أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ كَانُوا مِن قَبْلِهِمْ كَانُوا هُمْ أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَآثَارًا فِي الْأَرْضِ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ وَمَا كَانَ لَهُم مِّنَ اللَّهِ مِن وَاقٍ
Have they not travelled through the land so that they may observe how was the fate of those who were before them? They were greater than them in might and with respect to the effects [they left] in the land. But then Allah seized them for their sins, and they had no defender against Allah [’s punishment].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 40:21
[Pooya/Ali Commentary 40:21] Refer to the commentary of Rum: 9 and Fatir: 44.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 40:21-27
Consolation paragraph for Divine Lights and their followers.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:21-22
سوره مؤمن/ آیه 21- 22
۲۱۔اٴَ وَ لَمْ یَسیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کانَ عاقِبَةُ الَّذینَ کانُوا مِنْ قَبْلِہِمْ کانُوا ہُمْ اٴَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّةً وَ آثاراً فِی الْاٴَرْضِ فَاٴَخَذَہُمُ اللَّہُ بِذُنُوبِہِمْ وَ ما کانَ لَہُمْ مِنَ اللَّہِ مِنْ واقٍ ۔ ۲۲۔ ذلِکَ بِاٴَنَّہُمْ کانَتْ تَاٴْتیہِمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّناتِ فَکَفَرُوا فَاٴَخَذَہُمُ اللَّہُ إِنَّہُ قَوِیٌّ شَدیدُ الْعِقابِ۔ ترجمہ ۲۱۔ کیاانہوں نے روئے زمین کی سیرنہیں کی تاکہ وہ دیکھتے کہ جولوگ ان سے پہلے تھے ان کاکیا انجام ہوا ؟ وہ قدر ت و طاقت اورزمین میںآثار کے لحاظ سے ان سے بہت زیادہ تھے . لیکن خدانے نہیںان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیااور انہیں (عذاب ِ ) خداسے بچانے والا کوئی نہیں تھا ۔ ۲۲۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ ان کے رسول انکے پاس ہمیشہ واضح دلائل لے کرآتے رہے لیکن وہ سب کاانکار کرتے رہے لہذا خداوندعالم نے انہیں اپنی گرفت میں لے لیا ( اورانہیں سزادی ) کیونکہ وہ قوی اور شدید العقاب ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:21-22
ظالموں کادرد ناک انجام دیکھو
چونکہ قرآن مجید کا بہت سی آیات میں طریقہ کار یہی رہا ہے کہ حساس اوراصولی وکلّی قاعدوں کوذکرکرنے کے بعد انہیں جزئی اور محسوس مسائل کے ساتھ ملادیتاہے . اور انسان کاہاتھ پکڑکراسے ان مسائل کی تحقیقات کے لیے گزشتہ اورحال کے حالات کا مشاہدہ کرنے کے لیے جاتاہے . زیرنظر آیات کی بھی یہی کیفیت ہے جن میں مبداٴ ومعاد ،اعمال کی سخت جانچ پڑتال اورسرکشی اور گناہ کے خطرناک نتائج کے ذکر کے بعد لوگوں کوگزشتہ امتوں کے حالا ت منجملہ فرعون اور فرعونیوں کے حالات کامطالعہ کرنے کی دعوت دے رہاہے ۔ سب سے پہلے فرمایاگیاہے :آ یا انہوں نے روئے زمین کی سیر نہیں کی تاکہ وہ ان لوگوں کانجام دیکھتے جوان سے پہلے گزرچکے ہیں کہ کیاہوا (اٴَ وَ لَمْ یَسیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کانَ عاقِبَةُ الَّذینَ کانُوا مِنْ قَبْلِہِم)۔ یہ کوئی مرتب کردہ تاریخ نہیں ہے جس کے اصل اورصحیح ہونے میں کسی قسم کاشک کیاجا سکے ، یہ تو ایک زند ہ تاریخ ہے جواپنی زبان ِ بے زبانی سے پکار رہی ہے . تباہ کاروں کے محلوں کے کھنڈرات سرکشوں کے عذاب شدہ شہرمٹی تلے سوئے ہوئے لوگوں کی گلی سٹری بوسیدہ ہڈیاں اورزمین میںملی ہوئی سربفلک عمارتیں واقعی تاریخ کے ایسے سبق آموزجملے ہیں جوحقائق کو بے کم و کاست بیان کررہے ہیں ۔ پھرفرمایاگیا ہے : وہ ایسے لوگ تھے جو زمین میں اہم آثارکے اعتبار سے ان سے زیادہ طاقتور تھے (کانُوا ہُمْ اٴَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّةً وَ آثاراً فِی الْاٴَرْض)۔ وہ اس قدر طاقتور حکومتوں ،عظیم لشکروں اور روشن مادی تمدن کے مالک تھے کہ مشرکین مکہ کی زندگی توان کے نزدیک ایک باز یچہ ٴ اطفال سے زیادہ اہمیت کی حامل نہیں ہے ۔ ” اٴَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّةً “ کہہ کران کی سیاسی اورفوجی طاقت کے بار ے میں بھی بتایاجارہاہے اور اقتصادی و علمی طاقت کے بار ے میں بھی ۔ ” آثاراً فِی الْاٴَرْض“ کی تعبیرسے ممکن ہے کہ ان کی عظیم زرعی ترقی کی طرف اشارہ ہوجیساکہ سورہٴ روم کی آیت ۹ میں بھی آیاہے کہ : اٴَ وَ لَمْ یَسیرُوا فِی الْاٴَرْضِ فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کانَ عاقِبَةُ الَّذینَ مِنْ قَبْلِہِمْ کانُوا اٴَشَدَّ مِنْہُمْ قُوَّةً وَ اٴَثارُوا الْاٴَرْضَ وَ عَمَرُوہا اٴَکْثَرَ مِمَّا عَمَرُوہا ” کیا ان لوگوں نے زمین کی سیرنہیں کی کہ ان لوگوں کاانجام دیکھتے جوا ن سے پہلے تھے کہ وہ کیا ہوئے ؟ وہ بہت ہی طاقتور تھے اور زمین کو ( کھیتی باڑی کے لیے ) وگرگون کرتے تھے اوران سے زیادہ اُن لوگوں نے اسے آبادکیاتھا “ ۔ یہ بھی ہوسکتاہے کہ اس سے بڑ ی بڑی اورمحکم عمارتوں کی طرف ارشادفرماتاہے : اٴَ تَبْنُونَ بِکُلِّ ریعٍ آیَةً تَعْبَثُونَ ،وَ تَتَّخِذُونَ مَصانِعَ لَعَلَّکُمْ تَخْلُدُونَ آیاتم ہربلندمکان پر اپنی خواہشات ِ نفسانی کی نشانی تعمیرکرتے ہواور محکم قصر اورقلعے تعمیرکرتے ہو ؟ گو یا تم اس دنیا میں ہمیشہ رہوگے ۔ (شعرا ، ۱۲۸، ۱۲۹) اور آیت کے آخرمیں ان سرکش قوموں کاانجام ایک مختصر سے جملے میں یوں بیان کیاگیاہے : خدانے انہیں ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ لیااورکوئی نہ تھا کہ ان کادفاع کرتا اورانہیں عذابِ الہٰی سے بچاتا(فَاٴَخَذَہُمُ اللَّہُ بِذُنُوبِہِمْ وَ ما کانَ لَہُمْ مِنَ اللَّہِ مِنْ واق)۔ یہ تو افرادی قوت کی کثر ت انہیں عذاب الہٰی سے بچاسکی اورنہ ہی طاقت ، شان وشوکت اور بے حساب مال ودولت ۔ قرآن مجید میںکئی بار ” اخذ “ (پکڑنا ) سزادینے کی معنی میں آیاہے کیونکہ کسی کوسخت ترین سزادینے کیلئے پہلے اسے پکڑتے ہیں اور پھرسزا دیتے ہیں ۔ جوچیز پہلے اجمالی طور بیان کی گئی ہے اس تشریح کرتے ہوئے فرمایاگیا ہے : خدا کی یہ درد ناک سزااس لیے تھی کیونکہ ان کے رسول دلائل لے کران کے پاس آتے رہتے تھے اوروہ سب کاانکار کردیا کرتے تھے (ذلِکَ بِاٴَنَّہُمْ کانَتْ تَاٴْتیہِمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَیِّناتِ فَکَفَرُوا )۔ ایسانہیں تھاکہ وہ غافل یابے خبرتھے یاان سے سر زد ہونے والے گناہ اتما م حجت نہ کرنے کی وجہ سے تھے ، ان کے پاس پیغمبربھی مسلسل آیاکرتے تھے ( جیسا کہ ” کانت تاٴ تیھم “ کی تعبیرسے استفادہ ہوتاہے ) لیکن ان سب کے باوجود انہوں نے احکام الہٰی کے آگے سرتسلیم خم نہیں کی.وہ ہدایت کے چراغوں کوگل کردیتے ، ہمدرد رسولوں سے منہ پھیرلیتے بلکہ کبھی توانہیں شہید کردیتے ۔ ایسے ہی موقع پرخدانے ان کی گرفت کی (فَاٴَخَذَہُمُ اللَّہُ )۔ کیونکہ وہ طاقتور اورسخت عذاب دینے والاہے (إِنَّہُ قَوِیٌّ شَدیدُ الْعِقابِ)۔ رحمت کے موقع پر” ارحم الراحمین “ اورغضب کے مقام پر ” اشد المعاقبین“ ہے ۔