وَإِذَا كُنتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِّنْهُم مَّعَكَ وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُوا فَلْيَكُونُوا مِن وَرَائِكُمْ وَلْتَأْتِ طَائِفَةٌ أُخْرَى لَمْ يُصَلُّوا فَلْيُصَلُّوا مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ وَدَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُم مَّيْلَةً وَاحِدَةً وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِن كَانَ بِكُمْ أَذًى مِّن مَّطَرٍ أَوْ كُنتُم مَّرْضَى أَن تَضَعُوا أَسْلِحَتَكُمْ وَخُذُوا حِذْرَكُمْ إِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُّهِينًا
When you are among them, leading them in prayers, let a group of them stand with you, carrying their weapons. And when they have done the prostrations, let them withdraw to the rear, then let the other group which has not prayed come and pray with you, taking their precautions and [bearing] their weapons. The faithless are eager that you should be oblivious of your weapons and your baggage, so that they could assault you all at once. But there is no sin upon you, if you are troubled by rain or are sick, to set aside your weapons; but take your precautions. Indeed Allah has prepared for the faithless a humiliating punishment.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:102
[Pooya/Ali Commentary 4:102] Verse 102 lays down the method of offering congregational salat when an attack by the enemy is imminent. Even in such moments of danger, prayer can not be put off. So pre-eminently important the duty of offering salat is in the code of Islam that it must be offered in every circumstance and at the appointed hours. The religion of a faithful is continually present with him. It brings the individual (his self) into closer touch with his Lord, and his self escapes from enslavement to freedom. On the 10th of Muharram in 61 Hijra, Imam Husayn, while offering the dhibhin azim (see commentary of al-Saffat: 107), translated the ordinance of this verse into action. For three days the Imam, his friends and relatives were without food and water. From all sides they were surrounded by the enemy. At dawn the Imam asked his son Ali Akbar to recite the azan. Tayammum was performed. The Holy Imam led the congregational fajr salat. The devotees who stood in front of the Imam to guard the prayers fell on the ground when arrows shot by the enemy hit them. In the evening, the holy Imam was alone, every pore of his body a bleeding wound, he slid over the burning sand of Naynawa from his horse, and prayed the asr salat. Swords, arrows, spears, daggers, lances, stones hit him from all directions. The sacred blood of Muhammad, Ali and Fatimah flowed (from the Imam's body) in a stream over the sandy soil. At Hudaybiyah the Muslims were fighting against the advance troopers of the infidels, commanded by Khalid bin Walid. The Holy Prophet asked Bilal to recite azan for zuhr prayers. When the salat was completed Khalid regreted very much to have missed the golden opportunity of attacking the Muslims while they were praying, and decided not to do it again next time. Through this verse Allah asked the Holy Prophet to adopt the method mentioned in it in future under such circumstances. Do not infringe the prescribed law of prayer in any of its details. When out of danger or not journeying pray the salat in its proper, regular form as duly prescribed. Kitaban mawqutan means it must be offered at appointed hours in every circumstance. The obligatory prayers are unavoidable so far as man is in possession of his senses.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:102
چند اہم نکات
