لِّلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًا
Men have a share in the heritage left by parents and near relatives, and women have a share in the heritage left by parents and near relatives, whether it be little or much, a share ordained [by Allah].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:7
[Pooya/Ali Commentary 4:7] Refer to the commentary of al-Baqarah: 180. In Islam womanhood or childhood is no bar to the inheritance as it had been in the past, not only in Arabia but in many parts of the ancient world. This Islamic law of inheritance is a land-mark in the history of legal and social reform. In pre-Islamic world wives, daughters and sisters were excluded altogether from inheritance. In Islam both the men and women are given the right of inheritance. The cardinal principle of inheritance is to distribute the wealth among all near relatives, and not to let it accumulate in the hands of one person-a wise and effective check on concentration of wealth in few hands.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:7
اگر میراث کی تقسیم کے وقت رشتہ دار
۸۔ وَ إِذا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اٴُولُوا الْقُرْبی وَ الْیَتامی وَ الْمَساکینُ فَارْزُقُوہُمْ مِنْہُ وَ قُولُوا لَہُمْ قَوْلاً مَعْرُوفاً ۔ ترجمہ ۸۔ اگر میراث کی تقسیم کے وقت رشتہ دار ( اور اس طبقے کے لوگ جن کا میراث سے کوئی تعلق نہیں ہے ) اور یتیم اور مسکین موجود ہوں تو اس مال میں سے کچھ تھوڑا بہت انہیں بھی دے دو اور ان سے اچھے طریقہ سے بات کرو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:7
عورت کی حفاظت کے لئے ایک اور قدم
عورت کی حفاظت کے لئے ایک اور قدم حقیقت میں یہ آیت غلط عادتوں اور رسموں کے خلاف ایک اقدام ہے کیونکہ وہ عورتوں اور بچوں کو ان کے جائز حق سے محروم کر دیتے تھے ۔ اس لئے یہ آیت ان بحثوں کو تکمیل کرتی ہے جو آیات گذشتہ میں ہوئی ہیں ۔ کیونکہ عرب اپنی غلط اور ظالمانہ رسموں کی وجہ سے عورتوں اور چھوٹے بچوں کو میراث کے حق سے محروم کر دیتے تھے ۔ ّیت نے اس باطل قانون کو غلط قرار دیا اور فرمایا کہ مرد اس مال سے جو ماں باپ اور رشتہ دار چھوڑ جاتے ہیں حصہ رکھتے ہیں اور عورتیں بھی ۔ چاہے وہ کم ہو یا زیادہ۔ اس وجہ سے کوئی شخص حق نہیں رکھتا کہ وہ دوسرے کا حصہ ہڑپ کر جائے ۔ ( لِلرِّجالِ نَصیبٌ مِمَّا تَرَکَ الْوالِدانِ وَ الْاٴَقْرَبُونَ وَ لِلنِّساء ِ نَصیبٌ مِمَّا تَرَکَ الْوالِدانِ وَ الْاٴَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْہُ اٴَوْ کَثُرَ ) اس کے بعد آیت کے آخر میں اس مقصد کی تاکید کرتے ہوئے فرماتا ہے : یہ یقین شدہ حصہ ہے اور اس کا ادا کرنا واجب ہے تا کہ اس بحث میں کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہ جائے ۔ (نصیبا مفروضا ) ضمنا جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ آیت مندرجہ تمام صورتوں کے لئے عام حکم کا ذکر کر رہی ہے ۔ لہذا اس وجہ سے جو لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر انبیاء و مرسلین کوئی مال و دولت وغیرہ چھوڑ جائیں تو وہ میراث کے طور پر ان کے وارثوںکو نہیں ملتی ، یہ آیت مذکورہ کے خلاف ہے ۔ ہاں اس سے پیغمبر کا ذاتی مال مراد ہے ۔ ورنہ بیت المال جو تمام مسلمانوں سے تعلق رکھتاہے وہ بیت المال کے قانون کے مطابق اپنے مصارف میں خرچ کیا جائے گا ۔ اسی طرح اس آیت کے عمومی پہلو اوردوسری آیتوں سے جو بعد میں میراث کے بارے میں آئیں گی واضح ہو تا ہے کہ ” تعصب “ کا قائل نہ ہونا یعنی بعض حالات میں مال کا پدری رشتہ داروں کے ساتھ مخصوص ہونا جیسا کہ علماء اہل سنت قائل ہیں ، وہ بھی تعلیمات قرآن کے خلاف ہے کیونکہ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ بعض موقعوں پر عورتیں میراث سے محروم رہ جاتی ہیں ۔ جس جی اسلام آیت مندرجہ بالا اور اسی طرح کی دوسری آیات کی روشنی میں نفی کرتا ہے ۔ ( غور فرمائیے گا ) ۔