يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا
O you who have faith! Remember Allah with frequent remembrance,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:41
[Pooya/Ali Commentary 33:41] Imam Jafar bin Muhammad as Sadiq said: "There is a limit to everything, but there is no limit to the remembrance of Allah. Excess in anything is disliked by Allah, but Allah's love increases proportionately to the degree of His remembrance a man commemorates in his thoughts and actions. Our true followers are those who, whenever free from their legitimate duties, remembers Allah a great deal." -Tasbihat al Arba, Tasbih of Bibi Fatimah, and Kalimah are the best recitations for the abundant remembrance of Allah, day in and day out.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 33:41-52
God sends 1000 blessings and the angels pray 1000 times forgiveness for him who prays ten times the grace for the Prophet and His Immaculate Family. (Vide 43 Supra). The Prophet and Divine Nominees are the only Divine Lights for guidance and none else can undertake this grave responsibility.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:41-44
3- مومنین کی جزاءابھی سے تیار ہے
3- مومنین کی جزاءابھی سے تیار ہے: "اعد لھم اجرًا كریمًا" کا جملہ واضح کرتا ہے کہ بہشت اور اس کی نعمتیں ابھی سے پیدا ہوچکی ہیں اور مومنین کے انتظار میں ہیں ، لیکن ممکن ہے یہاں پر یہ سوال پیدا ہوکہ تیار رکھنا تو ایسے لوگوں کے لیے مناسب ہوتا ہے جو محدود قدرت کے مالک ہوتے ہیں اور مبادا ضرورت کے وقت فراہم کرنا چاہیں تو نہ کر پائیں لیکن پروردگار کی قدرت غير محدود ہے ، وہ جس وقت کسی چیزکا ارادہ کرے تو حکم دیتا ہے "ہوجا" تو وہ فورًا ہوجاتی ہے وہاں اس ایسی ضرورت محسوس نہیں ہوتی تو پھر اس آیت میں اور قران کی دوسری آیات میں تیار ہونے کا کیا مقصد ہے؟ ج : ایک نکتے کی طرف توجہ اس شکل کو حل کر دیتی ہے اور وہ یہ کہ کسی چیز کو تیار کر کے رکھنا ہمیشہ قدرت کے محدود ہونے کی بناء پر نہیں ہوتا بلکہ کبھی دل کو گرمانے اورزیادہ سے زیاده ولی اطمینان اور بعض اوقات زیادہ سے زیادہ احترام و اکرام کی بناء پر ہوتا ہے ۔ لہذا ہم کسی مہمان کو دعوت دیتے ہیں اور کچھ مدت پہلے اس کی تواضح کے وسائل تیار کرنے میں مصروف ہوجائیں ، تو ہم اسی کے لیے زیادہ احترام اور اہمیت کے قائل ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ہم اس کے آنے کے بعد تواضع اور پذیرائی کے وسائل مہیا کرنے میں لگ جائیں تو یہ خود ایک قسم کی بے اعتنائی ، بے پرواہی اور ناقدری شمار ہوگی۔ لیکن اس کے باوجود یہ بات اس سے مانع نہیں ہوگی کہ باایمان افراد اپنی خود سازی، معرفت اور پاکیزگی عمل میں جتنی زیادہ کوشش کریں گے ، خدا کی طرف سے اجر وثواب بھی اتنا تکامل اور ارتقا پیدا کرتا جائے گا۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر کبیر ازفخرالدین رازی۔ زیر بحث آیت کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:41-44
1- ہر حال میں خدا کی یاد
