وَيَا قَوْمِ مَا لِي أَدْعُوكُمْ إِلَى النَّجَاةِ وَتَدْعُونَنِي إِلَى النَّارِ
O my people! [Think,] what makes me invite you to deliverance, while you invite me toward the Fire?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 40:41
[Pooya/Ali Commentary 40:41] (see commentary for verse 23)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:41-46
سوره مؤمن/ آیه 41- 46
۴۱۔وَ یا قَوْمِ ما لی اٴَدْعُوکُمْ إِلَی النَّجاةِ وَ تَدْعُونَنی إِلَی النَّارِ ۔ ۴۲۔ تَدْعُونَنی لِاٴَکْفُرَ بِاللَّہِ وَ اٴُشْرِکَ بِہِ ما لَیْسَ لی بِہِ عِلْمٌ وَ اٴَنَا اٴَدْعُوکُمْ إِلَی الْعَزیزِ الْغَفَّارِ ۔ ۴۳۔ لا جَرَمَ اٴَنَّما تَدْعُونَنی إِلَیْہِ لَیْسَ لَہُ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیا وَ لا فِی الْآخِرَةِ وَ اٴَنَّ مَرَدَّنا إِلَی اللَّہِ وَ اٴَنَّ الْمُسْرِفینَ ہُمْ اٴَصْحابُ النَّارِ ۴۴۔ فَسَتَذْکُرُونَ ما اٴَقُولُ لَکُمْ وَ اٴُفَوِّضُ اٴَمْری إِلَی اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ بَصیرٌ بِالْعِبادِ ۴۵۔ فَوَقاہُ اللَّہُ سَیِّئاتِ ما مَکَرُوا وَ حاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوء ُ الْعَذابِ ۴۶۔ النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْہا غُدُوًّا وَ عَشِیًّا وَ یَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ اٴَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اٴَشَدَّ الْعَذاب تر جمہ ۴۱۔ اے میر ی قوم ! کیاوجہ ہے کہ میں تمہیں نجات کی طرف دعوت دیتاہوں لیکن تم مجھے آگ کی طرف بلاتے ہو ؟ ۴۲۔ تم مجھے دعوت دیتے ہو کہ میں خدا ئے واحد کامنکر ہوجاؤں اورجس کامجھے علم نہیں اسے میں اس کاشریک ٹھہراؤں. حلانکہ میں تو تمہیں خداوند عزیز کی طرف بلاتاہوں ۔ ۴۳۔ جس کی طرف تم مجھے بلاتے ہواس کی دنیا اورآخرت میں قطعاًکوئی دعوت ( اورحکومت ) نہیں اور قیامت کے دن ہم سب کی باز گشت صرف اورصرف خداکی طرف ہوگی اورمسرف لوگ تو ہیں ہی جہنمی ۔ ۴۴۔ جومیں کہہ رہاہوں بہت جلد تم اسے سمجھ لوگے میں اپنا سارا کام خدا کے سپرد کرتاہوں وہ اپنے بندوں کے بار ے میں اچھی طرح سمجھتاہے ۔ ۴۵۔ خدا نے اسے ان لوگوں کی بُری چالوں سے بچالیااور آل ِ فرعون پرسخت عذاب نازل کیا ۔ ۴۶۔ان کاعذاب ،آگ ہے کہ ہرصبح شام جس کے پاس وہ پیش کئے جاتے ہیں اور جس دن قیامت قائم ہوگی تو حکم ملے گاکہ آل فرعون کوسخت ترین عذاب میں بھیج دو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:41-46
آخری بات
