يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا
Allah enjoins you concerning your children: for the male shall be the like of the share of two females, and if there be [two or] more than two females, then for them shall be two-thirds of what he leaves; but if she be alone, then for her shall be a half; and for each of his parents a sixth of what he leaves, if he has children; but if he has no children, and his parents are his [sole] heirs, then it shall be a third for his mother; but if he has brothers, then a sixth for his mother, after [paying off] any bequest he may have made or any debt [he may have incurred]. Your parents and your children—you do not know which of them is likelier to be beneficial for you. This is an ordinance from Allah. Indeed Allah is all-knowing, all-wise.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:11
[Pooya/Ali Commentary 4:11] Aqa Mahdi Puya says: In these two verses the issue of distribution of wealth, left by the deceased, has been precisely settled, taking into consideration the interest of every individual related by blood. In view of al-Anfal: 75 and al-Ahzab: 6, the standard principle is to prefer those who are related by blood; and among such relatives the closer prevents the more remote in the chain of relation, and lineage is more eligible than the distant kinship; and among the distant kinship those closer to the lineage restrict the less-connected; and those who are paternally and maternally related are preferred over those who are either only paternally related Or only maternally related. (For details refer to fiqh). By violating the Quranic law, those who took the power after the departure of the Holy Prophet, deprived Fatimah from his inheritance, although the Holy Prophet had bequeathed the garden of Fadak to his daughter, Bibi Fatimah Zahra. (Durr al-Manthur, Yanabi al-Muwaddah, Jawahir al-Tafsir, Kanz al-Ummal). Refer to the biography of Fatimah Zahra published by the Peermohammed Ebrahim Trust to know the full account of the issue of Fadak.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 4:11-14
Shias trace through their Immaculate Imams (Divine Lights) elucidation of all legal and doctrinal principles from Fundamentals traced to the Glorious Qur’an and by following them, in close obedience to the Prophet are safe against apocryphal traditions fabricated by their adversary Sunnis. According to the Shias, two causes give rise to right of inheritance: (1) Nasab (tie of blood) and (2) Sabab (special cause). In the first are three classes, viz. (a) parents, (b) husband and wife, and (3) children as lineal descendants. In the second class of (a) ascendants: grandfathers, brothers, and sisters. In the third class are: parental uncles and aunts and maternal uncles and aunts. Under Sabab (special causes) are (1) matrimony and wala, the latter of which is further sub-divided in (1) emancipation, (2) clientele, (3) spiritual leadership shares of inheritance are: 1. Affiliation by husband (1) when wife has no issue, (2) the full sister, in default other heirs, and (3) the daughter when only one. 2. The fourth is taken by (1) the husband with children, (2) the widow with no issue, one or more. 3. The eighth is taken by the widow one or more with children and downwards. 4. The third is taken by (1) the above brothers and sisters, when two or more, (2) the mother, when deceased has no children or with two or more brothers or a brother and two sisters, mother’s share is reduced to one-sixth, though brothers and sisters get nothing. 5. Two-thirds is taken by (2) two or more daughters when no son or sons, (2) two or more full sisters, when no brother or half brothers on father’s side. 6. One-sixth is taken by (1) the father and mother with lineal descendants, (2) the mother with two or more brothers of full blood, or one brother and several sisters, (3) the single child by the same mother only, male or female viz. uterine sister or brother.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:11-12
بھائیوں اور بہنوں کی میراث
وَ إِنْ کانَ رَجُلٌ یُورَثُ کَلالَة۔۔۔ اس آیت میں ہمیں ایک نیا لفظ ملا ہے جو قرآن میں صرف دو مقام پر آیا ہے ۔ ایک زیر بحث آیت میں اور دوسرے سورہٴ نساء ہی کی آخری آیت میں اور وہ ہے لفظ ”کلالہ “ لغات کی کتابیں دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ” کلالہ “ اصل میں مصدری معنی رکھتا ہے اور ” کلال “ کے معنی میں ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے ” قوت و توانائی کا ختم ہونا “ ۔ 1 لیکن یہ لفظ بعد میں ان بہن بھائیوں کے لئے استعمال ہوا ہے جو متوفی کی میراث لیتے ہیں ۔ شاید اس کی وجہ اور مناسبت یہ ہے کہ بھائی اور بہنیں میراث کے دوسرے طبقہ کا جزء ہیں اور صرف ماں باپ اور اولاد نہ ہونے کی صورت میں وارث ہوتے ہیں اور ایسا شخص جس کے ماں باپ ، اور اولاد نہ ہو یقینا رنج و مصیبت میں ہوتا ہے اور اپنی بیوی طاقت اور توانائی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔ اس لئے انہیں ” کلالہ “ کہا جاتا ہے ۔ راغب مفردات میں لکھتا ہے کہ ” کلالہ “ ایسے شخص کو کہا جاتا ہے جو متوفی کی میراث اس صورت میں لے جبکہ اس کے ماں باپ ، اولاد اور اولاد در اولاد نہ ہو ۔ لیکن ایک اور روایت جو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے ، سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ” کلالہ“ عنوان اور نشان ہے ایسے شخص کے لئے جو دنیا سے اس حال میں چل بسا ہو کہ اس کے نہ ماں باپ ہوں نہ اولاد ہو۔ نیز اس میں کوئی امر مانع نہیں ہے کہ کلالہ کا لفظ متوفی کے لئے بولا جائے اور اس قسم کے رشتہ داروں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہو ۔ جیسا کہ اس نے اپنی کتاب میں اس موضوع کی وضاحت کی ہے ۔ باقی رہا یہ کہ قرآن مجید نے بہن بھائیوں کے الفاظ کے بجائے لفظ کلالہ کیوں چنا ہے ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ایسے اشخاص جن کے ماں باپ ہوں نہ اولاد ، وہ یہ بات مد نظر رکھیں کہ ان کا مال ایسے لوگوں کے ہاتھ آئے گا جو اس کی کمزوری اور نا توانی کی نشانی ہیں ۔ اس لئے قبل از ایں کہ غیر لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں وہ خود اس مال کو کمزور مواقع ( ضرورت مند لوگوں کی مدد اور اجتماعی فلاح و بہبود ) میں خرچ کرے ۔ اب ہم آیت کی تفسیر کی طرف لوٹتے ہیں : وَ إِنْ کانَ رَجُلٌ یُورَثُ کَلالَةً اٴَوِ امْرَاٴَةٌ وَ لَہُ اٴَخٌ اٴَوْ اٴُخْتٌ فَلِکُلِّ واحِدٍ مِنْہُمَا السُّدُسُ ۔۔۔ یہ آیت بتاتی ہے کہ اگر کوئی شخص دنیا سے اٹھ جائے اور بہن بھائی اس کی میراث لے لیں یا کوئی عورت دنیا سے چل بسے اور اس کا ایک بھائی اور ایک بہن زندہ ہو تو ان میں سے ہرایک اس کے مال کا چھٹا حصہ لے گا ۔ یہ اس صورت میں ہے جبکہ متوفی کا ایک بھائی یا بہن باقی رہ گئے ہوں اور اگر وہ ایک سے زیادہ ہوں تو پھر وہ ک مال کی ایک تہائی لیں گے ۔ یعنی ان کو چاہیے کہ ایک تہائی مال آپس میں بانٹ لیں ۔( فَإِنْ کانُوا اٴَکْثَرَ مِنْ ذلِکَ فَہُمْ شُرَکاء ُ فِی الثُّلُثِ ) ۔ اس جے بعد مزید فرماتا ہے : مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُوصی بِہا اٴَوْ دَیْنٍ یہ اس صورت میں ہے کہ جبکہ وصیت پہلے پوری ہو چکی ہو اور قرض ادا کیا جا چکا ہو (غیر مضار ) یعنی اس حالت میں جبکہ وصیت اور قرض میں وارثوں کو نقصان پہنچنے کا کوئی پہلو نہ ہو ۔ مقصد یہ ہے کہ ایک تہائی سے زیادہ ما ل کی وصیت نہ کرے کیونکہ ان روایتوں کے مطابق جو حضرت رسول اکرم اور ائمہ اہل بیت (ع) سے مروی ہیں ایک تہائی سے زیادہ مال کی وصیت کرنا گویا وارثوں کو نقصان پہنچانا ہے ۔ ایسی وصیت کی تعمیل وارثوں کی اجازت سے ہوگی یا یہ کہ وارثوں کو محروم کرنے اور انہیں نقصان پہنچانے کے لئے مقروض نہ ہوتے ہوئے خواہ مخواہ قرض کی ادائیگی کا ذکر کر دیا گیا جائے ۔ آخر میں تاکید کے طور پر فرماتا ہے : وَصِیَّةً مِنَ اللَّہِ وَ اللَّہُ عَلیمٌ حَلیم۔ یعنی ۔ یہ خدا کی وصیت اور نصیحت ہے اس کا احترام کرنا چاہے کیونکہ وہ تمہاری بہتری کو خوب جانتا ہے ۔ جس نے یہ حکم مقرر کئے ہیں وہ وصیت کرنے والوں کی نیت سے بھی واقف ہے لیکن اس کے باوجود وہ برد بار بھی ہے ۔ چنانچہ ان لوگوں کو جو اس کے حکم کو نہیں مانتے فورا ً سزا نہیں دیتا ۔ 1۔ صحا ح الغة میں ہے ۔ ” الکلالة فی الاصل مصدر بمعنی الکلال و ھو ذھاب القوة ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:11-12
ماں باپ کی میراث
باقی رہا ماں باپ کا ورثہ جو پہلے طبقہ کا حصہ ہیں اور ورثہ کے لحاظ سے اولاد کے برابر ہیں ( یعنی طبقہ اول سے تعلق رکھتے ہیں ) ۔ ان کی میراث وہی ہے جو مندرجہ بالا آیت میں آ چکی ہے ۔ اس کی تین حالتیں ہیں : پہلی یہ کہ مرنے والے کے ایک یا کئی بیٹے اور بیٹیاں ہوں تو اس صورت میں ماں باپ میں سے ہر ایک کو چھٹا حصہ ملے گا ۔ (وَ لِاٴَبَوَیْہِ لِکُلِّ واحِدٍ مِنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ إِنْ کانَ لَہُ وَلَدٌ ) دوسری یہ کہ مرنے والے کی کوئی اولاد نہ ہو اور ماں باپ ہی اس کے وارث ہوں ۔ اس صورت میں ماں کا حصہ کل مال کا ایک تہائی ہے ( فَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ وَلَدٌ وَ وَرِثَہُ اٴَبَواہُ فَلِاٴُمِّہِ الثُّلُثُ) ۔ یہاں باپ کا حصہ ذکر نہیں کیا گیا ہے تو اس اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا حصہ واضح ہے یعنی دو تہائی البتہ اگر مرنے والے کی بیوی ہو یا مرنے والی کا شوہر موجود ہو تو اس صورت میں بیوی یا شوہر کا حصہ باپ کے حصہ میں سے منہا ہو جائے گا ۔ یعنی اس صورت حال میں باپ کا حصہ دوسری شق میں تبدیل ہو جائے گا ۔ تیسری یہ ہے کہ صرف ماں باپ وارث ہوں۔ اولاد نہ ہو ۔ لیکن مرنے والے کی پدری مادری (سگے بھائی ) یا صرف پدری ( سوتیلے ) بھائی موجود ہوں تو اس صورت میں ماں ماں کا حصہ ایک تہائی کے بجائے چھٹا ہو جائے گا حقیقت میں اگر چہ بھائی میراث نہیں لیں گے لیکن اس صورت میں اضافہ مقدار نہ لے سکے گی ۔ اسی بنا ر انہیں ” حاجب “ کہتے ہیں ۔(فَإِنْ کانَ لَہُ إِخْوَةٌ فَلِاٴُمِّہِ السُّدُسُ)۔ اس کا فلسفہ واضح ہے ک۔ کئی بھائیوں کا ہونا باپ کی زندگی کے بوجھ کو بڑھاتا ہے کیونکہ باپ ان کے اخراجات کا کفیل ہوتا ہے ۔ یہاں تک کہ وہ جوان ہو جائیں بلکہ جوان ہونے کے بعد بھی ان کے کئی اخراجات باپ کو اٹھانا پڑتے ہیں ۔ اسی لئے وہ بھائی ، ماں کے حصہ کی کمی کا سبب بنتے ہیں ۔ اگر وہ ماں باپ یا صرف باپ کی طرف سے بھائی ہوں تو وہ بھائی جو صرف ماں کی طرف سے ہیں ان کی کسی قسم کی ذمہ داری باپ پر نہیں ، وہ ” حاجب “ نہیں بنتے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:11-12
میراث گذشتہ اقوام عالم میں
