إِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ أَن يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا
Indeed We presented the Trust to the heavens and the earth and the mountains, but they refused to undertake it and were apprehensive of it; but man undertook it. Indeed he is most unjust and ignorant.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:72
[Pooya/Ali Commentary 33:72] Aqa Mahdi Puya says: Amanat means trust. There is no trust if the trustee has no power, and the trust implies that the giver of the trust expects that the trustee would use it according to the wish or will of the creator of the trust, and not otherwise. The offer implies the unrestricted grace of Allah which reaches all beings in the heavens and the earth and in between them; and the refusal refers to their inability or lack of competency to carry out the responsibility. If haml (to bear) implies acceptance of the offer, then this verse means that the heavens, the earth and the mountains refused to accept the offer and man undertook the responsibility. According to some commentators haml, in this verse, implies "failure in the fulfilment and bearing the consequences." Iniquity and ignorance of those who failed to fulfil the entrusted responsibility, pointed out in the last clause, refers, by inference, to those trustees who used the trust according to the will of the creator of the trust, and not otherwise. Therefore this verse implies the praise of those who fulfil the responsibility and denunciation of those who, on account of their iniquity and ignorance, fail to do so. The book of Allah and the Ahl ul Bayt of the Holy Prophet are the two most important trusts of Allah given to the Muslims, about which they will be questioned (see hadith al thaqalayn). Do not pursue that of which you have no knowledge. Verily the ear, the eye and the heart, each shall be questioned.(Bani Israil: 36) The trust is the viceregency of Allah (khilafat) given to man as a gift from the Lord to represent Him according to His will. If the last clause is taken as the failure of Adam then the verses of al Baqarah: 30 to 32 and 124 and Ali Imran: 33 and 34 become meaningless. In Hashr: 21 the sending down of the Quran to the mountains is mentioned, and it is also mentioned therein that such parables are put forth in order to aid man to reflection. The heavens, the earth and the mountains submit themselves to the laws made by Allah. They have no free will. The first and foremost pre-requisite to accept the responsibility is freedom of choice which implies answerableness for all acts of thought and conduct. The trust referred to is the trust of free will or accountability. The evil ones among the human beings have betrayed the trust and brought punishment on themselves, but there are some chosen ones who have been endowed with divine wisdom to rise far above the common level of human abilities, to be the muqarrabin, the nearest ones to Allah as stated in Waqi-ah: 11 and 88. There can be no higher attainment than this for any creature. See commentary of Baqarah: 30 to 34, according to which man (Adam) was taught the names (of the personalities of the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt) which no created being, nor even the angels knew before. By making known "these names" Allah intended the highest destiny for man. He made him His vicegerent. To know the highest height man could rise refer to the commentary of Bani Israil: 1 and Najm: 2 to 9. The Holy Prophet, Ali, Fatimah and the eleven Imams in their progeny (see commentary of Baqarah: 124) were the only chosen men who took the responsibility of administrating the trust of the viceregency of Allah and successfully fulfilled it to the fullest satisfaction of the creator of the trust. Allama Abd al Husayn Sharaf al Din al Musawi says in Al Muraji-at: "The trust given to mankind is the imamah (leadership) of the Ahl ul Bayt which the Muslims failed to follow because of their iniquity and ignorance."
