وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُم مِّنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَّعْرُوفًا
And when the division is attended by relatives, the orphans and the needy, provide for them out of it, and speak to them honourable words.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:8
[Pooya/Ali Commentary 4:8] Distant and remote relatives, who are not legal heirs of the deceased, have also been accommodated in the most benevolent social order of the world-Islam.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:8
جو لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں
۹ ۔ وَ لْیَخْشَ الَّذینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّةً ضِعافاً خافُوا عَلَیْہِمْ فَلْیَتَّقُوا اللَّہَ وَ لْیَقُولُوا قَوْلاً سَدیداً ۔ ترجمہ ۹ ۔ جو لوگ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ اگر وہ اپنے بعد نابالغ اولاد چھوڑ جائیں گے تو اسکا آنے والے دور میں کیا حشر ہوگا ،انہیں چاہیے کہ وہ یتیموں پر ظلم کرنے سے ڈریں اور خدا کی مخالفت سے بچیں اور یتیموں سے محبت اور نرمی سے گفتگو کریں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:8
ایک اخلاقی حکم
ایک اخلاقی حکم وَ إِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اٴُولُوا الْقُرْبی وَ الْیَتامی وَ الْمَساکینُ فَارْزُقُوہُمْ مِنْہُ یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ یہ آیت قانون وراثت کے بعد نازل ہوئی ہے کیونکہ یہ بتاتی ہے کہ جب تقسیم میراث کی مجلس میں رشتہ دار ، یتیم اور مسکین موجود ہوں تو اس میں سے کچھ نہ کچھ انہیں بھی دے دو ۔ بنا بریں اس آیت کا مفہوم ایک مستحب اور اخلاقی حکم ہے ان طبقات کے بارے میں جو زیادہ نزدیکی ہوتے ہوئے بھی میراث سے محروم ہیں ۔ آیت کہتی ہے : اگر تقسیم میراث کی مجلس میں کچھ دوسرے یا تیسرے درجے کے رشتہ دار اور اسی طرح بعض یتیم اور مسکین ہوں تو کچھ نہ کچھ مال انہیں بھی دے دو ۔ اگر چہ لفظ ” یتامیٰ “ اور ” ،مسکین “ مطلق کے طور پر استعمال کیا گیا ہے لیکن ظاہراً اس سے مراد کنبہ اور خاندان کے یتیم و مسکین ہیں کیونکہ قانون میراث کے مطابق قریب ترین طبقات ( رشتہ داروں ) کے ہوتے ہوئے دور تر طبقات میراث لینے سے محروم رہتے ہیں۔ اس لئے اگر وہ اس طرح کے اجتماع میں موجود ہوں تو مناسب ہے کہ عمدہ ہدیہ ( جس کی مقدار کا مقرر کرنا صرف وارثوں کے ارادے سے وابستہ ہے جو بڑے وارثوں کے مال میں سے ہو گی ) انہیں دیا جائے ۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ آیت میں یتیموں اور مسکینوں سے مراد ہر قسم کے یتیم اور ضرورتمند ہیں ، چاہے وہ میت کے رشتہ دار ہوں یا ان کے علاوہ غیر ۔ لیکن یہ احتمال بعید دکھائی دیتا ہے کیونکہ بیگانے اور غیر اس قسم کے خاندانی اجتماع میں نہیں آ سکتے ۔ بعض مفسرین یہ اعتقاد بھی رکھتے ہیں کہ یہ آیت ایک واجب حکم بیان کر رہی ہے نہ کہ مستحب لیکن یہ بھی بعید ہے کیونکہ اگر واجب حق ہوتا تو ضروری تھا کہ اس کی مقدار اور حدود کا تعین کیا جاتا ، حالا نکہ یہاں یہ اختیار حقیقی وارثوں کو دیا گیا ہے ۔ و قولوا لھم قولاً معروفا ً آیت کے آخر میں یہ حکم ہے کہ میراث سے محروم رہنے والوں سے میٹھی زبان اور شائستہ طریقہ سے گفتگو کرو ۔ یعنی مادی امداد کے علاوہ اپنے اخلاقی سرمائے سے بھی ان کی محبت حاصل کرو تا کہ ان کے دل میں کسی قسم کی تکلیف نہ رہنے پائے اور یہ حکم مندرجہ بالا حکم مستحب ہونے کی دوسری دلیل ہے ۔ جو کچھ ہم نے لکھا ہے اس سے یہ مطلب بھی واضح ہو جاتا ہے کہ کوئی ایسی دلیل نہیں ہے کہ آیت مندرجہ بالا سرمائے اور میراث کو متعین کرنے والی آیات کی وجہ سے منسوخ ہو گئی ہے کیونکہ ان آیتوں اور اس آیت کے درمیان کسی قسم کا بالکل تضاد نہیں ہے ۔