وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنٌ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَن يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْ جَاءَكُم بِالْبَيِّنَاتِ مِن رَّبِّكُمْ وَإِن يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَإِن يَكُ صَادِقًا يُصِبْكُم بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِفٌ كَذَّابٌ
Said a man of faith from Pharaoh’s clan, who concealed his faith, ‘Will you kill a man for saying, ‘‘My Lord is Allah,’’ while he has already brought you manifest proofs from your Lord? Should he be lying, his falsehood will be to his own detriment; but if he is truthful, there shall visit you some of what he promises you. Indeed Allah does not guide someone who is a transgressor and liar.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 40:28
[Pooya/Ali Commentary 40:28] (see commentary for verse 23)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:28-29
۳ صدیقین کون ہیں ؟
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض احادیث میں ہے کہ الصدیقون ثلاث ” حبیب النجار “ موٴ من آل یٰس الذی یقول ” فاتبعو االمرسلین اتبعوامن لایسئلکم اجراً “ و ” حز قیل “ موٴ من اٰل فرعون ، و ” علی بن ابی طالب (ع) “ وھوا فضلھم ” سب سے پہلے (بزرگ انبیاء کی ) تصدیق کرنے والے تین لوگ ہیں حبیب نجار موٴ من آل یٰس جس نے ( انطاکیہ ) کے لوگوں سے کہا خدا کے رسولوں کی پیروی کرو،ان لوگوں کی اتباع کرو جوتم سے کسی قسم کی اجرت بھی نہیں مانگتے اورخود ہدایت یافتہ ہیں اورحز قتل موٴ من آل ِ فرعون اور علی بن ابی طالب جوان سب سے افضل اور بر تر ہیں “ ۔ یہ حدیث شیعہ اورسنی دونوں مذاہب کی کتابوں میں موجود ہے ( 1)۔ سچ بات بھی یہی ہے کہ ان افراد نے خداکے انبیاء کی اس وقت تصدیق کی اوران پر ایمان کا اظہار کیا جب انبیاء کے لیے زبردست بحرانی لمحات تھے انہوں نے اس وقت اور بحرانی لمحوں میں پیش قدمی کی اورصحیح معنوں میں ”صدیق “ کہلانے کے حقدار ہیں. یہ ان لوگوں کے سرخیل ہیں جنہوں نے خداکے انبیاء کی تصدیق کی خصوصاً علی بن ابی طالب علیہ السلام اکہ جنہوں نے اپنی ساری زندگی وقف ہی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے کر دی تھی . آپ علیہ السلام نے خود پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی بلکہ ان کی رحلت کے بعد ایثار وفدا کاری کی ایسی روشن مثالیں قائم کیں جو رہتی دنیاتک یاد گار رہیں گی ۔ 1۔ ملاحظہ ہو ” امالی شیخ صدوق “ اورابن حجرکی کتاب ”صواعق محرقہ “ فصل ثانی باب ۹۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:28-29
