وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُوا مِن دِيَارِكُم مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِّنْهُمْ وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا
Had We prescribed for them, [commanding]: ‘Slay [the guilty among] your folks or leave your habitations,’ they would not have done it except a few of them. And if they had done as they were advised, it would have been better for them and stronger in confirming [their faith].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:66
[Pooya/Ali Commentary 4:66] Aqa Mahdi Puya says: Unquestioning obedience and devotion to the Holy Prophet has been again ordained in this verse, as done in the preceding verse. Just like the Jews, the followers of the Holy Prophet used to back out of the battles whenever commanded to lay down their lives and go forth from their homes. The battles of Badr, Uhad and Khandaq bear testimony to this fact. For details refer to Tabari and other historians. The majority of the companions failed to submit to the will of Allah. Obedience to the Holy Prophet is not restricted to any people or age but its application is universal, till the end of this world. Verse 159 of Ali Imran says that the Holy Prophet had been gentle with the fresh converts who were guilty of disobedience and indiscipline at Uhad, because being weak in faith they might have gone back to infidelity. In the end, it makes the Holy Prophet's authority final and decisive- "and when you have resolved (come to your own decision) put your trust in Allah". As far as the "consultation" is concerned the Holy Prophet used to hear even Abdullah bin Obay whenever he came to give him his advice (before the battle of Uhad he advised the Holy Prophet not to go to Uhad but wait in Madina to fight against the Quraysh).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:66-68
آیات 66 تا 68 سوره نساء
۶۶۔وَ لَوْ اٴَنَّا کَتَبْنا عَلَیْہِمْ اٴَنِ اقْتُلُوا اٴَنْفُسَکُمْ اٴَوِ اخْرُجُوا مِنْ دِیارِکُمْ ما فَعَلُوہُ إِلاَّ قَلیلٌ مِنْہُمْ وَ لَوْ اٴَنَّہُمْ فَعَلُوا ما یُوعَظُونَ بِہِ لَکانَ خَیْراً لَہُمْ وَ اٴَشَدَّ تَثْبیتاً ۔ ۶۷۔وَ إِذاً لَآتَیْناہُمْ مِنْ لَدُنَّا اٴَجْراً عَظیماً ۔ ۶۸۔وَ لَہَدَیْناہُمْ صِراطاً مُسْتَقیماً ۔ ترجمہ ۶۶۔ ( ہم نے کوئی مشکل فرض ان کے کاندھوں پر نہیں ڈالا) اگر ( بعض گذشتہ امتوں کی طرح) انہیں بھی ہم حکم دےتے کہ ایک دوسرے کو قتل کریں یا اپنے وطن سے نکل جائیں تو بہت تھوڑے لوگ اس پر عمل کرتے اور اگر وہ ان نصیحتوں پر چلتے تو ان کے فائدہ میں تھا کیونکہ ایسا کرنا ان کے ایمان کی تقویت کا سبب بنتا ۔ ۶۷۔ اور اس صورت میں ہم انہیں اپنی طرف سے بہت بڑی جزا اور ثواب عطا فرماتے ۔ ۶۸۔ اور انہیں صراط مستقیم کی ہدات کرتے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:66-68
تفسیر
