وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَن يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِينًا
When you journey in the land, there is no sin upon you in shortening the prayers, if you fear that the faithless may trouble you; indeed the faithless are your manifest enemies.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:101
[Pooya/Ali Commentary 4:101] This verse refers to salat ul khawf (offering of salat while facing an enemy in a battle) and salat ul qasr (offering of salat during a journey)- curtailing the salat (zuhr, asr and isha) by half. The journey should be for a lawful purpose and for not less than (nearly) 27 miles. For details refer to books o fiqh. Aqa Mahdi Puya says: Laysa alaykum junah or la junaha (used in several verses of the Quran) signifies the negation of obligation, but the Holy Prophet had acted as if it was an obligation, as per verse 158 of al-Baqarah. So salatul khawf and salatul qasr must be prayed in its curtailed form. The conditional clause (if you fear) pertains to the form of prayer to be offered when there is imminent danger of an enemy attack, because the first part of the verse has already dealt with the form of prayer prescribed for a traveller. It must also be noted that the conditional clause does not restrict the order (to curtail prayer) to the circumstances of fear, because there was "fear" at that time at all hours. It is like the phrase in verse 23 of this surah which does not restrict the prohibition.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 4:101-104
Bodily explanation is enough.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:101
نماز ِ مُسافر
گذشتہ آیات” جہاد“ اور” ہجرت“ کے بارے میں بحث کررہی تھیں ۔ اب اس میں” نماز مسافر“کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جب سفر کرو تو کوئی حرج نہیں کہ نماز کو کم اور قصر کرلو، اگر کفارہ کی طرف سے تمہیں خدشہ ہو کیونکہ کافر تمہارے واضح دشمن ہیں (۔وَ إِذا ضَرَبْتُمْ فِی الْاٴَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْکُمْ جُناحٌ اٴَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلاةِ إِنْ خِفْتُمْ اٴَنْ یَفْتِنَکُمُ الَّذینَ کَفَرُوا إِنَّ الْکافِرینَ کانُوا لَکُمْ عَدُوًّا مُبیناً) ۔ اس آیت میں سفر کو ”ضرب فی الارض“سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ مسافر سفر کرتے وقت زمین کو اپنے پاوٴں تلے روندتا ہے ۔۱ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں نماز قصر کا مسئلہ دشمن کے خطرے کے ساتھ مشروط ہے جبکہ ہم فقہی مباحث میں پڑھتے ہیں کہ نماز قصر ایک عمومی حکم ہے اور اس میں پر خطر اور پر امن سفروں میں کوئی فرق نہیں ہے شیعہ او رہل سنت کی طرف سے کئی ایک روایات جو نماز قصر کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں وہ بھی اس عمومیت کی تائید کرتی ہیں ۔۲ اس کا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے قصر والے حکم کو خوف سے مربوط کرنا مندرجہ ذیل چند وجوہ میں سے کسی ایک کی بنا پر ہو ۔ الف: یہ پابندی اور شرط اسلام کے ابتدائی دنوں کی صورتِ حال سے متعلق ہے اور اصطلاح کے مطابق قید غالبی ہے یعنی غالباًان کے سفر خوف و خطر سے بھر پور ہوتے تھے اور جیسا کہ علم اصول میںکہا جا چکا ہے کہ قیود غالبی کا مفہوم نہیں ہوتا جیسا کہ :۔” وربائبکم الاتی فی حجورکم “ تمہاری بیوی کی وہ لڑکیاں جو تمہاری گود میں پلی بڑھی ہیں تم پر حرام ہیں ۔ ( نساء۔ ۳۲) اس آیت میں بھی یہی مسئلہ در پیش ہے کیونکہ بیوی کی بیٹیاں محارم میں داخل ہیں چاہے وہ اس کی گود میں رہی ہوں یا نہ رہی ہوں غالبا ًجو طلاق یافتہ عورتیں دوسرا شوہر کرتی ہیں وہ جوان ہوتی ہیں اور چھوٹے بچے ان کے ساتھ ہوتے ہیں جو دوسرے شوہر کی گود میں پلتے ہیں اس لئے فی حجورکم (تمہاری گود میں ) کی قید اس آیت میں آئی ہے ۔ ب:۔ بعض مفسرین کا یہ نظر یہ ہے کہ نماز قصر کا مسئلہ پہلے تو خوف کے وقت سے متعلق تھا ( اوپر والی آیت کے مطابق) پھر اس حکم نے وسعت پیدا کی اور یہ تمام مواقع کے لئے عمومیت اختیا رکرگیا۔ ج:۔ ممکن ہے یہ پابندی تاکید پہلو رکھتی ہو یعنی نماز قصر مسافر کے لئے ہر جگہ لازم اور واجب ہے لیکن جب دشمن کا خدشہ ہو تو پھر اس کی زیادہ تاکید ہے ۔ بہرحال اس میں شک و شبہ نہیں کہ آیت کی تفسیر میں آنے والی بہت سی اسلامی روایات کی طرف دھیان دیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نماز مسافر حالتِ خوف سے مخصوص نہیں ہے اسی لئے تو پیغمبر اکرم بھی سفر کی حالت میں یہاں تک کہ مراسم ِ حج میں ( منیٰ کی سر زمین میں ) نماز قصر پڑھتے تھے ۔ ایک سوال جو پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت میں بیان ہوا ہے ” لاجناح علیکم “( تم پر کوئی گناہ نہیں ہے )اور قطعیت کے ساتھ یہ نہیں کہا گیا کہ بس نماز قصر ہی پڑھو تو ایسے میں کس طرح کہا جاسکتا ہے کہ نماز قصر واجب عینی ہے ، واجب ِ تخییری نہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ بالکل یہی سوال رہبران اسلام سے ہوا اور انھوں نے دو نکات کی طرف اشارہ کیا : پہلا نکتہ یہ کہ ” لاجناح“ ( تم پر کوئی گناہ نہیں ) کی تعبیر خود قرآن مجید میں بعض مواقع پر وجوب کے معنی میں استعمال ہوئی ہے ، مثل....: ان الصفا و المروة من شعائر اللہ فمن حج البیت او اعتمر فلاجناح علیہ ان یطوف بھما( البقرہ: ۱۵۸) صفا اور مروہ خدا کی شعائر اور نشانیوں میں سے ہیں لہٰذا جو شخص حج و عمرہ ادا کرے اس کے لئے کوئی حرج نہیں کہ ان دونوں کا طواف کرے ( صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا حج و عمرہ دونوں میں واجب ہے اسی لئے تو پیغمبر اکرم اور تمام مسلمان یہ عمل کرتے تھے ۔ بالکل یہی مضمون ایک روایت میں امام باقر علیہ السلام سے نقل ہو اہے ۔3 دوسرے الفاظ میں ” لاجناح“ کی تعبیر زیر بحث آیت میں اور نیز آیت حج میں حرمت کے وہم کی نفی کے لئے ہے ، کیونکہ اسلام کی ابتداء میں صفا مروہ(پہاڑیوں )کے اوپر بت رکھے ہوئے تھے بعض مسلمانوں کا خیال تھا صفا او رمروہ کے درمیان سعی کرنا بت پرستوں کے آداب میں سے ہے حالانکہ ایسانہیں تھا لہٰذا خدا اس غلط فہمی کی نفی کے لئے فرماتا ہے ” کہ کوئی حرج نہیںکہ صفا او رمروہ کے درمیان سعی کرو“ اسی طرح مسار کے ذکر میں احتمال ہے کہ بعض لوگ یہ خیال کریں کہ سفر میں نماز کو قصر کرنا ایک گناہ ہے لہٰذا لاجناح کی تعبیر کے ساتھ اس غلط فہمی کو دور کیا گیا ہے ۔ دوسرا نکتہ کہ جس کی طرف بعض روایات میں بھی اشارہ ہواہے یہ ہے کہ سفر میں نماز کو قصر کرنا ایک قسم کی خدا کی طرف سے رعایت ہے لہٰذا ادب اور احترام کا تقاضا ہے کہ انسان اس تخفیف کو رد نہ کرے اور اس کی طرف سے بے اعتنائی نہ برتے ، اہل سنت کی ........... ............... ............... ............... مہیا کررکھا ہے ( ان اللہ اعد للکافرین عذاباً مھیناً)