أَلَيْسَ اللَّهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ
Does not Allah suffice [to defend] His servant? They would frighten you of others than Him. Yet whomever Allah leads astray, has no guide,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 39:36
[Pooya/Ali Commentary 39:36]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:36-37
1- ہدایت اورضلالت خدا کی طرف سے ہے
چند نکات 1- ہدایت اورضلالت خدا کی طرف سے ہے: لغت میں ہدایت کا معنی دلالت و رہنمائی ہے جو دقیق طور پر اور اس کے ساتھ ہو۔ ؎1 اسے دو حصوں تقسیم کیا گیا ہے ایک "ارائه طريق" (راستہ دکھانا) اور "ایصال به مطلوب" دوسرے لفظوں "ہدایت تشریعی" اور" ہدایت تکوینی"۔ ؎2 اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ بعض اوقات انسان ایسے شخص کو پوری وقت اورلطف و عنایت کے ساتھ راستہ دکھاتا ہے۔ جواس کا طالب ہے، لیکن راستہ طے کرنا اور مقصود تک پہنچنا خود اس کے ذمہ ہوتا ہے۔ لیکن کبھی طالبان مقصد کاہاتھ پکڑ کےکرراستہ دکھانے کے علاوہ اسے مقصد تک بھی پہنچا دیا جاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں پہلے مرحلے میں صرف قوانین واحکام بیان کر کے راستہ طے کرنے کی شرائط وحالات اور مقصد تک پہنچنے کو بیان کر دیا جاتا ہے ، لیکن دوسرے مرحلے میں اس کے علاوہ سفر کے وسائل فراہم کیے جاتے ہیں ، رکاوٹوں کو دور کیا جاتا ہے مشکلات حل کی جاتی ہیں اور اس راستے کے مسافروں کی مقصد تک ہمراہی ، حفاظت اور حمایت کی جاتی ہے۔ البتہ اس کا متضاد "اضلال" ہے۔ آیات قرآنی پر ایک اجمالی نگاه ہی اچھی طرح سے واضح کر دیتی ہے کہ قرآن ہدایت و ضلالت کو خدا کافعل شمارکرتا ہے اور دونوں کی اپنی طرف نسبت دیتا ہے ۔ اگر ہم اس سلسلے کی تمام آیات شمار کریں تو بات لمبی ہوجائے گی بس اتنا ہی کافی ہے کہ سورة بقرہ کی آیہ 213 میں یہ بیان ہوا ہے: والله يهدي من يشاء الٰى صراط مستقیم خدا جسے چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت کرتا ہے۔ نیز سورۂ نحل کی آیہ 93 میں یہ بیان ہواہے: ولكن يضل من يشاء ويهدي من يشاء لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ ہدایت و ضلالت دونوں کے بارے میں یا ان دونوں میں سے ایک کے متعلق ایسی ہی تعیبر قرآن مجید کی بہت سی آیات میں نظر آتی ہے۔ ؎3 ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مفرادت مادہ "ھدی" ؎2 غور کیجیے کہ یہاں ہدایت تکونی ایک وسیع معنی میں لی گئی ہے اس میں قوانین کو بیان کرنے اور راستہ دکھانے کے علاوہ ہر طرح کی ہدایت شامل ہے۔ ؎3 مثال کے طور پر دیکھے، فاطر-8 ، زمر-33 ، مدثر - 31 ، بقرہ - 272 ، انعام - 88 ، یونس - 25 ، رعد-27 ، اور ابراہیم ۔ 4 ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اس سے بڑھ کریہ کہ بعض آیات میں صراحت کے ساتھ پیغمبراسلامؐ سے نفی کی ہے اور کی طرف نسبت دی ہے، چنانچہ سورہ قصص کی آیہ 56 میں ہے۔ انك لاتهدى من احببت ولكن الله يهدي من يشاء تو جسے چاہے ہدایت نہیں کر سکتا لیکن خدا جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔ سورة بقرہ کی آیہ 272 میں ہے: ليس علياك هداهم ولكن الله يهدي من يشاء انھیں ہدایت کرنا تیرے ذمہ نہیں ہے لیکن خدا جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔ ان آیات کے سطحی مطالعے اور ان کے عمیق اور گہرے معنی کا ادراک نہ کرنے کے باعث ایک گروہ ان کی تفسیر کرنے میں گمراہ ہوگیا اور راہ ہدایت سے انحراف کر بیٹھا اور اس نے مکتب جبر کو اختیارکرلیا۔ یہاں تک کہ بعض مشہور مفسربھی اس آفت سے محفوظ نہ رہ سکے اوراسی ہولناک گڑھے میں جاگرے ، یہاں تک کہ انھوں نے ہدایت وضلالت کو تمام مراحل میں جبری سمجھ لیا اور تعجب کی بات یہ ہے کہ چونکہ اس عقیدہ مسئلہ عدالت الٰہی اورحکمت خداوندی سے تضاد واضح تھا لہذا اسے ترجیح دیتے ہوئے اصل عدالت کے ہم منکر ہوگئے تاکہ اپنی غلطی کی اصلاح کرلیں، اصولاً اگر ہم اصول جبر کے قائل ہوں تو پھر شرعی ذمہ داری رسولوں کے بھیجنے اور آسمانی کتابوں کے نازل کرنے کا کوئی مفہوم ہی باقی نہیں رہ جاتا ۔ لیکن وہ لوگ جو مکتب اختیار کے طرف دار ہیں ان کا عقیدہ یہ ہے کہ کوئی عقل سلیم اس بات کو قبول نہیں کرسکتی کہ خدا کسی گروہ کو و ضلالت و گمراہی کا راستہ طے کرنے پرمجبور کرے اور پھراس جبری کام کی وجہ سے اسے سزابھی دے یاکسی گروہ کو ہدایت پرمجبور کرے اوراس کے بعد بغیرکسی وجہ سے انھیں جزابھی دے اور ایسے کام کی وجہ سے جسے انھوں نے خود سے انجام نہیں دیا ہے انھیں دوسروں پرامتیاز بھی دے، ان لوگوں نے ان آیات کی تفسیر کے لیے دوسرے راستے اختیار کیے ہیں، جن میں سے زیاده اہم حسب ذیل ہیں۔ 1- ہدایت الٰہی سے مراد بات تشریعي ہے ، جووحی ، آسمانی کتابوں اور پیغمبروں اور ان کے اوصیاء کے ذریعے اور اسی طرح عقل وجدان کے ادراک سے صورت پذیر ہوتی ہے۔ لیکن تمام مراحل میں راستہ طے کرنا خود انسان کے اپنے ذمہ ہے۔ البتہ یہ تفسیر ہدایت والی بعض آیات کے ساتھ ہم آنگ ہے لیکن دوسری بعض آیات کی یہ تفسیرنہیں کی جاسکتی کیونکہ وہ صراحت کے ساتھ "ہدایت تکوینی" اور "ایصال به مطلوب" کے بارے میں ہیں ۔ مثل سورہ قصص کی آیہ 56 میں ہے کہ : تو جس شخص کو پسند کرے ہدایت نہیں کرسکتا لیکن خدا جسے چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے۔ کیونکہ ہم جا نتے ہیں کہ ہدایت شریعی اور راستہ دکھانا پیغمبروں کی اصلی ذمہ داری ہے۔ 2- مفسرین کی ایک اور جمآعت نے ہدایت وگمراہی کی اس مقام پر جہاں وہ تکوینی پہلورکھتی ہے، جزا وسزا اور بہشت و دوزخ کے راستے تک پہنچانے کے معنی میں تفسیرکی ہے ، انھوں نے یہ کہا ہے کہ خدا نیکوکاروں کو بہشت کے راستے کی طرف ہدایت کرتا ہے اور بدکاروں کو اس سے گمراہ کرتا ہے۔ البتہ یہ معنی بھی صرف بعض آیات کے بارے میں صحیح ہے لیکن دوسری آیات کے بارے میں لفظ ہدایت وضلالت کے مطلق ہونے اور ان میں کسی قسم کی قیدوشرط نہ ہونے کی وجہ سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ 3- ایک اور جماعت نے یہ کہا ہے کہ ہدایت سے مراد مقصود تک پہنچنے کے اسباب و مقدمات فراہم کرنا ہے اور ضلالت سے مردان کو مہیانہ کرنا یا انھیں حذف کرنا ہے بعض نے اسے "توفیق" اور "سلب توفیق" سے تعبیر کیا ہے ۔ کیونکہ توفیق سے مراد مقصود تک پہنچنے کے لیے مقدمات کا فراہم ہونا اور سلبِ توفیق انہیں اٹھالینا ہے۔ اس بنا پر خدا کی بات اس طرح نہیں ہے کا خدا جبری طور پر انسانوں کو مقصد تک پہنچا دے بلکہ اس طرح ہے کہ ا س کے وسائل انھیں مہیا کردے۔ مثلا اچھے مربی کا ہونا تربیت کے ماحول کا صحیح ہونا، دوستوں اور ساتھ دینے والوں کا صالح و نیک ہونا اور اسی قسم کی دوسری چیزیں سب کی سب مقدمات ہیں لیکن ان تمام باتوں کے باوجود انسان کو ہدایت کا راستہ طے کرنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ وہ ان سب کو پس پشت ڈال کر راہ ضلالت کو اختیار سکتے ہیں ۔ لیکن اس تفسیر میں اس سوال کی گنجائش رہ جاتی ہے کہ یہ تو فیقات ایک گروہ کے شامل حال کیوں ہوتی ہیں ، جبکہ دوسراگرده ان سے محروم رہتا ہے۔ اس تفسیر کے طرفداروں کو خدا کے افعال کے حکیمانہ ہونے کی طرف توجہ کرتے ہوئے اس فرق کے دلائل ذکر کرنا پڑیں گے۔ مثلاً یہ کہیں کہ عمل خیر انجام دینا توفیق الٰہی کا سبب بنتا ہے اور اعمال شرانجام دینا انسان سے توفیق سلب کرلیتا ہے۔ بہرحال یہ ایک اچھی تفسیر ہے لیکن مطلب پھربھی اس سے زیادہ گہرا ہے۔ 4- دقیق ترین تفسیر جو ہدایت و ضلالت کی تمام آیات سے ہم آہنگ ہے اوران سب کا مفہوم اچھی طرح سے واضح کرتی ہے بغیر اس کے کہ اس میں کوئی معمولی سا بھی خلاف ظاہر پایا جائے یہ ہے کہ ہم کہیں کہ : ہدایت تشریعی راستہ دکھانے کے معنی میں جنبہ عمومی رکھتی ہے اورکسی قسم کی قید و شرط اس میں نہیں ہے۔ جیسا کہ سورہ دہر کی آیہ 3 میں بیان ہواہے کہ : انا هديناه السبل أماشاکرًا و اماکفورًا ہم نے انسان کو راستہ دکھا دیا ہے اب چاہے وہ شکر گزاری کرے یا کفران ناشکری کرے۔ نیزسورة الشورٰی کی آیہ52 میں یہ بیان ہوا کہ : وانك لتهدي الٰى صراط مستقیم تو تمام انسانوں کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ نبی کی دعوت خدا کی دعوت کی مظہر ہے کیونکہ اس کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ خدا کی طرف سے ہے۔ اور منحرفین اور مشرکین کی ایک جماعت کے بارے میں سورہ نجم کی آیہ 23 میں ولقد جاءهم من ربهم الهدٰی خدائی ہدایت پروردگار کی طرف سے ان کے پاس آئی ۔ لیکن ہدایت تکوینی جس کا معنی ہے ایصال بہ مطلوب اور بندوں کا ہاتھ پکڑ کر راستے کے تمام پیچ وخم سے گزار کرلے جانا اور ان کی حفاظت کرنا ، ساحل نجات تک پہنچانے تک یہ بہت سی دوسری آیات کا موضوع بحث ہے ۔ یہ ہدایت ہرگزغیرمشروط نہیں ہے یہ ہدایت ایسے گروہ کے ساتھ مخصوص ہے جس کے اوصاف قرآن میں بیان ہوئے ہیں اور گمراہ کرنا جو اس کا الٹ ہے وہ بھی ایک ایسے گروہ کے ساتھ مخصوص ہے جس کے اوصاف قرآن میں بیان ہوئے ہیں اور گمراہ کرنا جو اس کا الٹ ہے بھی ایک ایسے گروہ کے ساتھ مخصوص ہے کہ جن کے اوصاف بیان ہوچکے ہیں۔ اگربعض آیات مطلق ہیں، لیکن بہت سی دوسری آیات نے ان کی قیدوشرط کووقت کے ساتھ بیان کردیا ہے اور جس وقت ان مطلق اور مقید آیات کو ایک دوسرے کے ساتھ ملاکر رکھیں توپھر مطلب پورے طور پر واضح ہوجاتا ہے اور آیات کے معنی میں کسی قسم کا ابہام اورترد و باقی نہیں رہتا اور وہ نہ صرف یہ کہ انسان کے اختیار اور ارادے کی آزادی کے خلاف نہیں ہے بلکہ پوری طرح اس کی تاکید کرتا ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:36-37
ایک وضاحت
ایک وضاحت قرآن مجید ایک بار کہتاہے: يضل به كثيرًا ويهدي به كثيرًا ومايضل به الاالفاسقين وه ان ضرب الامثال کے ذریعے بہت سوں کو گمراہ اور بہت سوں کو ہدایت کرتا ہے لیکن فاسقوں کے علاوہ اور کسی کو گمراہ نہیں کرتا۔ (بقره ــــــــــ 26) یہاں ضلالت کا سرچشمہ فسق اور اطاعت و فرمان الٰہی سے خروج کوشمار کیا گیا ہے ایک اور جگہ قرآن کہتا ہے: و الله لا يهدي القوم الظالمين خدا ظالم قوم کو ہدایت نہیں کرتا۔ (بقره ـــــــــ258 )۔ یہاں ظلم کا ذکر ہے اور اسی ضلالت کے لیے میدان ہموار کرنے والے کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ دوسری جگہ ہے : والله لا يهدي القوم الكافرين اللہ کا فرقوم کو ہدایت نہیں کرتا۔ (بقره ــــــــــ264 ) یہاں کفرکا گمراہی کے لیے زمین ہموارکرنے والے کے عنوان سے ذکر کیا گیا ہے۔ ایک اور آیت بیان ہوا ہے۔ ان الله لا يهدي من ھوکاذب کفار خدا جھوٹے اور کفران کرنے والے کو ہدایت نہیں کرتا۔ (زمر ـــــــــــ 3)۔ ایک دوسری جگہ آیا ہے:- أن الله لايهدي من هو مسرف كذاب خدا بہت زیادہ جھوٹ بولنے والے اوراسراف کرنے والے کو ہدایت نہیں کرتا ۔ (مؤمن ــــــــ 28) یعنی اسراف اور دروغ گوئی گمراہی کے عامل ہیں۔ البتہ ہم نے جو کچھ یہاں پر بیان کیا ہے ۔ اس سلسلے میں قرآن کی آیات کا ایک حصہ ہے ، ان آیات میں سے بعض انھیں مفاہیم کے ساتھ مختلف سورتوں میں بار بار آئی ہیں ۔ نتیجہ کلام یہ ہے کہ قرآن خدائی ضلالت کو ایسے افراد کے ساتھ مخصوص شمار کرتا ہے جو ان اوصاف کے حامل ہیں ؛ کفر، ظلم ،فسق ، دروغ ، اسراف کفران - کیا وہ لوگ جوان اوصاف کے حامل ہیں وہ ضلالت و گمراہی کے لائق نہیں ہیں ؟ دوسرے لفظوں میں جو شخص ان امور کا مرتکب ہوتا ہے کیا اس کے دل پر تاریکی کے پردے نہیں پڑجاتے؟ زیادہ واضح عبارت میں ان اعمال و صفات کے کچھ آثار میں خواہ مخواہ انسان کو دامن گیر ہوجاتے ہیں، اس کی آنکھ ، کان اورعقل پر، پردہ ڈال دیتے ہیں اور اسے ضلالت و گمراہی کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ چونکہ سب چیزوں کی خاصیت اور تمام اسباب کی تاثیر حکم خدا سے ہے، اسی بنا پران تمام مراحل میں گمراہ کرنے کی نسبت خداکی طرف دی جاسکتی ہے لیکن یہ نسبت بندوں کاعین اختیار اورارادے کی آزادی ہے۔ یہ بات تو ہوئی ضلالت و گمراہی کے سلسلے میں، باقی رہا ہدایت کے سلسلے میں تو اس کے لیے بھی قرآن میں کئی شرائط و اوصاف بیان ہوئے ہیں ، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ بھی علت و سبب کے بغیر نہیں ہے اور حکمت الٰہی کے برخلاف نہیں ہے۔ اوصاف کا ایک حصہ جو استحقاق ہدایت پیداکرتا ہے اور لطف الٰہی کھینچتا ہے۔ ذیل کی آیات میں آیا ہے، ایک جگہ بیان ہوا ہے۔ يهدی به الله من اتبع رضوانه سبل السلام ويخرجهم من الظلمات الى النور باذنه ويهديهم الى صراط مستقیم خدا قرآن کے ذریعے ان لوگوں کو جو اس کی رضا وخوشنودی کی پیروی کرتے ہیں ، سلامتی کے راستوں کی ہدایت کرتا ہے اور اپنے حکم سے تاریکیوں سے روشنی کی طرف سے جاتا ہے اورانھیں راہ راست کی طرف ہدایت کرتا ہے۔ (مائدہ ــــــــــــــــــ 16)۔ یہاں فرمان خدا کی پیروی اوراس کی خوشنودی کے حصول کو ہدایت الٰہی کے لیے راہ ہموار کرنے والا شمار کیاگیا ہے۔ دوسری جگہ بیان ہوا ہے : ان الله يضل من يشاء ويهدي اليه من اناب خدا جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جو شحص اس کی طرف رجوع اور بازگشت کرےاس کی ہدایت کرتا ہے،( رعد ــــــــ 27)۔ یہاں توبہ وانا بت کو استحقاق ہدایت کاعامل شمارکیا گیا ہے : ایک دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے : والذین جاهدوا فينا لنهد ینهم سبلنا جو لوگ ہماری راہ میں جہاد کریں کہ انھیں اپنے راستوں کی طرف ہدایت کرتے ہیں ۔ (عنکبوت ــــــــــــ 69)۔ یہاں پر "جہاد" وہ بھی مخلصانہ جہاد، جوخدا کی راہ میں ہو ، ہدایت کی اصلی شرط کے طور پر ذکر ہوا ہے۔ ایک دوسری آیت میں بھی بیان ہوا ہے : والذين اهـتدوا زادهم هدی جنھوں نے ہدایت کے لیے پہلے قدم اٹھالیے ہیں ، خدا ان کی ہدایت میں اضافہ کرتا ہے۔ ( محمد ــــــــــ 17)۔ یہاں راہ ہدایت کی کچھ مقدار کو طے کرلینا ، لطف خدا سے اس راستے سے جاری رہنے کی ایک شرط کے عنوان سے ذکرہوا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب تک بندوں کی طرف سے توبہ وانا بت نہ ہو، جب تک وہ اس کے فرمان کے پیرونہ بنیں، جب تک جہاد اور سعی و کوشش نہ کریں اور جب تک راہ حق میں پہلا قدم اٹھائیں لطف الہی ان کے شامل حال نہیں ہوتا اور ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں مطلوب تک نہیں پہنچاتا۔ جو ان اوصاف کے حامل ہیں کیا ایسے افراد کے لیے ہدایت کا حصول بے سبب ہے یا کیا یہ ہدایت کے جبری ہونے کی دلیل شمار ہوگی ؟ آپ دیکھ رہے ہیں کہ قرآن کی آیات اس سلسلے میں بہت واضح اورمنہ بولتی ہیں ۔ البتہ وہ لوگ جو آیات ہدایت و ضلالت کی صحیح طورسے جمع بندی نہ کرسکے یا انھوں نے جمع کرنا نہ چاہا ہے وہ اس قسم کی خطرناک غلطی میں گرفتار ہو گئے ہیں اور بقولے: چوں ندیدند حقیقت، ره افسانہ زدند (چونکہ حقیقت کو نہ دیکھ پائے لہذا افسانے کی راہ اختیار کرلی) یہ کہنا چاہیے کہ اس "ضلالت" کے لیے زمین انھوں نے خود ہموار کی ہے۔ بہرحال مشیت الٰہی کی ہدایت و ضلالت کی مذکورہ آیات ہرگزبے دلیل اور حکمت و مصلحت سے خالی مشیت کے معنی میں نہیں ہیں، بلکہ ہر موقع و محل پر اس کی خاص شرائط ہیں جو اسے خدا کے حکیم ہونے کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:36-37
