فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ عَسَى اللَّهُ أَن يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنكِيلًا
So fight in the way of Allah: you are responsible only for yourself, but urge on the faithful [to fight]. Maybe Allah will curb the might of the faithless, for Allah is greatest in might and severest in punishment.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:84
[Pooya/Ali Commentary 4:84] "So fight in the way of Allah" was revealed when the heathens of Makka attacked the Muslims in Madina for no reason at all. So powerful and invincible the anti-Islamic forces seemed to be that the Muslims refused to fight. Only seventy persons alongwith the Holy Prophet marched to the scene of battle, known as Badr al-sughra, but a sudden fright terrified Abu Sufyan and his men, and they went back to Makka.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:84
شان ِ نزول
تفسیر مجمع البیان ، قرطبی اور روح المعانی میں اس آیت کی شانِ نزول کے بارے میں اس طرح منقول ہے : جس وقت ابو سفیان اور قریش کا لشکر فتح و کامیابی کے ساتھ میدان ِ احد سے پلٹا تو ابو سفیان نے پیغمبر سے معاہدہ کیا کہ بدر صغریٰ کے موقع پر ( یعنی ماہِ ذی القعدہ میں جو بازار بدر کی زمین پر لگتا تھا) دوبارہ ایک دوسرے سے مقابلہ کریں گے ۔ جب مقررہ وقت آیا تو پیغمبر اکرم نے مسلمانوں کو مذکورہ مقام کی طرف جانے کی دعوت دی لیکن مسلمانوں کی ایک جماعت جو جنگ احد کی شکست کی تلخی کو ابھی تک نہیں بھولی تھی اس نے شدت کے ساتھ جانے کی مخالفت کی اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہو ئی اور رسول اللہ نے مسلمانوں کو دوبارہ چلنے کی دعوت دی تو اس موقع پر صرف ستر آدمی پیغمبر کے ہم رکاب ہو کر اس مقام پر پہنچے ۔ لیکن ابو سفیان ( جو مسلمانوں کا سامنا کرنے سے خوف زدہ تھا) مقابلہ کرنے نہ آیا اور پیغمبر اکرم اپنے اصحاب کے ساتھ صحیح و سلامت مدینہ لوٹ آئے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:84
کلام خدا میں ” عسی ٰ“ اور ” لعل “ کے معنی
لفظ ” عسیٰ “ عربی لغت میں شائد کے معنی میں ردد کا مفہوم بھی دیتا ہے اور ” لعل“ پر امید ہونے ، انتظار اور ایسے امر کی توقع کے معنی میں آتا ہے آئندہ جنکے وجود کا یقین نہ ہو بلکہ احتمال ہو ۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس قسم کے الفاظ انسانوں کی گفتگو میں آنا تو فطری اور عین طبعی ہے کیونکہ انسان تمام مسائل سے آگاہ نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ اس کی صلاحیت و قدرت بھی محدود ہے اور وہ جو کچھ کرے اس کے انجام کو اپنی مرضی کے تابع نہیں کرسکتا۔ لیکن وہ خدا جو ماضی ، حال اور مستقبل سے مکمل طو رپر باخبر ہے اور جو کرنا چاہے اس کا اختیار رکھتا ہے اس کے لئے ”جہالت “ی ا” بے اختیار“ ہونے کے الفاظ استعمال کرنے کا تصور بھی نہیں ہو سکتا اس لئے بہت سے علماء یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اس قسم کے الفاظ جو اس کے کلام میں استعمال ہوں وہ اپنے اصل معنی میں استعمال نہیں ہوتے بلکہ ان کے کچھ اور معنی نکلتے ہیں مثلاً” عسی ٰ“ وعدہ کے معنی اور ” لعل “ طلب کے معنی میں ہے ۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ الفاظ کلام خدا میں بھی اپنے وہی اصلی معانی رکھتے ہیں اور ان کا لازمہ جہالت اور عدم اختیار نہیں ہے بلکہ یہ الفاظ ایسے مواقع پر استعمال ہوتے ہیں کہ جہاں مقصد تک پہنچنے کے لئے کئی ایک مقامات کی ضرورت ہوتی ہے تو جس وقت ان میں سے ایک یا کئی مقدمات حاصل ہو جائیں تو پھر بھی اس مقصد کے موجود ہونے کا قطعی اور یقینی حکم نہیں لگا یا جا سکتا بلکہ چاہیئے کہ اسے احتمالی حکم کے طور پر بیان کیا جائے ۔ مثلاً قرآن کہتا ہے :۔ واذا قرء القراٰن فاستمعو ا لہ و انصتوا لعلکم ترحمون جب قرآن پڑھا جائے تو کا دھرکے سنو اور خاموش رہو ، امید ہے کہ خدا کی رحمت تمہارے شامل حال ہو ۔ (اعراف،۲۰۴) واضح ہے کہ صرف قرآن کی آیات کو کان دھر نے کے سننے سے خدا کی رحمت انسان کے شامل حال نہیں ہوتی بلکہ یہ تو ایک مقدمہ ہے اس کے علاوہ بھی دیگر لوازم ہیں جن میں ان آیات کا فہم و ادراک اور اس کے بعد ان احکام پر عمل در آمد جو ان آیات میں موجود ہیں بھی شامل ہیں ۔ لہٰذا اس قسم کے مواقع پر ایک مقدمہ کے موجود ہونے سے نتیجہ کے حصول کا قطعی اور یقینی حکم نہیں لگا یا جا سکتا بلکہ اس ے ایک احتمالی حکم کے طور پر بیان کرنا ہو گا دوسرے لفظوں میں کلامِ خدا میں اس قسم کی تعبیرات تو بیدار کرنے اور سننے والے کو اس طرف متوجہ کرنے کے لئے ہیں اس کا م کے علاوہ کچھ اور شرائط و مقدمات بھی مقصد تک پہنچنے کے لئے ضروری ہیں مثلاً اسی مثال میں خدا کی رحمت کا شعور حاصل کرنے کے لئے قرآن کو غور سے سننے کے ساتھ اس پر عمل کرنا بھی ضروری ہے ۔ زیر بحث آیت پر بھی یہ گفتگو مکمل طور پر صادق آتی ہے کیونکہ کفار کی طاقت صرف مومنین کو دعوت جہاد دینے اور انھیں شوق جہاد دینے سے ختم نہیں ہوسکتی بلکہ اس کے ساتھ جہاد کے باقی لائحہ عمل پر عملدر آمد بھی ضروری ہے تاکہ اصل مقصد حاصل ہو سکے اس بنا پر ضروری نہیں ہے کہ الفاظ جب خدا کے کلام میں آئیں تو ان کے حقیقی معنی سے صرف نظر کر لیا جائے ۔ 1 ۸۵۔ مَنْ یَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَکُنْ لَہُ نَصِیبٌ مِنْہَا وَمَنْ یَشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَکُنْ لَہُ کِفْلٌ مِنْہَاوَکَانَ اللهُ عَلَی کُلِّ شَیْءٍ مُقِیتًا ترجمہ ۸۵۔جو شخص نیک کام کی تحریک دے اس میں اس کا حصہ ہوگا اور جو برے کام کے لئے ابھارے گا تو اس میں سے ( بھی ) اسے حصہ ملے گا۔ اور خدا ہر چیز کا حساب کرتا اور اسے محفوظ رکھتا ہے ۔ تفسیر 1-راغب نے کتاب مفردات میں اس قسم کے الفاظ( عسیٰ وغیرہ ) کی تفسیر میں ایک دوسرا احتمال بھی بیان کیا ہے اور وہ یہ کہ ان سے مخاطب اور سننے والے کو امید دلانا مقصود ہے ۔ نہ کہ کہنے والے کی امید بیان کرنا اور واضح تر الفاظ میں جب خدا کہتا ہے ” عسی و لعل “ تو اس کا معنی یہ نہیں ہے کہ میں امید رکھتا ہوں بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ تم امید رکھو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:84
ہر شخص اپنے فرائض کا جوابدہ ہے
جہاد سے متعلق آیات کے بعد اس آیت میں ایک بہت بڑا حکم پیغمبر کو دیا گیا ہے اور وہ یہ کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ اکیلے دشمن کے مقابلہ میں کھڑے ہو جائیں ۔ چاہے ایک شخص بھی میدان میں ان کا ہم قدم نہ ہو ۔ کیونکہ وہ صرف اپنی ذمہ داری کے لئے جوابدہ ہیں اور وہ دوسرے لوگوں کے بارے میں شوق دلانے اور دعوتِ جہاد دینے کے علاوہ ان کی کوئی مسئولیت نہیں ہے ۔ ( فَقَاتِلْ فِی سَبِیلِ اللهِ لاَتُکَلَّفُ إِلاَّ نَفْسَکَ وَحَرِّضْ الْمُؤْمِنِینَ) حقیقت میں یہ آیت ایک اہم اجتماعی حکم خصوصاً رہبروں کے متعلق اپنے اندر سموئے ہوئے ہے وہ یہ ہے کہ انھیں اپنے کام میں اس قدر پختہ عزم ، ثابت قدم اور اٹل ہونا چاہئیے کہ اگر کوئی شخص بھی ان کی دعوت پ ر” لبیک “ نہ کہے تب بھی وہ اپنے مقدس مقصد اور منزل کے حصول کی جدو جہد سے دستبردار نہ ہوں ۔ دوسروں کو اپنے فرائض کی انجام دہی کی دعوت دینے کے باوجود اپنے لائحہ عمل کو دوسروں کی مرضی پر نہ چھوڑ یں ۔ کوئی رہبر بھی جب تک ایسے عزم ِ صمیم کا حامل نہ ہو وہ رہبری کے اہل نہیں اور نہ ہی وہ اپنے مقاصد کے حصول کی صلاحیت رکھتا ہے خصوصاً خدا کے مقرر شدہ رہبر و رہنما بلند عزم و حوصلہ اور کردار کے مالک ہوتے ہیں کیونکہ انھیں خدا کی ذات پر تکیہ ہوتا ہے وہ خدا کہ جو تمام تونائیوں اور طاقتوں کا سر چشمہ ہے ۔ لہٰذا اس حکم کے بعد خدا فرماتا ہے : امید ہے کہ خدا تیری سعی و کوشش کے ذریعے دشمنوں کی قدرت و طاقت کو ختم کردے گاچاہے ان کے مد مقابل تو اکیلا ہی کیوں نہ ہو ۔ کوینکہ اس کی قدرت تمام قدرتوں سے مافوق اور اس کی سزا تمام عذابوں سے بڑھ کر ہے ۔ ( عَسَی اللهُ اٴَنْ یَکُفَّ بَاٴْسَ الَّذِینَ کَفَرُوا وَاللهُ اٴَشَدُّ بَاٴْسًا وَاٴَشَدُّ تَنکِیلًا ) ۔۱ ۱- باٴس کے معنی لغت لغت میں قوت، استحکام اور شجاعت ہے اور تنکیل مادہ نکول سے خوف کے مارے رک جانے کے معنی میں ہے اور اصل نکل ( بر وزن اکل ) کو جانور کی لگام کے معنی میں لیا گیا ہے اسی بناپر تنکیل جو کہ بات کا مصدر ہے ایسے کام کی انجام دہی کے مقصد میں آتا ہے کہ مقابل کی طرف جسے مشاہدہ کرنے کے ساتھ خلاف ورزی سے لوٹ آئے اور یہ وہی عذاب ہے کہ جو تم ستم گروں سے دوسرے لوگوں کی عبرت کا باعث بنتا ہے ۔