مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا
Muhammad is not the father of any man among you, but he is the Apostle of Allah and the Seal of the Prophets, and Allah has knowledge of all things.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:40
[Pooya/Ali Commentary 33:40] Refer to the commentary of verse 4 of this surah for the issue of adopted sons raised by the disbelievers. Refer to the commentary of Yunus: 47; Ibrahim: 4 and Nahl: 36, according to which messengers of Allah had been sent to preach the religion of Allah to mankind in all ages; and refer to the commentary of al Baqarah: 253 and Bani Israil: 55 for the preference given to prophets over one another and the position of the Holy Prophet among them as the last and the superior most prophet along with references from the Bible, also refer to the commentary of Ali Imran: 81 for the covenant taken from all the prophets regarding the finality and universality of the prophethood of the Holy Prophet. The commentary of Fatihah: 7 also deals with "the seal of the prophets". Refer to the commentary of al Baqarah: 124 and Ma-idah: 67 for the continuity of guidance through the Imams of the Ahl ul Bayt. Aqa Mahdi Puya says: "Muhammad is not the father of any of your men" annuls the pagans laws concerning the adopted children, but it does not mean that his posterity was cut off (see commentary of surah al Kawthar, and Ali Imran: 61 wherein abna-ana, nisa-ana and anfusana are distinguished from other people, and min rijalikum (of your men) has been used in this verse to exclude all others from the progeny of the Holy Prophet. The word khatam implies not only the finality but also signifies that the Holy Prophet is the testimony of the truthfulness of all the earlier prophets.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:40
2- ثابت قانون اور بدلتی ضرورتیں
2- ثابت قانون اور بدلتی ضرورتیں : پہلے سوال میں پیشں ہونے والے نظریہ ارتقاء سے قطع نظر یہاں پر ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ ہر ایک جانتا ہے کہ مختلف زمان اور مکان کے تقاضے بھی مختلف ہوا کرتے ہیں۔ دوسروں لفظوں میں انسان کی ضروریات ہمیشہ بدلتی رہتی ہیں ، جبکہ خاتم الانبیاء کی شرایعت کے قوانین ثابت اور لازوال ہیں ، تو کیا یہ قوانین ہر دور کے انسان کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا بھی اچھی طرح جواب دیا جاسکتا ہے اور وہ یہ کہ اگر تمام اسلامی قوانین جزوی حیثیت کے حامل ہوتے اور ہر موضوع کے لیے علٰحیدہ علحیده جزوی احکام معین کیے ہوتے پھر تو اس سوال کی گنجائش تھی ، لیکن چونکہ اسلام میں کچھ ایسے احکام بھی ہیں جن کے اصول کلی اور نہایت ہی وسیع دائرہ کے حامل ہیں جو بدلتی ہوئی ضروریات اور ہر دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لہذا اس قسم کے اعتراض کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ مثلًا زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں کے درمیان قانونی رابطے بڑھ رہے ہیں اور ہر روز نئے نئے معاہدے وجود میں آرہے ہیں جن کا قرآن کے نزول کے وقت بالکل وجود نہیں تھا ، مثلًا اس زمانے میں "بیمہ" نام کی کوئی چیز نہیں تھی جس کی آج ایک نہیں ، بلکہ کئی قسمیں ہیں۔ ؎1 اسی طرح مختلف قسم کی کمپنیاں ہیں جو موجودہ دور میں ضروریات زمانہ کے تحت معرض وجود میں آئی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اسلام میں ایک کلی اصول موجود ہے جو سوره مائدہ کی ابتدا میں "معاہوں پرعمل کرنا ضروری ہے" کی صورت میں موجود ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- --- ؎1 البتہ اسلام میں بہیہ سے ملتے جلتے کئی ایسے موضوع موجود ہیں ، جو ایک خاص حد میں محدود ہیں ، جیسے "ضامن جریرہ" کا مسئلہ ہے ( قتل خطائے محض کی دیت کا عاقلہ (خاص قسم کے رشتہ داروں سے متعلق ہونا) لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ یہ اس مسئلے سے صرف ملتا جلتا ہے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ---- "یا ایها الذین امنوا اوفوا بالعقود" "اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو اپنے معاہدوں پرعمل کرو"۔ یہ حکم ہر قسم کے باہمی معاہدوں کو اپنے دامن میں لیے ہوئے ہے۔ البتہ اس کلی اصول کے لیے اسلام نے کچھ کلی شرائط بھی مقرر کی ہیں جنھیں مد نظر رکھنا ہوگا۔ اس بنا پر اس سلسلے میں ایک ثابت اور پائیدار کلیہ موجود ہے۔ اگرچہ اس کے مصادیق بدلتے رہتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ پر روز اس کا ایک نیا مصداق مل جائے۔ دوسری مثال اسلام میں "قانون لاضرر" کے نام سے ایک مسلم قانون موجود ہے اور اسلامی معاشرہ میں جو حکم بھی کسی کے لیے ضرر اور نقصان کا سبب بن رہا ہو ، اس قانون کے ذریعے اس کا سدباب کیا جاسکتا ہے اور اس طرح سے بہت سے مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔ ان سب سے قطع نظر "معاشرتی نظام کی حفاظت اور واجب کا مقدمہ بھی واجب ہوتا ہے" اور "اہم ترین کو اہم پر مقدم کیا جائے"۔ یہ چند ایک مسائل ایسے ہیں جو بہت سے مشکل ترین مسائل کو حل کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ تمام وسیع اختیارات جو "دلایت فقیہ" کے ذریعے اسلامی حکومت کو حاصل ہیں ، ان کے ذریعے اسلام کے کلی اصولوں کے اندر رہ کر ان مشکلات کا حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔ البتہ ان امورمیں سے ہر ایک کو تفصیل سے بیان کرنے کے لیے ایک لمبی تفصیل کی ضرورت ہے ، خصوصًا جبکہ اجتہاد کا دروازہ بھی کھلا ہواہے (اجتہاد کا معنٰی ہے اسلامی ماخذ سے اسلامی احکام کا استنباط) لیکن ہم یہاں اس تفصیل میں نہیں جاتے کیونکہ اس طرح سے ہم اپنے مقصد سے دور ہٹ جائیں گے ، لیکن پھر بھی ہم نے اشارہ کردیا ہے جو مذکورہ بالا اعتراض کا جواب ہوسکتا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:40
3- غیبی فیض سے محرومی
3- غیبی فیض سے محرومی : ایک اور سوال یہ ہے کہ وحی کا نزول ہو یا عالم غیب اور ماورا ، طبیعت سے ارتباط ، علما بشریت کے لیے خدا کی طرف سے ایک بہت بڑا احسان اور اعزاز اور تمام سچے مومنین کے لیے امید کا دریچہ ہے۔ توکیا اس ارتباط کا منقطع ہو جانا اور امید کے اس دریچے کا بند ہوجانا پیغمبر خاتمؐ کے بعد آنے والے انسانوں کے لیے ایک عظیم محرومی نہ ہوگئی ؟ اس سوال کا جواب بھی ذیل کے نکتے کی طرف توجہ کرنے سے واضح ہوجاتاہے اور وہ یہ ہے : اولًا وحی اور عالم غیب سے رابطہ درحقیقت حقائق کے ادراک کے لیے ہے اور جب کہنے کی باتیں کہی جاچکی ہوں اور روز قیامت تک کی ضروریات کے تمام کلی اور جامع اصول پیغمبر اسلام علیہ وآلہ وسلم کے فرامین کی روشنی میں بیان ہوچکے ہوں تو پھراس رابطہ کے منقطع ہوجانے سے کوئی مسئلہ پیدا نہ ہوگا۔ ثانیًا : جوکچھ نبوت کے خاتمے کے بعد ہمیشہ کے منقطع ہوگیا ہے، وہ ہے " نئی شریعت کےلیے وحی" یاسابق شریعت کی تکمیل" نہ کہ عالم طبعیت کے ماورا ہر قسم کے رابطہ کا انقطاع ، کیونکہ آئمہ علیہم اسلام کی عالم غیب سے رابطہ رکھتے ہیں اور وہ سچے مومنین بھی جو تہذیب نفس کے ذریعے اپنے دلوں سے حجابوں کو دور کرکے کشف و شہود کے مناصب پر فائز ہوچکےہیں۔ مشہورفيلسوف صدرا لمتالہین شیرازی "مفاتیح الغيب" میں یوں رقم طراز ہیں: "وحی" اس معنی کے لحاظ سے کہ فرشتہ ماموریت اور پیغمبر کے لیے کان اور دل پرنازل ہوتا ہے ، تو یہ سلسلہ اگرچہ منقطع ہوچکاہے اور کسی پر فرشتہ نازل نہیں ہوتا اور نہ ہی کسی کوکسی قسم کے فرمان کے نفاذ پر مامور کرتا ہے کیونکہ "اکملت لکم دینکم" کے حکم کے مطابق جو کچھ اس راستے سے انسان تک پہیچنا چاہیئے تھا ، وہ پہنچ چکا ہے ، لیکن الہام واشراق کا دروازہ ہرگزبند نہیں ہوا اور نہ ہی ہوگا کیونکہ اس دروازے کا بند ہونا ممکن بھی نہیں۔ ؎1 اصولی طور پر یہ رابطہ نفس کے ارتقاء ورح کی جلا اور باطن کے صفا کا نتیجہ ہوتا ہے اور یہ چیز صرف نبوت اور رسالت کے سا تھ ہی مخصوص نہیں ہوتی بلکہ جس وقت بھی اس کے مقدمات اور شرائط فراہم ہوجائیں یہ معنوی رابطہ قائم ہوجاتا ہے اور بنی نوع انسان اس فیض سے نہ کبھی محروم تھی اور نہ ہی ہو گی ۔ (غور کیجیئےگا )۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- مفاتیح الغیب ص 13
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:40
سوره احزاب / آیه 40
(40) مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَلٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّـٰهِ وَخَاتَـمَ النَّبِيِّيْنَ ۗ وَكَانَ اللّـٰهُ بِكُلِّ شَىْءٍ عَلِيْمًا ترجمہ (40) محمد( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم و آخری پیغمبر ہیں۔ اور خدا ہر چیز سے آگاہ ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:40
ختم نبوت
تفسیر ختم نبوت : یہ آیت اس سلسلہ کی گفتگو کی آخری کڑی ہے جوزمانہ جاہلیت کی ایک غلط رسم کو توڑنے کے لیے خدا نے زید کی مطلقہ بیوی پیغمبراکرمؐ کے عقد کے بارے میں بیان فرمائی ہے اور آخری جواب کے طور پر ایک مختصرلیکن جچا تلا جواب دیا گیا ہے ۔ ضمنی طور پر ایک اوراہم حقیقت کو ایک خاص مناسبت کی بناء پر ذکر کیا گیا ہے اور وہ ہے "ختم نبوت" کامسئلہ۔ پہلے فرمایاگیا ہے ۔ محمد تمھارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں:" (ما كان محمد ابا احد من رجالكم)۔ نہ زید کے اور نہ کسی اور کے اگرکسی دن لوگوں نے اسے محمد کے بیٹے کا نام دیا ہے تو یہ صرف ایک عادت اور دنیاوی رسم ورواج کے مطابق تھا ، جسے اسلام کے آنے اور قرآن کے نازل ہوجانے کے بعد ختم کردیا گیا ہے ، یہ فطری اور قرابت داری کا رابطہ نہیں ہے ، البتہ پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہٖ وسلم کے حقیقی بیٹے بھی تھے ، جن کا نام "قاسم" "طیب" "طاہر" اور "ابراہیم" تھا۔ لیکن مؤرخین کے مطابق وہ سب بالغ ہونے سے پہلے ہی دنیا سے چل بسے. لہذا"رجال" (مردوں) کا نام ان پر صادق نہیں آتا۔ ؎1 ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیرقرطبي ، و تفسیر المیزان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کو بھی فرزند رسولؐ کہہ کر پکارا جاتا تھا ، اگرچہ وہ بالغ بھی ہوگئے تھے ۔ لیکن اس آیت کے نزول کے وقت ابھی بچے تھے ، اسی بناء پر "ماكان محمد ابا احد من رجالكم" کا جملہ فعل ماضی میں آیا ہے اور قطعی طور پر اس وقت سب کے حق میں صارق آتا ہے۔ اور اگر بعض تعبیرات میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے: "انا وعلى ابواهذه الامة" "میں اور علی اس امت کے باپ ہیں۔" تو یقینًا اس سے مرادنسبی باپ نہیں بلکہ یہ رشتہ تعلیم وتربیت اور رہبری کی بنیاد پر ہے۔ ان حالات میں زید کی مطلقہ بیوی سے شادی جس کا فلسفہ قرآن نے صراحت کے ساتھ غلطہ رسوم کو توڑنا بیان فرمایا ہے ، کوئی ایسی چیزنہیں تھی جسے موضوع بحث بناکر ہر کوئی اس کے خلاف لب کشائی کرے یا اسے اپنے غلط مقاصد کے لیے کوئی دستاویز بنالے۔ آگے چل کرمزید فرمایا گیا ہے کہ پیغمبر کا رابطہ تمھارے ساتھ صرف رسالت اور خاتمیت کی بناء پر ہے کیونکہ "وہ خدا کے رسول اور خاتم الننیین ہیں ": ( ولكن رسول الله وخاتم النبين)۔ اسی بناء پر آیت کی ابتداء کلی طورپر نسبی رابطے کو منقطع کرتی ہے اور اس کی انتہا اس معنوی رابطے کو ثابت کرتی ہے جو رسالت اور خاتمیت سے پیدا ہوتاہے اور یہاں سے ہی آیت کے آغاز اور اختتام کا تعلق واضح ہوجاتاہے۔ اس سے ہٹ کراس حقیقت کی طرف اشارہ بھی ہے كہ آنحضرت باوجود یکہ کسی مرد کے باپ نہیں ہیں ، لیکن ان تعلق باپ کے بیٹے کے ساتھ سے بھی زیادہ ہے ، کیونکہ آپ کا تعلق ایک رسول کی حیثیت سے ہے جو امت کے ساتھ ہوتا ہے اور رسول بھی ایسا جوجانتا ہے کہ پھر کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔ لہذا قیامت تک کی جو ضرورتیں امت کو درپیش آسکتی ہیں، اچھی طرح سے اور انتہائی دل سوزی کے ساتھ انھیں پورا کرنا ہے۔ البتہ عالم اور آگاہ خدا نے بھی وہ تمام چیزیں جو اس سلسلے میں ضروری تھیں ، آپ کے اختیار میں دے دیں ، خواہ وہ اصولی ہوں ، یا فروعی ، کلی ہوں یا جزئی۔ اس لیے آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے "خدا ہر چیز سے عالم اور آگاہ تھا اور ہے۔" وكان اللہ بكل شیء علیما)۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ "خاتم الانبیاء" کا معنی "خاتم المرسلین" بھی ہے۔ موجودہ دور کے نیا دین گھڑنے والے افراد مسئلہ ختم نبوت کو مخدوش کرنے کے لیے یہ استدلال پیش کرتے ہیں کہ قرآن نے سرکار رسالت مآب کو "خاتم الانبیاء" کہا ہے "خاتم المرسلین" نہیں کہا، حالانکہ یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے کیونکہ رسالت کا درجہ نبوت کے درجہ سے بالاتر ہے۔ غور کیجیئےگا)۔ ٹھیک اسی طرح جیسے ہم کہیں کہ فلاں شخص سرزمین حجازمیں نہیں ہے تو یقینًا وہ مکہ میں نہیں ہوگا۔ لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ وہ مکہ میں نہیں ہے توہوسکتاہے کہ وہ حجازکے کسی اور علاقہ میں ہو۔ اسی بناء پر اگر حضور گرامی کو "خاتم المرسلین" کا نام دیاجاتا تو تصورمیں آسکتا تھا کہ شاید وہ خاتم الانبیاء نہ ہوں ، لیکن جب فرمایا گیا ہے کہ وہ "خاتم الانبیاء ہیں تویقینًاالمرسلین بھی ہیں، اور منطقی اصطلاح کے لحاظ سے "رسول" اور "نبی" کے درمیان "عام خاص مطلق" کی نسبت ہے۔ (ایک بار پھر غور کیجیے گا)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:40
1- "خاتم" کیا ہے ؟
چند اھم نکات 1- "خاتم" کیا ہے ؟ "خاتم" (بروزن "حاتم") ارباب لغت کی تصریحات کے مطابق اس چیز کے معنی میں ہے جس کے ذريعہ کسی چیزکو ختم کیا جائے یا جس سے کاغذات وغیرہ کی مہر لگائی جائے۔ قدیم زمانے سے یہ معمول چلا آرہا ہے کہ جس وقت کسی خط یا برتن یا گھر کے دروازہ کو بند کیا جاتا ہے تاکہ کوئی اسے کھول نہ سکے تو دروازے فقل (یا تالے) کے اوپرگوند جیسا مادہ رکھ کر اس پر مہر لگا دیتے ہیں ، جسے موجودہ زمانے میں "لاکھ اورمہر" کہتے ہیں۔ یہ اس صورت میں ہوتا ہے کہ اس کے کھولنے کے لیے یقینًا لاکھ اور مہر کو توڑا جائے۔ اور جوہر اس قسم کی چیزوں پر لگائی جاتی ہے اسے "خانم" کہتے ہیں ۔ چونکہ گذشتہ زمانے میں اس مقصد کے لیے کبھی کبھی سخت اور چکنی مٹی سے استفاده ہوتاتها لہذا لغت کی مشہور کتب میں "خاتم" کے معنی میں لکھا گیا ہے کہ "مايوصنع على الطينة" یعنی جو چیز مٹی پر لگائی جائے۔ ؎1 سب کچھ اس بناء پر ہے کہ یہ لفظ " ختم" کی اصل سے "اختتام" کے معنی میں لیا گیا ہے اور چونکہ مہر لگانے کا کام خاتمےاورآخر پر قرار پاتا ہے لہذا "خاتم" کا نام اس وسیلے اور ذریعے کو دیا گیا ہے۔ اوراگر ہم دیکھتے ہیں کہ "خاتم" کا ایک معنی انگوٹھی ہے تو وہ بھی اسی بناء پر ہے کہ بہت سے لوگ اپنی مہر کے نقوش اپنی انگوٹھیوں پر کندہ کرتے تھے اور انگوٹھی کے ذریعہ ہی خطوط وغیرہ پر مہر لگا دیتے تھے۔ اسی لیے پیغمبراسلام "آئمہ ہدٰی" اور دوسری شخصیتوں کے حالات کے ضمن میں ان کی انگوٹھی کے نقش کی گفتگوبھی ہوتی ہے ۔ مرحوم کلینی نے کتاب "کافی" میں امام جعفر صادق علیہ اسلام سے نقل کیا ہے: " ان خاتم رسول الله كان من فضة نقشه محمد رسول الله"۔ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی انگوٹھی چاندی کی تھی جس کا نقش "محمد رسول الله" تھا. ؎2 بعض تاریخوں میں آیا ہے کہ چھٹی ہجری کے واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنے لیے نقش والی انگوٹھی بنوائی اور یہ اس لیے تھاکہ آپؐ سے صحابہ نے عرض کیا کہ بادشاہ ایسے خطوط کو نہیں پڑے جومہر کے بغیر ہوتے ہیں۔ ؎3 كتاب "طبقات" میں بھی آیا ہے کہ جس وقت پیغمبرگرامی صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اپنی دعوت کو وسعت دینے اور روئے زمین کے سلاطین کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو حکم دیا کہ آپ کے لیے انگوٹھی تیار کی جائے جس پر "محمد رسول الله" کندہ ہو۔ چناچہ آپؐ اپنے خطوط پراسی سے مہر لگاتے تھے ۔ ؎4 ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 لسان العرب اور قاموس اللغتہ "مادہ ختم" (الخاتم ما يوضع على الطینۃ) "خاتم" وہ چیز ہوتی ہے جو گیلی مٹی پر لگائی جاتی ہے۔ ؎2 اس روایت کو بیہقی نے بھی سنن کی جلد 10 ص 148 نقل کیا ہے۔ ؎3 سفینۃ الحبار جلد 1 ص 386 ۔ ؎4 طبقات کبرٰی جلد 1 ص 218 ۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اس بیان سے اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ لفظ خاتم کا موجودہ زمانے میں اگرچہ زینت اور زیور کے طور پر انگوٹھی پر بھی اطلاق ہوتا ہے لیکن اس کی اصل " ختم" سے لی گئی ہے جو"انتہا" کے معنی میں ہے اور اس زمانے میں ان انگوٹھیوں کو کہا جاتا تھا جن سے خطور پر مہر لگاتے تھے۔ علاوہ ازیں یہ مادہ قران مجید میں بھی متعدد مواقع پر استعمال ہوا ہے اور ہر جگہ ختم کرنے اور مہر لگانے کے معنی میں ہے۔ مثلًا: " اليوم نختم علٰى افواهھم و تكلمنا ایدیهم " (یٰسن / 65) آج (قیامت کے دن ہم ان کے مونہوں پر مہر لگادیں گے اور ان کے ہاتھ ہم سے گفتگو کریں گے "۔ "ختم الله علٰى قلوبهم و علٰى سمعھم و علٰی ابصارهم عشارة " "خدا نے ان (منافقین) کے دلوں اور کانوں مہر لگا دی ہے (اس لحاظ سے کوئی نصحیت اس پراثر نہیں کرتی) اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے"۔ (بقرہ / 7) یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خاتمیت اور آپ پر سلسلہ انبیاءؑ ختم ہونے کے بارے میں زیر بحث آیت کی ولادت میں وسوسہ ڈالا ہے یا تو بالکل اس لفظ کے معنی سے بےخبر تھے یا پھر تجاہل عارفانہ سے کالیا ورنہ جو شخص عربی ادب سے تھوڑی بہت واقعیت رکھتا ہے وہ جانتا ہے کہ لفظ "خاتم النبين" واضح طور پر ختم نبوت پر دلالت کرتا ہے۔ اس صورت میں اگر اس تفسیر کے علاوہ آیت کی کوئی تفسیرکی جائے توسبک، ہلکا اور بچگانہ مفہوم پیدا کرے گی ۔ مثلًا اگریہ کہیں کہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ والہ وسلم دوسرے انبیاء کی انگوٹھی تھے یعنی پیغمبروں کی زنیت شمار ہوتے تھے تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ انگوٹھی انسان کا ایک عام زینتی زیور ہوتی ہے جوکھی بھی انسان کے برابر اور ہم پلہ قرار نہیں پاسکتی۔ لہذا اگر آیت کی یہ تفسیر کریں گے تو پیغمبراسلام کو ان کے مقام و مرتبہ سے بہت گرادیں گے۔ اس کے علاوہ یہ معنی لغت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے، اسی لیے توبہ لفظ پورے قرآن میں آٹھ مقام پر جہاں کہیں بھی استعمال ہوا ہے، ہرجگہ "ختم کرنے" اور " مہر لگانے" کے معنی میں آیا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:40
2- ختم نبوت کے دلائل
2- ختم نبوت کے دلائل: مندرجہ بالا آیت اگرچہ اس مطلب کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے۔ پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاتمیت کی دلیل اسی پر منحصر نہیں ہے ۔ کیونکہ قرآن مجید کی دوسری آیات بھی اس معنی کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور روایات تو کثرت سے موجود ہیں ۔ منجملہ ان کے سورۂ انعام کی آیت 19 میں ہم پڑھتے ہیں : "واوحی الى هذا القران لانذركم به ومن بلغ " "یہ قران مجھ پر وحی ہوا ہے تاکہ تمھیں اوران دوسرے لوگوں کو جن تک یہ قرآن پہنچے میں ڈراؤں (اور خداکی طرف دعوت دوں)۔ "ومن بلغ" (تمام وہ لوگ جن تک یہ بات پہنچے) کی تعبیر کے مفہوم کی وسعت ایک طرف تو قرآن مجید اور پیغمبراسلامؑ کی عالمی رسالت کو واضح کرتی ہے اور دوسری طرف ختم نبوت کو۔ دوسری آیات جو پیغمبرگرامی قدر کی عالمین کے لیے عمومی دعوت کو ثابت کرتی ہیں مثلًا: "تبارك الذي نزل الفرقان علٰى عبدہٖ ليكون للعالمين نذیرًا" "جاوید اور بابرکت بے وہ خدا جس نے اپنے بندے پر قرآن نازل کیا تاکہ وہ تمام اہل عالم کو ڈرائے"۔ (فرقان / 1) اورمثلًا: "وما ارسلناک الاکافة للناس بشيرًا ونذيرًا " (سبا / 128) "ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام لوگوں کے لیے بشیر و نذیر بناکر (تاکہ لوگوں کو جنت کی خوش خبری دیں اور جہنم سے ڈرائیں) اور ارشاد الٰہی : " قل يا ايها الناس انی رسول الله اليكم جميعًا " "اے پیغمبر! کہہ دیجیئے کہ اے لوگو! میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا ہوں": (اعراف / 158) "عالمین" "ناس" اور "كافة“ کے مفہوم کی وسعت بھی اس معنی کی موید سے اس سے قطع نظر کہ ایک تو اس پر علماء اسلام کا اجتماع ہے ، دوسرے یہ مسئلہ ضروریات دین میں سے ہے اور تیسرے پیغمبر اسلام اور دیگر پیشواؤں سے کثرت سے روایات ملتی ہیں جو اس مطلب کو بہت واضح کرتی ہیں۔ نمونہ کے طور پر ذیل کی چند روایات کو ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔ ہم پیغمبراکرم کی ایک مشہور حدیث میں پڑھتے ہیں جس میں آپ نے فرمایا ہے : حلالي حلال الٰى يوم القيامة وحرامی حرام الٰی یوم القيامة"۔ میرا حلال قیامت کی حلال ہے اور میرا حرام قیامت کے دن تک حرام ہے"۔ ؎1 یہ تعبیر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب تک دنیا قائم سے شریعیت محمدی بھی قائم و برقرار ہے۔ بعض مقامات پر مذکورہ بالا حدیث یوں بھی نقل ہوئی ہے : "حلال محمد حلال ابدًا الی یوم القيامة وحرامه حرام ابدًا الٰى يوم القيامة لايكون غيره ولا یجی غیره"۔ " حلال محمد ہمیشہ کے لیے قیامت کے دن تک حلال ہے اور آپؐ کا حرام کیا ہوا ، ہمیشہ کے لئے قیامت کے دن تک حرام ہے۔ اس کے علاوہ نہ کچھ ہوگااور نہ ہی کوئی آئے گا۔ ؎2 2- مشہور حدیث "منزلت" جو اہل تشیع اور اہل سنت کی مختلف کتابوں میں حضرت علیؑ کے بارے میں وارد ہوئی ہے۔ اس کے مطابق جب آنحضرت جنگ تبوک میں شرکت کے لیے تشریف لے جارہے تھے اور حضرت علیؑ کو مدینہ میں اپنی جگہ اپنا نائب بنایاتھا تو یہ حدیث مسئلہ خاتمیت کو بھی مکمل طور پر واضح کرتی ہے ، کیونکہ حدیث کے الفاظ یہ ہیں : ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- -- ؎1 بحارالانور جلد 2 ص 228 باب ، 3 ، حدیث 17 ؎2 اصول کافی جلد اول (وباب البدع والرائی والمقائیس) حدیث 19- ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- --- " أنت منی بمنزلة هارون من موسٰی الا انہ لانبی بعدی"۔ "یاعلی! تم میرے نزیدک وہی منشیات رکھتے ہو جو ہارون کو موسٰی سے تھی لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے" (اسی بناء پر تمہارے پاس سوائے نبوت کے ہارون کے باقی تمام مناصب موجود ہیں )۔ ؎1 ۳- حدیث بھی مشہور ہے اور اہل سنت کے بہت سے منابع میں نقل ہوئی ہے جس میں آپ نے فرمایا: " مثلي ومثل الانبياء كمثل رجل بنی بنیانا فاحسنه واجملہ فجمعل الناس یطیفون بہ يقولون مارأينا بنيانا فا احسن من هذا الاهذه اللبنۃ ، فكنت انا تلک اللبنة"۔ "گزشتہ انبیاء کے مقابلے میں میری مثال اس شخص کی سی ہے کہ جو بہت ہی خوبصورت اور دلکش مکان تعمیر کرے ، لوگ اس کے گرد پر لگائیں اور کہیں کہ اس سے بہتر کوئی عمارت نہیں ، لیکن اس کی صرف ایک اینٹ کی جگہ خالی ہے اور میں وہی آخری اینٹ ہوں"۔ یہ حدیث صحیح مسلم میں مختلف عبارتوں اور متعدد راویوں سے نقل ہوتی ہے یہاں تک کہ ایک جگہ پر اس کے ذیل میں ایک جملہ یہ بھی آیا ہے : " وأنا خاتم النبيين"۔ "میں خاتم الانبیاء ہوں"۔ ایک اور حدیث کے ذیل میں یہ جملہ بھی آیا ہے : "جئت فختمت الانبياء"۔ میں آیا اورانبیاء ختم ہو گئے"۔ ؎2 نیز یہ صحیح بخاری (کتاب المناقب) میں مسند احمد بن حنبل ، سنن ترمذی ، سنن نسائی اور کئی دوسری کتب میں منقول ہے اور نہایت ہی مشہور ومعروف احادیث میں سے ہے ۔ اسے شیعہ مفسرين ، مثلًا مرحوم طبرسی اور اہل سنت مفسرین جیسے مرحوم قرطبی نے اپنی تفاسیر میں زیر بحث آیت کے ضمن میں نقل کیا ہے . 4- نہج البلاغہ کے بہت سے خطبات میں بھی ختم نبوت کو صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ، جن میں سے خطبہ نمبر 173 ہے جس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یوں تعریف و توصیف کی گئی ہے : ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- - ؎1 اس حدیث کو "محب الدین طبرسی" نے ذخائر العقبٰی ص 79 و مطبوعہ مكتبہ القدس) میں ، ابن حجر نے صوائق محرقہ ص 177 (مطبوعہ مکتبۃ القاہر) میں تاریخ بغداد جلد 7، ص 452 (مطبوعہ السعادۃ) میں اور دوسری کتب مثلًا ، کنزالعمال ، منتخب کنز العمال اور ینابیع المودة میں بھی نقل کیا ہے (حدیث منزلت کے سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے نمونہ کی جلد نمبر میں سوره اعراف آیت نمبر 143 کی طرف رجوع فرمائیں۔ ؎2 صحیح مسلم جلد 4 ص 1790 و ص 1791 (باب ذکر کونہ خاتم النبین از کتاب الفضائل) - ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- --- " امين وحيه وخاتم رسلہ، و بشیررحمته ونذیرنقمه"۔ وہ حضرت محمد مصطفٰی وحی خدا کے امین پیغمبروں کے خاتم ، رحمت کی بشارت دینے والے اور اس کے عذاب سے ڈرانے ولے تھے۔ نیز خطبہ نمبر 133 میں یوں فرمایا ہے: "ارسلہ علی حین فترۃ من الرسل ، وتنازع من الالسن ، فقفی به الرسل و ختم بہ الوحی"۔ "خدا نے انھیں گذشتہ انبیاء کے دور فترت کے بعد بھیجا ،ایسے وقت میں جب مختلف مذاہب کے درمیان نزاع اور جھگڑا پیدا ہوگیا تھا ۔ پس اللہ نے آپ کے ذریعے نبوت کی تکمیل فرمائی اور آپ ہی کے اور ذریعے وحی کو ختم کیا"۔ اور نہج البلاغہ کے پہلے خطبہ گزشتہ انبیاء و مرسلین کے لائحہ عمل کو ذکر کرنے کے بعد ارشاد ہوتا ہے: "الٰى ان بعث الله سبحانه محمدًا رسول الله الانجازعد ته و اتمام نبورته"َ۔ "یہاں تک کہ خداوند تعالٰی وسبحانہ نے اپنے رسول حضرت محمد کو اپنے وعدوں کی تکمیل اورسلسلہ نبوت کو ختم کرنے کے لیے مبعوث فرمایا"۔ 5- حجۃ الوداع کے موقع پر آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اپنی عمر مبارک کے آخری حج اور آخری سال میں ایک جامع وصیت نام کی صورت میں لوگوں سے جوخطبہ بیان فرمایا ، اس میں بھی ختم نبوت کے مسئلے کو صراحت کے ساتھ بیان کردیا۔ آپؐ نے فرمایا: " الافليبلغ شاهد کم غائبكم لانبی بعدی ولا امة بعدكم" حاضرین غانیبین تک یہ بات ضرور پہنچا دیں کہ نہ تو میرے بعد کوئی نبی ہے اور نہ ہی تمھارے بعد کوئی امت ۔ پھر آپؐ نے اپنے باتھ آسمان کی طرف اس حد تک بلند کیے کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی اور بارگاہ خدا میں عرض کیا: " اللهم اشھداني قد بلغت"۔ "خدایا گواہ رہنا کہ مجھے جو کچھ کہنا چاہیئے تھا کہہ دیاہے"۔ ؎1 6- ایک اور حدیث میں جو کتاب کافی میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے، اس میں ہے : " ان الله ختم بنبیکم النبيين فلا نبي بعده ابدًا وختم " ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 بحارالانور جلد 21 ص 381 ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- - بكتابكم الكتب فلاكتاب بعده ابدًا"۔ خدا نے تمھارے پیغمبر کے ذریعے سلسلہ انبیاء کوختم کردیا ہے۔ اس بناء پر ان کے بعد کوئی اور بنی نہیں آئے گا اور تمھاری آسمانی کتاب کے ساتھ آسمانی کتابوں کا سلسلہ ختم کردیا ہے ، لہذا اس کے بعد ہرگز کوئی کتاب نازل نہیں ہوگی"۔ ؎1 اسلامی ماخذ میں اس سلسلے کی بہت زیادہ احادیث میں یہاں تک کہ کتاب "معالم النبوة" میں 135 احادیث علما اسلام کی کتب سے جمع کی گئی ہیں جو پیغمبر اور اسلام کے بزرگ پیشواؤں کی طرف سے اس سلسلہ میں بیان ہوئی ہیں ۔ ؎2
