وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ إِن تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا
Do not slacken in the pursuit of these people. If you are suffering, they are also suffering like you, but you expect from Allah what they do not expect, and Allah is all-knowing, all-wise.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:104
[Pooya/Ali Commentary 4:104] The conduct of the hypocrites in the battle of Uhad has been referred to in this verse. Please refer to the commentary of verses 151 to 168 of Ali Imran.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:104
سوره نساء/ آیه 104
(104) وَلَا تَـهِنُـوْا فِى ابْتِغَـآءِ الْقَوْمِ ۖ اِنْ تَكُـوْنُـوْا تَاْ لَمُوْنَ فَاِنَّـهُـمْ يَاْ لَمُوْنَ كَمَا تَاْ لَمُوْنَ ۖ وَتَـرْجُوْنَ مِنَ اللّـٰهِ مَا لَا يَرْجُوْنَ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ عَلِيْمًا حَكِـيْمًا ترجمہ (104) اور دشمن کا تعاقب کرنے میں سستی نہ کرو کیونکہ اگر میں دور دور پہنچتا ہے تو انھیں بھی تمھاری طرح رنج و تکلیف کا سامنا کرناپڑتا ہے لیکن تم (پھربھی) خدا سے امید رکھتے ہو اور وہ نہیں رکھے اور خدا دانا اور حکیم ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:104
شان نزول
شان نزول ہرہتھیار کے مقابلے میں اس جیسا ہتھیار ابن عباس اور کچھ دوسرے مفسرین نے نقل کیا ہے کی جنگ احد کے دردناک حوادث کے بعد پیغمبراکرمؐ کوہ احد کی چوٹی پر تشریف لے گئے اور ابوسفیان بھی پہاڑ پر چڑھ گیا اور فاتحانہ لہجے میں پکار کر کہنے لگا "اے محمد! ایک دن ہم کامیاب ہوئے اور دوسرے دن تم۔ یعنی ہماری یہ کامیابی اسی شکست کے مقابلہ میں ہے جو ہمیں جنگ بدر میں ہوئی تھی۔ پیغمبراکرمؐ نے مسلمانوں سے فرمایا : فور اسے جواب دو (گویا ابوسفیان پر آپ ثابت کررہے تھے کہ میرے مکتب میں تربیت پانے والے بہت باخبر و آگاه ہیں) مسلمانوں نے کہا ہماری اور تمھاری کیفیت ہرگز ایک جیسی نہیں ہے ہمارے شہید بہشت میں ہیں جبکہ تمھارے مقتول جہنم میں ہیں۔ ابوسفیان نے پکارکریہ جملہ فخریہ نعرے کے طور پر کہا۔ "لنا العزی و لاغری لکم" "ہم بہت بڑا "عزیٰ" بت رکھتے ہیں اور تمھارے پاس وہ بھی نہیں"۔ پیغمبراکرمؐ نے فرمایا تم بھی اس کے جواب میں کہو۔ "الله مولٰنا ولا مولٰى لكم" ہمارا ولی اور سرپرست خدا ہے اور ہمارا تکیہ خدا پر ہے اور تمھاری کوئی سر پرست نہیں ، تمہاری کوئی تکیہ گاہ نہیں۔ ابوسفیان نے جب اپنے آپ کو اس زنده اسلامی شعار کے مقابلے میں بےبس اور کمزور پایا تو بت "عزیٰ" کو چھوڑ کر بت "ہبل" کے دامن کو جا پڑا اور پکارا۔ "اعل هبل" "ہبل سر بلند ہو" پیغمبر نے حکم دیا کہ اس جاہلانہ شعار کو مضبوط اور پختہ شعار کے ساتھ شکست دو اور کہو۔ "الله اعلي في اجل"/ "خدا برتر و بالاتر ہے" ابوسفیان کو جب اپنے ان مختلف شعار سے کوئی فائدہ نہ ہوا تو اس نے پکار کر کہا ہماری وعدہ گاہ "بدرخضریٰ" ہے۔ مسلمان میدان جنگ سے بہت سے زخم لے کر پلٹے وہ احد کے دردناک حوادث پر بہت دکھی تھے اسی وقت اوپروالی آیت نازل ہوئی جس میں انھیں بیدار کیا گیا کہ وہ مشرکین کا تعاقب کرنےمیں کوتاہی نہ کریں اور اس دردناک واقعہ سے پریشان نہ ہوں۔ مسلمان اسی حالت میں دشمن کو پیچھا کرنے اٹھ کھڑے ہوئے اور جب اس کی اطلاع مشرکین کو پہنچی تو وہ بڑی تیزی کے ساتھ مدینہ سے دور نکل گئے اورمکہ کی طرف پلٹ گئے ۔ ؎1 یہ شان نزول ہمیں تعلیم دیتی ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دشمن کی کسی تکنیک سے بے خبرنہ ہوں اور ان کی جنگ کے ہر ذریعہ کے مقابل چا ہے وہ جسمانی جنگ ہو یا نفسیاتی اس سے زیادہ مضبوط اور غلبہ پانے والا ذریعہ اپنائیں۔ دشمنوں کی منطق کے مقابلے میں زیاده ٹھوس منطق اور ان کے ہتھیار کے مقابل میں بہتر ہتھیاراستعمال کریں ۔ یہاں تک کہ ان کے نعرے کے مقابلے زیاده زوردار نعرہ اپنائیں ورنہ واقعات دشمن کے فائدہ میں چلے جائیں گے۔ لہذا ہمارے زمانے میں مسلمانوں کو دردناک حوادث اوروحشت ناک مفاسد نے گھیر رکھا ہے بجائے اس کے کہ افسوس کرتے رہیں فعالیت سے کام لیں غلط کتابوں اور مطبوعات کے مقابلے میں صحیح کتب اور معلومات فراہم کریں ۔ دشمنوں کے پراپیگنڈه کے جدید ذرائع کے مقابلے میں آج کے جدید ترین تبلیغاتی وسائل کو کام میں لائیں اورغلط مرکز کے مقابلے تفریع کے صحیح ذریعے نوجوانوں کے لیے قائم کریں اور ان کے منصوبوں ،سازشوں اور حیلوں کے مقابلے میں موجودہ زمانے کی مناسبت سے جامع اسلامی منصوبے پیش کریں جو مختلف سیاسی ، اقتصادی اور اجتماعی نظریات رکھنے والوں کا مقابلہ کرسکیں ۔ صرف انھی طریقوں سے ہم اپنے وجود کا تحفظ کرسکتے ہیں اور ہمیں چاہیے کہ ہم قیادت کرنے والے طبقہ کی حیثیت سے آج کی دنیا میں آگے بڑھیں۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تبیان جلد سوم صفحہ 314 ، مجمع البیان جلد سوم صفحہ 105
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:104
تفسیر
تفسیر جہاد اور ہجرت سےمتعلق آیات کے بعد زیر نظر آیت میں مسلمانوں میں وفاداری کی روح بیدار کرنے کے لیے کہا گیا ہے:دشمن کا تعاقب کرنے میں سستی نہ کرو (ولا تهنوا في ابتغاء القوم ) ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ کبھی بھی سخت ترین دشمن کے مقابلے میں دفاعی حالات کو نہ اپناؤ بلکہ ہمیشہ اس قسم کے افراد کے مقابلے میں یورش کرکے اور بڑھ کر حملا کر کے اپنی حفاظت کرو کیونکہ نفسیاتی طور پر یہ حربہ دشمن کے حوصلے پست کرنے کے لیے بہت موثر ہے جس طرح کے واقع میں شدید شکست کے بعد اس روش پرچل کر فائدہ اٹھایا گیا وہ دشمنان اسلام جنھوں نے جنگ میں فتح حاصل کرنے کے بعد میدان جنگ چھوڑ دیا اور راستے میں میدان جنگ کی طرف پلٹنے کی تونگر ان میں پیدا ہوئی وہ ان کے دماغ سے نکل گئی اور وہ بڑی تیزی کے ساتھ مدنیہ سے دور کا ہٹ گئے۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے ایک زندہ اور واضح استدلال اس حکم کے لیے بیان کرتے ہوئے فرمایا: تم کیوں کاہل بنتے ہو حالانکہ اگر تم میدان جهادی در دور رنج میں گرفتار ہوئے ہو تو تمھارے دشمنن بھی پریشانیوں میں مبتلا تھے لیکن اس میں فرق یہ ہے کہ تمھیں تو پھربھی پروردگار عالم کی زیادہ سے زیاده مدد ورحمت کی امید تھی لیکن وہ تو اس امید سے بھی محروم تھے (ان تكونوا تألمون فانهم يالمون كما تألمون وترجون من الله ما لايرجون ) اورآخرمیں زیادہ تاکید کے لیے فرماتا ہے: یہ بات نہ بھولنا کی تمھاری یہ تمام پریشانیاں ، تکلیفیں ، زحمتیں اور بعض اوقات کاہلی اور چشم پوشی خدا کی نظر سے مخفی نہیں (وكان الله علیم!احکیم!ا) لہذا ان سب کا نتیجہہ تم دیکھ لوگے ۔