پانچویں اور آخری مرحلے پرموٴمن آل فرعون نے تمام حجاب الٹ دیئے اوراس سے زیادہ اپنے ایمان کونہ چھپا سکا . وہ جوکچھ کہنا چاہتاتھا کہ چکااور فرعون والوں نے بھی ... جیسا کہ آگے چل کرمعلوم ہوگااس کے بار ے میں بڑا خطر ناک فیصلہ کیا ۔ قرآئن بتاتے ہیں کہ اس خود غرض ، معز ور اور ضدی مزا ج قوم نے اس بہا در اورایمان شخص کی باتوں کوسُن کرخاموشی اختیار نہیں کرلی بلکہ اس کے برعکس شرک کے فوائد بیان کئے اوراسے بُت پرستی کی دعوت دی ۔ اسی لیے تو اس نے پکار کرکہا : اے قوم ! آخر کیاوجہ ہے کہ میں تو تمہیں نجات کی طرف دعوت دوں اور تم مجھے آگ کی طرف بلا ؤ (وَ یا قَوْمِ ما لی اٴَدْعُوکُمْ إِلَی النَّجاةِ وَ تَدْعُونَنی إِلَی النَّار)۔ میں تمہاری سعادت کاطالب ہوں اور تم میرے بدبختی کے خوا ہاں ، میں تمہیں شاہراہ ہدایت پر لانا چاہتاہوں اور تم مجھے صحیح راہ سے ہٹانا چاہتے ہو ۔ توکیا ” تم مجھے د عوت دہتے ہو کہ خدا ئے واحد کاکافر ہوجاؤ ں اوراس کے لیے وہ شریک قرار دوں جس کامجھے علم تک نہیں ہے حالانکہ میںتمہیں خداوند عزیز و غفار کی طرف دعو ت دیتاہوں (تَدْعُونَنی لِاٴَکْفُرَ بِاللَّہِ وَ اٴُشْرِکَ بِہِ ما لَیْسَ لی بِہِ عِلْمٌ وَ اٴَنَا اٴَدْعُوکُمْ إِلَی الْعَزیزِ الْغَفَّار)۔ قرآن پاک کی مختلف آیات اورمصر کی تاریخ سے بخوبی معلوم ہوتاہے کہ مصری عوام فراعنہٴ مصرکی پرستش کے علاوہ بتوں کی پوجا پاٹ بھی کیاکرتے تھے . جیساکہ سورہٴ اعراف کی آیت ۱۲۷ میں ہے کہ فرعون کے حواریوں نے اسے کہا : اٴَ تَذَرُ مُوسی وَ قَوْمَہُ لِیُفْسِدُوا فِی الْاٴَرْضِ وَ یَذَرَکَ وَ آلِہَتَک ّآیاتو اس بات کی کھلی چھٹی دے سکتاہے کہ موسٰی اوراس کی قوم زمین میں فساد بر پاکریں اور تجھے اور تیرے خداؤں کو ترک کردیں ؟ حضر ت یوسف علیہ السلام نے بھی فرعون مصر کے زندان میںاپنے قیدی ساتھیوں سے کہاتھا :اٴَرْبابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَیْرٌ اٴَمِ اللَّہُ الْواحِدُ الْقَہَّار آیا مختلف معبود بہتر ہیں یا ایک عذاب قہار خدا ؟(یوسف . ۳۹) بہر حال موٴ من آل فرعون نے ایک مختصر اور سرسری سے تقابل سے انہیں اس بات کی یاددہانی کروادی کہ تمہاری دعوت شرک کی طرف ہے اور یہ ایسی چیز ہے کہ جس کی کم ازکم کوئی دلیل نہیں ملتی.یہ ایک تاریک اورخطر ناک راستہ ہے لیکن میںایک واضح اور روشن راستے کی طرف بلاتاہوں ایساراستہ جوتمہیں خداوند عزیز وتوانا اورغفارتک پہنچاتاہے ۔ ” عزیز “ اوعر” غفار“ کی تعبیر جہاں ایک طرف خوف اورا مید کے عظیم مبداٴ کی طرف اشارہ ہے وہاں دوسری طرف بتو ں اورفرعونوں کی الوہیت کی نفی کی طرف بھی اشارہ ہے جن میں نہ تو عزت کی بوپائی جاتی ہے اور نہ ہی عفوود رگزشت کی ۔ مزید کہتاہے : اور جن چیزوں کی طرف تم مجھے بلاتے ہو ان کی یقینا نہ تو دنیا میں کوئی دعوت ہے اور نہ ہی آخرت میں ( ان کی حکومت ہوگی ) (لا جَرَمَ اٴَنَّما تَدْعُونَنی إِلَیْہِ لَیْسَ لَہُ دَعْوَةٌ فِی الدُّنْیا وَ لا فِی الْآخِرَةِ )۔ حس وشعور سے خالی یہ چیزیں نہ توپہلے کبھی کسی حرکت کامبداٴ رہی ہیں اور نہ ہی کبھی بعد میں ہوں گی یہ بت نہ تو بول سکتے ہیں ، نہ ان کے رسول ہیں اور نہ ان کے پاس عدالت کاکوئی محکمہ ہے المختصر نہ توکسی کی مشکل دور کرسکتے ہیں اورنہ ہی کسی کو مشکل میںڈال سکتے ہیں ۔ اسی لیے تمہیں اچھی طرح سے جان لیناچاہیے کہ ” بر وزقیامت ہماری باز گشت صرف اورصرف خداہی کی طرف ہوگی “(وَ اٴَنَّ مَرَدَّنا إِلَی اللَّہِ ) ۔ اسی نے تو انسان کی ہدایت کے لیے اپنے رسول بھیجے ہیں اور وہی ہے جوانسانوں کو ان کے اعمال کی وجہ سے جزااور سز اد ے گا ۔ اور یہ بات بھی تمہیں جان لینی چاہیے کہ ” اسراف کرنے والے اورحد سے بڑھ جانے والے جہنمی ہیں “ (وَ اٴَنَّ الْمُسْرِفینَ ہُمْ اٴَصْحابُ النَّارِ)۔ آخر کار اس مرحلے پرمومن آل فرعون نے اپنے ایمان کو آشکار کرہی دیا اوراپنے توحید پرستی کے رستے کو اس قوم کے شرک آلودرستے سے جدا کر لیااس استد لال کے ساتھ اس قوم کو اپنے سے جھٹک دیااور اپنی مدلل گفتگو کے بل بوتے پر ان سب کا تنہا ڈٹ کرمقابلہ کیا ۔ اپنی آخری گفتگو میں بڑی معنی خیز دھمکی کے ساتھ کہا : جلد تمہیں اس چیز کاپتہچل جائے گا جس کے متعلق میں آج کہہ رہاہوں ، جب غیظ وغضب الہٰی کی آگ تمہیں اس جہان میں آلے گی پھر تم میری باتوں کی تصدیق کروگے (فَسَتَذْکُرُونَ ما اٴَقُولُ لَکُم )۔ لیکن افسوس کہ اس وقت بہت دیرہوچکی ہوگی ، اگر یہ عذاب ِ آخرت میں ہوتو اس وقت واپسی کے تمام دروازے بندہو چکے ہوں گے اور اگر دنیا میں ہو تو توبہ کے تمام درواز ے بند ہوچکے ہوں گے ۔ پھر اس نے کہا : اور میں اپنے تمام کام خدا وند یکتا کے سپر د کرتا ہوں جو اپنے بندوں کے حالات سے اچھی طرح آگاہ ہے (وَ اٴُفَوِّضُ اٴَمْری إِلَی اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ بَصیرٌ بِالْعِبادِ )۔ اسی لیے نہ تومیں تمہاری دھمکیوں سے ڈرتاہوں نہ مجھے تمہاری کثرت اور طاقت کاخوف ہے اور نہ ہی میری تنہائی مجھے وحشت میں ڈال سکتی ہے کیونکہ میں نے اپنے سارے وجود کو اس قادر مطلق کے سپر د کردیاہے جو بے انتہا قدرت کامالک اور اپنے بندوں کے حالات سے بخوبی آگاہ ہے ۔ یہ جملہ درحقیقت اس مرد مومن کی ایک مئود بانہ دعا ہے کیونکہ وہ اس وقت ایسے طاقتور دشمن کے ہاتھو ں میں پھنسا ہوا تھا جو بے رحم خو نخوار تھا .اس کی با ر گاہ رب العزت میں ایک مئودبانہ درخواست تھی کہ وہ ان مشکل حالات میں اس کی مدد فرمائے ۔ خدا وند عالم نے بھی اپنے اس مومن اور مجاہد بندے کو تنہا نہیں چھوڑا جیساکہ بعد کی آیت میں ہے : خدا نے بھی اسے ان کی ناپاک چالوں اور سازشوں سے بچالیا (فَوَقاہُ اللَّہُ سَیِّئاتِ ما مَکَرُوا)۔ ” سَیِّئاتِ ما مَکَرُوا“ کی تعبیر سے واضح ہوتاہے کہ فرعونیوں نے اس کے بار ے میں مختلف سازشیں اور منصوبے تیار کر رکھے تھے او ر وہ منصوبے کیاتھے؟ قرآن نے اس کی تفصیل بیان نہیں کی ظاہر ہے کہ مختلف قسم کی سزا ئیں، اذ یتیں اور آخر کار قتل اور سزائے موت ہی ہو سکتی ہے لیکن خداوندعالم کے لطف وکرم نے ان سب کو ناکام بنادیا ۔ چنانچہ بعض تفسیروں میں ہے کہ وہ ایک مناسب موقع سے فائد اٹھا تے ہوئے موسٰی علیہ السلام تک پہنچ گیااور اس نے بنی اسرائیل کے ہمراہ دریائے نیل کو عبور کیا . نیز یہ بھی کہاگیاہے کہ جب اس کے قتل کامنصوبہ بن چکا تو اس نے اپنے آپ کو ایک پہاڑمیں چھپالیا اور نگاہوں سے اوجھل ہوگیا ( 1)۔ یہ دونوں روایات آپس میں مختلف نہیں ہیں کیونکہ ممکن ہے کہ پہلے وہ شہر س مخفی ہوگیا ہو اور پھر بنی اسرائیل سے جا ملاہو ۔ ہو سکتاہے ان سازشوں میں بت پرستی کے مسلّط کرنے اور راہ توحید سے منحرف کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہو ، چنانچہ خداوند عالم نے اسے اس منصوبے سے بھی بچا لیااور اسے ایمان ، توحید اور تقویٰ کی راہ پر ثابت قدم رکھا ۔ اس نے ” آ ل فرعون پر سخت عذاب نازل کیا‘ ‘ (وَ حاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوء ُ الْعَذاب) ( 2)۔ ویسے خداکی تمام سزائیں اورعذاب درد ناک ہی ہیں لیکن ” سو ء العذاب “ کی تعبیر سے واضح ہوتاہے کہ خداوند عالم نے ان لوگوں کے لیے سب سے زیادہ درد ناک عذاب کاانتخاب کیااور یہ وہی عذاب ہے جس کی طرف بعدکی آیت میں اشارہ کیاگیاہے ۔ ویسے خداکی تما سز ائیں اورعذاب درد ناک ہی ہیں لیکن ” سوء العذاب “ کی تعبیر سے واضح ہوتاہے کہ خداوند عالم نے ان لوگوں کے لیے سب سے زیادہ درد ناک عذاب کاانتخاب کیااور یہ وہی عذاب ہے جس کی طرف بعد کی آیت میں اشار ہ کیاگیاہے ۔ فر مایاگیا ہے : ان کے لیے درد ناک عذاب وہی آگ ہے جس پروہ صبح وشام پیش کئے جاتے ہیں (النَّارُ یُعْرَضُونَ عَلَیْہا غُدُوًّا وَ عَشِیًّا) (3 )۔ اورجس دن قیامت برپاہو گی توحکم دیاجائے گا کہ آل فر عون کی سخت ترین عذاب میں داخل کردو (وَ یَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ اٴَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ اٴَشَدَّ الْعَذابِ )۔ اس آیت میں چند باتیں قابل غور ہیں ۔ اوّل یہ کہ یہاں پر فرعون کے بجائے آل فرعون کاتذکرہ ہے جوفرعون کے گمراہ خاندان ،حواریوں اورساتھیوں کی طرف اشارہ ہے اور یہ اس بات کا غماز ہے کہ جب ان لوگوں کا یہ انجام ہوگاتوخود فرعون کاانجام واضح ہے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ انہیں صبح وشام آگ پرپیش کیاجاتاہے لیکن بروز قیا ت وہ سخت عذاب میں داخل ہوں گے اس سے یہ با ت بخوبی واضح ہوتی ہے کہ ان کا پہلا عذاب ” برزخی عذاب “ ہے جو اس دنیا کے بعد اورقیامت سے پہلے تک کے درمیانی عرصے کاعذاب ہے اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ انہیں صبح و شام دوزخ کی آگ کے سامنے لاکر اس کے نزدک کردیاجاتا ہے جس سے جان بھی لرز جاتی ہے اورجسم پر بھی اس کازبردست اثر ہوتاہے ۔ تیسری بات یہ ہے کہ ” غدو “ اور ” عشی “ (صبح و شام ) کی تعبیر یاتو اس عذاب کے دائمی ہونے پر دلالت کررہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص صبح وشام ہمارا وقت ضائع کرتاہے یعنی ہمیشہ اورہر وقت . یاپھر اس کے صبح وشام دووقت ہونے کی طرف اشارہ ہے جو فرعونوں کے اظہار قدرت اوعیش ونوش کے وقت ہواکرتے تھے ۔ ” غدو “ ور ” عشی “ (صبح و شام ) کی تعبیرپر تعجب نہیں کرناچاہیے کہ آیاعالم برزخ میں بھی یہ چیز ہوگی کیوکہ آیات قرآنی سے یہ بات اچھی طرح واضح ہوتی ہے کہ آخرت میں بھی صبح وشام ہوں گے جیسا کہ سورہ ٴ مریم کی آیت ۶۲ میں ہے ۔ ولھم ر زقھم فیھابکرة وعشیًّا ” ان بہشتی لوگوں کے لیے صبح وشام مخصوص رزق ہے “ ۔ اور یہ تعبیر بہشتی نعمتوں کے دائمی ہونے کے منافی نہیں ہے . جیساکہ سورہ رعد کی آیت۳۵ میں ہے : اکلھا دائم وظلّھا ” وہاں کی غذ ااور سایہ دائمی ہوں گے “ ۔ کیونکہ ممکن ہے کہ جہاں روزی کی یہ نعمتیں دائمی ہوں گی وہاں ان دو وقتوں میںخدا کے مخصوص لطف وکرم اہل بہشت کونصیب ہوں گی ۔ 1۔ تفسیر ” مجمع البیان “ اسی آیت کے ذیل میں ۔ 2۔ ” حاق “ کامعنی ہے ’ ’ پہنچ گیا “ ” نازل ہوگیا “ لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ اس کی اصل ” حق “ ہو ایک قاف کو الف میں تبدیل کرکے ” حاق “ بنادیاگیا ہو . ( دیکھئے مفردات راغب ، مادہ ”حق “ اور ” سوء العذاب “ صفت کی موصوف کی طرف اضافت ہے جواصل میں ” العذاب السوء “ تھا ۔ 3۔” النار “ سوء العذاب “ کا بدل ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:41-46
۱۔ مومن آل فرعون کی داستان ایک درس ہے
خدا کے دین اورآسمانی مذاہب جوطاغوتوں اور جبار وں کے ساتھ مقابلے کاحکم دیتے ہیں شروع شروع میں یہ مذاہب مٹھی بھر افراد کے ذ ریعے پیش کئے گئے . اگروہ لوگ اپنے افراد کی قلت اورمخالفین کی کثرت کوان کی حقانیت کی دلیل سمجھتے تو یہ مذاہب ہرگز کامیاب نہ ہوتی ۔ اورایسے لائحہ عمل میں حکم فرما بنیادی اصول وہی ہے جسے امیر المو منین علی بن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے فرمان حقیقت ترجمان میں یوں ارشاد فرمایا ہے : ایھا الناس لا تستو حشوافی طریق الھدٰی لقلة اھلہ ” الے لوگوں ! راہ حق میں افرادی قلب سے ہرگز نہ گھبراؤ “ ( 1)۔ مومن آل فرعون اس مکتب کاایک نمونہ اوراس راہ کے ایک راہی تھے . انہوں نے اپنے طرز عمل سے بتادیا کہ ا یک باعزم انسان اپنے ایمان بھرے راسخ عقید ے اور ارادے کے ساتھ جابر فرعونوں کے ارادوں تک متز لزل کرکے اللہ کے عظیم پیغمبر کوبہت بڑے خطرے سے نجات دلا سکتا ہے ۔ اس شیردل اور زیرانسان کی تاریخ زندگی بتاتی ہے کہ حق کے طرفداروں کاہر ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھنا چاہیئے .اگر ضرورت ہوتو ایمان کااظہار کرکے اپنی آواز کودُور دُور تک پہنچاجا چاہیئے اوراگر حالات اس امر کے متقاضی نہ ہوں تو قلیل المیعاد اور طویل المیعاد مقاصد کے پیش نظراپنے ایمان کوچھپا لیناچاہیئے ۔ اور تقیہ بھی اسی چیز کانام ہے کہ انسان اپنے نیک اورمقدس مقاصد کے لیے ایک خاص مد تک اپنے عقائد کااظہار نہ کرے ۔ جس طرح دشمن کی سرکوبی کے لیے ظاہر ی اسلحے سے لیس ہوناضرور ی ہے اسی طرح منطقی اسلحے سے مسلح ہونا بھی ایک ناگزیر امر ہے کیونکہ اس کااثر ظاہری اسلحے سے کئی گنابہتر ہے . لہذا جو کام مومن آل فرعون نے اپنے منطقی دلائل کے اسلحے سے انجام دیا، ان خاص حالات میں کوئی اسلحے انجام نہیں دے سکتاتھا ۔ بہرحال مومن آل فرعون کے واقعے سے ظاہر ہوتاہے کہ خدا وند عالم اس جیسے مومن افراد کوکبھی تنہانہیں چھوڑ تا اور اگر وہ خطرات میں گھر جائیں توا نہیں اپنے لطف وکرم کی پناہ میں لے لیتاہے ۔ یہاں پر اس نکتے کی وضاحت بھی ضرور ی معلوم ہوتی ہے کہ بعض روایات کے مطابق مومن آل فرعون کوشہید کردیاگیا . جب کہ قرآن مجیدکرتا ہے کہ خدانے اسے فر عونیوں کی غلط چالوں سے بچا لیاتواس سے مراد ہے کہ خدا وند ذو الجلال نے اسے اپنے عقیدے سے منحرف ہو کر کفر وشرک اختیار کرنے سے بچا لیا ( 2)۔ انہوں نے اس پر حملہ کرکے اسے قتل کردیالیکن تمہیں معلوم ہے کہ اللہ نے کس لحاظ سے اس کی حفاظت کی وہ یہ کہ دین کے بار ے میں اسے گمراہی اورفتنے سے بچالیا . تفسیر نور الثقلین جلد ۴ ،ص ۵۲۱)۔ 1۔ نہج الباغہ خطبہ ۲۰۱ ۔ 2۔ کاب ” محاسن برقی “ میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام پوچھا گیاکہ ” فوتاہ اللہ سیّئات مامکروا “ کی کیاتفسیر ہے ؟ توآ پ علیہ السلام نے فرمایا : اما لقدسطو ا علیہ وقتلوہ ولکن اتد رون ماوقاہ ؟ و قاہ ان یفتنوہ فی دینہ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:41-46
۲۔مسئلہ تفویض
اپنے کاموں کوخدا کے سپر د کرکے اس کی ذات پر توکل کرلینے کانام ” تفویض “ ہے اور اس کی اہمیّت کے بار ے میں امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کایہ فر مان کافی ہے : الایمان لہ اربعة ارکان ، التوکل علی اللہ ،وتفویض الامر الی اللہ عذو جل والر ضا ء بقضاء اللہ ، والتسلیم لامراللہ ’ ’ ایمان کے چارار کان ہیں خداکی ذات پر توکل ، اپنے تمام کام اس کے سپر د کردینا .