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:40
3- چند سوال اور ان کے جواب
3- چند سوال اور ان کے جواب : ختم نبوت کے سلسلے میں مختلف سوالات پیش آتے ہیں جن کا ہم ذیل میں جائز لیں گے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:40
1- ختم نبوت، ارتقاء سے کیونکر ہم آہنگ ہے ؟
1- ختم نبوت، ارتقاء سے کیونکر ہم آہنگ ہے ؟ پہلا سوال جو اس بحث میں سامنے آیا هے ممکن ہے ، انسانی معاشرہ متوقف ہوجائے اور کسی خاص منزل پر جاکر رک جائے؟ کیا انسان تکامل اور ارتقاء کی کوئی حد وحساب بھی ہے یا نہیں؛ کیا ہم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ موجودہ زمانے کے انسان گزشتہ دور کے لوگوں سے علم و دانش اور تمدن و ثقافت کے اعتبارسے فائق ہیں؟ توان حالات میں کیونکرممکن ہے کہ دفتر نبوت کی طور پر بند کر دیا جائے اور انسان اپنے ارتقائی مراحل میں نئے پیغمبروں کی رہبری سے محروم کر دیا جائے؟ ایک نکتے کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ کبھی انسان اپنے فکر وتمدن کے بلوغ کے اس مرحلہ تک پہنچ سکتا ہے کہ آخری نبی، جو جامع اصول اور تعلیمات اسے دے ، ان کی روشنی میں اسے کی نئی شریعیت کی ضرورت نہ رہے ، بلکہ انہی اصولوں سے استفادہ کرنے سے وہ اپنے سفر کو جاری رکھ سکے ۔ بعینہ اسی طرح جس طرح انسان تعلیم کے مختلف شعبوں میں نئے معلم اور مربی کا محتاج ہوتا ہے تاکہ مختلف تعلیمی ادوار گزار سکے لیکن جب ڈاکٹریٹ کے مرحلے تک پہنچ جاتا ہے اور کسی ایک علم یا چند علوم میں صاحب نظر مجتہد اور ماہر ہوجاتا ہے تو پھر اس منزل پر تعلیم جاری رکھنے کے لیے اسے نئے استاد کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ بلکہ اس تعلیم کے بل بوتے پراپنی تحقیقات میں لگارہتا ہے جو سابقہ استادوں خاص کر آخری استاد کے پاس سے حاصل کی تھی۔ اس طرح سے وہ اپنے ارتقاء کے مراحل کو طے کرتارہتا ہے ، دوسرے لفظوں میں راستے کی مشکلات کو ان کلی اصولوں کے ذریعہ حل کرتا رہتا ہے جو اس نے آخری استاد سے حاصل کیے تھے۔ اس بناء پر یہ ضروری نہیں ہے کہ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ نت نیا دین آتا رہے(غورکیجئے گا)۔ باالفاظ دیگر گزشتہ انبیاء میں سے ہر ایک نے انسان کے ارتقاء کے لیے کچھ نقشے اسے بتانے ہیں تاکہ وہ اس نشیب و فراز والے راستوں میں پیش رفت کرسکے ، حتٰی کہ پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ظہور تک اس میں ایسی اہلیت اور لیاقت پیدا ہو ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اصول کافی جلد اول۔ ؎2 "معالم النبوۃ" نصوص خاتمیت"۔ ۔ٓ--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کہ اس آخری پیغمبر کے لیے خدا کی طرف سے ایک مکمل اور جامع ترین نقشہ مل گیا جس کے ذریعے وہ راستے کی مشکلات کوحل کر سکتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایک جامع اور ممکل نقشہ ہوتے ہوئے کسی دوسرے نقشے کی ضرورت نہیں رہتی اور یہ حقیقتًا اس تعبیر کا بیان یا وضاحت ہے جو ختم نبوت کے بارے میں روایات آئی ہیں ، جن میں آنحضرت کو قصر رسالت کی آخری اینٹ یا اس آخری اینٹ کا رکھنے والا بتایا گیا ہے۔ یہ سب دلائل تو کسی نئے دین کی نفی کے سلسلے میں تھے ، رہا رہبری اور امامت کا مسئلہ جو ان قوانین اور اصول کے نفاذ کی مکمل نگرانی اور راہ ہدایت کےلیے لوگوں کی دستگیری کا نام ہے تو یہ ایک الگ مسئلہ ہے اور اس سے انسان کسی بھی وقت بے نیاز نہیں رہ سکتا۔ اسی لیے سلسلہ نبوت کے خاتمے سے سلسلہ امامت ختم نہیں ہوسکتا کیونکہ ان اصولوں کی تشریح اور وضاحت اور انھیں ظاہری وجود عطا کرنے کے لیے امامت کی بہرحال ضرورت ہے جس سے استفادہ خدا کے کسی معصوم پیشوا اور رہبر کے بغیر ناممکن ہے۔