوں کے گواہ ہیں ۔ ۳۔ اس سے مراد فرشتے ، انبیاء اور مومنین ہیں جو مومنین کے اعمال کے گواہ ہیں ۔ لیکن یہ احتمال کہ انسان کے اعضاء بھی اس فہرست میں شامل ہیں بعید معلوم ہوتاہے کیونکہ لفظ ” اشھاد“ اگرچہ وسیع معانی کاحامل ہے لیکن ” یوم یقوم الاشھاد“ ( جس دن گواہ اٹھ کھڑے ہوں گے ) کی تعبیر اس سے مناسب نہیں رکھتی ۔ یہ تعبیر ایک دلچسپ نکتے کی طرف اشارہ کررہی ہے اور یہ کہنا چاہتی ہے کہ قیامت کادن وہ دن ہوگاجس میں تمام مخلوق اکٹھی ہوگی اوراس عظیم اجتماع میں گواہ اٹھ کھڑے ہوں گے اوراس مقام کی رسوائی بدترین رسوائی ہوگی جبکہ عزت افزائی اور کامیابی بھی بلند ترین مرتبہ کی ہوگی . ہم اس دن ابنیاء ومرسلین اور مومنین کی مدد کریں گے اور اس عظیم اجتماع میں ان کی عزت و آبرو میں چار چاند لگادیں گے ۔ لیکن اس دن رسوائی اور بدبختی کافروں اورظالموں کاحصّہ ہوگی جیساکہ بعد کی آیت میں فرمایاگیا ہے : جس دن کہ ظالموں کی عذر خواہی کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی بلکہ خدا کی لعنت ان کے لیے مخصوص ہوگی اور بُراگھر ( اورٹھکانا ) بھی انہی کے لیے ہوگا (یَوْمَ لا یَنْفَعُ الظَّالِمینَ مَعْذِرَتُہُمْ وَ لَہُمُ اللَّعْنَةُ وَ لَہُمْ سُوء ُ الدَّارِ )۔ ایک توگواہوں کے سامنے عذر خواہی کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی بلکہ اس عظیم اور عدیم النظیر اجتماع میں ذلت و رسوائی ان کامقد ر ہوگی ۔ دوسرے وہ خدا کی رحمت سے دور ہوں گے کیونکہ لعنت کامعنی رحمت سے دوری ہے اورلعنت ان کادامن پکڑلے گی ۔ اور تیسرے جسمانی لحاظ سے بھی وہ زبر دست شکنجے اور عذاب میں گرفتا ر ہوں گے اور آتش جہنم میں ان کے لیے بدترین ٹھکاناہوگا ۔ ایک سوال اوراس کا جواب یہاں پر ایک سوال پیدا ہوتاہے اور وہ یہ کہ اگر خدا وندعالم نے اپنے انبیاء اور مومنین کے ساتھ کامیابی کا وعدہ کیاہے اور وہ بھی بڑی تاکید کے ساتھ ،توپھر تاریخ میں ہمیں بے ایمان کفار کے ہاتھوں بہت سے انبیاء اورمومن کے قتل کیوں دکھائی دیتے ہیں ، وہ بعض اوقات مشکلات میں کیوں پھنس جاتے تھے یافوجی شکست کاسامنا کیوں کرتے تھے ،تو کیا خداوند عالم وعدہ خلافی کرتاہے ؟ اس کاجواب ایک نکتے پرغور کرنے سے اچھی طرح واضح ہوجاتاہ کہ وہ یہ کہ بہت سے لوگوں کو سوچ کامعیار اور پیمانہ بہت محدود ہوتاہے اور وہ کامیابی کے مفہوم کواپنے اسی محدود معیار کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور وہ کسی کی کامیابی کاراز اسی میں سمجھتے ہیں کہ دشمن کوشکست دے کرچند روزہ دنیاوی حکومت کواپنے قبضہ ٴ قدرت میں لے لیاجائے ۔ وہ مقصد میں کامیابی اور مکتب کی بالا دستی کو کامیابی ہی نہیں سمجھتے اور نہ ہی اسے کسی کھاتے میں شمار کرتے ہیں وہ کسی مجاہد شہیدکے موجودہ اور آنے والی نسلوں کے لیے نمونہ اوراسوہ بن جانے کوکوئی اہمیّت ہی نہیں دیتے . وہ کائنات کے حریت پسند وں کے نزدیک کسی عزت وسربلند ی اورخالق ِ اکبر کی رضا کے حصول کو توکوئی چیز ہی نہیں سمجھتے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس محدود سوچ کے حامل افراد کے لیے تو اس سوال کاکوئی جواب نہیں ہے ، لیکن اگرسوچ کوبلند اور افق فکری وسیع کیاجائے اورحقیقی اقدار کومد نظر رکھاجائے تو پھر اس آیت کے حقیقی مفہوم کی تہ تک پہنچ جائیں گے ۔ اس مقام پر سیّد قطب نے اپنی ” فی ظلال القراٰن “ میں ایک بہترین بات کہی ہے جو ہمارے مد عا کی بہترین شاہد ہے . وہ کر بلا کے ہیر وحضرت امام حسین علیہ السلام کی مثال کوپیش ِ نظر رکھ کرکہتے ہیں : ” حسین رضوان اللہ علیہ نے اس عظیم میدان اور درد ناک منظر میں شربت شہادت نوش فرمایا آیا یہ فتح تھی یاشکست ؟ چھوٹی سوچ اور ظاہری صورت میں توشکست تھی ، لیکن خالص حقیقت اور وسیع سوچ کے لحاظ سے بہت بڑی کامیابی تھی ۔ روئے زمین کے انسانوں کے پاس دل ہرشہید کے لیے لرز جاتے ہیں ، ان میں عشق ومحبت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں ، دلوں میں غیرت اور فدا کاری جذبہ پیدا ہوتاہے جیساکہ حسین ( رضوان اللہ علیہ ) نے یہی کچھ کیا ۔ یہ ایک ایسی بات ہے جس پر مسلمانوں کے تمام فرقے خواہ وہ شیعہ ہوں یاسنّی متفق ہیں بلکہ غیر مسلمین کی بھی بہت بڑی تعداد کااس پر اتفاق ہے ۔ بہت سے ایسے شہدا ء ہیں کہ اگر ہزار سال تک بھی زندہ رہتے تووہ اپنے عقیدے اور مکتب فکرکی اس قدر نصر ت کرسکتے ، نہ ہی ان تمام عظیم انسانی اقدار کودلوں میں یاد گار کے طور پر چھوڑ سکتے اور نہ ہی ہزار وں لوگوں کواپنی آخری باتوں سے اس قدر آگاہ اوربیدار کرسکتے جتنا انھوں نے اپنے مقدس خون کے ذریعہ کیاہے ! جی ہاں وہ آخری باتیں اوعرخطبات جوانہوں نے اپنے خون کے ذریعے قلم بند کئے ہیں ہمیشہ زندہ رہیں گے اور آنے والی نسلوں کی جذبہ اور تحرک عطاکرتے رہیں گے بلکہ وہ ہرزمانے میں اس طرح سے تاثیر آفریں رہیں گے کہ پوری تاریخ پرچھا ئے رہیں گے ( ۱)۔ سید قطب کوباتوں پر ہم کچھ اضافہ کرنا چاہتے ہیں او ر وہ یہ ک ہم شیعہ ہرسال ماہ محرم میں اپنی آنکھوں کے ساتھ حضرت امام حسین علیہ السلام اور کربلا میں شہید ہونے والے ان کے دوسرے رفقاء کار کی زندگی کے آثار دیکھتے ہیں ۔ کس طرح وہ عظیم تحریکوں کاسبب بن جاتے ہیں ؟ ہم نے عاشوراء ِ محرم کے ایام میں اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح لاکھوں کروڑوں مسلمانوں نے ظلم و استبداد اوراستعمار کے ایوانوں کی چولیں ہلا کررکھ دیں ۔ ہم نے یہ بھی دیکھاہے کہ اس ایثار پیشہ اور فداکار نسل کہ جس نے اپنی فداکا ری اور ایثا ر گری کادرس مکتب حسین علیہ السلام اورآپ علیہ السلام ہی کی یاد گار مجالس سے لیاتھا ، نے کس طرح خالی ہاتھوں کے ساتھ دنیا کے طاقتور ترین جابر بادشاہ کوتخت سے نیچے اتار پھینکا ۔ جی ہاں ہم نے یہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ خون حسین علیہ السلام کس طرح ان کی رگوں میں دوڑ ااور انہوں نے دنیا والوں کی قیاس آرائیوں کوکس طرح غلط ثابت کردیا ۔ یہ حسین علیہ السلام اوران کے اعوان وانصار کی کا میابی نہیں تو اور کیا ہے کہ تیرہ سوسال گزر نے کے باوجود اپنی طاقت کالو ہامنوا لیا ۔ ایک اور سوال کا جواب یہاں پرایک اور سوال بھی پیدا ہوتاہے اور وہ یہ کہ مندرجہ بالاآیات کہتی ہے ” قیامت کے دن ظالموں کو معذرت طلبی کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی “ جب کہ سورہ مرسلات کی آیت ۳۶ میں ہے ۔ ” اس دن انہیں عذر خواہی کی بالکل اجازت ہی نہیں دی جائے گی “ ۔ ولا یئو ذن لھم فیعتذ رون یہ ددونوں آیات آپس میں کیسے ہیں آہنگ ہوسکتی ہیں ؟ جواب کے لیے دونکتوں کی طرف توجہ کرناچاہیئے ۔ پہلایہ کہ بروز قیامت کچھ مرحلے ہوں گے جن کے حالا ت اورکوالف ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے کہیں پر زبان کا م کرناچھوڑ دے گی اورہاتھ پاؤں اور دیگر اعضاء وجوراح بولنے لگیں گے اور گواہی دیں گے . لیکن دوسر ے مرحلوں میں زبان کھول دی جائے گی اورانسان بولنے لگے گا . ( جیسا کہ سورہ یٰس کی ۶۵ ویں آ یت پہلی صورت حال کی اور زیر بحث سورت کی گزشتہ آیات جو جہنمیوں کی کی گفتگو اوراحتجاج کے بار ے میں گفتگو کررہی ہیں دوسری صورت حال کے بار ے میں اسی مد عاپر شاہد ہیں )۔ دوسرانکتہ یہ ہے کہ بعض اوقات انسان بات تو کرتاہے لیکن اس کاکوئی فائدہ نہیں ہوتا اوروہ بالکل فضول ہوتی ہے ایسے موقع پر گویااس نے کوئی بات ہی نہیں کی . بنا بریں ” انہیں عذر خواہی کی اجازت نہیں دی جائے “ والاجملہ بھی اسی بات کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے کہ ان کی معذرت طلبی بے سود ہوگی ۔۔ پھرقرآن مجید انبیاء کی امداد اورحمایت الہٰی کے زیر سایہ ان کی دشمنوں پر کامیابی کاایک نمونہ پیش کرتے ہوئے کہتاہے : ہم نے موسٰی کوہدایت عطاکی اوربنی اسرائیل کوآسمانی کتاب (تورت ) کا وارث بنایا (وَ لَقَدْ آتَیْنا مُوسَی الْہُدی وَ اٴَوْرَثْنا بَنی إِسْرائیلَ الْکِتاب)۔ جوہدایت خداوند عالم نے جناب موسٰی علیہ السلام کو فرمائی اس کے وسیع معانی ہیں جس میں مقام نبوت اوروحی بھی شامل ہے اور تو رات جیسی آسمانی کتاب بھی . نیز وہ ہدایت بھی اس میںشامل ہے جوانجام فرائض کے لےے انہیں عطا ہوئی اوروہ معجزات بھی جوان کے اختیار میں تھے ۔ ” تو رات “ کے بار ے میں میراث کی تعبیر اس لیے ہے کہ یہ کتاب بنی اسرائیل کی نسلہا نسل میں چلی آتی رہی اگروہ چاہتے تو بغیر کوئی تکلیف اٹھائے اس سے فائدہ اٹھا سکتے تھے . جیسا کہ عام دوسری میراث سے کسی قسم کی زحمت کے بغیر فائدہ اٹھایاجاتا ہے . لیکن انہوں نے اللہ کی اس عظیم نعمت کوضائع کردیا ۔ بعدکی آیت میں فرمایاگیاہے : یہ آسمانی کتاب صاحبان عقل کے لیے ہدایت اور اد آوری کاسبب تھی (ہُدیً وَ ذِکْری لِاٴُولِی الْاٴَلْباب) (۲)۔ ” ہدایت“ اور ”ذکرٰی “ کافرق یہ ہے کہ ”ہدایت “ کام کے اوائل میں ہوتی ہے اور” تذکر “ ان مسائل کے سلسلے میں یاد آوری کے طور پر استعمال ہوتا ہے جنہیں پہلے انسانے سن رکھا ہو ا اوراس پر ایمان بھی لے آیاہولیکن اس وقت انہیں فراموش کرچکاہو ۔ دوسرے لفظوں میں آسمانی کتابیں ہدایت کی آغاز کنند ہ بھی ہیں اوراسے جاری رکھنے والی بھی ۔ لیکن ہدایت کے دونوں مراحل میںخواہ وہ اوائل کار میں ہوخواہ پہلے سے جاری ہو فائد ہ صرف ” او لوالالباب “ یعنی صاحبان فکر و عقل ہی اٹھا سکتے ہیں نہ کہ عقل وخرد سے عاری ، ہٹ دھرم ، متعصب اور آنکھوں اورکانوں سے کام نہ لینے والے ۔ اسی سلسلے کی آخری آیت میں تین اہم احکام پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ناصر جاری فرمائے گئے ہیں جو درحقیقت عمومی اور ہرایک کے لیے ہیں اگر چہ ان کے لیے خطاب صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کو کیاگیاہے ۔ سب سے پہلے فرمایاگیاہے : صبر اختیار کر کیونکہ خداکاوعدہ بالکل سچّا (فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّہِ حَقٌّ)۔ دشمنوں کے عناد وہٹ دھرمی کے مقابلے میںصبر کر ۔ کچھ نا دان دوستوں کی نادانی ، سستی ، سہل انگاری اور دل آزاری کے مقابلے میںصبر کر۔ خواہشات نفسانی اور سرکش ہوس اور غیظ وغضب کے موقع پرصبر ۔ خلاصہ تمام مراحل میں آپ کی کامیابی کا راز صرف اورصرف صبرو استقامت میں ہے ۔ جان لے کہ خدانے تیری اور تیری امت کی فتح و کامرانی کے بار ے میں جووعدے کے ہیں وہ یقینا پورا ہوکر رہیں گے او ر وعدہ ٴ الہٰی کی حقانیت پرایمان ہی تجھے اپنامشن جاری رکھنے اوراپنے مشن میں سر گرم عمل رکھنے کے لیے استقامت عطا کررہاہے ، اورہر قسم کی سخت مشکلات کے تحمل کوتجھ پر اور تیری امت کے لیے آسان بنا رہا ہے ۔ قرآن مجید میں بار ہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوصبر کاحکم دیاگیاہے . کبھی تومطلق صورت میں جیساکہ زیرنظر آیت میں ہم پڑھ رہے ہیں اور بعض دوسری آیات میں اور کبھی مخصوص صورت میں مذکور ہواہے جیسے سورہ ٴ ق کی ۳۹ ویں آیت میں ہے ۔ فاصبر علیٰ مایقو لون ایک اور مقام پر فرماتاہے ۔ ” اپنے ان دوستوں کے ساتھ صبر کر جو (بظاہر غریب ہیں لیکن ) ہرصبح وشام اپنے پر ور دگار کو پکارتے اور اس کی عبادت کرتے ہیں .اوران سے جدائی اختیار نہ کر“ ( کہف . ۲۸) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآل وسلم اورصدراسلام کے مومنین کو جو کا میابیاں بھی نصیب ہوئی ہیںوہ اسی صبر واستقامت کانتیجہ تھیں ، آج بھی کثیر تعداد میں دشمنوں او ر لاتعداد مشکلات میں کامیابی اس کے بغیر ناممکن ہے ۔ دوسری حکم میں فرمایاگاہے : اوراپنے گناہوں پر استغفار کر (وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ)۔ یہ یقینی بات ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم معصوم ہو نے کی بناء پر کسی گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے لیکن جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ قرآن مجید میںاس قسم کی تعبیر یں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر انبیاء کے بار ے میں ان کے لیے بیان ہوئی ہیں جو کسی نسبت کی وجہ سے ہیں . کیونکہ کچھ ایسے کام ہوتے ہیں ، جو عام انسانوں کے لیے تو عبادت اورنیکی شمار ہوتے ہیں لیکن انبیاء کے نزدیک گناہ کہلاتے ہیں ، کیونکہ (حسنات الابر ار سیئات المقربین )۔ ایک لحظے کی غفلت بلکہ ایک اولیٰ چیز کاترک بھی ان کے لیے مناسب نہیں ہوتا اوران کے عالی مرتبے اور بلند معرفت کی وجہ سے انہیں ایسی باتوں سے منزہ ومبراہوناچا ہیے اوراگرکبھی ان سے سرزد ہوجائیں تو وہ ان پراستغفار کرتے ہیں ۔ لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس سے مراد امت کے گناہوں پراستغفار ہے یاایسے گناہوں پرجولوگوں نے پیغمبر صلی الہ علیہ وآلہ وسلم کے بار ے میں انجام دیئے ہیں . یایہاں پر استغفار ، استغفار تعبدی ہے ، یہ احتمال بعید نظرآتاہے .اس سلسلے کے آخری حکم میں فرمایا گیا ہے : اے رب کی تسبیح اورحمد پر عصر اورصبح بجالائیے (وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ بِالْعَشِیِّ وَ الْإِبْکارِ)۔ ” عشی “ کامعنی زوال آفتاب سے غررب آفتاب تک کا درمیانی وقت ہے اور” ابکار “ طلوع فجرسے طلوع آفتاب کے درمیانی وقت کو کہتے ہیں ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ” عشی “ اور ” عصر اورصبح کے ان دومخصوص اوقات کی طرف اشارہ ہو کہ جن میںانسان اللہ تعالیٰ کی حمد اورتسبیح کی آماد گی رکھتاہے . کیونکہ یاتواپنے دنیاوی دھندوں اورکاموں میں مصرو ف نہیں ہوا ہوتا اور یاپھر انہیں ختم کرچکاہوتاہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ رات اور دن کے تمام اوقات میںحمد وتسبیح کے ددام کے معنی میں ہو اوراس تعبیر کو ہم اس مثال سے یوں واضح کرتے ہیں کہ ” اس کاصبح و شام دھیان رکھو “ یعنی ہمیشہ دھیان رکھو ۔ بعض مفسرین نے اس حمد و تسبیح سے صبح اور عصر کی نمازوں کی طرف یاپھر پنجگانہ نمازوں کی طرف اشارہ سمجھاہے ، جبکہ آیت کامفہوم اس سے بھی وسیع تر ہے اور نماز یں فقط اس کاایک مصداق بن سکتی ہیں ۔ بہرحال یہ تینوں اوامر خود سازی کے جامع ترین اصول اورخدا کے لطف و کرم کے سائے میں بہت بڑی کامیابی کیلئے آمادہ ہونے کاسبب ہیں اوربڑے بڑے مقاصد تک رسائی کے لیے زادرا ہ ہیں ۔ سب سے پہلے مشکلات اور رکاوٹوں کے مقابلے میں صبر وتحمل کامظاہرہ ، پھرگناہ اور ہرقسم کی آلود گی سے دل کوپاک اور صاف کرنا اور پھر اسے یاد الہٰی کے ساتھ آراستہ کرنا اور وہ آرائش بھی حمد وتسبیح پرور دگار کے ساتھ ، جس کامعنی خداکوہر قسم کے عیب ونقص سے منزہ اور مبرا سمجھنا اوراس کے حسن وکمال پراس کی ستائش اور تعریف کرنا ہے ۔ حمد وتسبیح اگر چہ ہوتی تو خالق کے لیے ہے لیکن اس کا پرتو مخلوق پر بھی پڑتاہے اوراسے بھی عیوب سے پاک اورصفات کمال سے آراستہ کرتی ہے ۔ ۱۔تفسیر فی ظلال القرآن جلد ۷ ،ص ۱۸۹ ۔ ۲۔ ” ھدی وذکرٰی “ ممکن ہے کہ ” مفعول لہ “ ہواور یہ بھی ممکن ہے کہ ” مصدر “ بمعنی ” حال “ کے ہو یعنی ” ھادیاو مذ کراً لاولی الالباب “ کچھ اور لوگوں نے اور بھی احتمالات کاذکر کیاہے جیسے ” بدل “ یامبتداء محذوفکی خبر و غیرہ لیکن وہ احتمالات مناسب معلوم نہیں ہوتے ۔
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 40:51-60
Clear.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 40:55
