وَلَقَدۡ جَآءَكُمۡ يُوسُفُ مِن قَبۡلُ بِٱلۡبَيِّنَٰتِ فَمَا زِلۡتُمۡ فِي شَكّٖ مِّمَّا جَآءَكُم بِهِۦۖ حَتَّىٰٓ إِذَا هَلَكَ قُلۡتُمۡ لَن يَبۡعَثَ ٱللَّهُ مِنۢ بَعۡدِهِۦ رَسُولٗاۚ كَذَٰلِكَ يُضِلُّ ٱللَّهُ مَنۡ هُوَ مُسۡرِفٞ مُّرۡتَابٌ
Certainly Joseph brought you manifest proofs earlier, but you continued to remain in doubt concerning what he had brought you. When he died, you said, ‘‘Allah will never send any apostle after him.’’ That is how Allah leads astray those who are unrestrained and skeptical.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 40:27-37
Reserving one’s tenet of faith, without divulging it when dealing with the tyrant, when there is a danger of life of self and others, is a Divine tact to guiding human kind on the right path, since God has made this world a trial and given chances to every creature to choose for themselves their final destination. It is imperative to appeal to their sense of reasoning in the most amiable manner without directly attacking them for their perverted actions thus guarding, thereby the faith, i.e. life of those who follow Divine path. Its application in various circumstances has already been referred to under Note 28 (c), page 68, Set 1. If he still persists under presumption, self-conceitedness and obstinacy, thus setting aside reason, a Divine gift, a mysterious prophet inviting him to paradise, God seals his heart and leaves him to his misguidance leading to hell. Note in the same degree, we over rate ourselves, we under rate others, for injustice allowed at home is not likely to be corrected abroad, unless under self-examination, by calling oneself to account every night: (1) What infirmity have I mastered today? (2) What passions (i.e. enemy to Divine reason) have I opposed? (3) What temptation have resisted? (4) What virtues have I acquired? “Our vices will abate of themselves if they be daily brought to the shrift.” Examine how wise abstinent, obliging and just one has been while reasoning on laws expounded by the authorized and their application in matters of principle and policy, transaction to give and take, or mediating between the ruler and the ruled. Be eager to take lessons from others by advice and criticisms for well-wishers and avoid evil society and men of discursive trend of mind, by entertaining Divine awe and keeping in view of your object of creation and ultimate reversion to the Master as Whose slave you have been sent to this world, to discharge a contracted obligation, avoiding prejudice and condemnation to anyone in mind, as it affects his mind through the misgivings of a devil, common enemy to man, thanking God for His bounties, of keeping you away from these evils, and wishing well of people at large, dutiful to God, living creatures and the dead, disregard of which shall lead to infidelity, ending in Divine displeasure. Be moderate in eating, talking, and sleeping and fast as it develops tact, purifies the soul, undermines passion, enables to relish soliloquy. Tiding is for him who remembers Judgment Day, acts for it, remains content on little he gets, and is pleased with Divine decree. As with death, worldly trials end, so with dearth of property (material wealth) accounting reduces. there shall be none on Judgment Day, but shall desire would he had been bestowed by God just what was needed to meet his bare wants.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 40:34
