وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا
Whoever defies the Apostle, after the guidance has become manifest to him, and follows a way other than that of the faithful, We shall abandon him to his devices and We shall make him enter hell, and it is an evil destination.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:115
[Pooya/Ali Commentary 4:115] Aqa Mahdi Puya says: This verse clearly says that a true believer neither can oppose the Holy Prophet (his judgements, decisions and instructions) nor differ, deviate or depart from his teachings and commands. He has to obey and follow him in every walk of life, like those believers who are closely attached with him and whose way of life has become just like his way of life. Refer to the commentary of verse 65 of this surah. If ijma means the conduct of the majority of Muslims which may have no connection with the teachings and commands of the Holy Prophet, then its introduction and application shall take them to hell. Please refer to the commentary of Baqarah: 2 to 5 (on page 51); 97 and 98 (on page 105) to know how the companions of the Holy Prophet displeased him by disobeying his commands.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:115
شانِ نزول
گذشتہ آیا ت کی شانِ نزول میں ہم کہہ چکے ہیں کہ بشیر بن ابیرق نے ایک مسلمان چوری کرنے کے بعد اس کا الزام ایک بے گناہ شخص پر دھر دیا اور حیلہ سازی سے پیغمبر اکرم کے سامنے اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے دیا ۔ لیکن مذکورہ آیات کے نزول سے وہ رسوا ہوگیا۔ اس رسوائی کے بعد بجائے اس کے کہ توبہ کرتا اور راہِ حق پر لوٹ آتا ، اس نے کفر کا راستہ اختیار کرلیا اور واضح طور پر مسلمانوں سے الگ ہو گیا اس پ رمندرجہ بالا آیت نازل ہوئی اور اس سلسلے میں اسلام کا ایک عمومی حکم بیان کیا۔ تفسیر جب انسان کسی غلطی کر مرتکب ہوتا ہے تو آگاہی کے بعد اس کے سامنے دوراستے ہوتے ہیں ۔ ایک ہے باز گشت اور توبہ کا راستہ ، جس کے ذریعے گناہ کے اثرات د’ھل جاتے ہیں اور اس تذکرہ گذشتہ چند آیات میں ہو چکا ہے ۔ دوسرا ہے ہٹ دھرمی اور عناد کا راستہ ، جس کے منحوس نتیجے کے بارے میں زیر بحث آیت میں اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : جو شخص حق آشکار ہونے کے بعد رسول کے سامنے مخالفت اور عناد کا مظاہرہ کرے او رراہ مومنین کو چھوڑ کر دوسری راہ اختیار کرے تو ہم اسے اسی راستے کی طرف کھینچے لئے جائیں گے جس پر وہ جارہا ہے اور روز قیامت ہم اسے جہنم میں ڈالیں گے اور کیسی بری جگہ اس کے انتظار میں ہے (وَ مَنْ یُشاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ ما تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبیلِ الْمُؤْمِنینَ نُوَلِّہِ ما تَوَلَّی وَ نُصْلِہِ جَہَنَّمَ وَ ساء َتْ مَصیراً ) ۔ توجہ رہے کہ ” یشاقق“ ” شقاق“ کے مادہ سے ہے ، اس کا معنی ہے ایسی سوچی سمجھی مخالفت جس میں عداوت و دشمنی ملی ہوئی ہو، ”وَ مَنْ یُشاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ ما تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدی“ (یعنی .....ہدایت اور راہ راست واضح ہو جانے کے بعد )...... یہ جملہ بھی اسی معنی کی تاکید کرتا ہے ۔ درحقیقت اس سے بہتر انجام ایسے لوگوں کے بس میںہی نہیں ۔ ان کا انجام اس دنیا میں بھی منحوس اور افسوس ناک ہے اور اس جہان میں بھی دردناک ہے ، اس جہان میں اس طرح جیسے قرآن کہتا ہے کہ وہ دن بدن اپنی غلط راہ میں زیادہ راسخ ہوجاتے ہیں وہ بے راہ روی میں جتنا آگے بڑھتے ہیں جادہٴ حق سے ان کا زاویہ انحراف اتنا ہی بڑھتا جا تا ہے ۔ اور یہ وہ انجام ہے جو انھوں نے اپنے لئے خود اختیار کیا ہے یہ ایسی تعمیر ہے جس کا سنگ بنیاد انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے رکھا ہے لہٰذا اس انجام کے سلسلے میں ان پر کوئی ظلم نہیں کیا گیا ۔ یہ جو ارشاد الہٰی ہے کہ” نولہ ماتولّی“ کے بارے میں ایک اور بے راہ روی میں پیش رفت کرنے کی طرف اشارہ ہے ۔ ۱ ۱-اس سلسلے میں تفسیر نمونہ جلد ق ( ار دو ترجمہ ص۱۴۰) میں ” خدا کی طرف سے ہدایت و گمراہی “ کے زیر عنوان تفصیلی گفتگو کی جاچکی ہے ۔ نولہ ماتولّی ۔کے بارے میں ایک اور تفسیر بھی ہے اور وہ یہ کہ ” ہم ایسے لوگوں کو انہی جعلی معبودوں کی سر پرستی میں رہنے دیں گے جو انھوں نے اپنے لئے خو د منتخب کررکھے ہیں ”نیز“ نصلہ جھنم“ قیامت میں ان کے انجام کی طرف اشارہ ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:115
