وَاللَّهُ خَلَقَكُم مِّن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنثَى وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ وَمَا يُعَمَّرُ مِن مُّعَمَّرٍ وَلَا يُنقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
Allah created you from dust, then from a drop of [seminal] fluid, then He made you mates. No female conceives or delivers except with His knowledge, and no elderly person advances in years, nor is anything diminished of his life, but it is [recorded] in a Book. That is indeed easy for Allah.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 35:11
[Pooya/Ali Commentary 35:11] This verse refers to the lowly physical origin of man. Refer to the commentary of An-am: 2; Araf: 12; Kahf: 37; Hajj: 5; Rum: 20 and Muminun: 12 to 16 to know that man's physical body is but dust; created by a drop of semen. The sexual relationship shows that no individual among mankind is independent. Absolute glory, power, authority, knowledge and life belong only to Allah. Human beings reflect these divine attributes by His grace, which He may withdraw at any time through His independent will. It is Allah who grants a lengthy life or cuts it short, and this is not difficult for Him, but easy. Man cannot know hidden things which are known only to Allah. Aqa Mahdi Puya says: These verses assert that whatever Allah has created is not purposeless or futile.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:11-12
چند قابل غور نکات
چند قابل غور نکات 1- "فرات" "لسان العرب" کے مطابق ایسا پانی ہے کہ جو بہت صات ستھرا اورشیریں ہو۔ "سائغ" اس پانی کے معنی میں ہے کہ جو خوشگوار ہونے کی وجہ سے آسانی کے ساتھ گلے سے نیچے چلا جاتا ہے ، "ملح" (شورپانی) کے برعکس ۔ جبکہ "اجاج" ایسا کڑوا پانی ہے کہ جس سے گلے میں جلن ہو اور جو حلق کو بند کر دے۔ 2- بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ یہ مومن وکافر کی عدم مساوات کی ایک مثال ہے ۔ لیکن قبل وبعد کی آیات کہ جو خلقت کی نشانیوں کے بارے میں گفتگو کر تی ہیں اس حقیقت پر گواہ ہیں کہ یہ جملہ بھی اسرار و توحید کے سلسلے میں ہے اور پانی کی مختلف قسموں ، مختلف آثار اور مشترک فوائد کی طرف ا شاره کرتا ہے۔ 3- اس آیت میں دریاؤں اور سمندروں کے بہت سے فوائد میں سے تین فائدے بیان ہوۓ ہیں ۔1- غذا 2- زینت کی چیزیں اور 3- نقل وحمل . ہم جانتے ہیں کہ سمند راور دریا نوع بشر کے منابع غذائی میں سے ایک اہم منبع ہے، اور ہر سال کئی ملین ٹن گوشت اس سے حاصل کیاجاتاہے ، بغیر اس کے کہ انسان اسی کے لیے تکلیف اور مشقت اٹھاۓ ، کارخانہ قدرت نے اس سلسلے میں ایک دقیق نظام بنایا ہے تا کہ انسان خدا کے اس بچھے ہوئے دسترخوان اور خوان نعمت سے تھوڑی سی زحمت کر کے فائدہ حاصل کریں۔ زینت و تزئین کی مختلف چیزیں "صدف" ، "موتی" اور " مرجان" اس سے نکالے جاتے ہیں، ان قرآن نے اس مسئلے کا اس لیے ذکر کیا ہے کہ انسان کی روح چو پاؤں کی طرح نہیں ہے بلکہ مختلف جہات کی حامل ہے کہ جن میں سے ایک زیبائش کی حِس ہے جو ذوق ، ہنر اور ادب کا سرچشمہ ہے۔ یہ انسانی حس اگر ہرقسم کے افراط و تفریط اور اسراف و تبذیر سے پبچتے ہوئے صحیح صورت میں سیر ہو تو یہ روح و کی شادابی کا باعث ہے اور اس سے انسان کو نشاط اور سکون ملتا ہے اور وہ زندگی کے سخت کاموں کی انجام دہی کے لیے آماده ہوجاتاہے۔ باقی رہا نقل وحمل کا مسئلہ تو یہ انسانی تمدن اور معاشرتی زندگی کی ایک اہم بنیاد ہے ۔ سمندروں نے زیادہ تر زمین کے حصے کو گھیر رکھا ہے اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہیں، اس امر کی طرف توجہ کی جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کی نقل وحمل کے سلسلے میں سمندر انسانوں کی نہایت اہم خدمت سرانجام دے سکتے ہیں۔ اس سازوسامان کا حجم کہ جس کی سمندروں کے ذریعے نقل وحمل ہوتی ہے اور وہ مسافر کہ جو ان کے ذریعے اِدھر اُدھر آتے جاتے ہیں، اس قدر زیادہ ہیں کہ کسی بھی دوسرے ذریعے پر اس کا قیاس نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ بعض اوقات ایک سمندری جہاز ہزارہا موٹروں اور ٹرکوں کے برابر بار اٹھاکر لے جاتا ہے۔ ؎1 4- البتہ سمندروں کے فوائد مذکوره مسائل تک ہی منحصر نہیں اور قرآن ان کو ان ہی تین امور میں محدود نہیں کرتا ، بادل ان سے بنتے ہیں، دوائیوں کے لیے مواد تیل ، پہننے کی چیزیں ، بنجر زمینوں کی تقویت کے لیے مواد ان سے حاصل ہوتا ہے ، ہواؤں کے پیدا ہونے میں ان کا کردار بھی قابل ذکر ہے اور ان کے علا وہ سمندروں کی اور بھی برکات بہت سی ہیں ۔ 5- "لحماطربًا" (تروتازه گوشت) پر قرآن کا اظہار اس قسم کے گوشت کے غذائی فوائد کے بارے میں ، پرانے اور ڈبوں میں بند اور اسی قسم کے دوسرے گوشتوں کے مقابلے میں ــــ ایک معنی اشارہ ہے۔ 6- یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کڑوے اور شور سمندر تو سارے کره زمین میں پھیلے ہوئے ہیں لیکن میٹھے پانی کے سمندر کہاں ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ میٹھے پانی کے سمندر اور بحیرے بھی کره زمین میں کم نہیں ہیں مثلًا ریاستہاۓ متحده امریکہ وغیرہ میں میٹھے پانی کے چھوٹے چھوٹے سمندرہیں ۔ اس کے علاوہ بڑے بڑے دریاؤں کو بھی "بحر" کہا جاتا ہے ۔ جیسا کہ حضرت موسٰی کے واقعے میں لفظ "بحر" کا دریائے نیل پر اطلاق ہوا ہے، (بقره - 50 ، شعراء -63 اور اعراف 138) - اس سے قطع نظر بڑے بڑے دریاؤں کا پانی سمندروں کے اندر تک بڑھتا چلاجاتا ہے ۔ وہ سمندروں کے شور پانی کو پیچھے دھکیل دیتا ہے اور کچھ عرصے تک ان میں مخلوط نہیں ہوتا۔ اس طرح وہ خود میٹھے پانی کا ایک عظیم سمندر بنا دیتا ہے۔ 7- " لتبتغوا من فضله" (تاکہ اس کے فضل سے فائدہ اٹھاؤ) یہ جملہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے۔ اس میں ہر وہ اقتصادی نقل و حرکت شامل ہے کہ جو سمندروں کے راستے سے ہوتی ہے ۔ اور "لعلكم تشكرون" کا جملہ انسانوں کے احساس شکرگزاری کو بیدار کرنے کے لیے آیا ہے۔ اور یہ احساس خدا جوئی اور خدا شناسی کے لیے ایک ذریعہ ہے۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اس وقت بھی پانچ لاکھ ٹن تیل لے جانے والے جہاز موجود ہیں ۔نقل وحمل کا کوئی بھی دوسرا ذریعہ ان کی جگہ نہیں لے سکتا اور سمندروں علاوہ کوئی بھی رات اس کواٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ گزشتہ زمانوں میں بھی کشتیوں اور بحری جہازوں کی صلاحیت چوپاؤں کی نسبت بہت زیادہ تھی۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:11-12
طویل عمر اور کم عمر کے روحانی عوامل
طویل عمر اور کم عمر کے روحانی عوامل زیر بحث آیات میں پروردگار کے فرمان سے عمر کی زیادتی اور کمی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں روایات بھی وارد ہوئی ہیں ۔ اسی مناسبت سے مفسرین نے بھی عمر کے طویل اور کوتاہ ہونے کے بارے میں کئی بحثیں کی ہیں۔ البتہ طبیعی سوال کا ایک سلسلہ عمر کی زیادتی یا کمی میں دخل رکھتا ہے کہ جن میں سے بہت سے عوامل کو نوع بشر نے اب تک پہچان لیا ہے ۔ مثلًا افراط و تفریط سے بچتے ہوئے صحیح غذا کھانا ، کام اور حرکت میں رہنا ، ہر قسم کے نشے ، خطرناک عادات اور الکحل کی مشروبات سے پرہیز کرنا ، ہر وقت کے ہیجانات سے دور رہنا اور قوی اور مضبوط ایمان رکھنا کہ جو انسان کی زندگی کی ناہمواریوں میں سکون بخش سکے۔ ان کے علاوہ بھی کچھ ایسے عوامل ہیں کہ جن کاطول عمر کے ساتھ ظاہری ارتباط ہم پرچنداں واضح نہیں ہے ۔ مگر روایات اسلامی میں ان کے بارے میں بہت تاکید کی گئی ہے ۔ نمونے کے طور پر ذیل کی چند روایات پر توجہ فرمائیں : الف ۔ پیغمبرگرامیؐ فرماتے ہیں : ان الصدقة وصلة الرحم تعمران الديار وتزيدان في الأعمار - راہ خدا میں خرچ کرنا اور صلہ رحمی گھروں کو آباد اور گھروں کو زیادہ کرتا ہے ۔ ؎1 ب - ایک اور حدیث میں رسول اکرمؐ ہی سے منقول ہے: من سره أن يبسط في رزقه وينی له في اجله فليصل رحمه - جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں زیادتی ہو ، اور اس کی اجل میں تاخیر ہو تو اسے چاہیئے صلہ رحمی کرے ۔ ؎2 ج- بعض گناہوں بالخصوص زنا اور بدکاری کے متعلق وارد ہوا ہے کہ وہ انسان کی عمر میں کمی کا باعث بنتے ہیں ۔ پیغمبراکرمؐ کی مشہور حدیث میں ہے کہ : يا معشر المسلمين اياکم والزنا فان فيه ست خصال : ثالاث في الدنيا، وثلات في الآخرة ، اما التي في الدنيا فانه يذهب بالبهاء ویورث الفقر ونقص العمر۔ اسے مسلمانو! زنا سے پرہیز کرو کیونکہ اس کے چھ برے نتائج ہیں ، تین دنیامیں اور ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 ، ؎2 تفسیر نورالثقلین جلد 4 ص 354 ، ص 355 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ تین آخرت میں۔ وہ تین کہ جو دنیا میں ہیں یہ ہیں : انسان کے (چہرے) کی رونق اور تورانیت ختم ہوجاتی ہے ، فقرو فاقہ اور تنگدستی آجاتی ہے اور انسان کی عمرکم ہو جاتی ہے ۔ ؎1 د- امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں: البروصدقة السرينفيان الفقر و یزیدان في العمر ويدفعان عن سبعين ميتة سوء۔ نیکوکاری اور پوشیدہ طریقے سے صدقہ دینا فقر و فاقہ کو دور کرتا ہے ،عمر میں زیادتی کرتا ہے اور ستر قسم کی بری موت سے بچاتا ہے۔ ؎2 بعض دوسرے گناہوں کے متعلق مثلًا ظلم بلکہ مطلق گناہوں کے بارے میں بھی کچھ اشارے آئے ہیں۔ بعض مفسرین کہ جو "اجل حتمی " اور "اجل معلق" کے درمیان فرق نہیں کرسکے ، انہوں نے اسی قسم کی احادیث پر سخت اعتراض کیا ہے اور انہیں نصوص قرآنی کے مخالف سمجھا ہے کیونکہ ، انسان کی حد علم کو ثابت اور غیر متبدل سمجھتے ہیں۔ ؎3
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:11-12
اس کی وضاحت
اس کی وضاحت اس میں شک نہیں کہ انسان دوقسم کی اجل رکھتا ہے ۔ ایک اجل حتمی کہ جو جسم انسانی کی استعداد بقاء کا اختتام ہے ۔ اس کے پہنچ جانے سے ہرچیز فرمان الہی سے ختم ہو جاتی ہے۔ دوسری اجل معلق کہ جو حالات و شرائط بدلنے کے ساتھ بدل جاتی ہے ۔ مثلاً ایک انسان خودکشی کرلیتا ہے ، حالانکہ وہ اگر اس گناہ کبیرہ کا ارتکاب نہ کرتا تو شاید سالہا سال زندہ رہتا اسی طرح الکحل کے مشروبات نشہ آور چیزیں اور بے لگام شہوت پرستی سے بھی انسان اپنے جسم کی توانائی مختصرسی مدت میں کھو بیٹھتا ہے، حالاناکہ اگریہ امور نہ ہوتے تو وہ سالہاسال تک زندہ رہ سکتا تھا۔ یہ ایسے امور ہیں کہ جو سب کے لیے قابل ادراک ہیں اور تجربے میں آچکے ہیں اور کوئی بھی ان کا انکار نہیں کر سکتا۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیرنورالثقلین جلد 4 ص 354 و 355 ۔ ؎2 سفينہ البحار جلد 2 ص 23 مادة صدقہ ؎3 تفسیرآلوسی جلد 22 ص 164 (زیر بحث آیات کے ذیل ہیں) - ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اچانک پیش آنے والے واقعات اور حادثات کے بارے میں کچھ امور اجل معلق کے ساتھ مربوط ہیں کہ جو قابل انکار نہیں ہیں۔ اس بناپر اگر بکثرت روایات میں منقول ہوا ہے کہ راہ خدا میں خرچ کرنا یا صلہ رحمی عمر کو طولانی کر دیتا ہے اور مصیبتوں کو برطرف کردیتا ہے تو وہ بھی حقیقت میں انہیں عوام نے پیش نظر ہے۔ اگر ہم اجل اور عمر کے خاتمہ کی یہ دوقسمیں ایک دوسرے سے جدا نہ کریں تو قضا و قدر اور سعی وکوشش کے اثرات سے مربوط بہت سے مسائل انسانی زندگی میں لا نیحل ہوکر رہ جائیں۔ اس بجٹ کو ایک عام اور سادہ مثال کے ذریعے واضح کیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ انسان نئی موٹروں کا ایک کارخانہ لگاتاہے ۔ فرض کریں کہ مختلف تخمینوں کے مطابق کے وہ بیسں سال تک چل سکتی ہیں لیکن اس شرط کے ساتھ کہ پوری احتیاط کے ساتھ ان کی دیکھ کمال کی جائے اور ضروری حفاظت کی جائے ۔ اس صورت میں اس موٹر کی حتمی عمر بیس سال ہو گی کہ جس سے آگے وہ نہ چل سکے گی۔ لیکن اگر ضروری حفاظت اور دیکھ بال نہ کی جائے اور اسے ناوا قف اور بے پرواہ لوگوں کے سپرد کر دیا جائے اور اس سے اس کی طاقت سے زیادہ کا نام لیا جائے ، روزانہ سنگلاخ راستوں پر اسے چلایا جائے تو ہو سکتا ہے کہ اس کی بیس سالہ عمر آدھی رہ جائے یا دسویں حصے تک کم ہوجائے تو یہ اس "اجل معلق" ہے۔ ہمیں تعجب ہوتا ہے کہ بعض مشہور مفسرین نے اس قسم کے واضح اور روشن مسئلے کی طرف توجہ کیوں نہیں کی ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:11-12
