حمٓ
Ha, Meem.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 40:1
[Pooya/Ali Commentary 40:1] For Ha Mim (huruf muqatta-at) refer to the commentary of Baqarah: 1.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 40:1-9
Penance referred to in Couplet Seven above is derived by disowning fealty to non-authorized successors of the Prophet. Similarly wives and children of the faithful who have improved themselves, in disowning fealty to unauthorized, winning of Divine Mercy on Reckoning Day is a special feature of Shias as a result of their fealty to Divine Lights.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:1-3
۵۔ قرآن میں بخشش کے ذ رائع
کلام مجید میں بہت سے امور ایسے ہیں جومغفرت اور گناہوں کے معاف ہوجانے کے اسباب کی حیثیت سے بیان ہوئے ہیں . ان میں سے چندایک کی طرف ہم ذیل میںاشارہ کرتے ہیں ۔ ۱۔ توبہ . چنانچہ ارشاد ہوتاہے : یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَی اللَّہِ تَوْبَةً نَصُوحاً عَسی رَبُّکُمْ اٴَنْ یُکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُمْ اے وہ لوگ جوایمان لاچکے ہو ! خداکی طرف پلٹ جاؤ اور خالص توبہ کرو امید ہے کہ خدا تمہارے گناہ معاف کردے ( تحریم . ۸)۔ ۲۔ ایمان اورعمل صالح . چنانچہ فر ماتاہے : وَ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ وَ آمَنُوا بِما نُزِّلَ عَلی مُحَمَّدٍ وَ ہُوَ الْحَقُّ مِنْ رَبِّہِمْ کَفَّرَ عَنْہُمْ سَیِّئاتِہِمْ جولوگ ایمان لے آئے اور نیک اعمال بجالائے اور جوکچھ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پرنازل ہوا ہے اس پر بھی ایمان لے آئے اور وہ حق آیات ہیں اور ان کے پرو ردگارکی طرف سے ہیں ، توخدا وند عالم ان کے گناہوں کوبخش دے گا ( سورہ ٴ محمد.۲)۔ ۳ تقویٰ . چنانچہ ارشاد فرماتاہے : إِنْ تَتَّقُوا اللَّہَ یَجْعَلْ لَکُمْ فُرْقاناً وَ یُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُم ” اگرخدا کاتقویٰ اختیار کرو گے توخدا بھی تمہیں حق اورباطل کی پہچان عطا کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کرد ے گا “( انفال . ۱۹)۔ ۴۔ ہجر ت ، جہا د اور شہاد ت . جیساکہ فرماتاہے : فَالَّذینَ ہاجَرُوا وَ اٴُخْرِجُوا مِنْ دِیارِہِمْ وَ اٴُوذُوا فی سَبیلی وَ قاتَلُوا وَ قُتِلُوا لَاٴُکَفِّرَنَّ عَنْہُمْ سَیِّئاتِہِمْ جن لوگوں نے ہجرت کی اوراپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں انہیں دکھ پہنچا یاگی. اور جنگ کی اورمار ے گئے تو میں ایسے لوگوں کے گناہوں کویقینامعاف کردوں گا ( آل عمران . ۱۹۵)۔ ۵۔ چھپا کرراہِ خدامیں خرچ کرنا . جیساکہ اس کا ارشاد ہے : إِنْ تُبْدُوا الصَّدَقاتِ فَنِعِمَّا ہِیَ وَ إِنْ تُخْفُوہا وَ تُؤْتُوہَا الْفُقَراء َ فَہُوَ خَیْرٌ لَکُمْ وَ یُکَفِّرُ عَنْکُمْ مِنْ سَیِّئاتِکُمْ ’ ’ اگرتم راہِ خدامیں اپنے صدقات کوآشکار ا طو ر پرخرچ کروتو اچھاہے اوراگر انہیں چھپا کرخرچ کرو اورفقیروںکو دو توتمہارے لیے بہتر ہے اور وہ تمارے گناہوں کومعاف کردے گا ( بقرہ . ۲۷۱) ۔ ۶۔ قرض الحسنہ . چنانچہ فرماتاہے : إِنْ تُقْرِضُوا اللَّہَ قَرْضاً حَسَناً یُضاعِفْہُ لَکُمْ وَ یَغْفِرْ اگرتم خداکو قرض الحسنہ دوتووہ اسے تمہارے لیے دوگنا کردے گا اور تمہیں معاف کردے گا ( تغابن . ۱۷)۔ إِنْ تَجْتَنِبُوا کَبائِرَ ما تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئاتِکُمْ ۷۔ اگر تم گناہان کبیرہ سے بچوں کہ جن کہ پاس جانے سے تمہیں روکاگیاہے ، توہم تمہارے گناہان صغیرہ کومعاف کردیں گے (نساء . ۳۱)۔ تواس سے ہم پرمغفرتِ الہٰی کے درواز ے ہرطرف سے کھلے ہوئے ہیں . سات قرآنی آیات کی روسے مغفرت کے سات دروازے اوپر بیان ہوئے ہیں تاکہ ہم جس طرف سے چاہیں داخل ہو جائیں اور کیاہی بہتر ہو کہ ساتوں در وا زوں سے داخل ہوجائیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:1-3
۲. غضب دو رحمتوں کے درمیان
ان تمام اوصاف میں ” غافر الذنب“ سب سے اوّل میں اور”ذی الطول “ آخر میں ہے اور ان دونوں کے درمیان میں ” شدید العقاب“ ہے . درحقیقت اس کاغضب دور حمتوں کے درمیان واقع ہوا ہے اوراس کے علاوہ اس ایک صفت غضب کے ساتھ ساتھ تین صفات رحمت کاواقع ہونااس بات کی دلیل ہے کہ ” اس کی رحمت اس کے غضب سے آگے بڑھی ہوئی ہے “( یامن سبقت رحمتہ غضبہ )۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:1-3
امید افزا صفات
اس سورت کاآغاز بھی حروفِ مقطعات سے ہوتاہے اوریہاں پرکچھ نئے حروف دکھائی دیتے ہیں اوروہ ہیں ” حاء “ اور” میم “ ۔ حروفِ مقطعات کے بار ے میں سورہٴ بقرہ ، سور ہ ٴ آل عمران ، سورہ ٴ اعراف اوربعض دوسری سورتوں کے آغاز میں ہم تفصیل کے ساتھ گفتگو کرچکے ہیں . یہاں پر جوچیز بیان کرنے کے قابل ہے وہ یہ ہے کہ بعض روایات اور اسی طرح بہت سے مفسرین کے مطابق یہ دوحروف کہ جن سے سورت کاآغاز ہورہاہے خداکے دونام ہیں کہ جن ناموں کے آغاز میںیہ دوحروف ہیں جس طرح کہ حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی ایک حدیث میں ان کی ” حمید“ اور ” مجید“ سے تفسیر کی گئی ہے ( ۱)۔ یہ احتمال بھی ہے کہ ” ح “ خداکی ” حاکمیت “ اور ” م“ خداکی ” مالکیت “ کی طرف اشارہ ہو ۔ ا بن عباس سے منقول ہے کہ ” حٰم “ خداکا اسم اعظم ہے ( ۲)۔ ظاہر ہے کہ ان تفاسیر کاآپس میں کوئی تضاد نہیں بلکہ ممکن ہے کہ سب تفسیریں اس آیت کے معنی میں جمع ہوں۔ جس طرح کہ قرآن مجید کاطریقہ کار ہے کہ حروف مقطعہ کے بعد قرآ ن کی عظمت بیان کرتاہے اسی طرح بعد والی آیت میں بھی عظمتِ قرآن کاتذ کرہ ہے جواس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کتا ب اپنی اس قدر عظمت ورفعت کے باوجود انہی عام حروف الف باء سے مرکب ہے . اس قدر عظیم عمارت اس قدر معمولی سے صالح سے معرض وجود میں لائی گئی ہے ، جوبذات خوداس کے معجزہ ہونے کی دلیل ہے ۔ چنانچہ فرمایاگیا ہے : یہ ایسی کتاب ہے جوقادر اور دانا خداکی طرف سے نازل ہوئی ہے (تَنْزیلُ الْکِتابِ مِنَ اللَّہِ الْعَزیزِ الْعَلیمِ )۔ اس کی عزت اور قدرت اس بات کاموجب ہے کہ کوئی ایک بھی اس کی برابری نہیں کرسکتااوراس کا علم اس بات کا باعث ہے کہ اس کے تمام مضامین کمال کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہیں اور وہ ارتقاء وتکامل کی راہ میں تمام انسانی ضرور یات کو اچھی طرح جانتاہے ۔ اس کے بعد کی آیت میںخدا وند عالم کی پانچ ایسی عظیم صفات کاتذ کرہ ہے جن میں سے کچھ توامید افزا اور کچھ خوف آفرین ہیں ۔ فرمایا گیاہے : وہ ایساخدا ہے جو گناہوں کومعاف کرتاہے (غافِرِ الذَّنْبِ)۔ اور تو بہ قبول کرتاہے (وَ قابِلِ التَّوْبِ) ( ۳)۔ اس کی سزاسخت ہے (شَدیدِ الْعِقاب )۔ اس کی نعمتیں فر اوان ہیں (ذِی الطَّوْلِ) ( ۴)۔ ایسا خداہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں (لا إِلہَ إِلاَّ ہُو)۔ تم سب کی باز گشت اسی کی طرف ہے (إِلَیْہِ الْمَصیر)۔ جی ہاں ! جوذات بھی ان اوصاف کی مالک ہے وہی عبادت کے لائق اور سزا اورجزادینے کی حق دار ہے ۔ ۱۔ معانی الاخبار ازشیخ صدوق ۺ ص ۲۲ (باب معنی الحروفالمقطعة فی اوائل السور )۔ ۲۔ تفسیر ” قرطبی “ اسی آیت کے ذیل میں ۔ ۳۔ ” توب “ یاتو ، تو بہ کی جمع ہے یاپھر مصدر ہے ( مجمع البیان )۔ ۴۔ ’ ’ طول “ (بروزن قول) نعمت اورفضیلت کے معنی میں بھی ہے اور طاقت ،امکان اورکسی چیزتک جاپہنچنے کے معنی میں آتاہے ، بعض مفسرین کے مطابق ”ذی الطول“ اسے کہاجاتا ہے جو عظیم اورطولانی نعمتیں کسی دوسرے کوبخش دے. بنابریں اس کامعنی ” منعم “ کے معنی سے خاص ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:1-3
۱۔ ان آیات میں صفات الہٰی
مندرجہ بالا دوآیات ( ۲،3، ) میں ” اللہ کے نام ک بعد اور ” معاد “ کے ذکر ” الیہ المصیر “ سے پہلے خدا وند کریم کے اوصاف میں سے صفتیں بیان ہوئی ہیں ، جن میں سے کچھ تو ”صفات ذات “ ہیں اور کچھ ”صفات فعل “ ہیں جو مجموعی طور پر توحید ،علم ، قدرت ،رحمت اورغضب کوبیان کررہی ہیںاورعزیز و علیم ایسی صفات اس آسمانی کتاب کے نزول کی بنیاد قرار پائی ہیں اور غفرانِ ذنوب، قبولِ توبہ شدتِ عقاب اورعطائے نعمت تربیت نفوس اور خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کامقدمہ ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:1-3
سوره مؤمن/ آیه 1- 3
بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمنِ الرَّحیم ۱۔حم ۲۔تَنْزیلُ الْکِتابِ مِنَ اللَّہِ الْعَزیزِ الْعَلیمِ ۳۔ غافِرِ الذَّنْبِ وَ قابِلِ التَّوْبِ شَدیدِ الْعِقابِ ذِی الطَّوْلِ لا إِلہَ إِلاَّ ہُوَ إِلَیْہِ الْمَصیرُ ترجمہ ۱۔ حٰم ۔ ۲۔ یہ ایسی کتاب ہے جو قادر اوردانا خداکی طرف سے نازل ہوئی ہے ۔ ۳۔جوگناہوں کوبخشنے والا ، توبہ قبول کرنے والا ، سخت عذاب دینے والا اوربہت زیادہ نعمتوں کامالک ہے . اس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے ، ( تم سب کی ) با ز گشت اسی کی طرف ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:1-3
۳۔ َ إِلَیْہِ الْمَصیرکامفہوم
یہ نہ صرف اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ قیامت کے دن سب کی باز گشت اس کی طرف ہے بلکہ اس کامطلق ہونایہ بتا رہاہے کہ تمام امور کی بازگشت خواہ وہ اس دنیا میں ہوں خواہ دوسرے جہاں میں اسی کی طرف ہے اور تمام موجودات کا سلسلہ اسی کے ہاتھ میں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 40:1-3
۴۔ لا إِلہَ إِلاَّ ہُو کامفہوم اس آیت میں
یہ امر بھی توجہّ ہے کہ ”لا إِلہَ إِلاَّ ہُو “ کاجملہ جوآخری صفت کے طور پر آیاہے اور ” توحید عبودیت “ کوبیان کررہاہے اورغیر اللہ کی نفی کررہاہے درحقیقت آخری صفت اورآخری نتیجہ کے طور پر بیان ہوا ہے . یہی وجہ ہے کہ ہم ابن عباس کی بیان کردہ ایک روایت میںپڑھتے ہیں کہ : ” وہ ” غافِرِ الذَّنْبِ“ ہے ا س شخص کے لیے جو ” لا إِلہَ إِلاَّ اللَّہ“ کہے “ ” وہ ” َ قابِلِ التَّوْب“ ہے اس شخص کے لیے جو ” لا إِلہَ إِلاَّ اللَّہ“ کہے “ ” وہ ” شَدیدِ الْعِقاب“ ہے اس شخص کے لیے جو ” لا إِلہَ إِلاَّ اللَّہ“ نہ کہے اور ” وہ ”ذِی الطَّوْل “ ہے اس شخص کے لیے جو ’ ’لا إِلہَ إِلاَّ اللَّہ“ نہ کہے “ ۔ پس بنابریں ان تمام صفات کا محوردہ لوگ ہیں جو توحید پر ایمان رکھتے ہیں اوران کاقول وعمل توحید کے جادہ سے منحرف نہ ہو ۔