اجماع کی حجیت
فقہ کی چار دلیلوں میں سے ایک اجماع ہے اس کا معنی ہے کہ کسی ایک مسئلے پر اسلامی علماء کا اتفاق رائے ۔ اصول فقہ میں اجماع کی جحیت ثابت کرنے کے لئے مختلف دلیلیں بیان کی گئی ہیں ۔ بعض کے نزدیک ان میں سے ایک زیر بحث آیت بھی ہے ۔ کیونکہ آیت کہتی ہے کہ جو دشمن مومنین کے طریق کے علاوہ کوئی راستہ انتخاب کرے تو وہ دنیا اور آخرت میں بدبخت انجام ہو گا ۔ اس لئے جب مومنین کسی مسئلے میں ایک راہ انتخاب کرلیں تو سب کو چاہئیے کہ اس کی پیروی کریں ۔ لیکن حق یہ ہے کہ زیر نظر آیت کا اجماع کی حجیت سے کوئی تعلق نہیں ( اگر چہ ہم اجماع کی حجیت کے قائل ہیں البتہ اس شرط کے ساتھ کہ زیر اثر بحث مسئلے میں قول معصوم بھی موجود ہے یا معصوم ذاتی طور پر اصحاب اجماع میں موجود ہو، اگر چہ ناشناس طور پر ہی موجود ہو، لیکن ایسے اجماع کی حجیت در اصل سنت اور قول ِ معصوم ہی کی حجیت ہے ۔نہ کہ درج بالا آیت حجیت ِاجماع پر دلیل ہے ) آیت کے حجیت اجماع پر دلیل نہ ہونے کے بارے میں عر ض ہے کہ : ۱۔ جو سزا ئیں آیت میں معین ہوئی ہیں وہ ان لوگوں کے لئے ہیں جو جانتے بوجھتے پیغمبرکی مخالفت کریں اور راہِ مومنین کے علاوہ کوئی راستہ منتخۻ کریں یعنی یہ دونوں امور جمع ہو ں تو اس کا نتیجہ وہ ہے جو قرآن نے بیان کیا ہے اور یہ وہ مخالفت ہے جو علم و آگاہی سے کی جائے اس صورت ِ حال کا تو حجیت اجماع کے مسئلے سے کوئی ربط نہیں ۔ اور یہ امر انتہا اجماع کو حجت قرار ددیتا ۔ ۲۔ دوسر ی بات یہ ہے کہ سبیل المومنین سے مراد راہِ توحید ، خدا پرستی اور اصل اسلام ہے نہ کہ فقہی فتاویٰ اور فروعی احکام جیسا کہ شانِ نزول کے علاوہ آیت کا ظاہر بھی اس حقیقت پر گواہ ہے اور حقیقت میں راہِ مومنین سے ہٹ کر کوئی راہ اپنے کامطلب مخالفت ِ پیغمبر کے علاوہ او رکچھ نہیں دونوں باتوں کی باز گشت ایک ہی مفہوم کی طرف ہے یہی وجہ ہے کہ امام باقر علیہ السلام سے منقول ایک حدیث میں ہے : جس وقت حضرت امیر المومنین علی (علیه السلام) کوفہ میں تھے کچھ لوگ آپ (علیه السلام) کی خدمت میں حاضر ہوئے انھوں نے درخواست کی : آپ (علیه السلام) ہمارے لئے کسی پیش نماز کا انتخاب کریں( تاکہ ماہِ رمضان کی مستحب نمازیں جو تراویح کے نام سے مشہور ہیں اور حضرت عمر کے زمانے میں جماعت سے پڑھا کرتے تھے اس پیش نماز کے ساتھ پڑھ سکیں ) امام علیہ السلام نے اس کام سے منع کیا اور ایسی جماعت سے روکا ( کیونکہ نفلی نماز کے لئے جماعت صحیح نہیں ہے ) اپنے امام و پیشوا کا قطعی حکم سننے کے باوجود یہ لوگ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنے لگے انھوں نے دادو فریاد بلند کی : لوگو! آوٴ اس ماہِ رمضان میں آنسو بہاوٴ۔ دوستان ِ علی میں سے کچھ لوگ آپ کے پاس آئے اور عرض کرنے لگے : کچھ لوگ آپ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرتے ۔ آپ نے فرمایا: انھیں ان کے حال پر چھوڑ دو جسے چاہیں منتخب کرلیں اور ا س( غیر مشروع ) جماعت کو بجا لائیں ۔ اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :(نور الثقلین جلد ۱ صفحہ ۵۵۱۔) وَ مَنْ یُشاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ ما تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدی وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبیلِ الْمُؤْمِنینَ نُوَلِّہِ ما تَوَلَّی وَ نُصْلِہِ جَہَنَّمَ وَ ساء َتْ مَصیراً ) ۔ ہم نے جو کچھ آیت کی تفسیر کے بارے میں کہا ہے یہ حدیث بھی اس کی تائید کرتی ہے ۔ ۱۱۶۔إِنَّ اللَّہَ لا یَغْفِرُ اٴَنْ یُشْرَکَ بِہِ وَ یَغْفِرُ ما دُونَ ذلِکَ لِمَنْ یَشاء ُ وَ مَنْ یُشْرِکْ بِاللَّہِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلالاً بَعیداً۔ ترجمہ ۱۱۶۔ خدا اپنے ساتھ کئے جانے والے شرک کو نہیں بخشتا ( لیکن ) اس سے کم تر کو جسے چاہے ( مناسب سمجھے) بخش دیتا ہے او رجو شخص خدا کے لئے شریک کا قائل ہو، وہ دور کی گمراہی میں جاپڑا ہے ۔ تفسیر