إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا
Indeed those who consume the property of orphans wrongfully, only ingest fire into their bellies, and soon they will enter the Blaze.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:10
[Pooya/Ali Commentary 4:10] (see commentary for verse 9)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:10
ہمارے اعمال کا باطنی چہرہ
ہمارے اعمال کا باطنی چہرہ إِنَّ الَّذینَ یَاٴْکُلُونَ اٴَمْوالَ الْیَتامی ظُلْماً إِنَّما یَاٴْکُلُونَ فی بُطُونِہِمْ ناراً ۔ ۔ ہم اس سورے کے شروع میں تحریر کر چکے ہیں کہ اس سورے کی آیتیں ایک صحیح و سالم معاشرے کی بنیاد قائم کرنے کے لئے نازل ہوئی ہیں ۔ اس لئے پہلے پہل جہالت کے زمانے کی رسموں اور مجرمانہ غلط کاریوں کو جو بعض نو مسلموں کے دلوں میں تھیں دور کر کے شروع میں یتیموں کے مال میں بے جا تصرف کرنے کے خلاف سخت قسم کے احکام دکھائی دیتے ہیں ، جن میں آیت مذکورہ بالا سب سے زیادہ واضح ہے ۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ جو لوگ یتیموں کا مال ہیرا پھیری کرکے کھتے ہیں وہ در حقیقت آگ کھاتے ہیں ۔ سارے قرآن میں اس قسم کی تعبیر صرف ایک مقام پر نظر آتی ہے اور وہ ایسے لوگوں کے متعلق ہے جو حقائق چھپا کر آیات الہی میں رد و بدل کرکے نفع کماتے ہیں ۔ ان کے بارے میں خدا وند عالم فرماتا ہے : إِنَّ الَّذینَ یَکتمون ما انزل اللہ من الکتاب و یبشرون بہ ثمناً قلیلاً اولئک َما یَاٴْکُلُونَ فی بُطُونِہِم الاْالنار۔ جو لوگ خدا وند عالم کی آیتوں کو چھپاتے ہیں اور ان کے ذریعہ معمولی سا فائدہ اٹھاتے ہیں وہ آگ کے سوا کچھ نہیں کھاتے۔ (سورہ بقرہ ،۱۷۴)۔ وَ سَیَصْلَوْنَ سَعیراً ۔ ” وَسَیَصْلَی“ اصل میں صلی ( بر وزن درد ) کے مادے سے آگ میں داخل ہونے اور جلنے کے معنی میں ہے اور سعیر کے معنی ہیں بھڑکتی ہوئی آگ ۔ قرآن اس آیت میں بتاتا ہے کہ اس دنیا میں آگ کھنے کے علاوہ وہ بہت جلد آخرت میں میں بھی بھڑکتی ہوئی آگ میں جائیں گے جو انہیں بری طرح جلا دئے گی ۔ اس ّیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اعمال کا ظاہری چہرے کے علاوہ ایک حقیقی چہرہ بھی ہے ، جو اس دنیا میں ہماری آنکھوں سے اوجھل ہے لیکن یہ باطنی چہرے ّیت میں طاہر ہو جائیں گے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمل مجسم حالت میں پیش ہوں گے ۔ قرآن فرماتا ہے : جو لوگ یتیم کا مال کھاتے ہیں اگر چہ ان کے عمل کا ظاہری چہرہ رنگین و لذیذ غذاوٴں سے فائدہ اٹھاتے دکھائی دیتا ہے لیکن ان غذاوٴں کا اصلی چہرہ جلانے والی آگ ہے اور یہی وہ چہرہ ہے جو قیامت کے دن ظاہر ہوگا ۔ حقیقی چہرہ ہمیشہ اس عمل کا ظاہری حالت کے ساتھ خاص مناسبت رکھتا ہے ۔ جس طرح یتیم کا مال کھانا اور اس کے حقوق چھیننا ، اس کے دل کو جلاتا اور اس کی روح کوتڑپاتا ہے ( اسی طرح ) اس کا عمل حقیقی چہرہ جلانے والی آگ ہے ۔ اس امر کی طرف ( اعمال کے حقیقی چہرے ) ان لوگوں کے لئے جو ان حقائق پر ایمان رکھتے ہیں ، توجہ دینا غلط کام کرنے سے روکنے کے لئے بہت ہی کار گر ہے ۔ کیا کوئی ایسا شخص ہے جو اپنے ہاتھ سے آگ کے انگارے اٹھا کر اپنے منہ میں رکھے اور نگل جائے ؟ اسی طرح ایمان دار لوگوں کے لئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ خواہ مخواہ یتیم کا مال کھائیں ۔ اگر ہم یہ دیکھتے کہ خدا والے گناہ کا تصور تک نہیں کرتے تھے تو اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ وہ علم و ایمان کی طاقت اور اخلاقی تعلیم و تربیت کے اچر سے اعمال کے اصلی چہروں کو دیکھتے تھے ، اس لئے کبھی برا کام کرنے کا خیال تک نہ کرتے تھے ۔ ہو سکتا ہے کہ ایک نادان اور بے خبر بھولا بھالا بچہ جلانے والی آگ کے انگارے کی دل خوش کرنے والی روشنی دیکھ کر اس پر ایسا لٹو ہو جاتا ئے کہ اسے اچانک ہاتھ میں لے لے لیکن ایک سمجھ دار انسان جو آگ کے جلانے کی صفت کو بارہا آزما چکا ہے وہ یہ حماقت نہیں کرتا ۔ وہ کبھی اس کا تصور بھی نہ کرے گا ۔ یتیموں کے مال میں دست درازی کرنے کے بارے میں بہت زیادہ دل ہلادینے والی احادیث و رویات ہیں ۔ یہاں تک کہ یتیموں کے مال میں تھوڑی سے تھڑی زیادتی بھی ان احکام کی روشنی میں قابل گرفت ہے ۔ ایک حدیث میں حضرت امام محمد باقر حضرت امام جعفر صادق (ع) سے منقول ہے کہ کسی نے سوال کیا کہ یہ آیت کی سزا یتیم کا کتنا مال صب کرنے پر ہے ، تو آپ(ع) نے فرمایا : دو درہم کے برابر ۔ ۱ ۱ ۔ تفسیر برہان زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:10
خدا تم کو تمہاری اولاد کے بارے مین وصیت کرتا ہے
۱۱۔یُوصیکُمُ اللَّہُ فی اٴَوْلادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاٴُنْثَیَیْنِ فَإِنْ کُنَّ نِساء ً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَہُنَّ ثُلُثا ما تَرَکَ وَ إِنْ کانَتْ واحِدَةً فَلَہَا النِّصْفُ وَ لِاٴَبَوَیْہِ لِکُلِّ واحِدٍ مِنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ إِنْ کانَ لَہُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ وَلَدٌ وَ وَرِثَہُ اٴَبَواہُ فَلِاٴُمِّہِ الثُّلُثُ فَإِنْ کانَ لَہُ إِخْوَةٌ فَلِاٴُمِّہِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُوصی بِہا اٴَوْ دَیْنٍ آباؤُکُمْ وَ اٴَبْناؤُکُمْ لا تَدْرُونَ اٴَیُّہُمْ اٴَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعاً فَریضَةً مِنَ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ کانَ عَلیماً حَکیماً ۔ ۱۲ ۔ وَ لَکُمْ نِصْفُ ما تَرَکَ اٴَزْواجُکُمْ إِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ کانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُوصینَ بِہا اٴَوْ دَیْنٍ وَ لَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ إِنْ لَمْ یَکُنْ لَکُمْ وَلَدٌ فَإِنْ کانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوصُونَ بِہا اٴَوْ دَیْنٍ وَ إِنْ کانَ رَجُلٌ یُورَثُ کَلالَةً اٴَوِ امْرَاٴَةٌ وَ لَہُ اٴَخٌ اٴَوْ اٴُخْتٌ فَلِکُلِّ واحِدٍ مِنْہُمَا السُّدُسُ فَإِنْ کانُوا اٴَکْثَرَ مِنْ ذلِکَ فَہُمْ شُرَکاء ُ فِی الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُوصی بِہا اٴَوْ دَیْنٍ غَیْرَ مُضَارٍّ وَصِیَّةً مِنَ اللَّہِ وَ اللَّہُ عَلیمٌ حَلیم۔ ترجمہ ۱۱۔ خدا تم کو تمہاری اولاد کے بارے مین وصیت کرتا ہے کہ ( میراث میں سے ) ایک بیٹے کا دو بیٹیوں کے برابر حصہ ہے اگر تمہاری ( دو یا ) دو سے زیادہ بیٹیاں ہوں تو میراث کی دو تہائی دو تہائی ان کے لئے ہے اور اگر ایک ہو تو اس کے لئے آدھی میراث ہے ۔ اور ( مرنے والے کے ) باپ اور ماںمیں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے اگر اس کی اولاد ہو ۔ ( بصورت دیگر ) اگر اس کے اولاد نہ ہواور صرف ماں باپ اس کی میراث لیں تو اس کی ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے اور اگر اس کے بھائی موجود ہوں تو اس کی ماں چھٹا حصہ لے گی ( اور باقی چھ میں سے پانچ حصے اس کے باپ کے لئے ہےں ) یہ سب کچھ اس وصیت پر عمل کرچکنے کے بعد ہے جو مرنے والا کر گیا ہے ، قرض ادا کرنے کے بعد ۔ تم نہیں جانتے کہ باہ اور ماوٴں اور تمہاری اولاد میں سے کون تمہارے لئے زیادہ اچھا ہے ۔ یہ خدائی کا حکم ہے اور وہ دانا اور حکیم ہے ۔ ۱۲۔ اور تمہارے لئے تمہاری بیویوں کی میراث میں سے اولاً آدھا ہے اگر ان کے ہاں اولاد نہ ہو اور اگر ان کی اولاد ہو تو ان کی وصیت اور قرض کی ادائگی کے بعد چوتھا حصہ ہے اور تمہاری بیویوں کے لئے تمہاری میراث کا چوتھا حصہ ہے ، اگر تمہاری کوئی اولاد نہ ہو اور اگر تمہاری اولاد ہو تو ان کا تمہاری وصیت کی تکمیل اور قرض کی ادائیگی کے بعد آٹھواں حصہ ہے اور اگر کوئی ایسا شخص ہو کہ کلالہ ( ایک نہن ایک بھائی ) اس کی میراث لے یا کوئی عورت ہے کہ جس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے ( اگر بھائی اور بہنیں مادری ہوں ) اور ایک سے زیادہ ہوں تو پھر وہ وصیت کو پورا کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد تیسرے حصہ میں برابر برابر شریک ہیں ۔ بشرطیکہ (وصیت کے طریقے اور قرض کا اقرار ) انہیں نقصان نہ پہنچائے ۔ یہ خدا کی سفارش ہے اور وہ جاننے والا اور حکیم ہے ۔ شان نزول صدر اسلام کے مشہور شاعر حسان بن ثابت کا بھائی عبد الرحمن بن ثابت انصاری فوت ہو گیا ۔ اس کی ایک بیوی اور پانچ بھائی تھے عبد الرحمن کے بھائیوں نے میراث اپنے درمیان تقسیم کر لی اور اس کی بیوی کو کچھ نہ دیا ۔ یہ واقعہ حضرت رسول اکرم کی خدمت اقدس میں پیش کیا گیا اور میراث لینے والوں کی شکایت کی گئی ۔ اس پر آیات مندرجہ بالا نازل ہوئیں ۔ ان میں شوہر اور بیوی کی میراث کی تفصیل بیان کی گئی ہے ۔ نیز حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری سے منقول ہے وہ کہتے ہیں : میں بیمار ہو گیا تھا ۔ جب حضور میری عیادت کے لئے تشریف لائے تو میں بے ہوش ہو چکا تھا ۔ آنحضرت نے پانی منگوایا کچھ پانی سے وضو فرمایا ، باقی مجھ پر چھڑک دیا تو میں ہوش میں آگیا ۔ آپ خاموش رہے ۔ کچھ دیر بعد یہ آیت نازل ہوئیں اور میں وارثوں کے حصے معین ہو گئے ۔