إِنَّا أَنزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ وَلَا تَكُن لِّلْخَائِنِينَ خَصِيمًا
Indeed We have sent down to you the Book with the truth, so that you may judge between the people by what Allah has shown you; do not be an advocate for the traitors,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:105
[Pooya/Ali Commentary 4:105] Aqa Mahdi Puya says: Bashir, Mubashshir and Bashr, the sons of Ta-ma of Ubayraq tribe, had stolen some items from the house of the uncle of Qatada, and concealed them in the house of a Jew. When the theft was detected they put the blame on the Jew. Although the Jews were actively hostile to the Holy Prophet, he upheld the cause of justice, acquitted the accused Jew, and announced the three Muslim brothers guilty of theft. Justice has to be strictly applied whether the crime is committed by a friend or a foe. It was a time when every individual was very important for the small community of the Muslims. The tribe of Ubayraq was a large clan. Yet the Holy Prophet put justice above the exigencies of diplomacy. The plural pronoun in verse 109 makes it clear that in verse 106 the Muslims have been asked, through the Holy Prophet, to beg forgiveness of Allah for expecting favouritism from the Holy Prophet. Verse 108 refers to the men of the tribe of Ubayraq who went to the Holy Prophet to plead for the offenders. Verse 107 clearly lays down the principle that there should be no pleading for those who deceive their own selves, because Allah does not love the treacherous and the iniquitous. People may support such offenders in this world but on the day of judgement no one will be able to plead for them. They will burn in hell for ever. Many Muslims respect Yazid (and despots like him) as the rightful caliph (khalifatullah) although he was a Shaytan in human form, who mercilessly killed and destroyed the beloved children of the Holy Prophet. His supporters argue that the Holy Prophet may ask Allah's forgiveness for him and the despots like him. Verse 6 of al-Munafiqun says: "Whether you ask forgiveness for them or do not ask, it is all the same; Allah will not forgive them." The verdict of Allah is clear. To imagine that the tyrants will be pardoned, inspite of the expressed decree of the almighty Lord, is the worst type of hypocrisy. If man turns to Allah and remembers Him in any condition of fear, shame or hope, mindful of eternal joy and pain, it develops an inner preventive force to combat the urge and tendency to commit individual or collective crimes. Verses 110 and 11 I say that the door of repentance, in order to seek forgiveness, is open for those who hurt their own selves, not others. He who earns the wages of sin does so for himself. No one shall bear the burden of another. Verse 112 refers to the offenders of Ubayraq tribe and lays down the principle that he who commits a mistake or iniquity (even if Muslim) and ascribes it to one who is innocent (even if non-Muslim) is guilty of calumny and brazen sin. Verse 113 refers to the subterfuge the people of Ubayraq employed to mislead the Holy Prophet. The "book and wisdom" was with the Holy Prophet at all times. There is no interval of time in His giving existence to the Holy Prophet and bestowing the "book and wisdom" on him. Verse 2 of al-Najm and verse 7 of al-Duha confirm it. In Najm: 7 the fa implies that there is no lapse of time between finding and guiding a being. Verse 114 refers to the event mentioned in verse 105. The hypocrites in their counsels mostly talked in whispers because they knew that they were supporting falsehood; and the faithful openly talked of charity and goodness in their gatherings.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 4:105-112
Imam Ja‘far al-Sadiq said, “God has not permitted any but Immaculates (Divine Lights) to decie on disputes between humans (Vide Moral on 105 Supra).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:105-106
خیانت کرنے والوں کی حمایت نہ کرو