سوره مؤمن/ آیه 28- 29
۲۸۔ وَ قالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ إیمانَہُ اٴَ تَقْتُلُونَ رَجُلاً اٴَنْ یَقُولَ رَبِّیَ اللَّہُ وَ قَدْ جاء َکُمْ بِالْبَیِّناتِ مِنْ رَبِّکُمْ وَ إِنْ یَکُ کاذِباً فَعَلَیْہِ کَذِبُہُ وَ إِنْ یَکُ صادِقاً یُصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذی یَعِدُکُمْ إِنَّ اللَّہَ لا یَہْدی مَنْ ہُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ ۔ ۲۹۔ یا قَوْمِ لَکُمُ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ظاہِرینَ فِی الْاٴَرْضِ فَمَنْ یَنْصُرُنا مِنْ بَاٴْسِ اللَّہِ إِنْ جاء َنا قالَ فِرْعَوْنُ ما اٴُریکُمْ إِلاَّ ما اٴَری وَ ما اٴَہْدیکُمْ إِلاَّ سَبیلَ الرَّشادِ ۔ ترجمہ ۲۸۔ آل ِ فرعون میں سے ایک مومن شخص نے کہ جو اپنے ایمان کوچھپائے ہوئے تھا کہا: آیاتم ایسے شخص کو قتل کرناچاہتے ہو جو یہ کہتاہے کہ میرا رب اللہ ہے ، جبکہ وہ تمہار ے رب کی رف سے واضح دلائل بھی لاچکا ہے ، اگر وہ جھوٹا ہے توجھوٹ خود اس کادامن پکڑے گا اوراگر سچّا ہے تو ( کم از کم ) تمہیں جن بعض عذابوں کی وعید دیتاہے وہ تم تک پہنچ جائیں گے .خدا وند اس شخص کوہدایت نہیں کرتاجو اسراف کرنے والا ہوتاہے اورجوبہت ہی جھوٹا ہوتاہے ۔ ۲۹۔ اے میری قوم ! آ ج حکومت تمہارے پاس ہے اور تم اس سرزمین میں کامیاب بھی ہو . اگرعذاب ِ الہٰی ہمارے پاس آبھی گیاتو پھرکون ہماری مدد کرے گا ؟فرعو ن نے کہا : میں اس کے سواتمہیں اور کچھ نہیں دکھا سکتاجس کامیں اعتقاد رکھتاہوں اور حق و کا میابی کی راہ کے علاوہ تمہیں کسی اورچیز کی دعوت نہیں دیتا( موسٰی کے قتل کے سوا اورکچھ نہیں ہوسکتا )۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:28-29
۲۔ تقیّہ ... مقابلے کاایک موٴثر ذریعہ
تقیہ “ یا” عقیدہ باطنی کاچھپانا“ بعض لوگوں کے گمان کے برخلاف کمزور ی ، خوف اورمطلب بر اری کانام نہیں ہے بلکہ طاقتوروں ،ظالموں اورجابروں کے ساتھ مقابلے کے ایک موٴثر ذریعے کے عنوان سے اس سے کام لیا جاتاہے ،دشمن کے رازوں کا پتہ لگا ناایسے افراد کے بغیر ناممکن ہے جو تقیہ کے طریقہٴ کار سے کام لیتے ہیں ۔ دشمن کوغافل کرکے اس کے پیکرپر کا ری ضربیں لگانااس وقت تک ناممکن ہے جب تک اپنے منصوبوںکوچھپایانہ جائے اور تقیہ سے کام لیانہ جائے ۔ موٴمن آل ِ فرعون کاتقیہ بھی موسٰی علیہ السلام کے دین کی خدمت اورحساس ترین بلکہ بحرانی لمحات میں ان کی جان کی حفاظت کے لیے تھا . اس سے بہتر اورکیا ہوسکتاہے کہ انسان کااپنا کوئی نہ کوئی آدمی دشمن کے گروہ میں موجود ہوتاکہ اس کی چالوں اورمنصوبوں کی اچھی طرح معلومات حاصل کرکے ان سے پوری طرح باخبر ہو اور بوقت ضرورت دوستوں کواس سے مطلع کرے.