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:72-73
چند اہم نکات
چند اہم نکات 1- اہل نفاق کو مشرکین پرمقدم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ منافق اپنے آپ کو "امین" ظاہر کرتا ہے ۔ حالانکہ وہ خائن ہوتا ہے۔ لیکن مشرک کی خیانت واضح ہے۔ اس لیے منافق عذاب کا زیادہ مستحق ہوتا ہے۔ 2- ان دونوں گروہوں کو مومنین پر مقدم کرنے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ گذشتہ آیت کا آخری حصہ "ظلوم اور جہول" پر ختم ہوتا ہے اور"ظلوم و جہول" منافق اور مشرک کے ساتھ مناسب ہے. منافق "ظالم" اور مشرک "جاہل" ہے۔ 3- لفظ " اللہ" منافقین او مشرکین دونوں کے عذاب کے بارے میں ایک مرتبہ آیا ہے اور مومنین کی جزاء کے سلسلے میں بھی ایک مرتبہ آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انجام کے لحاظ سے پہلے دونوں گروہ ایک جیسے ہیں اور مومنین کا معاملہ ان بالکل جدا ہے۔ 4 مومنین کے بارے میں "جزا" کے بجائے "توبہ" کا لفظ آیا ہے۔ اس کی زیادہ تر وجہ شاید یہ ہوسکتی ہے کہ انھیں زیاده ترخوف اپنی ان لغزشوں کی وجہ سے ہوتا ہے جو کبھی کبھی ان سے سرزد ہوتی ہیں۔ لہذا خداوند تعالٰی انہیں اطمینان دلاتا ہے کہ ان کی لغزشوں کو معاف کردیا جائے گا۔ یااس بناء پر ہے کہ خدا کا بندوں کی توبہ قبول کرنے کا مقصد اس کی رحمت کی طرف بازگشت ہوتا ہے اور معلوم ہے کہ لفظ "رحمت" میں ہر قسم کی جزاء اوربخشش چھپی ہوئی بے۔ 5- پروردگار کی "غفور و رحیم" کے ساتھ توصیف یا تو اس لیے ہے کہ یہ کلمہ "ظلوم" اور "جہول" کے مقابلے میں یا پھر مومن مردوں اور مومن عورتوں کے بارے میں توبہ کی مناسبت سے ۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اب جبکہ ہم فضل پروردگار سے سورہ احزاب کے اختتام کو پہنچ گئے ہیں ، اس نکتے کا ذکر ضروری سمجھتے ہیں کہ اس سوره کے آغاز وانجام کی ہم آہنگی نہایت ہی قابل غور ہے ۔ کیونکہ یہ سورہ (احزاب) پیغمبر کو خدا کا تقویٰ اختیار کرنے اور کفار منافقین کی اطاعت سے روکنے اور خداۓ علیم وحکیم کی ذات پر تکیہ کرنے سے شروع ہوئی ہے اور انسان کی زندگی کے عظیم ترین مسئلے یعنی امانت الٰہی کے اٹھالینے کے ذکر پر اور پھر انسانوں کو تین گروہوں (منافق ، کافر اور مومن) میں تقسیم کرنے اور خدائے غفور ورحیم کا ذکر کرنے پر ختم ہوتی ہے۔ ان دونوں مباحث کے درمیان ان تینوں گروہوں سے متعلق گفتگو ہوئی ہے کہ انہوں نے امانت الٰپی کے ساتھ کس طرح سلوک کیا ہے؟ جو سب ایک دوسرے تکمیل اور ایک دوسرے کو واضح کرتی ہیں۔ پروردگار ہمیں ایسے لوگوں میں سے قرار دے ، جنہوں نے تبری امانت کو خلوص دل کے ساتھ قبول کیا اور عشق کی حد تک اس کی حفاظت کی اور اپنے فریضے سے عہدہ برآ ہوئے۔ خداوندا ! ہمیں ایسامومن بناء جس پر تیری رحمت اور مغفرت نازل ہوئی ہے۔ منافقین اور مشرکین سے قرار نہ دے کہ جو "ظلوم وجہول ہونے کے باعث عذاب کے مستحق ٹھہرے ہیں۔ خداوندا ! اس دور میں جبکہ "احزاب کفر" درباره "مدینہ اسلام" کا محاصرہ کرچکے ہیں۔ ان پر اپنے غیظ وغضب کا خوفناک طوفان نازل فرمااور ان کے قصور و محلات کو ان کے سروں پر گرا دے اور ہمیں ایسی طاقت و استقامت عطا فرما کہ ان حساس لمحات میں پہاڑ کی طرح ڈٹ جائیں اور اپنے جان و دل سے "مدینہ اسلام" کی پاسداری کریں۔ آمین یارب العالمین ! سورہ احزاب تمام شُد تفسیرنموںہ کی سترھویں جلد کا اختتام بروز جمع 2ربیع الثانی 1404ھ کو ہوا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:72-73