سوره فاطر / آیه 11 - 12
(11) وَاللّـٰهُ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُـمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُـمَّ جَعَلَكُمْ اَزْوَاجًا ۚ وَمَا تَحْمِلُ مِنْ اُنْثٰى وَلَا تَضَعُ اِلَّا بِعِلْمِهٖ ۚ وَمَا يُعَمَّرُ مِنْ مُّعَمَّرٍ وَّلَا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهٓ ٖ اِلَّا فِىْ كِتَابٍ ۚ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّـٰهِ يَـسِيْـرٌ (12) وَمَا يَسْتَوِى الْبَحْرَانِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَآئِــغٌ شَرَابُهٝ وَهٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ۖ وَمِنْ كُلٍّ تَاْكُلُوْنَ لَحْمًا طَرِيًّا وَّتَسْتَخْرِجُوْنَ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَـهَا ۖ وَتَـرَى الْفُلْكَ فِيْهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِـهٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُـرُوْنَ ترجمہ (11) خدا نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفہ سے ، پھر تمہارے جوڑے بنادیئے ، کوئی مادہ حاملہ نہیں ہوتی اور جنتی ہے مگر اس کے علم کے ساتھ اور کسی شخص کی عمرنہیں بڑھتی اور نہ کسی شخص کی عمر میں کمی ہوتی ہے مگر یہ کہ (علم خدا کی) کتاب میں لکھا ہوتا ہے۔ یہ سب کچھ خدا کے لیے آسان ہے۔ (12) یہ دونوں دریا یکساں نہیں ہیں ۔ ایک دریا کہ جس کا پانی شیری اور پینے میں و خوشگوار ہے اور ایک یہ کہ جو کھاری اور گلوگیر ہے (لیکن) تم دونوں سے ہی تر وتازه و گوشت کھاتے ہو ، اور زینت کی چیزیں نکال کر پیہنتے ہو ، اور تم دیکھتے ہو کہ کشتیاں ان کا سینہ چیرتی ہوئی چلی جاتی ہیں (اور ہرطرف کو بڑھ رہی ہیں) تاکہ تم فضل خدا سے فائدہ اٹھاؤ اور شاید کہ تم (اس کی نعمتوں کا) شکر ادا کرو۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:11-12
شیریں اورشورپانی والے دریا یکساں نہیں هیں
تفسیر شیریں اورشورپانی والے دریا یکساں نہیں هیں گزشتہ آیات میں توحید ، معاد و صفات خدا کے بارے میں گفتگوتھی - زیر بحث آیات میں بھی جاندار مخلوقات اور آفاق میں اللہ کی بعض اور نشانیوں کا ذکر ہے کہ جو خدا کی قدرت کی بھی دلیل ہیں اس کے علم کی بھی اور امکان معاد کی بھی۔ پہلے مختلف مراحل میں انسان کی پیدائش کے متعلق اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : "خدا نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا"۔ (والله خلقكم من تراب). "پھر نطفہ سے"۔ (ثم من نطفة) - "پھر تمهارے جوڑے بنادیئے"۔ (ثم جعلکم ازواجًا). یہ تین مرحلے انسان کی حالت کے مراحل میں سے ہیں ، مٹی ، نطفہ اور زوجیت۔ یہ بات مسلم ہے کہ انسان مٹی سے بنا ہے اس لحاظ سے بھی کہ انسانوں کے جد اعلی حضرت آدمؑ و مٹی سے پیدا ہوئے اور اس لحاظ سے بھی کہ وہ تمام مادے کر جو جسم انسانی کو تشکیل دیتے ہیں یا انسان ان سے غذا لیتا ہے، یا اس کا نطفہ ان سے بنتا ہے وہ سب کے سب مٹی ہی سے نشو ونما پاتے ہیں. بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ مٹی سے پیدائش صرف پہلی خلقت کی طرف اشارہ ہے لیکن نطفہ سے پیدائش بعد کے مراحل کی طرف اشارہ ہے ، کیونکہ پہلے انسانوں کی خلقت کا اجمالی مرحلہ ہے (کیونکہ سب کا وجود آدم کے وجود سے چلتا ہے) اور دوسرا مرحلہ تفصیلی ہے کہ جس میں انسان ایک دوسرے سے جدا ہوتا ہے۔ جبکہ زوجیت کا مرحلہ نسل انسانی کے تسلسل اور اضافے کا مرحلہ ہے۔ نیز یہ جو بعض نے خیال ظاہر کیا ہے کہ "ازواج" یہاں "اصناف" یا "روح و جسم" وغیرہ کے معنی میں ہے ، بہت بعید نظر آتا ہے۔ اس کے بعد حیات انسانی کے چوتھے اور پانچویں مرحلے کا ذکر ہوتا ہے اور ماؤں کے حاملہ ہونے اور بچے جننے کے بارے میں بات کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے۔ "کوئی مادہ حاملہ نہیں ہوتی اور بچہ جنتی مگر وہ خدا کے علم میں ہوتا ہے" (وما تحمل من انثٰی ولاتضع الا بعلمه)۔ حمل ٹہرنا اور پھر جنین کی حالت میں بہت ہی عجیب اور پیچیدہ تبدیلیاں اور اس کے بعد وضع حمل یہ حساس اور حیرت انگیز تغیرات کہ جو ایک طرف ماؤں کو اور دوسری طرف جنین کو پیش آتے ہیں، اتنے عمیق اور دقیق ہیں کہ جو خدا کے بے پایاں علم کے بغیر ممکن نہیں ہیں ، کیونکہ اگر ان پر حکم فرما نظام سوئی کی نوک کے برابر بھی معطل ہوجائے ، توحمل یا وضع حمل کے سارے پروگرام میں خلل واقع ہوجائے اور معاملہ تباہی تک پہنچ جائے۔ انسان کی زندگی کے ان پانچ مرحلوں میں سے ہر ایک دوسرے سے بڑھ کر عجیب اور تعجب خیز ہے۔ بے جان مٹی کہاں اور زندہ ، عقل مند ، صاحب ہوش اور نوبہ نو کام کرنے والا انسان کہاں؟ بے قدروقیمت نطفہ کہ مستعفن پانی کے چند قطروں سے بنا ہے کہاں؟ صاحب رشد خوبصورت مختلف حواس کا حامل اور طرح طرح کی کاریگری کا مظہر انسان کہاں؟ ؎1 جب ہم اس مرحلہ سے گزر جاتے ہیں تو نوع انسان کی دوصنفوں "مذکر" اور "مونث" میں تقسیم کا مسئلہ پیش آتا ہے ۔ اس میں جسم اور فزیالوجی کے حوالے سے بہت سے اختلافات موجود ہیں۔ یہ دونوں انعقاد نطفہ کے آغاز ہی سے اپنے اپنے راستے ایک دوسرے سے جدا کر لیتے ہیں اور ان میں سے ہر ایک اپنی ذمہ داری کے مطابق آگے بڑھتے ہیں اور تکامل وارتقار کی منزلیں طے کرتے ہیں ۔ اس کے بعد اس بار کو قبول کرنے، اٹھانے ، اس کی حفاظت کرنے ، غذا دینے اور پرورش کرنے کے لیے ماں کی ذمہ داری کا ذکر آتا ہے۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس نے صدیوں سے عظیم علماء اور دانشوروں کے افکار کو اپنی طرف متوجہ کیا ہوا ہے اور وہ اس بات کے معترف ہیں کہ یہ مسئلہ عالم ہستی کے عجیب ترین مسائل میں سے ہے ۔ آخری مرحلہ بچہ کی پیدائش کا ہے، یہ ایک نہایت سخت اور تغیراتی مرحلہ ہے کہ جو بہت سے عجائبات کا حامل ہے۔ وہ کون سے عوامل ہیں کہ جو بچے کو شکم مادرسے باہر نکلنے کا حکم دیتے ہیں؟ اس حکم اور اندام مادر کا اس کے لیے آمادہ ہونا ، ان دونوں کے درمیان کیسی مکمل ہم آہنگی برقرار ہوتی ہے؟ بچہ اس وضع و کیفیت کو کہ جس کا وہ نو ماہ سے عادی تھا لحظ بھر میں کیسے بالکل بدل دیتا ہے اور ماں سے اپنا رابطہ منقطع کرلیتا ہے اور آزاد ہواسے استفادہ کرنے لگتا ہے۔ اس کی غذا آمد و رفت ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "نطفہ" جیسا کہ تم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں ، اصل میں پانی یا تھوڑے سے صاف پانی کو کہتے ہیں ، اسی مناسبت سے تھوڑے سے پانی کے لیے یہ لفظ بولا جانے لگا کہ جو انعقاد جنین کی بنیاد بنتا ہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ بند ناف کی راہ سے اچانک بند ہو جاتی ہے اور غذا کی آمد ورفت کے لیے ایک نیا راستہ یعنی اس کا منہ کام کرنے لگتا ہے۔ ماں کے پیٹ کا تاریک ماحول چھوڑ کر روشنی میں آجاتا ہے اور ان تمام تغیرات کا مقابلہ کرتا ہے اور فوری طور پر خود کو ان کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ کیا یہ خدا کے بے پایاں علم و قدرت کی بہترین نشانی نہیں ہے؟ اور کیا بے شعور مادہ اور بے ہدف طبعیت اور اندھے اتفاقات زنجیر خلقت کے ہزاروں حلقوں میں سے ایک چھوٹے سے حلقے کی تنظیم کا کام بھی سرانجام دے سکتے ہیں ؟ کس قدر بے انصافی ہے کہ انسان اپنی خلقت کے بارے میں اس قسم کے موہوم خیالات کو قبول کرلے۔ اس کے بعد اس عجیب وغریب نظام عمل کے چھٹے اور ساتویں مرحلہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ عمر کے مختلف مراحل کی مختلف عوامل کے زیر اثر زیادتی اورکمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کوئی خمس طولانی عمر نہیں پاتا اورکسی کی عمر میں کمی نہیں ہوتی مگر یہ کہ وہ خدا کے علم کی کتاب میں ثبت ہے" یہ کام ایسے قوانین اور نظام کی پیروی کرتا ہے، کہ جن پر اس کا علم و قدرت حکم فرما ہے (وما یعمر من معمر ولاينقص من عمره الا في كتاب)۔ ؎1 وہ کون سے عوامل ہیں جو حیات انسانی کو جاری رکھنے میں مؤثر ہیں اور وہ کون سے عوامل ہیں کہ جو اس کی حیات کو جاری رکھنے کی مخالفت کرتے ہیں یعنی وہ کون سے عوامل ہیں کہ جن کے ہوتے ہوئے انسان سو سال یا اس سے کم وبیش زندگی کو جاری رکھ سکے ، اور وہ کون سے عوامل ہیں کہ جو انسانوں کی عمر میں اختلاف کا سبب بنتے ہیں؟ یہ سب کے سب امور دقیق اور پیچیدہ حقائق رکھتے ہیں ، کہ جن سے خدا کے علاوہ کوئی آگاہ نہیں ہے موجودہ زمانے میں ہم جو کچھ اس سلسلے میں جانتے ہیں وہ اس کے مقابلے میں کہ جسے کم نہیں جانتے بہت ہی کم ہے اور زیاده قدر و قیمت کا حامل نہیں ہے۔ "معمر" "عمر" کے مادہ سے ہے۔ اصل میں یہ لفظ "عمارت" سے لیا گیا ہے کہ جو آبادی کے معنی میں ہے ۔ یہ جو حیات انسانی کی مدت کو "عمر" کہا جاتا ہے تو یہ اس بنا پرہے کہ اس کے بدن کی "عمارت" اور آبادی اسی مدت میں ہے۔ "معمر" اس شخص کے معنی میں ہے کہ جس کی عمر طولانی ہو۔ آخر کار آیت کو اس جملے پرختم کردیا گیا ہے : "یہ سب کچھ خدا کے لیے آسان ہے"۔ (ان قالك على الله یسیر) ۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 "کتاب" سے مراد خدا کا بے پایاں علم ہے اور یہ جو بعض اس سے لوح محفوظ یا "حیات انسانی کا نامہ اعمال" مراد لیتے ہیں تو یہ مفہوم بھی علم خدا کی طرف لوٹتاہے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ اس عجیب و غریب موجود کی "مٹی" سے خلقت اور "نطفہ کے پانی" سے ایک کامل انسان کی خلقت کا آغاز اور اسی طرح زوجیت ، حمل ، وضع حمل اور عمر کی زیادتی وکمی سے متعلق مسائل چاہے وہ قدرت کے لحاظ سے ہوں یا علم و حساب کے لحاظ سے ، سب کے سب اس کے لیے سہل اور آسان ہیں ، یہ سب دنیاۓ انفس میں اس کی نشانیوں ایک گوشہ ہے ۔ یہ امور ایک طرف تو ہمیں عالم ہستی کے مبداء سے مربوط و آشنا کرتے ہیں اور دوسری طرف معاد و قیامت کے امکان پر زنده دلائل شمار ہوتے ہیں۔ وہ ذات کہ جو "مٹی" اور "نطفہ سے پہلی خلقت پر قادر ہے، کیا وہ انسانوں کی حیات نو پر قادر نہیں ہے؟ اور وہ ذات کہ جوان قوانین سے مربوط تمام جزئیات سے باخبر ہے، کیا اسے بندوں کے حساب وکتاب کو قیامت کے میدان کے لیے محفوظ رکھنے میں کوئی مشکل ہوگی ؟ بعد والی آیت میں آفاق میں اس کی عظمت و قدرت کی کچھ نشانیاں ذکر کی گئی ہیں ۔ دریاؤں کی خلقت اور ان کی برکات و فوئد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے :" دو دریا یکساں نہیں ہیں ان میں سے ایک عمدہ ، شیریں اور پینے میں خوشگوار ہے اور ان میں سے دوسرا کھاری اور گلو گیرہے" (وما و یستوى البحران هذاعذب فرات سائغ شرابه و هذا ملح أجاج)۔ ؎1 اگرچہ وہ دونوں پہلے دن تو بارش کے شیریں قطرات کی شکل میں آسمان سے زمین پر برسے تھے اور دونوں کا سرچشمہ ایک ہی تھا ، لیکن اب گویا دونوں کا چہرہمختلٓف ہے اور مختلف فوائد کے حامل ہیں۔ اور تعجب کی بات یہ ہے کہ :" تم ان دونوں ہی سے ترو تازہ گوشت کھاتے ہو " (ومن کل تأكلون لحمًا طریًا) "اور دونوں سے کی پہننے کے لیے زینت کی چیزیں نکالتے ہو۔" (وتستخرجون حلية تلبسونها)۔ علاوہ ازیں دونوں ہی سے مال و متاع اور نقل وحمل کے لیے فائدہ اٹھاتے ہو، لہذا تم کشتیوں کو دیکھتے ہو کہ جو ہر طرف دریاؤں کو چیرتی ہوئی آگے بڑھتی ہیں ، تاکہ تم خدا کے فضل سے فائدہ اٹھاؤ، شاید اس کے شکر کا حق ادا کرو" (وترى الفلك فيه مواخر لتبتغوا من فضله ولعلكم تشکرون) - ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "عذب" جیسا کہ راغب مفردات میں کہتا ہے پاکیزہ اور سرد کے معنی میں ہے اور "لسان العرب" میں اس کا معنی صرف پاکیزه پاني بیان ہوا ہے (الماء الطيب) ممکن ہے کہ اس کا ٹھنڈا وشیریں ہونا بھی ، "طیب" کے مفہوم میں داخل ہو - ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------