وراثت کا قانون فطری بنیادوں پر قائم ہے وہ گذری ہوئی قوموں میں بھی مختلف شکلوں میں دکھائی دیتا ہے اگر چہ بعض لوگ یہودیوں کے متعلق یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان میں قانون وراثت کا وجود نہیں تھا لیکن موجودہ تورات کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قانون بڑی تفصیل کے ساتھ سفر ” اعداد “ میں موجود ہے ۔ اس میں ہے : اور بنی اسرائیل سے کہہ دو کہ اگر کویہ شخص مر جائے اور اس کے بیٹا نہ ہو تو اس کی میراث بیٹی کو دے دو اگر بیٹی بھی نہ ہو تو اس کا ورثہ اس کےب باپ کے بھائیوں کو دے دو اگر اس کے باپ کا کوئی بھائی نہیں ہے تو اس کے پس ماندگان میں سے جو بھی اس کا زیادہ نزدیکی رشتہ دار ہے اسے ترکہ دے دو ۔ تا کہ وہ اس کا وارث بن جائے اور یہ امر بنی اسرائیل کے لئے واجب ہے ۔ اس لئے کہ خدا وند عالم نے موسی کو یہ حکم دیا ہے ۔ ۱ مندرجہ بالا فقروں سے پتہ چلتا ہے کہ بنی اسرائیل میں میراث کا تعلق صرف اہل نسب سے ہی تھا کیونکہ اس میں شروع وے آخر تک بیوی اور شوہر کا نام نہیں ہے ۔ دین مسیحی میں اس قانون کو معتبر سمجھا جائے گا کیونکہ مسجودہ انجیل میں منقول ہے کہ حضرت مسیح (ع) نے فرمایا : ۔ میں اس لئے نہیں آیا کہ تورات کے احکامات میں کوئی رو بدل کروں ۔ اسی لئے ان کی موجودہ کتب و رسائل مذہبی میں میراث کی کوئی بحث نہیں پائی جاتی ۔ صرف چند مقامات پر لفظ ارث کے مشتقات پر گفتگو کی گئی ہے جو سب کی سب معنوی یا اخروی میراث کے بارے میں صحیح ہے ۔ اسلام سے پہلے عربوں میں تین طریقوں سے میراث بٹتی تھی : ۱۔ ” نسب “ اس سے مراد ان کے ہاں صرف بیٹے اور مرد تھے ۔ بچے اور عورتیں ترکہ سے قطعی طور پر محروم تھیں۔ ۲۔” متبنیٰ “۔یعنی ایسا بیٹا جسے ایک خاندان نے دھتکار دیا ہو اور دوسرے نے اسے اپنی طرف منسوب کر لیا ہو یہ در اصل منہ بولا بیٹا ہوتا تھا ۔ اس صورت میں اس منہ بولے بیٹے اور اس کے منہ بولے باپ کے درمیان قانون وراثت جاری ہو جاتا تھا ۔ ۳ ۔عہد و پیمان ۔ دو آدمی آپس میں معاہدہ کر لیتے تھے کہ وہ زندگی بھر ایک دوسرے کا دفاع کریں گے اور مرنے کے بعد ایک دوسرے راز دار اور وراثت رہیں گے ۔ اسلام نے میراث کے فطری اور طبعی قانوں کو ان خس و خاشاک سے پاک کر دیا اور ظالمانہ تفریقات جو ایک طرف عورت مرد اور دوسری طرف چھٹے بڑے کے درمیان تھیں ۔ انہیں دور کر دیا ۔ اسلام نے تین چیزوں کو میراث کا سر چمہ قرار دیا ۔ اسلام سے پہلے یوں نہ تھا ۔وہ تین چیزیں یہ ہیں : ۱۔ ” نسب “ اپنے وسیع مفہوم کے ساتھ یعنی ہر قسم کا تعلق جو تولد کے ذریعے دو اشخاص کے درمیان مختلف سطحوں میں ظاہر ۔ چاہے وہ مرد عورت ہوں چاہے چھوٹے بڑے ۔ ۲ ۔” سبب ‘ ‘ یعنی ایسے روابط جو شادی کے ذریعے مختلف افراد کے درمیان پیدا ہو جائیں ۔ ۳۔ ” ولاء “اس سے مراد ایسے روبط ہیں جو نسبی یا سببی رشتہ داری کے علاوہدو اشخاص میں پیدا ہوں مثلاً عتق یعنی اگر کوئی شخص اپنے غلام کو آزاد کر دیتا ہے اور موت کے غلام اپنا کوئی نسبی یا سببی رشتہ دار نہیں چھوڑتا تو اس کا مال آزاد کرنے والے کو مل جائے گا اور یہ خود غلام آزاد کرنے کی ایک جزا اور ترغیب ہے۔ اسی طرح ولاء ضمان جریرہ ہے یہ ایک خاص معاہدہ تھا جو افراد کے درمیان ان کی خواہش اور ارادے سے قائم ہو جاتا تھا اور طرفین یہ امر اپنے ذمہ لے لیتے تھے کہ وہ مختلف مواقع پر ایک دوسرے کا دفاع کریں گے اور مرنے کے بعد ( جبکہ ان کے درمیان کسی قسم کی نسبی یا سببی رشتہ داری بھی نہ ہو ) ایک دوسرے کی میراث لےں گے ۔ اسی لئے طرح ولاء امامت ہے یعنی اگر کوئی شخص دنیا سے چل بسے اور اپنے بعد کسی قسم کا نسبی اور سببی رشتہ دار نہ چھوڑے تو اس کی میراث امام کو یا دوسرے لفظوں میں مسلمانوں کے بیت المال کو ملے گی ۔ البتہ مندرجہ بالا طبقات کے لئے شرطیں اور احکام ہیں جو کتب فقہ میں تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں ۔ تفسیر یُوصیکُمُ اللَّہُ فی اٴَوْلادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاٴُنْثَیَیْنِ اس آیت میں وارثوں کے پہلے طبقے (اولاد اور ماں باپ ) کے بارے میں حکم بیان کیا گیا ہے ۔ واضح ہے کہ ربط و تعل ق کی رو سے کوئی رشتہ اولاد ۔ ماں اور باپ سے زیادہ قریبی نہیں ہے ۔ اسی لئے قرآن نے انہیں میراث کے دیگر طبقات پر مقدم رکھا ہے ۔ پہلی آیت میں فرماتا ہے : خدا تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں سفارش اور وصیت کرتا ہے کہ بیٹوں کو بیٹیوں کی نسبت دو گنا حصہ دو ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ترغیب آیت اور طرز بیان کے لحاظ سے بیٹوں کی میراث دینے کےلئے ایک طرح کی تاکید ہے اور زمانہ جاہلیت کی بدعتوں کا مقابلہ ہے کیونکہ وہ بیٹی کو بالکل محروم کر دیتے تھے ۔ باقی رہا ان دونوں کی میراث کے تفاوت و فرق کا فلسفہ تو وہ عنقریب بیان کیا جائے گا ۔ ِ فَإِنْ کُنَّ نِساء ً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَہُنَّ ثُلُثا ما تَرَکَ اگر مرنے والے کی اولاد صرف دو لڑکیاں یا ان سے زیادہ ہوں تو انہیں مال کا دو تہائی ملے گا ۔ وَ إِنْ کانَتْ واحِدَةً فَلَہَا النِّصْفُ ۔۔۔ لیکن اگر بیٹی ہو تو اسے مال کا نصف ملے گا ۔ ایک سوال اور اس کا جواب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت میں قرآن فرماتا ہے ” فوق اثنین “ یعنی اگر دو بیٹیوں سے زیادہ ہوں تو دو تہائی مال ان کا ہے اس بناء ہر آیت دو لڑکیوں کے حکم سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے کیونکہ اس نے صرف ایک یا چند بیٹیوں کا حکم بیان کیا ہے ۔ اس سوال کا جواب آیت کے پہلے حصہ پر غور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے : لذکر مثل حظ الانثین یعنی ۔ لڑکا لڑکی سے دو گنا حصہ لے گا ۔ اگر کسی مرنے والے کے پس مندگان میں فقط ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہو تو بیٹی کا حصہ ایک تہائی اور بیٹے کا دو تہائی ہوتا ہے۔ بنا بریں اس کے مطابق دو بیٹیوں کا حصہ دو تہائی ہو گا ۔ شاید اسی وجہ سے بعد میں آنے والے جملے میں دو بیٹیوں کے حصہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے بلکہ چند بیٹیوں کے حصہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ جو دو تہائی سے نہیں بڑھتا ( غور فرمایئے گا )۔ نیز سورے نساء کی آخری آیت پر غور و فکر کرنے سے بھی یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے کیونکہ اس آیت میں ایک بہن کا حصہ ( ایک بیٹی کی طرح ) آدھا قرار دیا گیا ہے ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ اگر دو بہنیں ہوں تو انہیں دو تہائی مال ملے گا ۔ اس حکم سے ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ دو بیٹیوں کا حصہ بھی دو تہائی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ تعبیر عربی ادب میں دکھائی دیتی ہے، وہ کبھی لکھتے ہیں ” فوق اثنین “ جس سے مراد ہوتا ہے (اثنتان و ما فوق ) یعنی دو یا دو سے زیادہ ۔ ان تمام امور کو چھوڑتے ہوئے حکم مذکور فقہ اسلامی اور منابع حدیث کے لحاظ سے تسلیم شدہ ہے فرض کی جئے کہ مندرجہ بالا جملے میں شک و شبہ کی گنجائش ہے تو وہ مصادر حدیث پر ایک نگاہ ڈالنے سے دور ہو جاتا ہے۔ مرد کی میراث عورت سے دوگنی کیوں ہے ؟ بظاہر تو مرد کا ورثہ عورت سے دو چند ہے لیکن غور کرنے سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ ایک لحاظ سے عورت کی میراث مرد سے دوگنی ہے اور یہ اس حمایت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہے جو اسلام نے عورت کے حقوق کی فرمائی ہے ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر مردوں کی ذمہ داریوں کی ملحوظ رکھاجائے تو مرد کی آدھی آمدنی عملی طور پر عورتوں پر خرچ ہوتی ہے ۔ جبکہ عورت کے ذمہ ایسی کوئی چیز نہیں ۔مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کی زندگی کے لوازمات اس کی ضرورت کے مطابق مکان ، لباس ، خوراک اور دیگر ضروریات زندگی مہیا کرے ۔ چھوٹے بچوں کی ضروریات بھی مرد کے ذمہ ہےں۔ جبکہ عورتوں کے ذمہ یہ لوازم نہیں ہیں ۔ یہاں تک کہ اپنی ضروریات زندگی بھی ان کے ذمہ نہیں ہیں ۔ اس وجہ سے ایک عورت یہ کر سکتی ہے کہ وہ اپنی تمام میراث کو اپنی بچت کے طور پر رکھے جبکہ مرد اپنے اور اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرنے کے لئے مجبور ہے اس کا عملی نتیجہ یہی نکلے گا کہ مرد کی آدھی آمدنی عورت پر اور آدھی اپنے پر خرچ ہوگی جبکہ عورت کا حصہ جوں کا توں باقی رہ جاتا ہے ۔ مزید وضاحت کے لئے مندرجہ ذیل مثال کی طرف توجہ فرمایئے : فرض کیجئے کہ دنیا کی کل دولت ۳۰ ارب روپے ہے ۔ جو میراث کی رو سے عورتوں ، مردوں ۔ بیٹیوں اور بیٹوں میں بانٹی جانا ہے اب دنیا کے تمام مردوں کی آمدنی کا عورتوں کی آمدنی کے ساتھ بلحاظ میراث حساب کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس رقم میں سے ۲۰ / ارب مردوں کے ہیں اور دس ارب عورتوں کے ۔ جب معمول کے مطابق عورتوں کی شادی ہو جاتی ہے تو ظاہر ہے کہ ان کے لوازمات زندگی کا تمام تربوجھ مردوں پر ہوگا ۔ اس طرح عورتیں اہنے حصہ کا دس ارب روپیہ بچا سکتی ہیں کیونکہ وہ عملی طور پر مردوں کے ۲۰ / ارب روپے میں شریک ہیں وہ ان پر اور ان کی اولاد پر خرچ ہوگا ۔ اس طرح مردوں کا آدھا حصہ ( دس ارب روپے ) عورتوں پر خرچ ہوگا ۔ اب اگر اس کے ساتھ اس دس ارب روپے کو جمع کیا جائے جو انہوں نے بچایا ہے تو یوں یہ رقم مجموعی تور پر ۲۰ /ارب روپے بنتی ہے ۔ جو پوری دنیا کے سرمایہ کا دو تہائی ہے جبکہ مرد عملی طور پر دس ارب روپے سے زیادہ اپنے پر خرچ نہیں کر سکتے ۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خرچ اور فائدہ اٹھانے کے لحاظ سے عورتوں کا اصلی حصہ مردوں کے حقیقی حصہ سے دوگنا ہے ۔ یہ فرق اس لئے ہے کہ عموماً عورتوں میں روپئے کمانے کی صلاحیت کم ہے ۔ یہ اسلام کی طرف سے عورتوں کی منطقی اور عادلانہ حمایت ہے ۔ اگر چہ ظاہری طور پر عورتوں کا حصہ آدھا ہے ۔ مگر ان کا حقیقی حصہ مردوں سے زیادہ مقرر کیا گیا ہے ۔ اتفاق کی بات ہے کہ آثار اسلام کی طرف رجوع کرنے سے ہمیں اس نکتے کا سراغ ملتا ہے کہ مندرجہ بالا سوال اسلام کے شروع میں ہی لوگوں کے ذہن میں تھا اور وہ کبھی کبھار اس سلسلے میں رہبران اسلام سے سوالات بھی کر لیتے تھے ۔ جو جوابات ان بزرگان اسلام ( ائمہ اہل بیت (ع) ) نے اس سوال کے دئے ہیں ۔ غالبا ً وہ سب ایک ہی مضمون کے ہیں اور وہ یہ کہ : خدا وند عالم نے زندگی کے اخراجات اور حق مہر مردوں کے ذمہ لگایا ہے ۔ اس بنا پر ان کا حصہ بھی زیادہ مقرر کیا گیا ہے ۔ کتاب ” معافی الاخبار “ میں حضرت علی بن موسیٰ (ع) رضا سے منقول ہے کہ آپ (ع) نے اس سوال کے جواب میں فرمایا : یہ میراث میں عورتوں کا حصہ مردوں کی نسبت آدھا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عورت کی شادی ہوتی ہے تو وہ کچھ نہ کچھ لیتی ہے اور مرد مجبور ہوتا ہے کہ کچھ نہ کچھ دے ۔ اس کے علاوہ عورتوں کے اخراجات مردوں کے کندھے پر ہیں ۔ جبکہ عورت مرد کے اخراجات اور اپنے اخراجات سے بے فکر ہے ۔ ۱ ۔ سفر اعداد آیات ۸۔۱۱
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:11-12
ایک سوال اور اس کا جواب
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آیت میں قرآن فرماتا ہے ” فوق اثنین “ یعنی اگر دو بیٹیوں سے زیادہ ہوں تو دو تہائی مال ان کا ہے اس بناء ہر آیت دو لڑکیوں کے حکم سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے کیونکہ اس نے صرف ایک یا چند بیٹیوں کا حکم بیان کیا ہے ۔ اس سوال کا جواب آیت کے پہلے حصہ پر غور کرنے سے واضح ہو جاتا ہے اور وہ یہ ہے : لذکر مثل حظ الانثین یعنی ۔ لڑکا لڑکی سے دو گنا حصہ لے گا ۔ اگر کسی مرنے والے کے پس مندگان میں فقط ایک بیٹی اور ایک بیٹا ہو تو بیٹی کا حصہ ایک تہائی اور بیٹے کا دو تہائی ہوتا ہے۔ بنا بریں اس کے مطابق دو بیٹیوں کا حصہ دو تہائی ہو گا ۔ شاید اسی وجہ سے بعد میں آنے والے جملے میں دو بیٹیوں کے حصہ کا ذکر نہیں کیا گیا ہے بلکہ چند بیٹیوں کے حصہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ جو دو تہائی سے نہیں بڑھتا ( غور فرمایئے گا )۔ نیز سورے نساء کی آخری آیت پر غور و فکر کرنے سے بھی یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے کیونکہ اس آیت میں ایک بہن کا حصہ ( ایک بیٹی کی طرح ) آدھا قرار دیا گیا ہے ۔ اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ اگر دو بہنیں ہوں تو انہیں دو تہائی مال ملے گا ۔ اس حکم سے ہم بخوبی سمجھ سکتے ہیں کہ دو بیٹیوں کا حصہ بھی دو تہائی ہے ۔ اس کے علاوہ یہ تعبیر عربی ادب میں دکھائی دیتی ہے، وہ کبھی لکھتے ہیں ” فوق اثنین “ جس سے مراد ہوتا ہے (اثنتان و ما فوق ) یعنی دو یا دو سے زیادہ ۔ ان تمام امور کو چھوڑتے ہوئے حکم مذکور فقہ اسلامی اور منابع حدیث کے لحاظ سے تسلیم شدہ ہے فرض کی جئے کہ مندرجہ بالا جملے میں شک و شبہ کی گنجائش ہے تو وہ مصادر حدیث پر ایک نگاہ ڈالنے سے دور ہو جاتا ہے۔ مرد کی میراث عورت سے دوگنی کیوں ہے ؟ بظاہر تو مرد کا ورثہ عورت سے دو چند ہے لیکن غور کرنے سے یہ بات روشن ہو جاتی ہے کہ ایک لحاظ سے عورت کی میراث مرد سے دوگنی ہے اور یہ اس حمایت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہے جو اسلام نے عورت کے حقوق کی فرمائی ہے ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ اگر مردوں کی ذمہ داریوں کی ملحوظ رکھاجائے تو مرد کی آدھی آمدنی عملی طور پر عورتوں پر خرچ ہوتی ہے ۔ جبکہ عورت کے ذمہ ایسی کوئی چیز نہیں ۔مرد کو چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کی زندگی کے لوازمات اس کی ضرورت کے مطابق مکان ، لباس ، خوراک اور دیگر ضروریات زندگی مہیا کرے ۔ چھوٹے بچوں کی ضروریات بھی مرد کے ذمہ ہےں۔ جبکہ عورتوں کے ذمہ یہ لوازم نہیں ہیں ۔ یہاں تک کہ اپنی ضروریات زندگی بھی ان کے ذمہ نہیں ہیں ۔ اس وجہ سے ایک عورت یہ کر سکتی ہے کہ وہ اپنی تمام میراث کو اپنی بچت کے طور پر رکھے جبکہ مرد اپنے اور اپنے بیوی بچوں پر خرچ کرنے کے لئے مجبور ہے اس کا عملی نتیجہ یہی نکلے گا کہ مرد کی آدھی آمدنی عورت پر اور آدھی اپنے پر خرچ ہوگی جبکہ عورت کا حصہ جوں کا توں باقی رہ جاتا ہے ۔ مزید وضاحت کے لئے مندرجہ ذیل مثال کی طرف توجہ فرمایئے : فرض کیجئے کہ دنیا کی کل دولت ۳۰ ارب روپے ہے ۔ جو میراث کی رو سے عورتوں ، مردوں ۔ بیٹیوں اور بیٹوں میں بانٹی جانا ہے اب دنیا کے تمام مردوں کی آمدنی کا عورتوں کی آمدنی کے ساتھ بلحاظ میراث حساب کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس رقم میں سے ۲۰ / ارب مردوں کے ہیں اور دس ارب عورتوں کے ۔ جب معمول کے مطابق عورتوں کی شادی ہو جاتی ہے تو ظاہر ہے کہ ان کے لوازمات زندگی کا تمام تربوجھ مردوں پر ہوگا ۔ اس طرح عورتیں اہنے حصہ کا دس ارب روپیہ بچا سکتی ہیں کیونکہ وہ عملی طور پر مردوں کے ۲۰ / ارب روپے میں شریک ہیں وہ ان پر اور ان کی اولاد پر خرچ ہوگا ۔ اس طرح مردوں کا آدھا حصہ ( دس ارب روپے ) عورتوں پر خرچ ہوگا ۔ اب اگر اس کے ساتھ اس دس ارب روپے کو جمع کیا جائے جو انہوں نے بچایا ہے تو یوں یہ رقم مجموعی تور پر ۲۰ /ارب روپے بنتی ہے ۔ جو پوری دنیا کے سرمایہ کا دو تہائی ہے جبکہ مرد عملی طور پر دس ارب روپے سے زیادہ اپنے پر خرچ نہیں کر سکتے ۔ اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خرچ اور فائدہ اٹھانے کے لحاظ سے عورتوں کا اصلی حصہ مردوں کے حقیقی حصہ سے دوگنا ہے ۔ یہ فرق اس لئے ہے کہ عموماً عورتوں میں روپئے کمانے کی صلاحیت کم ہے ۔ یہ اسلام کی طرف سے عورتوں کی منطقی اور عادلانہ حمایت ہے ۔ اگر چہ ظاہری طور پر عورتوں کا حصہ آدھا ہے ۔ مگر ان کا حقیقی حصہ مردوں سے زیادہ مقرر کیا گیا ہے ۔ اتفاق کی بات ہے کہ آثار اسلام کی طرف رجوع کرنے سے ہمیں اس نکتے کا سراغ ملتا ہے کہ مندرجہ بالا سوال اسلام کے شروع میں ہی لوگوں کے ذہن میں تھا اور وہ کبھی کبھار اس سلسلے میں رہبران اسلام سے سوالات بھی کر لیتے تھے ۔ جو جوابات ان بزرگان اسلام ( ائمہ اہل بیت (ع) ) نے اس سوال کے دئے ہیں ۔ غالبا ً وہ سب ایک ہی مضمون کے ہیں اور وہ یہ کہ : خدا وند عالم نے زندگی کے اخراجات اور حق مہر مردوں کے ذمہ لگایا ہے ۔ اس بنا پر ان کا حصہ بھی زیادہ مقرر کیا گیا ہے ۔ کتاب ” معافی الاخبار “ میں حضرت علی بن موسیٰ (ع) رضا سے منقول ہے کہ آپ (ع) نے اس سوال کے جواب میں فرمایا : یہ میراث میں عورتوں کا حصہ مردوں کی نسبت آدھا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب عورت کی شادی ہوتی ہے تو وہ کچھ نہ کچھ لیتی ہے اور مرد مجبور ہوتا ہے کہ کچھ نہ کچھ دے ۔ اس کے علاوہ عورتوں کے اخراجات مردوں کے کندھے پر ہیں ۔ جبکہ عورت مرد کے اخراجات اور اپنے اخراجات سے بے فکر ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:11-12
میراث ، وصیت اور قرض کے بعد ہے
من بعد وصییة یوصی بھا او دین اس کے بعد قرآن فرماتا ہے کہ وارث مال کو اپنے درمیان اس وقت تقسیم کر سکتے ہیں جبکہ مرنے والے نے وصیت نہ کی ہو اور نہ کسی کا قرض اس کے ذمہ ہو ۔ اگر وہ وصیت کر گیا ہے یا وہ کسی کا مقروض ہے تو پہلے وصیت کی تکمیل اور قرض کی ادئیگی ضروری ہے ( البتہ جیسا کہ باب وصیت میں تحریر کیا جا چکا ہے کہ وصیت کرنے والا اپنے مال کے تہائی حصہ تک کی وصیت کر سکتا ہے اگر وہ اس سے زیادہ مال کی وصیت کرے تو درست نہیں ہے ہاں البتہ وارث اجازت دے دیں تو صحیح ہے ) ۔ آباؤُکُمْ وَ اٴَبْناؤُکُمْ لا تَدْرُونَ اٴَیُّہُمْ اٴَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعاً ۔۔۔ خدا وند عالم اس آیت میں فرماتا ہے : تمہیں نہیں معلوم کہ تمہارے باپ دادا اور اولاد میں سے تمہارے لئے کون زیادہ مفید ہے یعنی قانون میراث نوع بشر کے حقیقی اور اصلی مصالح اور مفادات کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے اور ان مصلحتوں کی تشخیص خدا ہی کے ہاتھ میں ہے کیونکہ انسان ہر مقام پر اپنی بہتری کو سمجھنے سے قاصر ہے ۔ ہو سکتاہے کہ بعض لوگ یہ گمان کریں کہ ماں باپ انسان کی بہت سی ضروریات کے ذمہ دار ہوتے ہیں اس لئے انہیں میراث میں اولاد پر مقدم ہونا چاہیے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بعض لوگ اس کے بر عکس سوچیں ۔ ان حالات میں اگر میراث کا قانون ہاتھ میں ہوتا تو اس میں طرح طرح کے اختلافات اور جھگڑے پیدا ہوتے لیکن خدا وند عالم جو حقائق کو جس طرح کہ وہ ہیں بخوبی جانتا ہے ۔ اس نے قانون میراث کے مثبت نظام کو جس میں نوع بشر کی بھلائی ہے مقرر فرمایا ہے ۔ فَریضَةً مِنَ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ کانَ عَلیماً حَکیماً ۔ یہ ایک ایساقانون ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے واجب ہے اور وہ دانا وحکیم ہے ۔ یہ جملہ گذشتہ مطالب کی تاکید کے لئے آیا ہے تا کہ لوگ میراث سے مربوط قوانین کے بارے میں کوئی اعتراض نہ کر سکیں ۔ میراث میں میاں بیوی کا ایک دوسرے سے حصہ وَ لَکُمْ نِصْفُ ما تَرَکَ اٴَزْواجُکُمْ إِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُنَّ وَلَدٌ گذشتہ آیت میں اولاد اور ماں باپ کے حصہ کی طرف اشارہ ہوا تھا ۔ یہاں میاں بیوی کے ایک دوسرے سے میراچ لینے کی کیفیت کی وضاحت کی گئی ہے ۔ آیت کہتی ہے ۔مرد صاحب اولاد نہ ہو تو اپنی بیوی کے مال میں سے آدھی میراث لے گا لیکن اگر اس کے ایک یا کئی بچے ہوں ( چاہے وہ کسی اور شوہر کے کیوں نہ ہوں ) تو پھر شوہر مال کا ایک چوتھائی حصہ لے گا ۔ فَإِنْ کانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ البتہ یہ تقسیم بھی بیوی کا قرض ادا کرنے اور اس کی مالی وصیتوں کو پورا کرنے کے بعد ہے ۔ جیسا کہ ارشاد قدرت ہے : من بعد وصییة یوصی بھا او دین ۔ وہی بیویوں اپنے شوہر کے مال سے جبکہ شوہر کی کوئی اولاد نہ ہو تو وہ مال کا چوتھائی حصہ ہے ۔ جیسا کہ ارشادہوتا ہے : وَ لَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ إِنْ لَمْ یَکُنْ لَکُمْ وَلَدٌ ۔۔ لیکن اگر شوہر کی اولاد نہ ہو ( چاہے یہ اولاد کسی اور بیوی سے ہو )تو پھر عورتوں کا آٹھواں حصہ ہوگا ۔( فَإِنْ کانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ ) یہ تقسیم میراث بھی پہلی تقسیم کی طرح شوہر کے قرضوں کی ادائیگی اور مالی وصیت پوری کرنے کے بعد ہو گی ( من بعد وصییة یوصی بھا او دین ) ۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کا حصہ اولاد کی موجودگی میں آدھا ہے ۔ یہ اولاد کے حقوق کو پیش نظر رکھتے ہوئے ہے ۔ اس بات کا سبب کہ شوہر کا حصہ عورت سے دوگنا قرار دیا گیا ہے ، وہی ہے جو گذشتہ بحث میں تفصیل کے ساتھ بیٹے اور بیٹی کی میراث کے بارے میں تحریر کیا جا چکا ہے ۔ اس نکتہ کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ جو حصہ عورتوں کے لئے مقرر ہوا ہے ( چاہے وہ چوتھا ہو یا آٹھواں ) وہ ایک بیوی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اگر مرد کئی بیویاں ہوں تو بھی مذکورہ حصہ ان سب کے درمیان مساوی تقسیم ہو گا ۔ آیہ مذکورہ بالا کا ظہور یہی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:11-12
ایک سوال اسر اس کا جواب
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن نے اس میں بھائیوں کا ذکر کرتے ہوئے جمع کا صیغہ استعمال کیا ہے ۔ چنانچہ فرماتا ہے : فاٴن کان لہ اخوة اگر اس شخص ( متوفیٰ )کے بھائی ہوں ۔ ہم یہ جانتے ہیں کہ عربی میں جمع کم از کم تین کے لئے ہے ۔ جبکہ تمام فقہائے اسلام کا یہ طے شدہ نظریہ ہے کہ دو بھائی بھی حاجب ہیں اور ان کی وجہ سے ماں کا حصہ ۱/۲ ، کے بجائے ۱ /۶ ہو تجاتا ہے ۔ اس سوال کا جواب قرآن کی دوسری آیات کی طرف متوجہ ہونے سے واضح ہو جاتا ہے اور یہ ضروری نہیں ہے کہ تمام مقامات پر جمع کا لفط تین یا تین سے زیادہ افراد کے لئے بولا جائے بلکہ کئی مقامات پر یہ لفظ دو افراد کے لئے بھی استعمال کیا گیا ہے مثلاً سورہ انبیاء کی آیت ۷۸ میں : و کنا لحکمھم شاھدین یہ آیت ضحر داوٴد (ع) اور حضرت سلیمان (ع) کے فیصلوں سے تعلق رکھتی ہے اور قرآن نے ان دونوں بزرگوں کے لئے ضمیر جمع ( ھم ) استعمال کی ہے یہاں سے پتہ چلتا ہے کہ بعض اوقات جمع کا لفظ دو افراد کے لئے بھی استعمال ہو سکتا ہے ۔ یہ ضرور ہے کہ یہ بات شاہد اور قرینہ کی محتاج ہے ۔ زیر بحث آیت کے اسی مفہوم پر مسلمانوں کا اتفاق اور اجماع ہے اور رہبران اسلام کی طرف سے بھی اس پر دلیل موجود ہے ۔ اس مسئلہ میں ( ابن عباس کے سوا ) سب علمائے اسلام چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی کا اتفاق ہے کہ دو بھائی اس آیت کے حکم میں شامل ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:11-12
میراث ایک فطری حق ہے
۱۱۔یُوصیکُمُ اللَّہُ فی اٴَوْلادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاٴُنْثَیَیْنِ فَإِنْ کُنَّ نِساء ً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَہُنَّ ثُلُثا ما تَرَکَ وَ إِنْ کانَتْ واحِدَةً فَلَہَا النِّصْفُ وَ لِاٴَبَوَیْہِ لِکُلِّ واحِدٍ مِنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ إِنْ کانَ لَہُ وَلَدٌ فَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ وَلَدٌ وَ وَرِثَہُ اٴَبَواہُ فَلِاٴُمِّہِ الثُّلُثُ فَإِنْ کانَ لَہُ إِخْوَةٌ فَلِاٴُمِّہِ السُّدُسُ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُوصی بِہا اٴَوْ دَیْنٍ آباؤُکُمْ وَ اٴَبْناؤُکُمْ لا تَدْرُونَ اٴَیُّہُمْ اٴَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعاً فَریضَةً مِنَ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ کانَ عَلیماً حَکیماً ۔ ۱۲ ۔ وَ لَکُمْ نِصْفُ ما تَرَکَ اٴَزْواجُکُمْ إِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ کانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُوصینَ بِہا اٴَوْ دَیْنٍ وَ لَہُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکْتُمْ إِنْ لَمْ یَکُنْ لَکُمْ وَلَدٌ فَإِنْ کانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ تُوصُونَ بِہا اٴَوْ دَیْنٍ وَ إِنْ کانَ رَجُلٌ یُورَثُ کَلالَةً اٴَوِ امْرَاٴَةٌ وَ لَہُ اٴَخٌ اٴَوْ اٴُخْتٌ فَلِکُلِّ واحِدٍ مِنْہُمَا السُّدُسُ فَإِنْ کانُوا اٴَکْثَرَ مِنْ ذلِکَ فَہُمْ شُرَکاء ُ فِی الثُّلُثِ مِنْ بَعْدِ وَصِیَّةٍ یُوصی بِہا اٴَوْ دَیْنٍ غَیْرَ مُضَارٍّ وَصِیَّةً مِنَ اللَّہِ وَ اللَّہُ عَلیمٌ حَلیم۔ ترجمہ ۱۱۔ خدا تم کو تمہاری اولاد کے بارے مین وصیت کرتا ہے کہ ( میراث میں سے ) ایک بیٹے کا دو بیٹیوں کے برابر حصہ ہے اگر تمہاری ( دو یا ) دو سے زیادہ بیٹیاں ہوں تو میراث کی دو تہائی دو تہائی ان کے لئے ہے اور اگر ایک ہو تو اس کے لئے آدھی میراث ہے ۔ اور ( مرنے والے کے ) باپ اور ماںمیں سے ہر ایک کے لئے چھٹا حصہ ہے اگر اس کی اولاد ہو ۔ ( بصورت دیگر ) اگر اس کے اولاد نہ ہواور صرف ماں باپ اس کی میراث لیں تو اس کی ماں کے لئے تیسرا حصہ ہے اور اگر اس کے بھائی موجود ہوں تو اس کی ماں چھٹا حصہ لے گی ( اور باقی چھ میں سے پانچ حصے اس کے باپ کے لئے ہےں ) یہ سب کچھ اس وصیت پر عمل کرچکنے کے بعد ہے جو مرنے والا کر گیا ہے ، قرض ادا کرنے کے بعد ۔ تم نہیں جانتے کہ باہ اور ماوٴں اور تمہاری اولاد میں سے کون تمہارے لئے زیادہ اچھا ہے ۔ یہ خدائی کا حکم ہے اور وہ دانا اور حکیم ہے ۔ ۱۲۔ اور تمہارے لئے تمہاری بیویوں کی میراث میں سے اولاً آدھا ہے اگر ان کے ہاں اولاد نہ ہو اور اگر ان کی اولاد ہو تو ان کی وصیت اور قرض کی ادائگی کے بعد چوتھا حصہ ہے اور تمہاری بیویوں کے لئے تمہاری میراث کا چوتھا حصہ ہے ، اگر تمہاری کوئی اولاد نہ ہو اور اگر تمہاری اولاد ہو تو ان کا تمہاری وصیت کی تکمیل اور قرض کی ادائیگی کے بعد آٹھواں حصہ ہے اور اگر کوئی ایسا شخص ہو کہ کلالہ ( ایک نہن ایک بھائی ) اس کی میراث لے یا کوئی عورت ہے کہ جس کا ایک بھائی یا ایک بہن ہے تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ ہے ( اگر بھائی اور بہنیں مادری ہوں ) اور ایک سے زیادہ ہوں تو پھر وہ وصیت کو پورا کرنے اور قرض ادا کرنے کے بعد تیسرے حصہ میں برابر برابر شریک ہیں ۔ بشرطیکہ (وصیت کے طریقے اور قرض کا اقرار ) انہیں نقصان نہ پہنچائے ۔ یہ خدا کی سفارش ہے اور وہ جاننے والا اور حکیم ہے ۔ شان نزول صدر اسلام کے مشہور شاعر حسان بن ثابت کا بھائی عبد الرحمن بن ثابت انصاری فوت ہو گیا ۔ اس کی ایک بیوی اور پانچ بھائی تھے عبد الرحمن کے بھائیوں نے میراث اپنے درمیان تقسیم کر لی اور اس کی بیوی کو کچھ نہ دیا ۔ یہ واقعہ حضرت رسول اکرم کی خدمت اقدس میں پیش کیا گیا اور میراث لینے والوں کی شکایت کی گئی ۔ اس پر آیات مندرجہ بالا نازل ہوئیں ۔ ان میں شوہر اور بیوی کی میراث کی تفصیل بیان کی گئی ہے ۔ نیز حضرت جابر بن عبد اللہ انصاری سے منقول ہے وہ کہتے ہیں : میں بیمار ہو گیا تھا ۔ جب حضور میری عیادت کے لئے تشریف لائے تو میں بے ہوش ہو چکا تھا ۔ آنحضرت نے پانی منگوایا کچھ پانی سے وضو فرمایا ، باقی مجھ پر چھڑک دیا تو میں ہوش میں آگیا ۔ آپ خاموش رہے ۔ کچھ دیر بعد یہ آیت نازل ہوئیں اور میں وارثوں کے حصے معین ہو گئے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:11-12
چند اہم نکات
۱ ۔ جو کچھ مندرجہ بالا آیت میں بہن بھائیوں کی میراث کے بارے میں ہے اگر چہ وہ بظاہر مطلق ہے اور پدری مادری بہن بھائیوں اور صرف پدری یا صرف مادری بھائیوں کے بارے میں ہے ۔ لیکن سورہٴ نساء ہی کی آخری آیت کی طرف توجہ کرنے سے جس کی تفسیر عنقریب لکھی جائے گی معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت سے مراد متوفی کے صرف مادری بہن بھائی ہیں ( جو ماں کی طرف سے بھائی بہن ہوں )۔ جبکہ سورہٴ نساء کی آخری آیت پدری مادری یا صرف پدری بہن بھائیوں کے بارے میں ہے ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ہم اس آیت کے ذیل میں اس سلسلے میں شواہد پیش کریں گے ۔ اگر چہ اس بنا پر کہ یہ دونوں آیتیں ” کلالہ “ بہن بھائیوں کی میراث سے بحث کر رہی ہیں اور بظاہر ایک دوسرے کے خلاف ہیں لیکن دونوں آیات کے مضامین میں غورو فکر کرنے سے یہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ ان میں سے ہر ایک بہن بھائیوں کی ایک خاص صورت کے متعلق وضاحت کر رہی ہے ۔ بنا بر یں ان دونوں آیتوں میں کسی قسم کا تضاد نہیں ہے ۔ ۲۔ ظاہر ہے کہ اس طبقے کی وراثت اس صورت میں ہے جب پہلے طبقے یعنی ماں باپ اور اولاد میں سے کوئی باقی نہ ہو ۔ اس امر کی شاہد یہ آیت ہے : ”و اولو الارحام بعضھم اولی ببعض فی کتاب اللہ “ رشتہ داروں میں سے بعض کے تقرر اور تعین میں دوسروں پر ترجیح رکھتے ہیں یعنی جو مرنے والے کے زیادہ قریب ہیں وہ مقدم ہیں ۔ (انفال ۔ ۷۵) اسی طرح وہ بہت سی روایتیں جو اس سلسلے میں منقو ل ہیں وہ میراث کے طبقات کے تعین اور بعض کی بعض پر ترجیح پر مزید گواہ ہیں ۔ ۳۔ ھم شرکاء فی الثلث ، اگر ایک سے زیادہ ( مادری بھائی اور بہنیں ) ہوں تو وہ مال کے ایک تہائی میں برابر برابر کے شریک ہیں اس آیت سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک تہائی مال آپس میں مساوی طور پر تقسیم کریں گے اور اس صورت میں مرد اور عورت کا کوئی فرق نہیں ہے کیونکہ شراکت مطلقہ کا مفہوم حصوں کا برابر برابر ہونا ہے ۔ ۴۔ مندرجہ بالا آیت سے یہ بات اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے کہ انسان یہ حق نہیں رکھتا کہ وصیت لے ذریعہ یا ایسا قرضہ بیان کرکے جو در اصل اس کے ذمہ نہیں ہے وارثوں کے خلاف سازش کرے اور ان کا حق ضایع کرے ۔ ہاں اس کی صرف یہ ذمہ داری ہے کہ جو قرضہ مچھ اس کے ذمہ ہے آخری موقع پر انہیں بتا دے اور وہ عادلانہ وصیت کا حق رکھتا ہے جس کی حد روایار کی رو سے مال کا ایک تہائی حصہ ہے ۔ اس سلسلے میں رہبران اسلام کے ارشادات میں سخت ہدایات دکھائی دیتی ہیں ان میں سے ایک حدیث میں ہے : ان الضرار فی الوصیة من الکبائر ۔ وارثوں کو نقصان پہنچانا اور انہیں بےجا وصیت کے ذریعے حق شرعی سے محروم کرنا گناہ کبیرہ ہے ۔ 1 اسلام حقیقت میں اس حکم کے ذریعے ایک طرف تو اس شخص کو اس کے مال کے ایک حصے سے اس کی وفات کے بعد بھی فائدہ و ثواب پہنچانا چاہتا ہے دوسری طرف وارثوں کو بھی فائدہ پہنچانا چاہتا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ کینہ اور دشمنی کی وجہ سے محبت کا رشتہ جسے مرنے کے بعد بھی زندہ رہنا چاہیے منزور اور سست پڑ جائے ۔ ۱۳ ۔تِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ وَ مَنْ یُطِعِ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ یُدْخِلْہُ جَنَّاتٍ تَجْری مِنْ تَحْتِہَا الْاٴَنْہارُ خالِدینَ فیہا وَ ذلِکَ الْفَوْزُ الْعَظیمُ ۱۴۔ وَ مَنْ یَعْصِ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ وَ یَتَعَدَّ حُدُودَہُ یُدْخِلْہُ ناراً خالِداً فیہا وَ لَہُ عَذابٌ مُہینٌ۔ ترجمہ ۱۳ ۔ یہ خدا کی (مقرر کی ہوئی ) سرحدیں ہیں ۔ جو شخص اللہ اور اس کے پیغمبر کی اطاعت کرے ( اور اس کے قوانین کی سرحدوں کا احترام کرے ) وہ اسے اسی جنت کے باغوں میں بھیجے گا جس کے درختوں کے نیچے پانی کی نہریں جاری رہتی ہیں اور یہ لوگ ہمیشہ کے لئے اس میں رہیں گے اور یہ بڑی کامیابی ہے ۔ ۱۴۔ اور جو کوئی خدا اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کی سر حدوں سے تجاوز کرے گا تو وہ اسے ایسی آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے ذلت آمیز سزا ہے ۔ 1 ۔ مجمع البیان
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:11-12
”حدود “ حد کی جمع ہے ۔
”حدود “ حد کی جمع ہے ۔ اصل میں اس کا معنی ہے منع کرنا اور روکنا ۔ بعد ازاں ہر اس چیز کو جو دو چیزوں کے درمیان حد فاصل ہو اور انہیں ایک دوسرے سے ممتاز اور جدا کرے حد کہا جانے لگا ۔ مثلا ً گھر کی حد ، باغ کی حد ِ شہر کی حد اور ملک کی حد ۔ گویا ایسے نقاط کو حد کہا جاتا ہے جو نہیں دوسرے نقاط سے جدا کریں ۔ خدا وند عالم مندرجہ بالا آیت میں لفظ تلک کے ذریعے میراث کے قوانین کی طرف جو گذشتہ آیت میں آچکے ہیں اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : یہ خدا کی سر حدیں ہیں پھندنا اور عبور کرنا منع ہے ۔ جو ان سے آگے بڑھیں گے وہ گناہ گار سمجھے جائیں گے ۔ تلک حدود اللہ کا یہ مفہوم کلام مجید کی متعدد آیات میں آیا ہے اور یہ ہر جگہ اجتماعی حکامات اور مقرارت بیان کرنے کے بعد آیا ہے مثلا سورہٴ بقرہ کی آیت ۱۸۷ میں اعتکاف میں جنسی ملاپ کی ممانعت اور روسہ کے احکام کے بعد ہے سورہٴ بقرہ کی آیت ۲۲۹ اور ۲۳۰ ، سورہ طلاق کی آیت ۱۰ میں طلاق کے چھ احکام کے بعد اور سورہ مبادلہ آیت ۴ میں کفارہ کے بیان کے بعد ہے ۔ ان سب موقعوں پر احکام و قوانین بیان ہوئے ہیں جن سے آگے بڑھنا ممنوع ہے اور وہ خدا ئی سر حدوں کے عنوان سے پہچانے جاتے ہیں ۔ ۱ من یطع اللہ و رسولہ یدخلہ جنات ۔۔۔ خدا وند عالم ان چند خدائی حداو اور سر حدوں کی طر ف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : وہ لوگ جو خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں اور ان سرحدوں کا احترام کرتے ہیں ، ہمیشہ ہمیشہ جنت کے باغوں میں رہیں گے جن کے درختوں کے نیچے سدا پانی بہتا رہتا ہے ۔ آیت کے آخر میں فرماتا ہے : یہ بہت بڑی کامیابی و کامرانی ہے (و ذٰلک الفوز العظیم ) ۔ وَ مَنْ یَعْصِ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ وَ یَتَعَدَّ حُدُودَہُ یُدْخِلْہُ ناراً خالِداً فیہا آیت کا یہ حصہ ان لوگوں کے مخالف نقطہ نظر کو بیان کرتا ہے جن کی طرف گذشتہ آیتوں میں اشزرہ کیا جا چکا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : وہ لوگ جو خدا اور اسے رسول کی نا فرمانی کرتے ہیں اور ان کے احکامات کی سرحدیں پھاند جاتے ہیں وہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے ۔ البتہ ہم جانتے ہیں کہ صرف خدا کی حکم عدولی (چاہے وہ گناہ کبیرہ ہی کیوں نہ ہو) ہمیشہ کے عذاب کا سبب نہیں ہے ۔ اس وجہ سے آیت مذکورہ بالا میں وہ لوگ مراد لئے گئے ہیں جو دشمنی ، سرکشی ، بغاوت اور آیات الہی کے انکار کی بنا پر خدا وند عالم کے احکامات کو اپنے پاوٴں کے نیچے روند ڈالتے ہیں ۔ یہ حقیقت میں وہ خدا اور قیامت کے دن پر ایمان نہیں رکھتے ۔ اس بات کی طرف غور فکر کرتے ہوئے کہ لفظ حدود جمع ہے اور تمام قوانین الہی پر محیط ہے ، یہ معنی بعید دکھائی نہیں دیتا کیونکہ جو شخص خدا وند عالم کے سب قانون توڑ دے وہ ہر گز خدا پر ایمان نہیں رکھتا ۔ ورنہ ان میں سے کسی کا احترام تو کرتا ۔ قابل توجہ امر یہ ہے کہ گذشتہ آیتوں میں اہل بہشت کے بارے میں ” خالدین فیھا “ ( ہمیشہ جنت میں رہیں گے ) جمع کی صورت میں آیا ہے اورا س آیت میں جو دوزخیوں کے متعلق ہے ” خالداً فیھا “ جو واحد کی شکل میں آیا ہے ۔ ایسی دو آیات میں جو جنت کی نعمتوں سے ایک نعمت شمار ہوتی ہے جبکہ اہل دوزخ عذاب الہی میں اس طرح پھنسے ہوئے اور ڈوبے ہوئے ہوں گے کہ انہیں دوسروں کی کوئی سدھ بدھ نہ ہوگی ۔ غرض وہ عملی طور پر اکیلے ہوں گے یہاں تک کہ یہ بات اس دنیا میں اپنی رائے پر چلنے والوں اور الگ تھلگ رہنے والے لوگوں کے بارے میں مل جل کر اور اجتماعی زندگی بسر کرنے والوں کے مقابلے میں صادق آتی ہے کہ یہ لوگ اس دنیا میں جنتی اور وہ دوزخی ہیں ۔ و لہ عذاب مھین ان کے لئے ذلیل اور رسوا کرنے والا عذاب ہے ۔ اصل میں گذشتہ جملے میں عذاب خدا وندی کی جسمانی سزاوٴں کا پہلو جھلکتا ہے اور کیونکہ اس جملہ میں ذلت و رسوائی کا تذکرہ بھی ہے اس لئے یہاں روحانی پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ۱ ۔حدود اللہ کی تفسیر کے سلسلے میں اس تفسیر کی جلد ۲ میں مزید بحث ہو چکی ہے ۔ اردو ترجمہ ص ۱۰۱ ملاحظہ کیجئے ۔