سورة زمر / آیه 36 - 37
(36) اَلَيْسَ اللّـٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهٝ ۖ وَيُخَوِّفُوْنَكَ بِالَّـذِيْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ۚ وَمَنْ يُّضْلِلِ اللّـٰهُ فَمَا لَـهٝ مِنْ هَادٍ (37) وَمَنْ يَّـهْدِ اللّـٰهُ فَمَا لَـهٝ مِنْ مُّضِلٍّ ۗ اَلَيْسَ اللّـٰهُ بِعَزِيْزٍ ذِى انْتِقَامٍ ترجمہ (36) کیاخدا اپنے بندے (کی نجات اور حفاظت) کے لیے کافی نہیں ہے لیکن وہ تجھے اس کے غیر سے ڈراتے ہیں اور جس کو خدا گمراہ کر دے اس کو کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے۔ (37) اور جس کو خدا ہدایت کرے اس کے لیے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے ۔ کیا خدا قادراور صاحب انتقام نہیں ہے؟
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:36-37
شان نزول
شان نزول بہت سے مفسرین نے نقل کیا ہے کہ مکہ کے بت پرست پیغمبراکرمؐ کوبتوں کے غیض وغضب سے ڈراتے تھے اور کہتے تھے کہ ان کی بدگوئی نہ کرو اور ان کے برخلاف اقدام نہ کرو کیونکہ وہ تمھیں دیوانہ کردیں گے اور تکلیف واذیت پہنچائیں گے (اس پر مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی اور انھیں جواب دیاگیا)۔ ؎1 بعض نے یہ بھی نقل کیا ہے کہ وقت "خالد" پیغمبراکرمؐ کے حکم پر مشہورنت "عزی" کو توڑنے پر مامور هوا تومشرکین نے :کہا! بتوں کے غضب سے ڈرو کیونکہ ان کا غضب بہت سخت ہے (وہ تجھے لاچارکردے گا) خالد نے وہ کلہاڑا جو اس کے ہاتھ میں تھا مضبوطی کے ساتھ اس بت کی ناک پر مارا اور اسے توڑ پھوڑ دیا اور کہا: كفرًالک ياغزی لا سبحانك ـــــ سبحان من اهانکانی رایت الله قد أهانك اے عزی تیری نافرانی اور برائی کرتا ہوں تو ہرکز منزہ اورپاک نہیں ہے منزه وہ ہے جس نےتیری توہین کی ہے ، میں نے دیکھ لیا ہے کہ خدا نے تیری اہانت کی ہے ۔ ؎2 لیکن خالد داستان جواصولی طور پرفتح مکہ کے بعد ہونی چا ہیے شان نزول نہیں ہوسکتی کیونکہ سوره زمر ساری کی ساری مکی ہے۔ اس بنا پر ممکن ہے کہ تطبیق کے طور پر ہو۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 تفسیرکشاف ، تفسير مجمع البیان ، تفسیر ابوالفتوح رازی اور تفسیر فی ظلال (مختلف تعبیروں کے ساتھ) مجمع البیان، زیربحث آیات کے ذیل میں (کشاف اورقرطبی میں بھی یہ روایت مختصرًا بیان ہوئی ہے)۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:36-37
خدا کافی ہے
تفسیر خدا کافی ہے ان تہدیدوں کے بعد جوخدا نے گزشتہ آیات میں مشرکین کے لیے بیان کی گئی ہیں اوران وعدوں کے بعد جواس نے رسول اکرمؐ سے کئے ہیں ، پہلی زیربحث آیت میں کفار کی دھمکیوں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: کیا خدا اپنے بندے کی دشمنون سے نجات اور حفاظت کے لیے کافی نہیں ہے لیکن وہ تجھے اس کے غیر سے ڈراتے ہیں (اليس الله بكاف عبده يخوفونك بالذين من دونه). وہ خدا جس کی قدرت تمام قدرتوں نے برترہے اور جو اپنے بندوں کی حاجات اور مشکلات سے اچھی طرح واقف ہے اور ان کے لیے انتہائی لطف اور مہربانی رکھتا ہے، کیسے ممکن ہے کہ اپنے ایمان دار بندوں کو حوادث کے طوفان اوردشمنوں کی موج عداوت کے مقابلے میں اکیلا چھوڑ د ے، جبکہ وہ اپنے بندے کا پشتیبان ہے۔ ؎ اگر تیغ عالم بجنبد ز جای نبرد رگی چوں نخواہد خدای : اگ زمانے کی تلوار اپنی جگہ سے حرکت کرے تو تک جب خدا نہ چاہے وہ رگ گردن نہیں کاٹ سکتی اور وقت وہ چاہے کسی کی مدد کرے تو : ؎ ہزار دشمنم ار می کنند قصد بلاک گرم تو دوستی از دشمنان ندارم باک اگرمیرادشمن ہزار مرتبہ میری ہلاکت کا ارادہ کرے ، اگر تو میرا دوست ہے تو پھر مجھے دشمنوں کا کوئی خوف نہیں ہے۔ چہ جائیکہ یہ بت جو بے قدروقیمت اور بے خاصیت چیںزیں ہیں۔ اگرچہ آیت کی شان نزول مذکورہ روایت کے مطابق بتوں کے غضب سے ڈرانے دھمکانے کے بارے میں ہے ، لیکن آیت کامفهموم اتنا وسیع ہے کہ اس میں غیر خدا کی قسم کی تہدید شامل ہے۔ بہرحال یہ آیت راہ حق پر چلنے والے تمام سچے مومنین کے سے ایک نوید ہے خصوصًا ایسے ماحول اور معاشرے میں جہاں وہ اقلیت میں ہیں اور انھیں ہر طرف سے دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ یہ آیت ان کے دلوں کو گرماتی اور اثبات قدم بخشی ہے ، نشاط و خوشی سے ان کی روح کو سرشار اوران کے قدموں کو استوار کرنی ہے۔ اور دشمنوں کی زیاں بارنفسياتی دھمکیوں کو بے کار کردیتی ہے ۔ ہاں! جب خدا ہمارے ساتھ ہے تو پھر ہمیں اس کے غیر سے کیا ڈر ہے اور اگر تم اس سے بے گانہ اور جدا ہوجائیں تو پھر ہر چیز ہمارے لیے وحشت ناک ہے۔ اس آیت کے آخری میں اور بعد والی آیت میں ہدایت و گمراہی کے بارے میں گفتگو ہے اورلوگوں کو دوگروہوں گمراہ اور ہدایت یافت میں تقسیم کیا گیا ہے اور بتایاگیا ہے کہ یہ سب کچھ خدا کی طرف سے ہے تاکہ یہ بات واضح ہوجائے کہ تمام بندے اس کی بارگاہ کے نیازمند اور محتاج ہیں اور عالم ہستی میں کوئی چیز اس کے چاہے بغیرنہیں ہوتی ، فرمایا گیا ہے: جسے خدا گمرا کردے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے ( ومن يضلل الله فما له من هاد ). اور جسے خدا ہدایت کرے کوئی شخص اسے گمراہ نہیں کرسکتا۔ (ومن يهد الله فماله من مضل )۔ یہ بات ظاہر ہے کہ نہ وہ ضلالت وگمراہی بلاوجہ ہے اور نہ یہ ہدایت بغیرکسی حساب کتاب کے ہے بلکہ ان میں سے ہرایک خود انسان کی خواہش اوراس کی سعی و کوشش کا ایک تسلسل ہے اگر کوئی شخص گمراہی کی راہ میں قدم رکھتا ہے اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ نور حق کو خاموش کرنے کے لیے کوشش کرتا ہے ، دوسروں کو غافل کرنے میں کوئی موقع جانے نہیں دیتا اور سرسے لے کر پاؤں تک گناه وعصیان میں غرق ہو جاتا ہے تو یہ بات صاف طور پر ظاہر ہے کہ خدا اسے گمراہ رکھتا ہے ، نہ صرف یہ کہ اس سے توفیق ہدایت سلب کرلیتا ہے بلکہ اس کی ادراک اور پہچان کی قوت کوبھی بیکار کردیتا ہے، اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے اوراس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے اوریہ نتیجہ ہے ان اعمال کا جنھیں وہ انجام دیتا ہے۔ لیکن جو لوگ خلوص نیت کے ساتھ "سير الى الله" کا ارادہ رکھتے ہیں، اس کے اسباب فراہم کرتے ہیں اور ابتدائی و قدم اٹھا لیتے ہیں تو ہدایت الٰہی کانوران کی مدد کے لیے آگے بڑھتا ہے اورحق کے فرشتے ان کی مدد کو آتے ہیں اور شیاطین کے وسوسوں کو ان کے دلوں سے دور کرتے ہیں، ان کے ارادوں کو قوی اور ان کے قدموں کو استوار کرتے ہیں اور مقامات لغزش پرلطف الٰہی ان کا ہاتھ تھام لیتاہے۔ یہ ایسے مسائل ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید کی بہت سی آیات شاہد و گواہ ہیں، اور کتنے بے خبر ہیں وہ لوگ جواس قسم کی آیات کا قرآن کی دوسری آیات سے رابط منقطع کرکے انھیں مکتب جبر کا گواہ بناتے ہیں، گویا وہ یہ بات نہیں جانتے کہ آیات قرآنی ایک دوسرے کی تفسیرکرتی ہیں۔ بلکہ اسی زیربحث آیت کے ذیل میں اس معنی پر ایک واضح شاہد موجود ہے، کیونکہ فرمایا گیا ہے: کیا خدا قادراور صاحب انتقام نہیں ہے۔ (اليس الله بعزیزذی انتقام)۔ ہم جانتے ہیں کہ خدا کی طرف سے انتقام ان غلط اعمال کے مقابلے میں سزاو عذاب کے معنی میں ہے جو انجام دیئے گئے ہیں۔ یا امراس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس کا گمراہ کرنا سزا کا پہلو رکھتا ہے اور خود انسانوں کے اعمال کاردعمل ہے نیز طبعی وفطری طور پر اس کی ہدایت بھی اجرو پاداش کا پہلورکتھی ہے اورخالص و پاک اعمال اور اللہ کی راہ میں مجاہدے کاعکس العمل ہے ۔ ؎1 ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 راغب مفردات میں کہتاہے کہ "نقمت" "عقوبت اورسزا کے معنی میں ہے۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 39:36-37
2- لطف خدا کا ذکر
2- لطف خدا کا ذکر : انسان حوادث کی تندو تیز ہوا کے سامنے گھاس کے ایک تنکے کے مانند ہے اور ہروقت کسی بھی طرف پھینکا جاسکتا ہے ممکن ہے کہ گھاس کا یہ تنکاکسی پتے یا ٹوٹی ہوئی شاخ کے ساتھ جا ملے لیکں تیز ہوا ان دونوں کو ہی اڑالے جائے، یہاں کہ اگر وہ کسی درخت کے ساتھ جاچپکے توممکن ہے کبھی طوفان درخت کوبھی اکھاڑلے جائے لیکن اگر وہ کسی بہت بڑے پہاڑ کے ساتھ جڑ جائے تو کوئی بھی طوفان اسے اس کی جگہ سے نہیں ہلاسکتا۔ یہ پہاڑ توخدا پرایمان کا دوسرا نام ہے اور باقی جو کچھ بیان ہوا وہ اس کے غیر پربھروسہ کرنے کی طرح ہے اور اسی بنا پرمذکررہ بالا آیات میں قرآن کہتا ہے: اليس الله بكاف عبده کیا خدا اپنے بندے کی حمایت کے لیے کافی نہیں ہے؟ اس آیت کے مضمون و مطالب پر توجہ اورایمان انسان کو بہت زیادہ شجاعت اور اعتماد ذات بخشتا ہے ، اس کے دل کو آرام و سکون دیتا ہے تاکہ سخت حوادث کے مقابلے میں پہاڑ کی طرح ڈٹ جائے ، دشمنوں کی کثرت سے نہ ڈرے اور ساتھیوں کی کمی سے نہ گبھرائے اور شدید بحران اس کا روحانی سکون درہم برہم نہ کرے جیسا حدیث میں آیا ہے: المؤمن الجبل الراسخ لا تحركه العواصف مومن مضبوط پہاڑ کی طرح ہے اسے تندوتیز آندھیاں اپنی جگہ سے نہیں ہلاسکتیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