وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا
Let those fear [the result of mistreating orphans] who, were they to leave behind weak offspring, would be concerned on their account. So let them be wary of Allah, and let them speak upright words.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:9
[Pooya/Ali Commentary 4:9] The Holy Prophet said: Those who have devoured the possessions of the orphans unjustly will breathe blazing fire on the day of resurrection. Such people must fear the situation if they were to leave weak children behind them. How concerned would they be for them? So they must safeguard themselves with full awareness of Allah's laws, otherwise they will surely burn in hell.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:9
یتیموں پر لطف و کرم کی بارش
یتیموں پر لطف و کرم کی بارش وَ لْیَخْشَ الَّذینَ لَوْ تَرَکُوا ۔۔۔ قرآن یتیموں کی حالت زار کے بارے میں لوگوں کے جذبات کرم ابھارنے کے لیے ایک ایسی حقیقت کی ظرف اشارہ کرتا ہے جس سے کبھی کبھی لوگ غافل ہو جاتے ہیں اور وہ یہ کہ تم عام یتیموں کے ساتھ وہی سلو ک کرو جو تم چاہتے ہوکہ کل لوگ تمہارے یتیموں کے ساتھ کریں۔ اپنے بے یار و مدد گار اور لا وارث بچوں کی بری حالت پیش نظر رکھو جبکہ وہ ایک ظالم اور بے ایمان شخص کی سر پرستی میں ہوں ، جو نہ انکے جذبات و احساس پر نظر کرے اور نہ ان کے مال میں عدالت کا خیال رکھے ۔ تو یہ درد ناک منظر تمہارے لئے کتنا تکلیف دےہ ہوگا اور تم اپنی اولاد کے لئے کتنے فکر مند ہو گے ۔ اسی طرح دوسرے کی اولاد اور یتیموں کے لئے فکر کرو ۔ ان کی تکلیف کا احساس کرو ۔ اس بنا پر آیت کا مطلب کچھ یوں ہوگا : وہ لوگ جو اپنی اولاد کی آئندہ زندگی کے متعلق حیران و پریشان ہیں ، انہیں چاہیے کہ وہ یتیموں سے خیانت کرنے اور انہیں ستانے سے پرہیز کریں ۔ اجتماعی مسئلے اصولی طور پر ہمیشہ ایک سنت کی شکل میں آج سے کل اور کل سے آئندہ زمانے تک اثر کرتے اورپھیلتے ہیں ۔ جو لوگ معاشرے میں کسی ظلم کی بنیاد ڈالتے ہیں ۔ مثلاً یتیموں کے ستانے کی رسم ڈالتے ہیں ، در اصل وہ خود اس بات کی دعوت اور عملی نمونہ ہوتے ہیں کہ کل ان کی اولاد کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جائے ۔ اس لئے وہ نہ صرف دوسروں کی اولاد پر مشق ستم کرتے ہیں بلکہ اپنی اولاد کے لئے بھی ظلم وستم ستم کی راہ ہموار کرتے ہیں ۔ فَلْیَتَّقُوا اللَّہَ وَ لْیَقُولُوا قَوْلاً سَدیداً ۔ اب جبکہ یہ حال ہے تو یتیموں کے سرپرستوں کو چاہیے کہ وہ خدا وند عالم کے احکام کی مخالفت نہ کریں اور یتیموں کے ساتھ میٹھے لہجے میں بات کریں اور ان سے شفقت آمیز سلوک کریں تا کہ ان کے باطنی دکھ دور ہو جائیں اور دل کے زخم بھر جائیں۔ اسلام کا یہ بلند پایہ حکم جو مندرجہ بالا جملے میں موجود ہے ایتام کی پرورش کے سلسلے میں ایک نفیساتی نکتے کی طرف اشارہ کرتا ہے جو نہایت قابل غور ہے اور وہ یہ کہ ایک ننھے منے یتیم کی ضرورت صرف خوراک اور پوشاک تک محدود نہیں بلکہ ہمدردی اور مہربانی سے اس کے احساست قلبی کی تسکین بھی ضروری ہے جو اس کی آئندہ تعمیر و تربیت میں اثر انداز ہو گی ۔ کیونکہ یتیم بھی دوسروں کی طرح انسان ہے اور چاہیے کہ اسے اس مہربانی کے برتاوٴ سے ایک روحانی غذا ملے اور اس محبت اور پیار سے اسے وہ راحت ملے جو ایک بچے کو ماں باپ کی گود میں ملتی ہے ۔ وہ ایک بھیڑ کے بچہ کی مانند نہیں ہے کہ سبح کے وقت ریوڑ کےساتھ چرا گاہ میں چلا جائے اور شام کے وقت واپس آ جائے ۔ جسمانی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ یہ بھی نہایت ضروری ہے کہ اس کے نفیساتی میلانات کی بھی خاطر خواہ تعلیم و تربیت کا خیال رکھا جائے ورنہ وہ ایک ظالم ، معاشرے کا باغی ، برا اور خطرناک شخص بنے گا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:9
جو لوگ یتیموں کا مال ظلم و ستم سے کھاتے ہیں
۱۰ ۔ إِنَّ الَّذینَ یَاٴْکُلُونَ اٴَمْوالَ الْیَتامی ظُلْماً إِنَّما یَاٴْکُلُونَ فی بُطُونِہِمْ ناراً وَ سَیَصْلَوْنَ سَعیراً ۔ ترجمہ ۱۰ ۔ جو لوگ یتیموں کا مال ظلم و ستم سے کھاتے ہیں وہ صرف آگ کھا رہے ہیں اور بہت جلد جلانے والی آگ میں جلیں کے ۔ تفسیر
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:9
ایک ضروری وضاحت
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک صحابی وے منقول ہے کہ ایک دن چھٹے امام نے فرمایا: جو شخص کسی پر ظلم کرے خدا وند عالم کسی شخص کو اس پر مسلط کر دے گا تا کہ وہ اس پر اسی طرح کا ظلم و ستم کرے ۔ صحابی کہتا ہے :میں نے دل ہی دل میں سوچا ، یہ تو بڑے تعجب کی بات ہے کہ ظلم تو بوپ کرے اور اس کے کئے کی سزا اولاد بھگتے ۔ اس سے پہلے کہ میں اپنی ( اس بات کو ) بیان کروں ، امام عالی مقام نے فرمایا: قرآن فرماتا ہے -: وَ لْیَخْشَ الَّذینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّةً ضِعافاً خافُوا عَلَیْہِمْ ۱ جو سوال حدیث کے راوی کے دل میں پیدا ہوا تھا بہت سے لوگ وہی سوال کرتے ہیں کہ خدا وند عالم کا ایک شخص کے جرم کا بدلہ دوسرے سے لینا کس طرح جائز ہے ؟ اصولی طور پر یہ ظالم کی اولاد نے کونسا گناہ کیا ہے کہ وہ اس ظلم و ستم کا شکار ہو ! اس سوال کا جواب مندرجہ بالا تحریر سے بخوبی معلوم ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ معاشرے کے افراد جو کام بھی کرتے ہیں وہ آہستہ آہستہ ایک رسم و رواج کی صورت اختیار کر لیتے ہیں اور آنے والی نسلوں کی طرف منتقل ہوتے رہتے ہیں آخر ایک دن یہ بدعت ان کی اولاد پر بھی اثر انداز ہو گی ۔ اصل میں یہ بات ان کے اعمال کے وضعی اور کتوینی آثار میں سے ہے ۔ اگر اسے خدا کی طرف نسبت دی جائے تو ہو صرف اس بنا پر ہے کہ سب کے سب تکوینی اثرات اور علت و معلول کے خواص اسی سے منسوب ہےں ۔ غرض کسی طرح بھی خدا وند عالم کی طرف سے کسی پر ظلم نہیں ہوتا ۔ خلاصہ یہ ہے کہ جب بھی کسی معاشرے میں ظلم و ستم کی بنیاد رکھی گئی وہ ظالم اور اس کی اولاد کے لئے زنجیر پا بن گئی ۔ ۱ ۔ تفسیر برہان ، جلد اول ، صفحہ ۳۴۶