یہاں گذشتہ بحث کی تکمیل کی گئی ہے جو ان لوگوں کے متعلق تھی جو حضرت رسول اکرم (ص) کے عادلانہ فیصلوں پر چیں بہ جبیں ہوتے تھے ۔ گذشتہ امتوں کے تکلیف دہ اور سخت احکام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے : ہم نے کوئی مشکل فرض ان کے کندھوں پر نہیں رکھا۔ اگر ہم گذشتہ امتوں کی طرح(مثلاً یہودی کہ جنہیں ان کی بت پرستی اور گوسالہ پرستی کے بعد حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس عظیم گناہ کے کفارہ میں ایک دوسرے کو قتل کریں یا اپنے عزیز وطن کو چھوڑ کر کہیں باہر جائیں ) انہیں بھی اس قسم کا سخت حکم دیتے تو اس کو کس طرح بجا لاتے یہ تو ایک باغ کی آبیاری کے بارے میں بھی پیغمبر کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے تو پھر یہ دوسری آزمائشوں پر کس طرح پورا اتر سکتے ہیں مسلم ہے کہ انہیں اس قسم کا حکم دیتے کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کریں یا وطن چھوڑ دیں تو بہت کم لوگ اس پر عمل کرے (وَ لَوْ اٴَنَّا کَتَبْنا عَلَیْہِمْ اٴَنِ اقْتُلُوا اٴَنْفُسَکُمْ اٴَوِ اخْرُجُوا مِنْ دِیارِکُمْ ما فَعَلُوہُ إِلاَّ قَلیلٌ مِنْہُمْ) ۔ بعض مفسرین لکھتے ہیں کہ قتل کے لئے آمادگی اور وطن سے نکلنے کی تیاری کئی لحاظ سے ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں کیونکہ بدن انسانی روح کا وطن ہے اور ایک اہمیت کا حامل ہے ۔ اس طرح وہ ملک جس میں ہم رہتے ہیں جسم انسانی کے لئے ایک خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ اس لئے جسم کے وطن کو چھوڑنا انسان کے لئے بہت مشکل ہے کیونکہ وہ انسان کی پیدا ئش اور رہنے کی جگہ ہے ۔ اس کے بعد فرماتا ہے : اگر وہ خدا و رسول کے پند و نصائح قبول کرلیں تو اس میں خود کا بھی فائدہ ہے اور ان کے ایمان کی تقویت کا سبب بھی ہے ( وَ لَوْ اٴَنَّہُمْ فَعَلُوا ما یُوعَظُونَ بِہِ لَکانَ خَیْراً لَہُمْ وَ اٴَشَدَّ تَثْبیتاً ) ۔ یہ بات قابل غور ہے کہ یہاں خدا وند عالم کے احکام کو وعظ و نصیحت سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ یہ احکام ایسے نہیں ہیں جن سے حکم دینے والے ( خدا وند عالم ) کو ذرہ بھر فائدہ پہنچے ۔ بلکہ حقیقت میں وہ ایسی نصیحتیں ہیں جو خود تمہارے نفع میں ہیں ۔ اس لئے بلافاصلہ فرماتا ہے : ان کی اطاعت بھی تمہارے لئے منفعت بخش ہے اور تمہارے ایمان کی تقویت کا موجب بھی ہے ۔ اس نکتے کی طرف توجہ رہے کہ آیت کا آخری حصہ بتا تا ہے کہ جس قدر انسان خدا کے حکم کی اطاعت کی راہ میں قدم بڑھائے اس قدر اس میں اثبات اور استقامت پیدا ہوتی ہے ۔ حقیقت میں خدا کے فرمان کی اطاعت ایک روحانی ورزش ہے جس کا لگاتار عمل جسمانی ورزش کی طرح روز بروز قوت، قدرت،ثبات، اور استحکام میں اضافہ کرتا رہتا ہے اس طرح آہستہ آہستہ انسان ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ کوئی طاقت اس کے ایمان کی قوت پر غلبہ حاصل نہیں کرسکتی اور نہ اسے دھوکا دے سکتی ہے ۔ اس کے بعد والی آیت میں خدا کے سامنے تسلیم و اطاعت کا تیسرا فائدہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے : اس وقت ( علاوہ اس کے جو کچھ بیان کیا جاچکا ہے ) انہیں عظیم اجر و ثواب بھی دیں گے ۔ (وَ إِذاً لَآتَیْناہُمْ مِنْ لَدُنَّا اٴَجْراً عَظیماً ) ۔ زیر نظر آیات میں سے آخری آیت میں چوتھے فائدے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ ہم انہیں سیدھی راہ کی ہدایت وَ لَہَدَیْناہُمْ صِراطاً مُسْتَقیماً ۔