فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا
But no, by your Lord! They will not believe until they make you a judge in their disputes, then do not find within their hearts any dissent to your verdict and submit in full submission.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:65
[Pooya/Ali Commentary 4:65] The opening phrase of this verse (No, by your Lord) asserts that the decision of Allah is final and irrevocable. Allah has decreed that the Holy Prophet's judgements, decisions and directions (concerning all material, spiritual, personal and public matters) should be accepted and carried out by his followers, else profession of their faith would not be genuine and sincere. Fima shajara baynahum gives unlimited powers to the Holy Prophet. Thumma la yajidu fi anfusihim seals the decisive nature of the Holy Prophet's judgements, decisions and directions. No one has any right whatsoever to disagree with him in thought and action. Yusallimu taslima implies total surrender to him without any reservation. From the "feast of the near relatives" to the event at Ghadir Khum the Holy Prophet had clearly given his judgement, decision and direction (under the command of Allah) to his followers to follow Ali, after him, in all material, spiritual, personal and public matters. Please refer to the commentary of al-Ma-idah: 67. The companions of the Holy Prophet, after him, in a great hurry, held conferences in Saqifa bani Sa-ida to choose his successor, by ignoring his clear directions, inspite of this verse. It was a deliberate scheme to deprive the Muslim ummah from the divinely decreed leadership of Ali and his descendants. By doing so they not only violated the commands of Allah and the directions of the Holy Prophet but also condemned the Muslim ummah to an everlasting perdition. There are two groups of the Holy Prophet's successors: (1) The twelve Imams, the descendants of Ibrahim, Ismail and the Holy Prophet, well-known to the Muslim ummah, from Imam Ali ibn abi Talib to Imam Muhammad bin Hasan al-Mahdi (refer to the commentary of al-Baqarah: 124). (2) The crafty rulers openly opposed and persecuted the twelve Imams and their families, friends and followers. Most of them were drunkards, gamblers and ruffians. To know the true colour of the Umayyid and Abbaside caliphs please refer to Hitti's History of the Arabs or any important book of history written by a Muslim or a non-Muslim historian. The sincere seekers of truth can easily select their Imams whom they want to follow from among these two groups. It was the misfortune of the Muslim ummah that they made a wrong decision after the departure of the Holy Prophet. Even at the last moment he asked his companions to bring a sheet of paper and a pen so that he could write that which would prevent them from going astray, after him, but the people around him did not want him to commit his will in writing. One of them said: "The book of Allah is sufficient for us." (Sahih Bukhari, Sahih Muslim, Fat-hul Bari, Tabrani, Tarikh Ahmadi). This declaration by one of the companions, who also observed that "the old man was in a delirium" was a wilful contravention of this and many such verses of the Quran, because we cannot say that he was an ignorant fool who was not aware of the book of Allah. The above-noted tradition is known as hadith al-qartas. We again invite our readers to study pages 1 to 7, the commentary of al-Baqarah: 30 to 39; 124, 248, 249, 251; al-Ma-idah: 67 and of many verses in this book to know the fact that Imam Ali was the only true successor of the Holy Prophet, and after Imam Ali, his descendants upto Imam Muhammad bin Hasan al-Mahdi.