خدا ان آیات میں پہلے تو پیغمبر اکرم کو وصیت کرتا ہے کہ اس آسمانی کتاب کو بھیجنے کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے اصول جاری ہوں :ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تم پر نازل کی ہے تاکہ اس کے ذریعے خدا نے تجھے جو علم دیا ہے لوگوں کے درمیان فیصلے کرو ۔ (إِنَّا اٴَنْزَلْنا إِلَیْکَ الْکِتابَ بِالْحَقِّ لِتَحْکُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِما اٴَراکَ اللَّہُ ) اس کے بعد کہتاہے کہ کبھی بھی خیانت کر نے والوں کی حمایت نہ کرو( وَ لا تَکُنْ لِلْخائِنینَ خَصیماً) ۔ اگر چہ بظاہر روئے شخن پیغمبر اکرم کی طرف ہے لیکن اس میں شک و شبہ نہیں کہ یہ ایک عمومی حکم ہے جو تمام قاضیوں اور فیصلہ کرنے والوں کے لئے ہے اس بنا پر اس قسم کے خطاب کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ ممکن ہے کہ اس قسم کا معاملہ پیغمبر اکرم کے ساتھ پیش آیا ہے کیونکہ اس مذکورہ حکم کا تعلق تمام افراد سے ہے ۔ بعد والی آیت میں پیغمبر اکرم کو بار گاہ ِ خدا وندی سے طلب مغفرت کے لئے کہا گیا ہے(وَ اسْتَغْفِرِ اللَّہَ) کیونکہ خدا بخشنے والا اور مہر بان ہے ( إِنَّ اللَّہَ کانَ غَفُوراً رَحیماً ) ۔ یہ کہ یہاں استغفار کس لئے ہے اس میں کئی احتمال ہیں : پہلا یہ کہ استغفار اس ترک اولیٰ کی بنا پر ہے جو فیصلہ میںجلدی کرنے کی وجہ سے آیات کی شانِ نزول کے بارے میں آیا ہے یعنی اگر چہ وہی اعتراف کی نوعیت اور طرفین کی گواہی تمہارے فیصلہ کرنے کے لئے کافی تھی لیکن بہتریہ تھا کہ پھر بھی اس معاملے میں مزیدتحقیق کی جاتی ۔ دوسرا یہ کہ پیغمبر اکرم نے اسی شانِ نزول کے متعلق اسلام کے قضائی قوانین میں مطابق فیصلہ کیا اور چونکہ خیانت کرنے والوں کی سند اور ثبوت ظاہری طور پر زیادہ مستحکم تھے لہٰذا انھیں حق بجانب قرار دیا گیا پھر حق کے سامنے آجانے اور حق داروں کو حق مل جانے کے بعد حکم دیتا ہے کہ خدا سے مغفرت طلب کرو نہ کہ اس بنا پر کہ کوئی گناہ سر زد ہوا ہے بلکہ اس وجہ سے کہ بعض لوگوں کی سازش کی وجہ سے ایک مسلمان کا حق سلب ہو رہا تھا ( یعنی استغفارحکم واقعی ہے نہ کہ حکم ظاہری) یہ احتمال بھی بیان ہوا ہے کہ یہاں استغفار کا حکم طرفین دعویٰ کو دیا گیا ہے جنہوں نے دعویٰ پیش کیا اور پھر اس سلسلے میں کئی غلط گواہیاں دیں ۔ پیغمبر اکرم سے ایک حدیث میں منقول ہوا ہے آپ نے فرمای: انما انا بشر و انکم تختصمون الیٰ و لعل بعضکم یکون الحن بحجة من بعض فاقضی بخومااسمع فمن قضیت لہ من حق اخیہ مشیئا فلا یاخذہ فانما اقطع لہ و قطعة من النار۔ میں تمہاری طرح ایک بشر ہوں( ظاہری امور میں فیصلے کرنے پر مامور ہوں ) شاید تم میں سے بعض وہی دلیل بیان کرتے وقت بعض دوسروں سے زیادہ قوی ہوں اور میں بھی اسی دلیل کی بنا پر فیصلہ کروں گا با وجود اس کے جان لو کہ میرا فیصلہ جو طرفین کے دلائل کے سامنے آنے پر صادر ہوتا ہے وہ واقعی حق کو نہیں بدل سکتا لہٰذا اگر میں کسی کے حق میں (ظاہر کے مطابق) فیصلہ کردوں اور دوسرے کا حق اسے دے دوں تو میں جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا اسے دے رہاہوں اسے چاہئیے کہ وہ اس سے بچے او رنہ لے ۔ ۱ معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبراکرم کا فریضہ یہ ہے کہ وہ ظاہر کے مطابق اور دعویٰ کرنے والے طرفین کے دلائل کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کریں ۔ البتہ اس قسم کے فیصلوں سے عام طور پر حق دار کو حق مل جاتا ہے لیکن پھر بھی ممکن ہے کہ بعض اوقات ظاہراًدلیل اور گواہوں کی گواہی واقع کے مطابق نہ ہوتو یہاں خیال کرنا چاہئیے کہ فیصلہ کرنے والے کا حکم واقع کو نہیں بدل سکتا اور اس سے حق ، باطل اورباطل حق نہیں ہوسکتا۔ ۱۰۷۔وَ لا تُجادِلْ عَنِ الَّذینَ یَخْتانُونَ اٴَنْفُسَہُمْ إِنَّ اللَّہَ لا یُحِبُّ مَنْ کانَ خَوَّاناً اٴَثیماً ۔ ۱۰۸۔یَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَ لا یَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّہِ وَ ہُوَ مَعَہُمْ إِذْ یُبَیِّتُونَ ما لا یَرْضی مِنَ الْقَوْلِ وَ کانَ اللَّہُ بِما یَعْمَلُونَ مُحیطاً ۱۰۹۔ہا اٴَنْتُمْ ہؤُلاء ِ جادَلْتُمْ عَنْہُمْ فِی الْحَیاةِ الدُّنْیا فَمَنْ یُجادِلُ اللَّہَ عَنْہُمْ یَوْمَ الْقِیامَةِ اٴَمْ مَنْ یَکُونُ عَلَیْہِمْ وَکیلاً ۔ ترجمہ ۱۰۷۔ اور جنہوں نے اپنے آپ سے خیانت کی ہے ان کا دفاع نہ کرو، کیونکہ خدا خیانت کرنے والے گنہ گاروں کو دوست نہیں رکھتا۔ ۱۰۸۔ وہ اپنے برے کاموں کو لوگوں سے چھپا تے ہیں لیکن خدا سے نہیں چھپا تے اور رات کی مجالس میں ایسی باتیں کرتے تھے جن سے خدا راضٰ نہ تھا ان کے ساتھ تھا اور وہ جو عمل کرتے ہیں خدا اس پر محیط ہے ۔ ۱۰۹۔جی ہاں تم تو وہی ہو جنہوں نے اس جہان کی زندگی میں ان کو بچا یا لیکن کون ہے جو خدا کے سامنے قیامت کے دن ان کا دفاع کرے گا یا کون ہے جو ان کا وکیل اور حامی ہوگا۔ ۱- المنار ،ج۵ ص ۳۹۴منقول از صحیح بخاری و صحیح مسلم ۔ اس حدیث ۲ ۲- پہلی احتمال اور شان نزول والی روایات اور اس روایت کا ظہور قواعد مذہب کے خلاف ہے کیونکہ آنحضرت منصوص قرآن ترک اولیٰ سے بھی معصوم تھے (مترجم )