بلکہ اگرضرورت پڑ جائے تودشمن کی سوچ اور فکر تک رسائی حاصل کرکے اس کے منصوبوں اورچالوں کو ناکام بنادے ۔ اگرموٴ من آل ِ فرعون ” تقیہ “ کی ٹیکنیک سے استفادہ نہ کرتا توکیااس قدر عظیم خدمات انجام دے سکتا تھا ؟ اسی لیے توحضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں آیاہے : التقیة دینی ودین اٰبائی ،ولادین لمن لا تقیة لہ ، والتقیة ترس اللہ فی الارض ، لان موٴ من اٰل فرعون لواظہر الاسلام لقتل تقیہ میرا دین ہے اور میرے آباؤ اجداد کادین ہے . جس کاتقیہ نہیں اس کادین نہیں ،تقیہ روئے زمین پر خدا کی طرف سے ایک ڈھال ہے کیونکہ اگرموٴ من آل فرعون اپنے ایمان کااظہار کردیتا تو قتل کردیاجاتا (1)۔ خاص ایسے مقامات پرجہاں مومنین اقلیت میں ہوں اورایسی اکثریت کے درمیان پھنسے ہوئے ہوں جونہ تو کسی دلیل اورمنطق کوسمجھتی ہو اورنہ ہی اس میں رحم کاذرہ ہوتو ایسی صورت میں کوئی بھی عقل اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ سوائے ضرورت کے خاص موقع کے اپنے ایمان کااظہار کرکے اپنی فعال تو انائیاں ضائع کردی جائیں . بلکہ ایسے خاص حالات کے پیش نظر اپنے عقیدے کو چھپا کراپنی تو ا نائیوں کویکجا اوراکٹھا کرکے آخر ی حملے کے لیے آمادہ کیاجانا چاہیے ۔ خود پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی نے بھی اپنے قیام کے آغاز کئی سالوں تک اپنی دعوت کومخفی رکھا اوراسی طریقہ کار سے کام لیتے رہے . جب ایک عرصہ کے بعدآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دوستوں کی تعداد زیادہ ہوگئی اور مر کزی بنیاد مضبوط ہوگئی توپھر اسلام کی کھلم کھلا دعوت کااظہار فرمایا ۔ اس ضمن میں دوسرے انبیاء عظام میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کانام لیاجاسکتا ہے . باوجود یکہ آپ علیہ السلام ایک شجا ع اور نڈرانسان تھے لیکن بتوں کے توڑنے کے موقع پرآپ علیہ السلام نے تقیہ کے طریقہ ٴ کار سے کام لیااور اپنے منصوبے کوبت پرستوں سے مخفی رکھ. اگر آپ علیہ السلام نہ کرتے تو اپنے مقصد میں کبھی کا میاب نہ ہوتے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا بزرگوار جناب حضرت ابوطالب نے آخری عمرتک تقیہ کی روش ترک نہیں کی . صرف چند ایک لیکن خاص موقعوں پراپنے ایمان کااظہار کیااوردوسرے مواقع پرصراحت کے ساتھ کوئی بات نہیں کی تاکہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان بچانے کے سلسلے میں موٴ ثر کردار اداکر سکیں اورہٹ دھر م ،بے رحم اور کینہ پروربت پرست آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوکوئی گزند نہ پہنچاسکیں ۔ بہرحال بعض جاہل اورحقائق سے بے خبر لوگو ں نے جو یہ سمجھ رکھاہے کہ تقیہ صرف مذہب شیعہ ہی کے لیے مخصوص ہے یایہ کمزوری اورجھوٹ کی علامت ہے تو ان کی یہ سو چ مکمل طور پر بے بنیاد اورہر قسم کی منطق سے دور ہے کیونکہ کسی استثناء کے بغیر تمام مذاہب اورمکاتب فکرمیں کسی نہ کسی صورت میں یہ ضرور موجود ہے ۔ مزید تفصیل کے لیے تفسیر نمونہ کی دوسری جلد کا ( سورہ آل عمران آیت ۲۸ کے ذیل میں ) اور گیارہویں جلد کا (سورہ ٴ نحل کی آیت ۱۰۶ کے ذیل میں ) مطالعہ فرمائیں ۔ 1۔ ” مجمع البیان ‘ ‘ جلد ۸ ،صفحہ ۵۲۱ (زیر بحث آیات کے ذیل میں )۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:28-29
۱۔ موٴمن آل ِفرعون کون تھا ؟
قرآنی آیات سے اس قدرمعلوم ہوتاہے کہ وہ آل ِ فرعون میں سے تھا جو موسٰی علیہ السلام پرایمان لے آیاتھا لیکن اپنے ایمان کوچھپاتاتھ دل ہی دل میں موسٰی علیہ السلام سے محبت کرتاتھا اوراپنے آپ کوحضرت موسٰی علیہ السلام کافدع کرنے کاپابندسمجھتاتھا ۔ وہ نہایت زیرک ،سمجھداراورموقع شناس انسان تھا . منطق اوراستد لال میں نہایت قوی تھا اوراس قدر باسمجھ انسان تھا کہ نہایت ہی حساس لمحات میں حضرت موسٰی علیہ السلام کی مدد کوپہنچااور جیسا کہ بعد کی آیات میں سے پتہ چلے گا کہ حضرت موسٰی علیہ السلام کوقتل جیسی خطر ناک سازش سے نجات دلائی ۔ اسلامی روایات اورمفسرین کے اقوال میں اس شناس شخص کی بہت تعریف کی گئی ہے ۔ جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ : وہ فرعون کاچچازاد بھائی تھا اورانہوں نے ” آل فرعون“ کی تعبیرکو بھی اس معنی پر گواہ سمجھاہے کیونکہ عموماً آل کااطلاق نزدیکی رشتہ داروں پر ہوتاہے ہرچند کہ دوست واحباب پر بھی لفظ بولاگیاہے ۔ بعض دوسرے مفسرین اسے اللہ کاایک نبی سمجھتے ہیں جس کانام ” حزبیل “ یاحزقیل تھا ( ۱)۔ بعض روایت کرتے ہیں کہ وہ فرعون کے ( گنجنیوں اورخزانوں کاسرپرست اور ) خازن تھا ( ۲)۔ ابن عباس سے روایت ہے کہ فرعون والوں میں سے صرف تین افراد حضرت موسٰی علیہ السلام پرایمان لاتے تھے ، ایک توموٴ من آل ِ فرعون ، دوسرے فر عون کی زوجہ او رتیسرے وہ شخص جس نے حضرت موسٰی کو نبوت ملنے سے پہلے خبر دار کیا کہ : فرعون کے درباری اپنے ایک پیرو کارکے قتل کے بدلے آپ کوقتل کرناچاہتے ہیں لہذا جتنا جلدی ہو سکے آپ مصر سے نکل جائیں ۔ ( قصص . ۲۰) لیکن کچھ ایسے قرئن بھی ملتے ہیں جن سے یہ پتہ چلتاہے کہ موسٰی علیہ السلام کے جادوگر وں کے ساتھ مقابلے کے بعد لوگوں کی بہت بڑی تعداد موسٰی پر ایمان لے آئی تھی اور بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ موٴمن آل فرعون کاماجرا جادوگروں کے واقعے کے بعد کاہے ۔ بعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ موٴمن آل فرعون کاتعلق دراصل بنی اسرائیل سے تھا جو فرعونیوں میں گھل مل کرزندگی بسرکر رہاتھا اوراس پران کابہت حدتک اعتماد بھی تھا لیکن یہ احتمال کافی حد تک ضعیف نظر آتاہے کیونکہ یہ ایک تو” آل فرعون “ کی اور دوسرے ” یاقوم“ (اے میری قوم ) کی تعبیرسے ہم آہنگ نہیں ہے البتہ موسٰی اور بنی اسرائیل کی تاریخ میںاس کامسلم اورموٴثر کردار مکمل طور پر واضح ہے . اگرچہ اس کی زندگی کے تمام پہلو ہمیں آج تک واضح طور پر معلوم نہیں ہیں ۔ ۱۔ یہ معنی پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک روایت سے نقل کیاگیاہے (ملاحظہ ہوامالی شیخ صدوق منقول با زتفسیر نور الثقلین جلد ۴ ،ص ۵۱۹ ) لیکن اگردیکھاجائے تو ” حزقیل “ نبی اسرائیل کے ابنیاء میں سے تھے . لہذا یہ احتمال بعید معلوم ہوتاہے اور مندرجہ بالاروایت بھی سند کے لحاظ سے ضعیف ہے . یہ اوربات ہے کہ یہ حز قیل بنی اسرائیل کے وہ مشہور بنی نہ ہوں بلکہ اس نام کاکوئی اور شخص ہو ۔ ۲۔ یہ معنی علی بن ابراہیم کی تفسیرمیں بھی آیاہے (تفسیرنورالثقلین جلد ۴ ، ۵۱۸)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:28-29
آیا کسی کو خدا کی طرف بلانے پر بھی قتل کرتے ہیں ؟
یہاں سے موسٰی علیہ السلام اورفرعون کی تاریخ کاایک اوراہم کردار شروع ہوتاہے جوقرآن مجید کی صرف اس سورة میںبیان کیاگیا ہے اوروہ ہے ” مومن آل ِ فرعون ‘ ‘ جوفرعون کے قریبیوں میں سے تھا حضرت موسٰی علیہ السلا م کی دعوتِ توحید قبول کر چکا تھا لیکن اپنے اس ایمان کوظاہر نہیں کرتا تھ.کیونکہ وہ اپنے آپ کوخاص طریقے سے موسٰی علیہ السلام کی حمایت کاپابند سمجھتا تھاجب اس نے دیکھا کہ فرعون کے غیظ وغضب سے موسٰی علیہ السلام کی جان کوخطرہ پیدا ہوگیا ہے تومردانہ وا ر آگے بڑھا اوراپنی دل نشین اورموٴ ثر گفتگو سے قتل کی اس سازش کوناکا م بنادیا ۔ اس سلسلے کی سب سے پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے : آل فرعون میں سے ایک شخص نے جواپنے ایمان کوچھپا ئے ہوئے تھا کہا: آیا کسی شخص کوصرف اس بناء پر قتل کرتے ہوکہ وہ کہتاہے کہ میرارب ؟ (وَ قالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ یَکْتُمُ إیمانَہُ اٴَ تَقْتُلُونَ رَجُلاً اٴَنْ یَقُولَ رَبِّیَ اللَّہ)۔ حالانکہ وہ تمہارے رب کی طرف سے معجزات اور واضح دلائل اپنے ساتھ لایاہے (وَ قَدْ جاء َکُمْ بِالْبَیِّناتِ مِنْ رَبِّکُمْ )۔ آیا تم اس کے عصا اورید ِ بیضاء جیسے معجزا ت کا انکار کرسکتے ہو ؟ کیاتم نے اپنی آنکھوں سے اس کے جادو گر وں پرغالب آجانے کامشاہدہ نہیں کیا ، یہاں تک کہ جادوگروں نے اس کے سامنے اپنے ہتھیا ر ڈال دئےے اورہماری پرواہ تک نہ کی اورنہ ہی ہماری دھمکیوں کوخاطرمیں لائے اورموسٰی کے خداپر ایما ن لاکر اپنا سراس کے آگے جھکا دیاذر اسچ بتا ؤ کیاایسے شخص کوجادو گرکہا جاسکتا ہے ؟خوب سوچ سمجھ کر فیصلہ کرو ،جلدبازی سے کام نہ لو اوراپنے اس کام کے انجام کوبھی اچھی طرح سوچ لوتا کہ بعد میں پشیمان نہ ہوناپڑے ۔ ان سب سے قطع نظریہ دوحال سے خالی نہیں،اگر وہ جھوٹا اس کاخود ہی دامن گیر ہوگااوراگر سچا ہے توکم از کم جس عذاب سے تمہیں ڈر ایاگیاہے وہ کچھ نہ کچھ توتمہارے پاس پہنچ ہی جائے گا (وَ إِنْ یَکُ کاذِباً فَعَلَیْہِ کَذِبُہُ وَ إِنْ یَکُ صادِقاً یُصِبْکُمْ بَعْضُ الَّذی یَعِدُکُمْ )۔ یعنی اگروہ جھوٹاہے توجھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ،آخر کارایک نہ ایک دن اس کاپول کھل جائے گااور وہ اپنے جھوٹ کی سزاپالے گا لیکن یہ امکان بھی تو ہے کہ شاید وہ سچّا ہواورخدا کی جانب سے بھیجاگیاہو . تو پھرایسی صورت میں اس کے کئے ہوئے وعدے کسی نہ کسی صورت میں وقوع پذیرہوکررہیں گے . لہذا اس کاقتل کرناعقل وخرد سے کوسوں دور ہے ۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا : ” اللہ تعالیٰ مسرف اورجھوٹے کی ہدایت نہیں فرماتا “ (إِنَّ اللَّہَ لا یَہْدی مَنْ ہُوَ مُسْرِفٌ کَذَّابٌ ) ۔ اگر حضرت موسٰی تجاوز واسراف و درد غ کواختیار کرتے تو یقینا اللہ تعالیٰ کی ہدایت حاصل نہ کرتے اور اگر تم بھی ایسے ہی ہوگئے تو اس کی ہدایت سے محروم ہوجاؤ گے ۔ یہ آخری عبارت اگرچہ ذومعنی ہے اوراس کے دوپہلو ہیں لیکن ظاہرسی بات ہے کہ موٴ من آل ِ فرعون کے پیش نظرفرعون اور فرعون والوں کی کیفیت اورصورتِ حال تھی اوراس کاعبادت اوربعد کی عبارتوں میں خدا کی ربوبیت پربار بار زور دینااس حقیقت کوواضح کرتاہے کہ فرعون یاکم از کم فرعونیوں کاایک گرو ہ اللہ کی ربوبیت پر اجمالی عقیدہ رکھتے تھے . وگرنہ اس کی یہ تعبیر اس کاموسٰی کے خداپر ایمان اوربنی اسرائیل کے ساتھ تعاون اورہمکاری تصور کیاجاتا اوراسنے ” تقیہ “ کاجوطریقہ ٴ کار اپنا یاہواتھا اس اصول سے ہم آہنگ نہ ہوتا ۔ اس مقام پربعض مفسرین کی طرف سے دوسوال کئے جاتے ہیں : ایک یہ کہ اگر موسٰی علیہ السلام جھوٹے تھے تو ان کاجھوٹ صرف ان کے اپنے لیے ہی نقصان دہ نہ تھا بلک تمام معاشرہ بھی اس کی لپیٹ میںآجاتا . کیونکہ معاشرے کے انحراف کاسبب بن جاتا . صرف ان کی ذات تک محدودیت کیسی ؟ دوسرے یہ کہ اگروہ سچے تھے توا ن کے تمام وعدے عملی جامہ پہنتے ، یہ بعض کاتذ کرہ کیوں ہواہے ؟ پہلے سوال کاجواب اس طرح دیاجاسکتا ہے کہ اس سے مرادصرف جھوٹ کی سزا ہے جوصرف جھوٹے ہی کوملتی ہے اورخدا کاعذاب اس کے شر کودور کرنے کے لیے کافی ہے یہ بات کیونکر ممکن ہے کہ کوئی شخص خداپر جھوٹ باندھے اورخدا لوگوں کی گمراہی کے لیے اسے اپنے حال پرچھوڑ دے ۔ دوسرے سوال کاجواب یہ دیاجاسکتاہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اس نے تمہیں دنیااورآخرت کے عذاب کی دھمکی دی ہے لہذا اگروہ سچا ہے تو اس کاایک حصہ جو دنیاوی عذاب سے متعلق ہے وہ تمہیں دامنگیر ہوگایاپھر اس سے مراد کم از کم حدہے کہ اگراس کی تمام باتوں کو نہیں مانتے ہوتوکم از کم اس کی کچھ باتوں کاسچا ہوناتوممکن ہے ۔ بہرحال موٴمن آل ِ فرعون اس گفتگو کے ذریعے فرعون اوراس کے در باریوں کوچندطریقوں سے اپنی بات منوانے کی کوشش کرتارہا ۔ پہلا یہ کہ موسٰی کے اس عمل پر اس قدر شدید ردعمل کے اظہار کی ضرورت نہیں ۔ دوسرے یہ کہ اسکے پاس ایسے دلائل ہیں جو بظاہر قابل قبول نظر آتے ہیں. لہٰذا ایسے شخص کے ساتھ مقابلہ خطر ے سے کالی نہیں ہے ۔ تیسرے یہ کہ تمہار ے کسی قسم کے اقدام کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اگروہ جھوٹاہے توخدا خوداس سے نمٹ لے گا اور یہ بھی تو ہوسکتاہے کہ وہ سچا ہوتوپھر ایسی صورت میں خداہم سے نمٹے گا ۔ موٴمن آلِ فرعون نے اس پر ہی اکتفا ء نہیں کی بلکہ اپنی گفتگو کو جاری رکھا، دوستی اورخیر خواہی کے اندازمیںان سے یوں گویاہوا : اے میری قوم ! آج مصر کی طویل وعریض سرزمین پر تمہاری حکومت ہے اور تم ہرلحاظ سے غالب اور کامیاب ہو، اس قدر بے انداز نعمتوں کاکفران نہ کرو ، اگرخدائی عذاب ہ تک پہنچ گیاتوپھرہماریکون مدد کرے گا (یا قَوْمِ لَکُمُ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ظاہِرینَ فِی الْاٴَرْضِ فَمَنْ یَنْصُرُنا مِنْ بَاٴْسِ اللَّہِ إِنْ جاء َنا )۔ یہ احتمال بھی ہے کہ اس کامقصد یہ ہوکہ آج تمہارے ہاتھ میں ہرقسم کی طاقت موجودہے اورموسٰی کے بار ے میں جوچاہو رائے قائم کرسکتے ہو اورجو چاہواس کے با ر ے میں فیصلہ کرسکتے ہو لیکن اپنی طاقت کے گھمنڈ میں ہی نہ رہواس سے پیدا ہونے والے انجام کوبھی مدِّ نظر رکھو ۔ ظاہر ا ً اس کی یہ باتیں ”فرعون کے ساتھیوں“ کے لیے غیرموٴثر ثابت نہیں ہوئیں انہیں نرم بھی بنادیااوران کے غصّے کو بھی ٹھنڈا کردیا ۔ لیکن یہاں پر فرعون نے خاموشی مناسب نہ سمجھی اس کی با ت کا ٹتے ہوئے کہا : ” بات وہی ہے جو میں نے کہہ دی ہے “ جس چیزکامیں معتقدہوں اسی کاتمہیںبھی حکم دیتاہوں اس باتکامعتقد ہوں کہ ہر حالت میں موسٰی کوقتل کردینا چاہیئے .اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے (قالَ فِرْعَوْنُ ما اٴُریکُمْ إِلاَّ ما اٴَری )۔ اورجان لوکہ میں تمہیں حق او کامیابی کے راستے کے علاوہ اورکسی بات کی دعوت نہیں دیتا (وَ ما اٴَہْدیکُمْ إِلاَّ سَبیلَ الرَّشادِ)۔ پوری تاریخ میں تمام جابروں اور طاغوتوں کی یہی صورت حال رہی ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی رائے ہی کوصائب اوربرحق سمجھتے ہیں . اپنی رائے کے سامنے کسی کورائے کے اظہار کی اجازت نہیں دیتے . بز عمِ خود وہی عقل ِ کل ہوتے ہیں اور دوسرے عقل وخرد سے بالکل عار ے اور یہی ان کی حماقت اورجہالت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