سوره احزاب / آیه 72 - 73
(72) اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَـهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْـهَا وَحَـمَلَـهَا الْاِنْسَانُ ۖ اِنَّهٝ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا (73) لِّيُعَذِّبَ اللّـٰهُ الْمُنَافِقِيْنَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْمُشْرِكِيْنَ وَالْمُشْرِكَاتِ وَيَتُوْبَ اللّـٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا ترجمہ (72) ہم نے امانت (ذمہ داری اور ولایت الٰہیہ کو آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا ، انھوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس سے ڈر گئے لیکن انسان نے (اس کا بوجھ) اپنے کندھوں پر اٹھا لیا ، وہ بہت ہی ظالم اور جاہل تھا (اس نے اس مقام کی قدر و منزلت کو نہ پہچانا اور اپنےاوپر ظلم کیا۔ (73) مقصد یہ تھا کہ منافق مردوں اور منافقت عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کی صفیں مومنین سے جدا ہوجائیں اور خدا (ان) کو عذاب دے ، اور اپنی رحمت صاحب ایمان مردوں اور باایمان عورتوں پر نازل کرے اور خدا ہمیشہ غفور و رحیم ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:72-73
نوع بشر کا بہت بڑا اعزاز
تفسیر نوع بشر کا بہت بڑا اعزاز: سورہ احزاب کی یہ دونوں آخری آیات ان اہم مسائل کی تکمیل کرتی ہیں جواس سورہ میں ایمان ، عمل صالح ، جہاد ، ایثار ، عفت و پاک دامنی ، ادب اور اخلاق کے سلسلے میں آئے ہیں اور یہ بھی واضح کرتی ہیں کہ انسان کس قدرممتاز حیثیت کا مالک ہے کہ خدا کی عظیم ذمہ داری کو اٹھانے کی صلاحیت رکھتاہے اور اگر اپنے وجود کی قدروقیمت کو نہ پہچانے اور اس سے جاہل ہوجاۓ تو کس طرح اپنے اوپر ظلم کربیٹھتا ہے اور اسفل السافلین میں جاگرتا ہے پہلے تو انسان کے تمام عالم خلقت میں اہم ترین اور عظیم ترین اعزاز کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ۔ "ہم نے اپنی امانت آسمانوں ،زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کی": (اناعرضنا الامانة على السماوات والارض والجبال )۔ لیکن عالم خلقت کے ان عظیم اور بڑے موجودات نے اس امانت کے بوجھ کو اٹھانے سے انکارکردیا اوراپنی ناتوانی کا اظہار کیا اور اس کام سے ڈرتے تھے: (فابین ان يحملنها واشفقن منها)- واضح ہے کہ ان کا انکار تکبر کی وجہ سے نہیں تھا، جیسا کہ شیطان اور آدم کو سجدہ کرنے سے اس کی روگردانی کرنے کے سلسلے میں بیان ہوا ہے: ابٰی واستكبر (بقرہ / 34) بلکہ ان کا انکار "اشفاق" یعنی ایسے خوف و ہراس کے ساتھ تھا ، جس میں توجہ بھی تھی اور خضوع وخشوع بھی ۔ لیکن اسی اثنا میں انسان جو عالم آفرنیش کا عجوبہ ہے، آگے بڑھا اور اس نے اس کو اپنے کندھوں پر اٹھالیا: (وحملها الانسان)۔ لیکن افسوس کہ "اسی ابتداء ہی میں اس نے اپنے اوپر ظلم کیا اور اپنی قدرومنزلت کو نہ پہچانا اور جو کچھ اس امانت کے اٹھانے کے لائق تھا ، اسے انجام نہیں دیا"۔ انہ كان ظلومًا جهولا)۔ عظیم مفسرین نے اس آیت کے سلسلے میں بہت کچھ گفتگو کی ہے اور "امانت" کے معنی کی حقیقت معلوم کرنے اور بیان کرنے میں بہت زیادہ کوشش کی ہے اور مختلف نظریات کا اظہار کیا ہے ، جن میں سے ہم بہترین نظریہ کو ان قرائن کی جستجو سے منتخب کرتے ہیں ، جو خود آیت میں چھپے ہوئے ہیں۔ بنیادی طور پر معانی اور مفہوم سے لبریز اس آیت میں سے پانچ نکات زیادہ قابل غور ہیں۔ 1- "امانت الٰہی" سے کیا مراد ہے؟ 2- اسے آسمان و زمین اور پہاڑوں کو پیش کرنے کا کیا مقصد ہے؟ 3- کیوں اور کس طرح ان موجودات نے اس امانت کے اٹھانے سے انکارکردیا؟ 4- کس طرح انسان اس امانت کے بوجھ کا حامل ہوا ؟ 5- کیوں اور کس طرح وہ "ظلوم" اور "جہول" ٹهہرا؟ "امانت" کے متعلق مختلف تفاسیر ذکر ہوئی ہیں ، جن میں سے یہ بھی ہے کہ : اس سے مراد اروے کی آزادی اور اختیار ہے جو انسان کو باقی موجودات سے ممتاز اور نمایاں کرتی ہے یا مراد عقل ہے جس پرثواب و عذاب کا دار و مدار ہوتاہے "امانت سے مراد" صفت عبودیت کا کمال جو معرفت اور عمل صالح کے ذریعے حاصل ہوتا ہے یا اس سے مراد "انسانی جسم کے اعضاء و جوارح" ہیں ، مثلاً آنکھ خدا کی امانت ہے ، جسے محفوظ رکھنا چاہیئے اور اسے گناہ کی راہ میں صرف نہیں کرنا چاہیئے۔ کان ، ہاتھ ، پاؤں اور زبان میں سے ہر ایک خدا کی امانت ہے ، جن کی حفاظت کرنا ہر انسان پر واجب و لازم ہے۔ یا مراد "وہ امانتیں"ٓ ہیں جو انسان ایک دوسرے سے لیتے ہیں۔ اور "عہد و پیمان کو پورا کرنا" بھی مراد ہوسکتاہے۔ یامرد "اللہ کی معرفت" ہے۔ یا مرد " خدائی واجبات اور فرائض الٰہی ہیں مثلا نماز ، روزہ اور حج وغیرہ۔ لیکن اگر تھوڑا سا غور کیا جائے تو واضح ہوجاتا ہے کہ ان تفاسیرکا آپس میں کوئی تضاد نہیں ، بلکہ بعض کو ایک دوسرے میں مدغم کیا جاسکتا ہے ، بعض لوگوں نے اصل مطلب کے کچھ حصوں کو اور بعض نے تمام گوشوں کو اجاگر کیا ہے۔ ایک جامع جواب کے حصول کے لیے ہمیں انسان پر ایک نظر ڈالنا چاہیے کہ اس کے پاس کونسی ایسی چیزہے ،جو نہ توآسمان اور زمین میں ہے اور نہ ہی پہاڑوں کے پاس؟ انسان ایک ایسی مخلوق ہے ، جس میں انتهائی زیادہ استعداد موجود ہے اور وہ اس استعدادسے استفادہ کرنے ہوۓ "خلیفۃ اللہ" کا مصداق اتم بن سکتا ہے اورکسب معرفت ، تہذیب نفس اور کمالات کے ذریعے عزت و افتخار اور اعزازات کی بلندیوں کو چھوسکتا ہے اور فرشتوں سے بھی آگے نکل سکتا ہے۔ یہ استعداد اراده و اختیار کی آزادی کے ساتھ ساتھ ہے۔ یعنی یہ ایک ایسا راستہ ہے جسے اس نے صفر سے شروع کیا ہے اور لامتناہی منزلِ مقصود کی طرف بڑھتا جارہا ہے اور اپنے ہی ارادے اور اختیار سے اسے طے کرتا جارہا ہے ۔ آسمان وزمین اور پہاڑ بھی ایک طرح کی معرفت الٰہی کے حامل ہیں ، وہ خدا کا ذکر اورتسبیح بھی کرتے ہیں اور اس کی عظمت کے سامنے گڑگڑانے والے اور سجدہ گزار بھی ہیں ۔ لیکن یہ سب کچھ ذاتی اور تکوینی اور جبری شکل میں ہے۔ اسی بناء پر ان کے وجود میں تکامل اور ارتقاء نہیں ہے۔ صرف ایک موجود ایساہے، جس کی نزولی اور صعودی قوس لامتناہی ہے اور غیر محدود طور پر ارتقائی بلندیوں تک پرواز کرسکتا ہے اور ان تمام کاموں کو اپنے اراده و اختیار سے انجام دیتاہے اور وہ "انسان" ہے۔ یعنی یہ ہے وه خدائی امانت اٹھانے والا جس کے اٹھانے سے تمام موجودات نے انکار کر دیا۔ یوں اکیلے اس نے میدان میں اتر کر اسے اپنے کندھے پر رکھ لیا۔ اسی لیے ہم بعد والی آیت میں دیکھتے ہیں کہ انسان کو تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے ، مومن ، کافراور منافق ۔ اسی بناء پر ایک مختضر سے جملے میں کہا جاسکتا ہے کہ امانت الٰہی وہی غیر محدود صورت میں ارتقائی قابلیت ہے، جس میں اراده اورا اختیارکی آمیزش ہوتی ہے ، جس سے وہ انسانیت کے کمال اور خدا کی خاص بندگی کے مقام تک پہنچ کر ولایت الٰہیہ کو قبول کرتا ہے۔ لیکن یہ صرف اس امرکو "امانت" سے کیوں تعبیر کیا گیا ہے ، جبکہ ہماری ساری زندگی اور ہمارا سب کچھ خدا کی امانت ہے ۔ در حقیقت یہ چیز انسان کے اس اہم اور عظیم امتیاز کی بنا پر ہے ، وگرنہ خدا کی باقی نعمتیں بھی اسی کی امانت ہیں ،لیکن اس کے مقابلے میں ان کی بہت ہی کم اہمیت ہے ۔ یہاں پر امانت الٰہی کا ایک اور مفہوم لیاجاسکتا ہے اور کہا جاسکتا ہے کہ "امانت الٰہی" سے مراد "عہدہ اور ذمہ داری" کو قبول کرنا ہے۔ اسی لیے جن لوگوں نے امانت کو اراده و اختیار کی آزادی کی صفت سمجھاہے ، انھوں نے اس عظیم امانت کے صرف ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ اسی طرح جن لوگوں نے اس کی تفسیر "عقل" یا "اعضاء بدن" یا " لوگوں کی آپس کی باتیں" یا "فرائض و واجبات" یا " تمام شرعی احکام کی ادائیگی بیان کی ہے ، ان میں سے ہرایک نے ایک عظیم پھل دار درخت کی صرف ایک شاخ کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے اور اس کا ثمر حاصل کیاہے ۔ یا امانت کے پیش کرنے سے مراد اشیاء کا باہمی موازہ کرنا ہے ، یعنی جب اس امانت کا ان کی استعداد سے موازنہ کیا تو انھوں نے زبان حال کے ساتھ اس عظیم امانت کو قبول کرنے سے اپنی عدم اہلیت کا اعلان کیا۔ دوسرا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے اور اس طرح سے آسمانوں ، زمینوں اور پہاڑوں نے زبان حال سے پکار کر کہا کہ "اس امانت کا بوجھ اٹھانا ھمارے بس کی بات نہیں ۔ یہاں سے تیسرے سوال کا جواب بھی واضح ہوگیا کہ کسی طرح ان موجودات نے اس عظیم امانت کے اٹھانے سے انکار کیااور بڑے ادب کے ساتھ اپنا خوف و ہراس ظاہر کر دیا۔ یہیں سے ان کی اس امانت الٰہی کے اٹھانے کی کیفیت بھی واضح ہوجاتی ہے۔ کیونکہ انسان اس طرح سے پیدا کیا گیا بے جرایفائے وعدہ اور ذمہ داری کے بوجھ کو اپنے کندھوں پر اٹھا سکتا ہے ، خدا کی ولایت کو قبول کرسکتا ہے ، عبودیت اور کمال کے جادو پر گامزن ہوسکتا ہے اور اس راہ کو پروردگار کی مدد سے اپنے ہی پاؤں کے ساتھ طے کرسکتاہے۔ باقی رہی یہ بات کہ اہل بیت اطہارعلیہم اسلام کے ذریعے پہنچنے والی متعدد اور روایات بتاتی ہیں کہ اس امانت الٰہی سے مراد" امیرالمومنین علیؑ اور ان کی اولاد امجاد علیہم اسلام کی ولایت" ہے ۔ تواس کا مقصد یہ ہے کہ انبیاء کرامؑ اور ائمہ اطہار کی ولایت درحقیقت اس ولایت مطلق الٰہیہ کی ایک طاقتور شعاع ہے اوراولیاء خدا کی ولایت کو قبول کیے بغیر عبودیت تک رسائی اور ارتقاء کی جادہ پیمانئی قطعًا ناممکن ہے۔ امام علی بن موسی رضاعلیہ اسلام سے جب کسی نے "عرض امانت " والی آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال کیا تو آپؑ نے فرمایا: "الامانة الولاية و ادعاها بغیرحق كفر"۔ "امانت وہی ولایت ہی تو ہے ، جس کا ناحق دعوٰی کرنے والا مسلمانوں کے زمرے سے خارج ہوجاتا ہے. ؎1 ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ اسلام سے جب اس آیت کی تفسیر کے بارے میں سوال ہوا تو آپؑ نے فرمایا: "الامانة الولاية ، والانسان ھوابوالشرور المنافق"۔ "امانت وہی ولایت ہے اورانسانوں جس کی ظلوم و جہول سے توصیف کی گئی ہے ، بہت سے گناہوں کا مرکتب اور منافق ہے۔ ؎2 ایک اور نکتہ جس کی طرف یہاں پر اشارہ کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے ، یہ ہے کہ ہم سورة اعراف کی آیت 172 کے ذیل میں عالم ذر کے بارے میں بتاچکے ہیں ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب خدا نے انسان سے عالم ذر میں توحید کا اقرار لیا تھا وہ انسان کی فطرت ، استعداد اور سرشت کے ذریعے تھا۔ درحقیقت عالم ذر ، عالم استعداد و فطرت کا دوسرا نام ہے۔ اسی طرح خدائی امانت کے قبول کرنے کے بارے میں بھی یہی کہنا ہوگا کہ یہ قبولیت کسی مقررہ قاعدہ کلیہ کے تحت یا محض تکلف کی بناء پر نہیں تھی ، بلکہ عالم استعداد کے مطابق ایک تکوینی قبولیت ہے۔ اب صرف ایک سوال باقی رہ جاتا اور وہ ہے انسان کے "ظلوم وجہول" ہونے کا مسئلہ۔ کیا انسان کی توصیف ان دوالفاظ کے ساتھ جوظاہر طور پر اس کی مذمت کررہے ہیں ، اس امانت کے قبول کرنے ان کی وجہ سے ہے؟ یقینًا اس سوال کا جواب منفی ہے ، کیونکہ اس امانت کو قبول کرلینا انسان کے لئے بہت بڑا اعزاز ہے ۔ اور یہ کیونکر ممکن ہے کہ اتنا بڑا اعزاز حاصل کرلینے کے بعد اس کی مذمت کی جائے؟ یا تو یہ توصیف اس بناء پر ہے کہ انسان نسیان کا شکار ہوتا ہے اور اپنی ذات پر ظلم کرتا رہتا ہے اور آدمیت کی قدر و منزلت سے ناآشنا ہے ، جس کام کی ابتدا ہی سے نسل آدم میں "قابیل" کے ذریعے بنیاد پڑچکی تھی اور قابیل کے نقش قدم پر چلنے والوں نے اسے آگے بڑھایا اور اب تک اسے جاری رکھے ہوئے ہے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر برھان جلد 3 ص 341 زیر بحث آیت کے ذیل میں۔ ؎2 تفسیر برھان جلد 3 ص 341 زیر بحث آیت کے ذیل میں۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- وہ انسان جسے عرش کی بلندیوں سے صدا آتی رہتی ہو ، وہ بنی آدم جس کے سر پر "كرمنا" کا تاج سجایا گیا ہو ، وہ انسان جو" إنی جاعلً في الارض خلیفة" کے مصداق زمین میں خدا کا نماینده ہو ، وہ بشر جومعلم اور سجود ملائکہ ہو وہ :ظلوم و جہول" نہیں تو اور کیا ہوگا کہ جو اپنی ان عظیم اقدار کو طاق نسیان میں رکھ کر خود کو اس عالم کا اسیر بنالے اور شیاطین کی صف میں شامل ہوکر اسفل السافلین کی اتھاہ گہرائیوں میں جاگرے۔ لیکن بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس انحرافي راستے پر چلنے والے لوگ عرصہ درازسے چلے آرہے ہیں. جوانسان کے "ظلوم وجہول" ہونے کی قوی دلیل ہے حتی کہ خود حضرت آدم علیہ اسلام جو بسلسلہ آدمیت کی پہلی کڑی اورطہارت و عصمت کے مقام پر فائز تھے ، اپنے اور ظلم کا اعتراف کرتے نظر آتے ہیں ۔ بارگاه خدا میں عرض کرتے ہیں؟ "ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلنا وترحمنا لنكونن من الخاسرين "۔ (سوره اعراف / 23) درحقیقت اس عظیم امانت کی عظمت کے ایک گوشے کو فراموش کرنے کی بدولت ہی ان سے ترک اولٰی سرزد ہواتھا بہرحال اعتراف کرنا پڑے گا کہ انسان جو ظاہرًا چھوٹی اور کمزورسی مخلوق ہے ، لیکن تخلیق عالم کا ایک ایسا عجوبہ ہے ، جس نے اس عظیم امانت کا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھالیا ہے ، جسے اٹھانے سے زمین و آسمان اور پہاڑ عاجز آ گئے تھے ۔ ہاں اس کے مقام یہ عظمت اسی صورت میں ہے کہ وہ اپنے اس مقام کو بھول نہ جائے۔ ؎ 1 بعد والی آیت حقیقت میں انسان کے سامنے اس امانت کو پیش کرنے کی علت ہے اور اس حقیقت کا بیان ہے کہ انسان اس عظیم خدائی امانت کا بار اٹھالینے کے بعد تین خصوں مین بٹ گئے ۔ منافق ، مشرک اور مومن۔ چنانچہ خدا فرماتابے۔ "مقصد یہ ہے کہ خدا منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو ان کے کیفرکردارتک پہنچائے نیر خدا صاحب ایمان مردوں اور با ایمان عورتوں پر رحمت نازل کرے ، خدا ہمیشہ سے غفور و رحیم ہے": (الیعذب الله المنافقين والمنافقات والمشركين والمشركات ویتوب الله على المؤمنين ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 جو کچھ ہم نے آیت کی تفسیر میں کہا ہے ، اس سے واضح ہو جاتاہے کہ اس اس امر کی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کہ یہ آٰیت میں کسی چیز کی مقدار مانیں ۔ جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے اور انھوں نے آیت کی تفسیر اس طرح کی ہے کہ آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں کے سامنے امانت پیش کرنے سے مراد ان میں رہنے والوں کے سامنے امانت پیش کرنا ہے، یعنی ملائکہ اور فرشتوں کے سامنے اسی بناء پر وہ کہتے ہیں کہ جن چیزوں سے امانت کو قبول کرنے سے انکار کیا انھوں نے اسے ادا کر دیا اور جنھوں نے سے قبول کیا انہوں نے خیانت کا ارتکاب کیا "یہ تفسیرنہ صرف تقدیر کی احیتاج کی بناء پرخلاف ظاہر ہے ، بلکہ اس لحاظ سے بھی قابل اعتراض ہے کہ فرشتے بھی ایک طرح کی تکلیف پرعمل پیرا ہیں اور ایک حصہ امانت کے حامل ہیں ، ان سب باتوں سے قطع نظر ، پہاڑ میں رہنے والوں کو فرشتوں سے تعبیر کرنا عجیب و غریب ہی ہے۔ (غور کیجیئے گا)۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- والمؤمنات وكان الله غفور رحیمًا"۔ عربی قائدہ کے تحت "ليعذب" کی "لام " کونسی "لام" ہے ؟ اس سلسلے میں دوا احتمال ہیں ؛ 1- ایک یہ کہ "لام غایت" ہے جو کسی چیز کے انجام کو بیان کرنے کے لیے ذکر ہوتی ہے۔ اس بناء پر آیت کا مفہوم یوں ہوگا: "اس امانت کو اٹھانے کا انجام یہ ہوا کہ ایک گروہ نے نفاق کی راہ اختیار کی اور ایک گروہ نے شرک کی ، اور اس خدائی امانت میں خیانت کرنے کی وجہ سے اس کے عذاب میں گرفتار ہوئے اوراہل ایمان کا ایک گروہ اس امانت کو ادا کرنے اور اپنے فرائض پر قائم رہنے کی بناء پررحمت الٰہی کامستحق قرار پایا"۔ 2- دوسرا یہ کہ ":لام علت" ھے اوراس میں ایک جملہ مقدر ہے ، اس بناء پر آیت کی تفسیر یوں ہو گی: "امانت کو پیش کرنے کا مقصد یہ تھا کہ تمام انسان آزمائش کی کٹھالی میں قرار پائیں اور ہر شخص اپنے اپنے باطنی حالات کو ظاہر کرکے اپنے استحقاق کے مطابق جزا اور سزا پاسکے" ۔