[Pooya/Ali Commentary 40:55] Refer to Nisa: 106. By isolating wastaghfir lidhambika from its context the preconceived antagonism of the Christian commentators led them to believe that the Holy Prophet was not free from sinning; so a sinner cannot purify other sinners. The word ghafar means to cover or protect, so istighfar means seeking protection. Zanb means an act of inadvertence or an unintentional shortcoming which is quite different from ithm (peculiarly intentional sin). Wastaghfir lidhambika actually means "seek protection (of your Lord) against (any natural or unintentional) shortcoming". Protection is sought before any untoward or undesireable event takes place, not after a calamity afflicts. When a sin is committed forgiveness and pardon is sought, not protection. The Holy Prophet and his Ahl ul Bayt were thoroughly purified by Allah (Ahzab: 33). In Maryam: 51 Allah says that Musa was freed from all impurities. The status of the Holy Prophet is much higher than Musa and all other prophets. See commentary of Ali Imran: 81; Baqarah: 253, 285 and Bani Israil: 1. According to Hijr: 39; Araf : 16 and 17 and Ibrahim: 22, it is Shaytan who allures man unto sin, and Nahl: 99 and Hijr: 40 say that he has no authority over the purified servants of Allah. So all the prophets of Allah are infallible. They always sought the protection of their Lord against the efforts of Shaytan. As verse 27 of Anbiya says: "They speak not before He speaks; and they always act by His command." Every prophet of Allah had a natural inclination to seek goodness from Allah for his followers. He felt that their welfare was his responsibility. He treated their happiness or salvation as his own. So he always sought pardon and forgiveness for his people as he would do for his own self, and therefore he was addressed in person at many places in the Quran instead of his followers; and commandments intended for the people were addressed to the prophet. For example in Araf: 150 and 151, although the people had worshipped the calf, Musa prays to seek protection for himself and his brother Harun, using the same words: Rabbigh-firli wa li-akhi (O Lord grant protection to me and my brother). In Baqarah: 286, man has been taught to pray: "wa-fu anna waghfirlana warhamna (our Lord, pardon us, and grant us protection, and have mercy on us)." For pardon afu, and for protection against sinning in future ighfir have been used. In verse 25 of Bani Israil ghafar (protection) is promised for those who do deeds of righteousness, not for those who do evil, so protection becomes reward. In verse 7 of this surah the angels who bear the arsh seek protection (yastaghfiruna) for the believers, otherwise to seek pardon for those who believe in Allah, do good and follow His religion becomes meaningless. In verse 8 of Tahrim first the believers will be purified and freed from all traces of evil, then they will be admitted into the paradise where they shall pray: "O Lord, perfect for us our light and grant us protection." If instead of protection, pardon is used, then it carries no meaning. Baqarah: 129, 151 ; Ali Imran: 164; Bara-at: 103 and Jumu-ah: 2 clearly make known that it is the Holy Prophet who was sent by Allah with a prerogative to purify mankind. The