[Pooya/Ali Commentary 40:34] (see commentary for verse 23)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:34-35
جابر حکمرا ن صحیح فہم سے محروم ہیں
ان آیات میں موٴ من آل فرعون کی گفتگو کاسلسلہ جاری ہے ۔ گزشتہ ، موجود ہ اور آئندہ آیات پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے ایسا معلوم ہوتاہے کہ ” موٴمن آل فرعون نے فرعون اوراس کے ساتھیوں کے سیاہ اور تاریک دل میںاثر کرنے اوران سے متکبر اور کفرکازنگ دور کرنے کے لیے اپنی گفتگو کوپانچ مرحلوں میں بیان کیا : پہلے مرحلے میں اس نے ذو معنی اوراحتیاط پر مبنی گفتگو کی اوراس کافر اور سرکش قو م کواحتمال نقصان سے بچنے کی دعوت دی اور کہا : اگرموسٰی جھوٹ بولتے ہیں تو جھوٹ خودانکے اپنے دامن کوپکڑے گااور اگرسچ کہتے ہیں توعذاب ہمیں دامن گیر ہوگالہذا خدا سے ڈر وا وراحتیاط کادامن ہاتھ سے نہ جانے دو ۔ دوسرے مرحلے میں انہیں گزشتہ اقوام کے حالات اورانجام کے بار ے میں غور اور مطالعے کی دعوت دی اورانہیں اس قسم کے انجام سے بچنے کی دعوت دی ۔ تیسرے مرحلے میں موجودہ آیات میں ان کی کچھ اپنی تاریخ انہیں یاددلائی جس کاان سے زیادہ فاصلہ بھی گزراتھا اورانکے باہمی رابطے بھی اس سے ابھی تک نہیںٹوٹے تھے اور یہ تھا حضرت یوسف علیہ السلام کی نبوت کامسئلہ جوکہ حضرت موسٰی کے جدا مجد تھے اوران کی دعوت کے انداز کوپیش کرتے ہوئے کہتاہے : اس سے پہلے یوسف تمہاری ہدایت کے لیے واضح اور روشن دلائل لے کرآئے ( وَ لَقَدْ جاء َکُمْ یُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّناتِ)(۱)۔ لیکن تم نے اسی طرح ان کی دعوت میں بھی شک کیا( فَما زِلْتُمْ فی شَکٍّ مِمَّا جاء َکُمْ بِہِ)۔ اس وجہ سے نہیں کہ ان کی دعوت میں کسی قسم کی پیچیدگی تھی یاان کی آیات ودلائل ناکافی تھے بلکہ صرف اپنی اناپرقائم رہتے ہوئے تم نے ہٹ دھرمی سے کام لیا اور ہمیشہ شک وشبہ کااظہار کرتے رہے ۔ پھر ہر قسم کی ذمہ داری اور فرائض کی انجام دہی سے جان چھڑانے ، اپنی اناکو قائم رکھنے اورخواہشات نفسانی کوپایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے جب یوسف اس دنیا سے چلے گئے تو تم نے کہناشروع کردیاان کے بعد خداہرگز کسی کورسول بناکر نہیں بھیجے گا (حَتَّی إِذا ہَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَبْعَثَ اللَّہُ مِنْ بَعْدِہِ رَسُولاً)۔ تمہاری اس غلط روش کی وجہ سے ہدایت الہٰی تمہارے شامل حال نہ ہوسکی ، جی ہاں ” اسی طرح خداہر اسرا ف کرنے والے اورشک کرنے اوروسوسہ ڈالنے والے کوگمراہ کرتاہے (کَذلِکَ یُضِلُّ اللَّہُ مَنْ ہُوَ مُسْرِفٌ مُرْتابٌ )۔ تم نے ایک طرف تو اسراف اورخدائی حدود سے تجاوز کرنے کاراستہ اختیار کیااوردوسری طرف ہرچیز میں شک و شبہ اور و سواس سے کام لی. تمہارے دونوں کام اس بات کاسبب بن گئے کہ خداوندعالم اپنے لطف وکرم کی نگاہ تم سے پھیر لے او رتمہیں ضلالت و گمراہی کی وادی میں چھوڑ دے اور تمہاراانجام اس کے علاوہ اورکیاہوسکتاہے ؟ اب اگرموسٰی کے بار ے میں بھی تم نے اسی روش کواپنایااور تحقیق وجستجو سے کام نہ لیا توممکن ہے کہ وہ خداکی طرف سے نبی ہولیکن اس کی ہدایت کانور تمہارے چھپے ہوئے حجابوں میںپڑے ہوئے د ل پرنہ چمکے ۔ بعد کی آیت ” مسرف مرتاب “ کی تشریح کرتے ہوئے کہتی ہے:یہ وہ لوگ ہیں جو بغیر کی ایسی دلیل کے جوان کے پاس آئی ہوخداکی آیات مجادلہ کرتے ہیں (الَّذینَ یُجادِلُونَ فی آیاتِ اللَّہِ بِغَیْرِ سُلْطانٍ اٴَتاہُمْ ) (۲)۔ اپنی گفتگو میں کوئی عقلی او ر نقلی واضح دلیل رکھے بغیر خداکی آیات کامقابلہ کرتے ہیں اوراٹکل بچوؤں ، بے بنیاد وسوسوں اور مختلف حیلے بہانوں سے اپنی مخالفت جاری رکھتے ہیں ۔ یہ کتنی بُری بات ہے کہ” حق کے مقابلے میںاس قسم کے بے بنیاد جدال خداکے اوران لوگوں کے عظیم غضب کا سبب بنتے ہیں جو ایمان لاچکے ہیں “ (کَبُرَ مَقْتاً عِنْدَ اللَّہِ وَ عِنْدَ الَّذینَ آمَنُوا ) (۳) ۔ کیونکہ جدالِ باطل اورخداکی آیات کے مقابلے میں بغیرکسی دلیل ومنطق کے محاذ آرائی ایک تومجادلہ کرنے والوں کی گمراہی کا سبب بنتی ہے اور دوسرے عوام الناس کی بے راہر وی اورضلالت کا یہ روش معاشرے میں نورحق کوخاموش اورحکومت باطل کی بنیاد وں کی مستحکم کرتی ہے ۔ اور آخر میں ان کے حق کے آگے نہ جھکنے کی وجہ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : خد ا اسی طرح ہر متکبرجبار کے دل پرمہرلگا دیتاہے (کَذلِکَ یَطْبَعُ اللَّہُ عَلی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ ) (۴)۔ جی ہاں ! جولوگ تکبر اور جبا ر یت جیسی دوسری صفات کی وجہ سے حق کے مقابلے میںڈٹ جانے کافیصلہ کرچکے ہیں اور کسی حقیقت کوقبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے توخدا بھی حق جوئی اورحق خواہی کی روح ان سے سلب کرلیتاہے اور نوبت یہاں تک پہنچ جاتی ہے کہ حق ان کے ذائقے میں کڑ وااور باطل میٹھا ہوجاتاہے ۔ ان بیا نات کے ذریعے موٴ من آ ل فرعون نے جوکچھ کرناتھا کردکھا یاچنانچہ بعد کی آیات سے معلوم ہوگاکہ اس نے فرعون کوجناب موسٰی علیہ السلام کے قتل کی تجویز بلکہ فیصلے کے بار ے میں ڈا نو اڈول کردیا یاکم از کم اسے ملتوی کروادیا اوراسی التواء سے قتل کاخطرہ ٹل گیا اور یہ تھا اس ہوشیار ، زیرک اور شجاع مرد خدا کافریضہ جواس نے کماحقہاداکر دی.جیساکہ بعد کی آیات سے معلوم ہوگا کہ اس سے اس کی جان کے بھی خطرے میں پڑنے کااندیشہ ہوگیاتھا ۔ ۱۔ واحد آیت جوجناب یوسف علیہ السلام کی نبوت پردلالت کرتی ہے یہی آیت ہے ہرچندکی سور ہ ٴ یوسف میں اس بات کے اشارے توملتے ہیں لیکن اس میں صراحت کے ساتھ یہ بات بیان نہیں ہوئی ۔ ۲۔ یہاں پر ” الذین “ ” مسرف مرتاب “ کابدل ہے . جب کہ مبدل منہ مفرداور بدل جمع ہے کیونکہ کسی معین فردپرنظر نہیں ہے بلکہ جنس مدنظر ہے ۔ ۳۔ ” کبر“ کافاعل ” الجال “ ہے جو پہلے جملے سے سمجھ میںآتا ہے اور” مقتا“ اس کی تمیز ہے،بعض مفسرین نے سمجھا ہے کہ شاید اس کافاعل ” مسرف مرتاب “ ہو . لیکن پہلامعنی بہتر معلوم ہوتاہے ۔ ۴۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ اس آیت میں” متکبر اور جبا ر “ قلب کی صفت کے طورپر ذکرہوئے ہیں ( ہرچندکہ اضافت کی صورت میںہیں ) نہ کسی شخص کی صفت ، اور یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کبراور جبار یت کی بنیاد قلب ہے اور وہیں سے یہ انسان کے باقی تمام وجود میں سرایت کرجاتے ہیں . اور تمام اعضاء تکبر اورجبار یت کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:34-35
سوره مؤمن/ آیه 34- 35
۳۴۔وَ لَقَدْ جاء َکُمْ یُوسُفُ مِنْ قَبْلُ بِالْبَیِّناتِ فَما زِلْتُمْ فی شَکٍّ مِمَّا جاء َکُمْ بِہِ حَتَّی إِذا ہَلَکَ قُلْتُمْ لَنْ یَبْعَثَ اللَّہُ مِنْ بَعْدِہِ رَسُولاً کَذلِکَ یُضِلُّ اللَّہُ مَنْ ہُوَ مُسْرِفٌ مُرْتابٌ ۔ ۳۵۔ الَّذینَ یُجادِلُونَ فی آیاتِ اللَّہِ بِغَیْرِ سُلْطانٍ اٴَتاہُمْ کَبُرَ مَقْتاً عِنْدَ اللَّہِ وَ عِنْدَ الَّذینَ آمَنُوا کَذلِکَ یَطْبَعُ اللَّہُ عَلی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ۔ ترجمہ ۳۴۔ اس سے پہلے یوسف تمہارے پاس روشن دلائل لے کر آئے لیکن تم نے اس کی لائی ہوئی چیز وں میں اسی طرح شک کیا ، یہاں تک کہ وہ اس دنیا سے سد ھارے ، تم نے کہ اکہ اس کے بعد خداقطعاً کسی کو رسول بناکر نہیں بھیجے گا ، خدا اسی طرح ہراسراف کرنے والے اور شک کرنے والے کوگمراہ کرتاہے ۔ ۳۵۔ جولوگ خدا کی آیات کے بار ے میں مجادلہ کرتے ہیں بغیراس کے کہ ان کے پاس کوئی دلیل آئی ہو ان کا یہ کام خدا کے اوران کے شدید غضب کاموجب ہے جو ایمان لائے ہیں . اسی طرح خدا ہر متکبر جبار کے دل پر مہر لگادیتاہے ۔