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:65
آیه 65 سوره نساء
(65) فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ حَتّـٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَـهُـمْ ثُـمَّ لَا يَجِدُوْا فِىٓ اَنْفُسِهِـمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا ترجمہ (65) تیرے پروردگار کی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتے مگر یہ کہ وہ اپنے اختلافات میں آپ کو حکم اور فیصلہ کرنے والا مانیں اور پھر آپ کے فیصلہ پر اپنے دل میں کوئی ناراضگی محسوس نہ کریں بلکہ اسے ممکل طور پر تسلیم کرلیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:65
حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنا
اگر چہ آیت مندرجہ بالا کے ابتدائی حصے کے بارے میں شان نزول بیان کی جاچکی ہے تاہم جیسا کہ ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ آیت کی مخصوص شانِ نزول کبھی اس کے عام مفہوم کے خلاف نہیں ہوتی ۔ اس بنا پر ہوسکتا ہے کہ یہ آیت گذشتہ آیت کی بث کی تکمیل کرتی ہو ۔ غرض خدا وند عالم اس آیت میں قسم کھاکر فرماتا ہے کہ انسانوں کا ایمان حقیقی اور واقعی اس وقت ہوگا جب وہ اپنے اختلافات میں پیغمبر کو فیصل اور حاکم مانیں اور دوسروں کی طرف رجوع نہ کریں ۔( فلا وربک لایومنون حتی یحکموک فیماشجر بینھم ) ۔ ۱ اس کے بعد فرماتا ہے کہ نہ صرف فیصلہ آپ کے پاس لے کر آئیں بلکہ جب آپ ان کے درمیان فیصلہ کریں چاہے وہ ان کے نفع میں ہو یا نقصان میں ، نہ صرف یہ کہ وہ زبانِ اعتراض نہ کھولیں بلکہ ان کا دل مطمئن ہونا چاہیئے ( ثم لایجد وا فی انفسھم حرجا مما قضیت و یسلموا تسلیما) ۔ اگر چہ فیصلوں کے سلسلے میں جو نقصان انسان کے اٹھا نا پڑتا ہے اس سے ایسی پریشانی اور بے چینی ہوتی ہے جو اکثر انسان کے اختیار میں نہیں ہوتی لیکن اخلاقی تربیت اور حق عدالت کے سامنے روح تسلیم کی پرورش اور پیغمبر اکرم کے حقیقی مقام کا تصور کرنے سے انسان کے دل میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوجاتی ہے کہ وہ پھر کبھی نہ صرف حضور کے فیصلے سے بلکہ وہ علماء جو ان کے جانشین ہیں ان کے فیصلے سے بھی کسی قسم کی معمولی سی تکلیف بھی محسوس نہیں کرتا ۔ بہر حال سچے مسلمان کا فرض ہے کہ وہ حق کے سامنے تسلیم کا خو گر بنے ۔ مندرجہ بالاآیت میں راسخ اور حقیقی ایمان کی نشانیاں تین مرحلوں میں بیان کی گئی ہیں ۔ ۱۔ تمام اختلافات میں چاہے وہ بڑ ے ہوں یا چھوٹے قضاوت و فیصلہ کے لئے پیغمبر اکرم کی طرف رجوع کریں جس کا سر چشمہ حکم الہٰی ہے اور طاغوت اور باطل فیصلہ کرنے والوں کی طرف رجوع نہ کیا جائے ۔ ۲۔ پیغمبر اکرم کے فیصلوں اور احکام کو جو یقیناحکم الہٰی ہیں برا نہ سمجھیں اور دل میں بھی ان پر رنج محسوس نہ کریں ۔ ۳۔حکم رسول پر سختی سے عمل کریں اور کامل طور پر حق کے سامنے سر تسلیم خم کریں ۔ واضح ہے کہ ایک مکتب کے احکامات کو ان مواقع میں تسلیم کرنا جو انسان کے فائدے میں ہوں اس مکتب پر ایمان کی دلیل نہیںہے بلکہ ایسے مواقع پر احکامات کی تعمیل ایمان کی مظہر ہے جہاں بظاہر وہ حکم انسان کے نقصان میں دکھائی دیتے ہوں لیکن حقیقت میں حق و صداقت پرمبنی ہوں ۔ اس آیت کی تفسیر میںجو حدیث حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے وہ یہ ہے : اگر ایک گروہ خدا کی عبادت کرے ، نماز پرھے زکوٰة ادا کرے، رمضان کے روزے رکھے اور حج کرے لیکن ان کاموں کی جو رسول اللہ (ص) نے کئے ہیں براسمجھے یا یوں کہے کہ فلاں کام نہ کیا ہوتا تو بہتر تھا، وہ در اصل حقیقی مومن نہیں ہے ۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: تم لا لازم ہے کہ خدا اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرو ۔ آیت مندرجہ بالا سے ضمنی طور پر دو اہم مطلب معلوم ہوتے ہیں : ۱۔ یہ آیت رسول اللہ (ص) کے معصوم ہونے کی دلیل ہے ۔ کیونکہ پیغمبر (ص)کے تمام احکامات کی گفتار و کردار میں مطلق او رکامل طور پر پذیرائی یہاں تک کہ دلی طور پر ان کے آگے جھکنا اس امر کی واضح دلیل ہے کہ آپ کو احکام خدا وندی اور اپنے فیصلوں میں نہ کوئی اشتباہ ہوتا ہے اور نہ آپ جان بوجھ کر خلاف حق کہتے یا کرتے ہیں ۔ لہٰذا آپ خطا سے بھی معصوم ہیں اور گناہ سے بھی ۔ ۲۔ آیت مندرجہ بالانصِ پیغمبر کے مقابلہ میں اجتہاد اور ایسے مسائل میں جن کے بارے میں خدا ورسول خدا کی طرف سے حکم صریح موجود ہواظہار رائے اور اظہار عقیدہ کی نفی کرتی ہے ۔ لہٰذا اگر تاریخ اسلام ہمیں یہ بتائے کہ بعض لوگ خدا و پیغمبر کے حکم کے مقابلے میں اجتہاد، اظہاررائے اور اظہار عقیدہ کیا کرتے تھے مثلاً یہ کہتے تھے کہ پیغمبر نے اس طرح کہا ہے اور میں یہ کہتا ہوں تو ہمیں ماننا پڑے گا کہ ان کا عمل مندرجہ بالا آیت کی صراحت کے بالکل خلاف ہے ۔ ۱شجر اصل میں مادہ” شجر“ (بروزن قمر ) سے درخت کے معنی میں ہے ۔ کیونکہ مشاخرہ اور نزاع میں ایک قسم کی پریشانی اور پیچید گی ہوتی ہے جیسے کہ درخت کی شاخیں ایک دوسرے سے پیوست ہوتی ہیں اس لئے نزاع اور کمشکش کے معنی میں بھی آتا ہے زیر نظر آیت میں یہ لفظ اس معنی میں استعمال ہوا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:65
شأن نزول
(65) فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُـوْنَ حَتّـٰى يُحَكِّمُوْكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَـهُـمْ ثُـمَّ لَا يَجِدُوْا فِىٓ اَنْفُسِهِـمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا ترجمہ (65) تیرے پروردگار کی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتے مگر یہ کہ وہ اپنے اختلافات میں آپ کو حکم اور فیصلہ کرنے والا مانیں اور پھر آپ کے فیصلہ پر اپنے دل میں کوئی ناراضگی محسوس نہ کریں بلکہ اسے ممکل طور پر تسلیم کرلیں۔ شان نزول زبیر بن عوام جو مہاجرین میں سے تھے ان کا ایک انصاری کے ساتھ (جو مدینہ کے مسلمانوں میں سے تھا ) ان باغوں کے سیراب کرنے کے متعلق جو ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے تھے اختلاف ہوگیا ۔ دونوں حضرات اپنے جھگڑے کا فیصلہ کروانے کے لیے پیغمبراکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے کیونکہ زبیر کا باغ نہر کے بلند حصہ کی طرف تھا اور انصاری کا باغ نشیب میں تھا۔ اس لیے حضرت رسول اکرمؐ نے زبیر کو حکم دیا کہ پہلے تم اپنے باغ کو پانی دے لو اور اس کے بعد یہ انصاری مسلمان پانی دے (یہ اس رواج کے مطابق تھا۔ جو ایک دوسرے کے قریب باغوں کے بارے میں تھا) لیکن وہ انصاری جو بظاہر مسلمان تھا پیغمبراکرمؐ کے عادلانہ فیصلے سے ناراض ہوکر کہنے لگا: کیا آپ نے یہ فیصلہ اس لیے کیا ہے کہ زبیرآپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے ؟ حضورؐ کو اس کی اس گفتگو سے پہنچي یہاں تک کہ آپؐ کے چہرے کا رنگ دگرگوں ہوگیا۔ اس موقع پرمندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور اس میں ایسے مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی۔ بعض دوسری اسلامی تفسیروں میں اس کے علاوہ اور شان نزول کا بھی ذکر ہے۔ جو بیان کی گئی شان نزول سے تھوڑے بہت ملتے جلتےہیں۔ ؎1 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 تفسیر تبیان ، طبرسی اور المنار۔