إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَغۡفِرُ أَن يُشۡرَكَ بِهِۦ وَيَغۡفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَآءُۚ وَمَن يُشۡرِكۡ بِٱللَّهِ فَقَدۡ ضَلَّ ضَلَٰلَۢا بَعِيدًا
Indeed Allah does not forgive that any partner should be ascribed to Him, but He forgives anything besides that to whomever He wishes. And whoever ascribes partners to Allah has certainly strayed into far error.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:116
[Pooya/Ali Commentary 4:116] Polytheism is an unpardonable sin. Although it does not affect His glory in the least, but by destroying the faculty of reason, it renders man incapable of any spiritual progress; therefore, a polytheist can never attain heavenly bliss.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 4:116-126
Note 1. Association with God in Nature-Prophecy or Imamate is unforgivable, unless penance is they forgiven before death. 2. Wishful claims are untenable, be of any creed. Every actin has its reaction, nothing but true faith and righteous act can redeem people for which enforcement of strict Divine Discipline sincerity in action and claim made up by penance for failure andobligation to boot as part of righteousness are essential.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:116
شرک.... ناقابل معافی گناہ
منافقین اور مرتد ین یعنی اسلام قبول کرلینے کے بعد کفر پر پلٹ جانے والوں سے مربوط مباحث کے بعد ، یہاں دوبارہ گناہ شرک کی شدت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ ایسا گناہ ہے جو عفو و بخشش کے قابل نہیں ہے اور اس سے بڑھ کر کسی گناہ کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ کچھ فرق کے ساتھ یہی مضمون اسی سورہ کی آیت ۴۸ میں گذرچکا ہے ۔ ایسی تکرار تربیتی مسائل میں لازمہٴ ِ بلاغت ہے کیونکہ بنیادی اور اہم مسائل کی فاصلے سے تکرار ہونا چاہئیے تاکہ وہ نفوس و افکار میں راسخ ہو جائیں ۔ در حقیقت گناہ بھی مختلف بیماریوں کی طرح ہیں جب تک بیماری بد ن کے اصلی مراکز پر حملہ آور ہو کر انھیں نے کار نہیں کردیتی بدن کی دفاعی قوت صحت و بہبود کے لئے کار آمد رہتی ہے لیکن اگر مثال کے طور پر بیماری بدن کے اصلی مرکز یعنی دفاع پر حملہ کردے اور اسے مفلوج کردے تو امید کے در وازے بند ہو جائیں گے اور موت یقین کی صورت میں آکھڑی ہوگی ۔ شرک ایک ایسی ہی بیماری ہے جو روح انسانی کا حساس مرکز بے کار کردیتی ہے اور انسانی جان پر تاریکی و ظلمت کا چھڑکاوٴ کرتی ہے ۔ اس کے ہوتے ہوئے نجات کی کوئی امید نہیں ہے ۔ لیکن اگر حقیقت توحید اور یکتا پرستی جو ہر طرح کی فضیلت، جنبش اور تحریک کا سر چشمہ ہے زندہ ہو تو پھر دیگر گناہوں سے بخشش کی امید کی جا سکتی ہے (إِنَّ اللَّہَ لا یَغْفِرُ اٴَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَ یَغْفِرُ ما دُونَ ذلِکَ لِمَنْ یَشاء ُ ) ۔ جیساکہ ہم کہ چکے ہیں یہ آیت اس سورہ میں کچھ فرق کے ساتھ دو مرتبہ آئی ہے تاکہ شرک و بت پرستی کے وہ آثار جو سال ہا سال سے لوگوں کے نفوس کی گہرائیوں میں گھر بناچکے تھے ۔ ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائیں اور توحید کے معنوی و مادی آثار ان کے شجرِوجود پر آشکار ہو جائیں البتہ دونوں آیات میں تھوڑا سا فرق ہے یہاں فرمایا گیا ہے (وَ مَنْ یُشْرِکْ بِاللَّہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالاً بَعیداً) ۔.....یعنی .جو شخص خدا کے لئے شریک کا قائل ہو وہ دورکی گمراہی میں گرفتار ہے لیکن گذشتہ آیت میں ارشاد ہوا ہے : و من یشرک باللہ فقد افتری اثماً عظیم.......... یعنی ..... جو شخص کسی کو خدا کا شریک بنادے اس نے بہت بڑا جھوٹ اور افتراء باندھا ہے ۔ درحقیقت وہاں جنبہ الہٰی او رخدا شناسی کے لحاظ سے شریک کے عظیم نقصان کی طرف اشارہ ہواہے اور یہاں لوگوں کے لئے اس کے ناقابل تلافی نقصانات بیان ہوئے ہیں وہاں مسئلے کا عملی پہلو مد نظر رکھا گیا ہے او ریہاں اس کے عملی پہلو او رخارجی نتائج کاذکر ہے واضح ہے کہ اصطلاح کے مطابق یہ دونوں لازم و ملزوم ہیں ۔۱ ۱۱۷۔ إِنْ یَدْعُونَ مِنْ دُونِہِ إِلاَّ إِناثاً وَ إِنْ یَدْعُونَ إِلاَّ شَیْطاناً مَریداً ۔ ۱۱۸۔لَعَنَہُ اللَّہُ وَ قالَ لَاٴَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبادِکَ نَصیباً مَفْرُوضاً۔ ۱۱۹۔وَ لَاٴُضِلَّنَّہُمْ وَ لَاٴُمَنِّیَنَّہُمْ وَ لَآمُرَنَّہُمْ فَلَیُبَتِّکُنَّ آذانَ الْاٴَنْعامِ وَ لَآمُرَنَّہُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللَّہِ وَ مَنْ یَتَّخِذِ الشَّیْطانَ وَلِیًّا مِنْ دُونِ اللَّہِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْراناً مُبیناً ۔ ۱۱۲۰۔ یَعِدُہُمْ وَ یُمَنِّیہِمْ وَ ما یَعِدُہُمُ الشَّیْطانُ إِلاَّ غُرُوراً ۔ ۱۲۱اٴُولئِکَ مَاٴْواہُمْ جَہَنَّمُ وَ لا یَجِدُونَ عَنْہا مَحیصاً ۔ ترجمہ ۱۱۷۔ وہ خدا کو چھوڑ کر صرف بتوں کو پکار تے ہیں جن کو ئی اثر نہیں اور ( یا ) وہ صرف سرکش او رتباہ کار شیطان کو پکارتے ہیں ۔ ۱۱۸۔ خدا نے اسے اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ میں تیرے بندوں سے ایک معین مقدار لے کر رہوں گا۔ ۱۱۹۔ اور میں انھیں گمراہ کروں گا اور آزووٴں اور تمناوٴں کے حصول میں سر گرم رکھوں گا اور انھیں حکم دو ں گا کہ وہ ( بت ہودہ اور فضول کام انجام دیں اور ) چوپایوں کے کان چیر دیں اور خدا کی ( پاک ) خلقت کو خراب کردیں ( فطرتِ توحید کو شرک آلودہ کردیں اور وہ لوگ جنھوں نے خدا کی بجائے شیطان کو اپنی ولی چنا ہے انھوں نے واضح نقصان کیا ہے ۔ ۱۲۰۔ شیطان ان سے ( جھوٹے ) وعدے کرتا ہے اور انھیں آرزووٴں میں سر گرم رکھتا ہے اور مکر و فریب کے سوا انھیں کوئی وعدہ نہیں دیتا۔ ۱۲۱۔ ( شیطان کے ) ان ( پیرو کاروں ) کے رہنے کی جگہ جہنم ہے اور ان کے لئے کوئی راہِ فرار نہیں ہے ۔ ۱- اس آیت کے سلسلے میں دیگر وضاحتیں تفسیر نمونہ جلد ۳ میں پیش کی جاچکی ہیں ( دیکھئے ار دو ترجمہ ص۲۹۴)