Quran proclaims the infallibility of Isa, but Jesus of the Bible is presented as a timid, frightened and despondent individual. "Jesus cried aloud: "Eli, Eli, lema sabachthani?" which means, 'My God, my God, why has Thou forsaken me?' " (Matthew 27 : 46). "He went on a little, fell on his face in prayer, and said, 'My father, if it is possible, let this cup pass me by. Yet not as I will, but as Thou wills.'" (Matthew 26: 39) When the God of Christian church has forsaken His own begotten son without any reason, for no fault has been ascribed to him in the Bible, then He will definitely forsake the common sinners. A forsaken son of God will never be able to save the sinners from divine punishment; and when he himself did not surrender to the will of God, he could not ask others to submit to the will of God. The true interpretation of this verse is seeking protection of Allah against any possible act of inadvertence in future for his faithful followers, not for himself. As stated in Ali Imran: 41, evening and morning are the best time for celebrating the praises and glory of Allah. Aqa Mahdi Puya says: All finite beings have the inherent shortcoming of not owning anything of their own. A dark object receives light from an illuminating source, but the light it receives never becomes its property. It is there so far the source is directed towards it; and as soon as its direction is changed the inherent darkness reappears. Whatever excellence a created being owns is a gift from Allah. No finite being has an existence of its own. Any degree of existence it has is a gift bestowed on it by the eternal source of existence and the moment it is withdrawn the existence of the finite being ceases to be. Among the finite beings, man is distinguished from other finite beings by the ability to receive more and more gifts of excellences from the infinite providence to cover inherent shortcomings. To obtain it he has to pray for it. This prayer is called istighfar (to seek a cover). There is no one among the finite beings who is exempt from istighfar. To receive more and more, continuous istighfar is necessary. Ordinary men are often unmindful of their shortcomings. The men of God are constantly alive to the danger of falling into the trap of shortcomings, so they make use of continuous istighfar. It is a virtue which all prophets of Allah proudly owned. It is also a way of life of the prophets to set an example to their followers. The Holy Prophet as the foremost guide in the order of devotion, submission and worship seeks protection against any remotest possibility of even an unintentional act of inadvertence and includes his faithful followers in his prayer. He is witness over witnesses. Refer to Bani Israil: 1 for the prayer of all the prophets behind the Holy Prophet. On the day of judgement every person will be worried for his own salvation but the Holy Prophet will represent the whole mankind for their salvation before Allah. Therefore his istighfar is not only for himself but for all the believers. See Muhammad: 19 and Fath : 2. Zanb, in connection with the Holy Prophet or any other prophet, does not mean sin.