اس کی قضا پرراضی ہو جانا اوراس کے فرمان پر سرتسلیم خم کردینا “ ( 1)۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : المفوض امرہ الی اللہ فی راحة الابد ، و العیش الدائم الر غد والمفوض حقا ً ھو العالی عن کل ھمة دون اللہ جوشخص اپنے امور کو خداکے سپرد کردیتاہے وہ راحت ابدی اورہمیشہ کی با برکت زندگی پالیتا ہے اور جوشخص اپنے کاموں کوصحیح معنوں میں خدا کے سپرد کردیتاہے وہ اس (خدا ( کے سواکسی اور کے بار ے میں سوچ بھی نہیں سکتا ( 2)۔ راغب اصفہانی اپنی کتاب ” مفر دات “ میں کہتے ہیں کہ ” تفویض “ کامعنی ” لوٹانا “ ہے لہذا اپنے مور خدا کوتفویض کردینے کا مقصد اپنے کام اس کے سپر د کردینا ہے نہ کہ ہر قسم کی ہمت اورکوشش سے بھی ہاتھ اٹھالیا جائے . جویقینا معنی میں تحریف کے مترداف ہوگا . لہذا تفویض کامعنی یہ ہوگا کہ انسان اپنے کام کے انجام دینے میں ہر قسم کی سعی و کوشش اور جدو جہد سے کام لے اور جب سخت مشکلات اور موانع آڑ ے آجائیں تو گھبر ائے نہیں ، جوا س باختہ نہ ہو اور نہ ہو ہمت ہار بیٹھے ، بلکہ اپنے امور کو خداکے سپرد کرکے اپنی ہمت ہار بیٹھے ، بلکہ اپنے امور کو خداکے سپرد کرکے اپنی ہمت اورکوشش جاری رکھے ۔ ” تفویض “ کی اگرچہ مفہوم کے لحاظ سے ” توکل “ سے زیادہ مشابہت ہے لیکن یہ ایک مرحلہ اس سے با لاتر ہے ، کیونکہ ”توکل “ کی حقیقت خد ا کواپنا وکیل بنانا ہے جبکہ تفویض تفویض کامفہوم یہ ہے کہ سب کچھ مطلقاً اس کے سپر د کردیاجائے . کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتاہے کہ انسان کسی کواپنا وکیل بناتاہے لیکن اپنی نگرانی بھی اس پررکھتاہے لیکن تفویض کے سلسلے میں اس قسم کی نگرانی کاسوال پیدا نہیں ہوتا ۔ 1۔ بحارالا نوار جلد ۶۸ ص ۳۴۱۔ 2۔ کتاب سفینتہ البحار جلد ۲ ،ص ۳۸۷ ( ماد ہ فوض )۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:41-46
۳۔عالم ِ برزخ
” برزخ “ جیساکہ اس کے نام سے ظاہر ہے اس دنیا اوراُس جہان کے درمیان ایک واسط ے . قرآن مجیدمیں جس قدر قیامت کے بار ے میں کثرت سے گفتگو ہوئی ہے اس کی نسبت سے برزخ کے بار ے میں بہت کم بات ہوئی ہے . اسی وجہ سے اس پرابہام کے کچھ پردے پڑے ہوئے ہیں اوراس کی خصوصیات اور تفصیلات کے بار ے میں صحیح طور پر علم نہیں ہے اورحقیقت الامر یہ ہے کہ برزخ کی خصوصیات کاعلم ، اعتقادی مسائل میں زیادہ مئوثر نہیں ہے . لہذاکتاب خدامیں بھی اس کے با ر ے میں بہت کم گفتگو ہوئی ہے . البتہ یہ بات پیش نظر رہے کہ قرآن نے عالم برزخ کے وجود کوصراحت کے ساتھ نہیں ہے ۔ جوآیات عالمِ برزخ کی نشاندہی کرتی ہیں ان میں سے زیرتفسیر آیات بھی ہیں جن میں کہاگیاہے ” قیام قیام “ سے پہلے آل فرعون کوہرصبح وشام آگ کے سامنے پیش کرکے انہیں سزادی جاتی ہے “ اور یہ سزا ” عذاب برزخ “ کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے ۔ دوسری طرف جوآیات مرنے کے بعد شہداء کی حیات جاو ید اوران کے خصوصی اور بے وحساب اجر کے بار ے میں دلالت کرتی ہیں وہ بھی ” برزخ کی نعمتوں “ پر شاہد ناطق ہیں ۔ یہ امر بھی قابل توجہ ہے کہ پیغمبر اسلام علیہ وآلہ وسلم الصلوٰة والسلام کی ایک حدیث ہے : ” ان احدکم اذامات عرض علیہ مقعدہ بالغداة والعشی ،ا ن کان من اھل الجنة فمن الجنة ، وان کان من اھل النار فمن النار ، یقال ھٰذ امقعدک حیث بیعثک اللہ یوم القیامة “ جب تم میں سے کوئی شخص اس دنیا سے کوچ کرجاتاہے توا سے پرصبح وشام اپنا ٹھکانا دکھایا جاتاہے. اگر تووہ بہشتی ہے اس کا ٹھکانا بہشت میں ہے اگرجہنمی ہے تو اس کا مقام جہنم میں ہے اوراسے کہاجاتاہے کہ قیامت کے دن تمہاری رہائش یہیں ہوگی ( اور یہی چیزروح کی خوشی یاعذاب کا سبب بنے گی ) ( 1)۔ حضر ت امام جعفرصادق علیہ السلام فرماتے ہیں : ” ذالک فی الدنیا قبل یوم القیا مة لان فی نار القیامة لا یکون غدووعشی ، ثم قال ان کانو ا یعذ بون فی النار غد وًّ ا وعشیًّا فقیھا بین ذالک ھم من السعداء ،لا ولکن ھٰذا فی البرزخ قبل یوم القیامة الم تسمع قولہ عزو جل: ویوم تقوم الساعة ادخلوااٰل فرعون اشد العذا ب “ یہ سب کچھ روزقیامت سے پہلے کی دنیا میں ہوتا ہے کیونکہ قیامت کی آگ می ںتوصبح وشام کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتاپھر فر مایا : اگروہ قیامت میںصرف صبح و شام عذاب جہنم سے دوچار ہوں تو اس درمیانی عرصہ میں تو وہ سعادت مندٹھہر ے . لہذا یہ بات نہیں ہے اوراس عذاب کاتعلق برزخ ہے سے ہے جوقیامت سے پہلے کاعرصہ ہے . آیا (اس جملے کے بعد) خداکا فرمان نہیں سنا کہ فرماتا ہے : ” جب قیامت برپاہوگی تو کہاجائے گا کہ آل فرعون کوسخت ترین عذاب میں بھیج دو “ ( 2)۔ امام علیہ السلام یہ نہیں فرماتے کہ قیامت میں صبح و شام نہیں ، بلکہ جہنم کی آگ ہمیشہ ک لیے ہے اس کے لیے صبح وشام کاسوال پیدا نہیں ہوتا ، جہاں پرصبح و شام سزا ملے گی وہ عالم ِ برزخ ہے . پھر آپ علیہ السلام نے آیت کے بعد والے جملے کواستد لال کے طور پر پیش فرمایا ہے جوقیامت کی بات کررہاہے اوراس بات کاقرینہ ہے کہ اس سے پہلے کاجملہ عالم ِ برزخ پر دلالت کررہا ہے ۔ عالم ِبرزخ اوراس کے دلائل کے سلسلے میں ہم نے تفسیر نمونہ جلد ۱۴ (سورہ ٴ مومنون کی آیت ۱۰۰ کے ذیل میں ) تفصیل سے گفتگو کی ہے ۔ 1۔ اس حدیث کوبخاری اور مسلم نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے ( منقو ل ازطبرسی ، در منثور اور قرطبی انہی آیات کے ذیل میں ) کتاب ” صحیح مسلم “ میں تو اس موضوع پرپورا باب لکھاگیا ہے جس میں متعدد روایات نقل کی گئی ہیں . دیکھئے صحیح مسلم جلد چہارم ،ص ۲۱۹۹۔ 2۔ تفسیر مجمع البیان جلد ۸ ،ص ۵۲۶ ۔