۱۔ نماز خوف ہر دور میں ہوسکتی ہے واضح ہے کہ یہاں پیغمبر اکرم کے مسلمانوں کے درمیان نماز خوف کے موقع پر موجود ہونے سے یہ مراد نہیں کہ یہ نماز ذاتِ پیغمبراکرم کے وجود سے مشروط ہے بلکہ مراد سر فروشوں اور مجاہدین کے درمیان نماز باجماعت اداکرنے کے لئے امام ، پیشوا اور رہنما کا وجود ہے ۔ اسی لئے تو حضرت علی (علیه السلام) اور حضرت امام حسین (علیه السلام) نے بھی نماز خو ف ادا کی تھی یہاں تک بعض اسلامی لشکروں کے کمانڈروں ( مثلاً حضرت حذیفہ یمانی ) نے اسی اسلامی عمل کو ضرور کے وقت انجام دیا ۔4 ۲۔ دوران نمازِ خوف مسلح رہنے کے حکم میں فرق آیت میں پہلے گروہ کو حکم ہوتا ہے کہ نماز خوف کے وقت ان کے پاس ہتھیار ہونے چاہئیں ۔ لیکن دوسرے گروہ سے کہتا ہے کہ دفاعی ساز و سامان( مثلا زرہ) اور ہتھیاروں کو زمین پر بالکل نہ رکھیں ممکن ہے کہ ان دونوں دستوں کا فرق اس وجہ سے ہو کہ پہلے گروہ کے نماز کو اداکرتے وقت دشمن ابھی تک اس لائحہ عمل سے بے خبر ہو لہٰذ ااس میں حملے کا احتمال بہت کم ہے لیکن دوسرے دستہ کے وقت جبکہ دشمن ادائیگی نماز پر متوجہ ہو جاتا ہے تو حملے کا احتمال بہت زیادہ ہے ۔ ۳۔ مال و متاع کی حفاظت مال و متاع کی حفاظت سے مراد یہ ہے کہ اپنی حفاظت کے علاوہ دوسرے جنگی وسائل اور سفر کے ساز و سامان غذائی ذخیرے اور جو حیوانات تمہارے ساتھ ہیں ان کی نگرانی بھی تمہیں کرنا ہے ۔ ۴۔ نماز با جماعت کی اہمیت ہم جانتے ہیں کہ نماز با جماعت اسلام میں واجب نہیں ہے لیکن بہت زیادہ تاکیدی مستحبات میں ہے اور اوپر والی آیت اس کی ایک زندہ نشانی ہے اس اسلامی لائحہ عمل کی تاکید یہاں تک ہے کہ میدانِ جنگ میں بھی اس طریقے کی انجام دہی کے لئے نماز خوف سے استفادہ کیا جا سکتا ہے یہ امر اصل نماز او رجماعت دونوں کی اہمیت ظاہر کرتا ہے نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقی مجاہدین اپنے ہدف اور مقصد سے کس قدر وابستہ ہوتے ہیں نیز اس کام سے دشمنوں پربھی یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان میدانِ جنگ میں بھی اپنی ذمہ داریاں ........... .................... ................... ............... قبیلہ بنی ابیرق نسبتاً ایک مشہور قبیلہ تھا اس قبیلہ کے تین بھائی ، بشر ، بشیر، مبشرنامی تھے ، بشیر ایک مسلمان رفاعہ کے گھر میں داخل ہوا اور تلوارہ ، زرہ او رکچھ خوراک چوری کر لیں ، اس کے بھتیجے” قتادہ“ نے جو مجاہدین بدر میں سے تھا یہ واقعہ پیغمبر اکرم کی خدمت میں بیان کیا لیکن ان تین بھائیوں نے اپنے ایک پڑوسی صاحبِ ایمان مسلمان لبید پر اس معاملے میں تہمت لگائی ،لبید اس ناروا تہمت سے بہت زیادہ برہم ہوا اور تلوار نکال کر اس کے پاس آیا اور چیخ کر کہا : تم مجھ پر چوری کی تہمت لگاتے ہو، حالانکہ اس الزام کے زیادہ اہل تم ہو اورتم وہی منافق ہو جو پیغمبر خدا کی ہجو کہتے تھے اور پھر ہجو کے اشعار کو قریش سے منسوب کردیتے تھے یا تو اس تہمت کو جو تم نے مجھ پر لگائی ہے ثابت کرو ورنہ میں اپنی تلوار تمہیں گھونپ دوں گا چور کے بھائی نے جب یہ صورتحال دیکھی تو لبید سے نرمی کا سلوک کیا لیکن جب انھیں یہ خبر ملکی کہ واقعہ قتادہ کے ذریعے پیغمبر اکرم کے گوش گزار ہو چکا ہے تو وہ اپنے قبیلے کے ایک خطیب کے پاس گئے کہ وہ چند افراد کے ساتھ پیغمبر اکرم نے ( ظاہر پر عمل کرنے کے فریضہ) کے مطابق اس گروہ کی شہادت کو قبول کرلیا اور قتادہ کو سزا کا مستحق قرار دیا ، قتادہ جو بے گناہ تھا اس سے بہت پریشان ہو ا اور اپنے چچا کے پاس لوٹ کر گیا اور بہت زیادہ افسوس کے ساتھ واقعہ بیان کیا تو اس کے چچا نے اس کی دلجوئی کی اور کہا کہ پریشان نہ ہو خدا ہمارا نگہبان ہے اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہو ئیں اور اس بے گناہ شخص کو بری الذمہ قرار دیا اور حقیقی خیانت کرنے والوں کی شدید سر زنش کی ۔ اس آیت کی ایک اور شانِ نزول ( بھی ) نقل ہوئی کہ ایک انصاری کی زرہ کسی جنگ میں چوری ہو گئی ۔ شک بنی ابیرق قبیلہ کے ایک شخص پر تھا ۔چور کو جب خطرہ نظر آیا تو اس نے وہ زرہ تو یک یہودی کے گھر میں پھینک دی اور اپنے قبیلہ والوں سے کہا کہ پیغمبر اکرم کے سامنے اس کی صفائی دیں اور کہیں کہ زرہ تو یہودی کے گھر میں ہے اس لئے وہ بر ی الذمہ ہے ۔ پیغمبر اکرم نے جب یہ صورت حال دیکھی تو ظاہری طور پر اسے بر الذمہ قرار دیا اور یہودی کے خلاف فیصلہ دیا اس پر مندر جہ بالا آیات نازل ہوئیں اور حقیقیت کو واضح کیا۔ ۱مفردات راغب مادہ ”ضرب“ ۲مزید اطلاع کے لئے وسائل الشیعہ جلد پنجم اور سنن بیہقی جلد ۳ ص ۱۳۴ وغیرہ کی طرف رجوع کریں ۔ 3نور الثقلین جلد اول ص۵۴۲۔ 4کنز العرفان جلد اول صفحہ۱۹۱۔