چند ایک نکات 1- ہر حال میں خدا کی یاد: جس وقت خدا کا نام لیا جاتا ہے، عظمت، قدرت، علم اور حکمت کی ایک دنیا کے دل میں روشن ہوتی ہے کیونکہ وہ اسماءحسنٰی اور اعلٰی صفات کے حامل ، تمام کمالات کا مالک اور ہر قسم کے نقص و عیب سے منزه و مبرہ ہے۔ اس حقیقت کی حرف دائمی توجه انسانی روح کو نیکیوں اورپاکیزگیوں کی طرف راہنمانی کرتی ہے اور برائیوں اور قباحتوں حسے سے روکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اس کی صفات کا عکس انسانی روح میں تجلی کرتا تو ہے ، ایسےعظیم معبود کی طرف توجہ اس کی بارگاہ میں دائمی حضور کے احساس کا موجب بنتی ہے اور اس احساس کے ذریعے ہی گناہوں سے انسان کا فاصلہ بڑھ جاتا ہے اور وہ روز بروز ان سے دور ہوتا جاتاہے۔ اس کی یاد ہمیشہ اس کی نگرانی کی یاد آوری ، اس کے حساب و کتاب اور جزا کی یاد ، اس کے عدل و انصاف اور جنت و دوزخ کی یاد هے ایسی یاد جو روح کوصفا اور دل کو نور و حیات عطا کرتی ہے۔ اسی بناء پراسلامی روایت میں آیاہے کہ ہرچیز کی ایک مقدار معین ہے ، سوا ئے یاد خدا کے کہ جس کا کوئی حد و حساب نہیں ۔اصول کافی کی روایت کے مطابق امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں : "ما من ی اولیه شیء الالہ حدیتھی الیہ الا الذكر، فليس له حدی تھی ليہ" ہرایک چیز کی ایک حد ہوتی ہے کہ جب وہ اس تک پہنچ جائے تو ختم ہوجاتی ہے ، سواۓ یاد خدا کے کہ جس کی کوئی حد نہیں ہے۔ پھرمزید فرماتے ہیں : "فرض الله عزوجل الفرالض فمن اداھن فهوحدمن ، وشهررمضان فمن صامد فهم مده والحج فمن حج حده، الاالذکر ، فان الله عزرجل لم یرض منه، بالقليل ولم يجعل له حذا ينتهي اليه، ثم تلا : یاایها الذین امنوا اذكرًاكثیرًا وسبحوبكورة واصیلًا"۔ "خدا نے واحب نمازوں کو فرض کیا ہے جو ان کو ادا کر د ے اس نے ان کی حد کو پورا کر دیا ، ماہ رمضان کے جو روزے رکھ لے اس کی حد انجام پاگئی ،جو شخص (ایک مرتبہ) حج بجا لائے تو وہی اس کی حدہے سوائے"ذکرخدائے" کے کہ خدا اس کی قلیل مقدارسے راضی نہیں ہوتا اور اس کے کثیر کے لیے بھی کسی حد کا قائل نہیں۔ پھر آپ نے اپنی گفتگو کے شاہد کے طور پر آیہ" یاایهالذین امنوااذكر و الله ذكرًا كثيرًا ..... تلاوت فرمائی ۔؎1 حضرت امام جعفر صادق علیہ اسلام اسی روایت کے ذیل میں اپنے والد گرامی حضرت امام محمد باقر علیه السلام کے بارے میں نقل کرتے ہیں ۔ آنجناب "کثیرالذکر" تھے۔ جس وقت ہم ان کے ساتھ چل رہے ہوتے تو وہ ذکر خدا کر رہے ہوتے اور کھانا کھاتے وقت ذکر خدا میں مشغول رہتے ، یہاں تک کہ جب لوگوں سے باتیں کہہ رہے ہوتے تو بھی ذکر خداسے غافل نہ ہوتے .... آخر میں یہ پرمغز حدیث اس جملہ کے ساتھ ختم ہوتی ہے : " والبيت الذي يقرء فیہ القران ، ویذكر الله عزوجل فيه تكثر بركته، وتخضرہ الملائكة، وتهجرمنه الشياطين، و یضیء لاهل السماء كما يضيء الكوكب الدری لاهل الارض"۔ "جس گھر میں قرآن کی تلاوت اور خدا کی یاد ہو ، اس میں برکت زیادہ ہوتی ھے فرشتے اس میں حاضر ہوتے ہیں اورشیاطین اس سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ، اور وہ گھراہل آسمان کو یوں چمکتا دکھائی دیتا ہے، جیسے اہل زمین کو چمکتا ستارنظرآتا ہے"۔ اس کے برعکس جس گھرمیں تلاوت قرآن اور ذکر خدانہیں ہوتا اس کی برکتیں اٹھ جاتی ہیں اور فرشتہ ہجرت کر جاتے ہیں اور شیاطین آپڑاؤ ڈالتےہیں ۔ ؎2 ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 کافی جلد 2 کتاب الدعاء (باب ذکرالله عزوجل) - ؎2 کافی جلد 2 کتاب الدعاء (باب ذکرالله عزوجل) - ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ موضوع اس قدر اہم ہے کہ ایک حدیث میں یاد خدا کو دنیا وآخرت کی تمام خیر کے ہم پلہ قراردیاگیا ہے ۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآہلہٖ وسلم فرماتے ہیں: " من اعطی لسانا ذاكرًا فقد اعطى خيرالدنيا والآخرة"۔ "جس شخص کو خدا نے ذکر کرنے والی زبان عطا کی ہے گویا اس کو دنیا و آخرت کی بھلائی دے دی گئی هے"۔ ؎1 یاد خدا کی اہمیت کے سلسلے میں روایات اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر ہم چاہیں کہ ان سب کو یہاں جمع کردیں تو ہم اپنے موضوع سے خارج ہوجائیں گے ۔ اس گفتگو کو ہم حضرت صادق آل محمد کی ایک مختصر مگر جامع حدیث ختم کرتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : "ومن اكثر ذكر الله عزوجل اظله الله في جنته"۔ "جوشخص زیادہ یاد خدا کرے تو خدا اسے اپنے لطف و کرم کے سائے میں بہشت بریں میں جگہ عطا فرمائے گا"۔ ؎2 (جولوگ اس سلسلے میں آگاہی حاصل کرنا چاہتے ہیں انہیں اصول کافی جلد دوم کے ان ابواب کی طرف رجوع کرنا چاہیئے جو ذکراللہ کے بارے میں ہیں ، خصوصًا جس باب میں بتایا گیا ہے کہ اس شخص کو کبھی آفات و بلیات اپنا شانہ نہیں بتاتے جو ذکر خدا کرتے ہیں)۔ اس بات کو ایک بارپھر دہرانا ضروری ہے کہ ان سب خیرات و برکات کا تعلق یقینًا ایسے لفظی ذکر اور حرکت زبان سے نہیں ہے جو غور وفکر اور عمل سے خالی ہو بلکہ مقصود وہ ذکر ہے جس سے فکر کے سوتے پھوٹتے ہوں اوں جس کا ردعمل انسانی اعمال سے واضح ہو جیساکہ روایات میں اس معنی کی تصریح ہوئی ہے۔ ؎3
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:41-44
خدا اور فرشتوں کا درود
تفسیر خدا اور فرشتوں کا درود : گذشتہ آیات میں تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں پیغمبراسلام کی سخت ذمہ داریوں کے بارے میں گفتگوتھی. اب مندرجہ بالاآیات میں اس تبلیغ کے دامن کو سارے معاشرے میں وسعت دینے کے لئے مومنین کی کچھ زمہ داریوں کو بیان کیا گیا ہے اور ان سب کی طرف روئے سخن کرتے تو فرمایا گیا ہے۔ "اسے وہ لوگو! جو ایمان لانے ہوخدا کو زیادہ سے زیادو یاد کیا کرو"۔ (یاایها الذین امنوا ذكروا الله ذكرًاكثيرًا)۔ اور صبح وشام اس کی تسبیح کرو: (وسبحوہ اوربكرة واصيلًا) - چونکہ مادی زندگی میں ان کے لیے غفلت کے عوامل بہت زیادہ ہیں اور شیاطین کے وسوسوں کے تیرے ہرطرف سے چل رہے ہیں . ان سے نبردآزما ہونے کے لیے "ذکرکثیر" کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے"ذکر کثیر" اپنے حقیقی معنی کے لحاظ سے یہ ہے کہ پورے وجود کے ساتھ خدا کی طرف توجہ ہو، نہ کہ صرف زباني ۔ ایسا ذکر کثیر ہے جو انسان کے تمام اعمال پرسایہ فگن ہو اور اس پر نور اور روشنی ڈال رہا ہو ، اس طرح سے قرآن پاک تمام مومنین کو اس بات کا ذمہ دار ٹھراتاہے کہ وہ ہر حالت میں یاد خدا میں مصروف رہیں۔ عبادت کے وقت اس حضور قلب او خلوص دل سے یاد کریں، اگر گناہ کے مقامات پر پہنچیں تو اسے یاد کرکے گناہوں سے اپنی آنکھیں بند کرلیں ، اگرلغزش ہوجائے تو توبہ کریں اور راہ حق کی طرف پلٹ آئیں ، نعمت کے وقت اسے یاد کریں ، اس کے شکر گزار ہوں ، بلا و مصیبت کے وقت اسے یادکریں. صابروشاکررہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اس کی یاد کو کبھی دل سے نہ بھلائیں جو زندگی کے ہر شعبہ میں صحیح اور الٰہی طرز عمل کا سبب ہے۔ ایک حدیث جسے صحیح ترمذی اورمنداحمد بن حنبل میں ابو سعید خدری کی وساطت سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کیاگیاہے ، میں ہے کہ لوگوں نے آنحضرت سے سوال کیا: " ان العباد افضل درجة عندالله يوم القيامة"۔؟ "قیامت کے دن اللہ کے نزدیک کس بندے کا درجہ سب سے افضل اور سب سے بہتر ہوگا"؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا: "الذاكرون الله كثيرًا" "جو لوگ خدا کو زیادہ یاد کرتے ہیں" ۔ ابوسعید کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: "یارسول الله! ومن الغازی ف سبيل الله "یارسول اللہ! کیا اس قسم کے لوگ راہ خدامیں جہاد کرنے والوں سے بھی بلند مقام کے مالک ہیں ؟" آپ نے فرمای: "لوضرب بسينة فی الكفار والمشركين حتی ینكسر ویختضب دمالكان الذاكرون اللہ افضل درجة، منه"۔ "اکر اپنی تلوار سے کفار و مشرکین کے پیکر پر اس قدر ضربیں لگائیں کہ تلوار ٹوٹ جائے اور خون سے رنگین ہوجائے تب بھی وہ لوگ جو خدا کو زیاده یاد کرتے ہیں ، ان سے افضل ہیں"۔ ؎1 کیونکہ خالص جہاد بھی خدا کے ذکر کثیر کے بغیر ناممکن ہے۔ یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر کثیرایک وسیع معنی رکھتا ہے اور اگر بعض روایات میں تسبیح حضرت فاطمه الزهرا سلام الله علیہا (34مرتبہ اللہ اکبر، 33 مرتبہ الحمدللہ اور 33 مرتبہ سبحان اللہ) اور مفسرین کے بعض اقوال میں نہ ذکر کثیر سے مراد صفات علیا، اور "اسماۓحسنٰی اور پروردگار کو ان چیزوں سے پاک بیان کرنا جو اس کے لائق نہیں یا اس قسم کے دوسرے امور ہیں تویہ سب ذکر کےواضح مصداق کا بیان ہیں کے مفہوم کو خصوصیت سے ان مصادیق میں سے کسی کے سا تھ محدود کردیا جاۓ۔ جیسا کہ آیات کےسیاق سے معلوم ہوتاہے "ہرصبح و شام تم خدا کی تسبیح" سے مراد یہ ہے کہ تسبیح کو دن رات جاری رکھا جاۓ اوران دو اوقات کا خصوصیت کے ساتھ ذکر کرنا دراصل دن کے آغاز اور اختتام کے طور پر ہے۔ ان لوگوں نے اس کی تفسیر نماز صبح و عصر وغیرہ سے کی ہے تو وہ بھی اس کا ایک مصداق ہے ۔ اس طرح سے" خدا کا ذکر کثیراور ہرصبح وشام اس کی تسبیح، اپنے پروردگار کی طرف دائمی توجہ اور اسے ہر عیب و نقص سے مبرا جانے بغیر نہیں ہوسکتی ۔ نیز سب جانتے ہیں کہ خداکی یاد انسان کی روح کے لیے اسی قدر اہم ہے جس قدر جسم کے لئے پانی اور غذا - چناچہ سورہ رعد کی آیت 28 میں آیا ہے: " الابذكر الله تطمئن القلوب"۔ "آگاہ رہو کہ صرف خدا کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان و سکون حاصل ہوتا ہے"۔ دلوں کے سکون و اطمینان کا نتیجہ بھی وہی ہے جو سورۂ فجر کی آیت نمبر 27 تا 30 میں آیا ہے: یاایها النفس المطمئنة ارجعی الی ربک راضیة مرضية ، فادخلي في عبادی وادخلي جنتی"۔ "اے نفس مطمئنہ ! اپنے پروردگار کی طرف پلٹ جا ، جب کہ تو رب سے راضی ہے ، پھر میرے بندوں کے زمرے میں شامل ہو کر میری بہشت میں داخل ہوجا۔ بعد والی آیت درحقیقت ذکر اور دائمی تسبیح کانتیجہ اور علت غائی ہے ، خدا فرماتا ہے۔ وہ وہی تو ہے جوتم پر درود درحمت ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- --- ؎1 تفسیر المیزان جلد 16 ص 353 بحوالہ درمنشور۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- --- بھیجتاہے اور اس کے فرشتے بھی تمھارے لئے رحمت کا تقاضا کرتے ہیں تاکہ تمھیں وه جہالت ، کفر اور شرک کی تاریکیوں سے ایمان ، علم اور تقویٰ کے نور کی طرف رہنمائی کرے۔ (ھوالذي یصلى عليكم وملائكته ليخرجكم من الظلمات الى النور). "کیونکہ وہ مومنین کی بابت رحیم و مہربان ہے "اور اسی بناء پر ان کی ہدایت اور رہبری اس نے اپنے ذمہ لے لی ہے اور اپنے فرشتوں کو بھی ان کی امداد پر مامور کیا ہے" :( وكان بالمؤمنين رحیمًا)۔ "يصلي" "صلاۃ" کے مادہ سے ہے ، یہاں توجہ اور مخصوص عنایت کے معنی میں ہے ، یہ عنایت خدا کے بارے میں تونزول رحمت ہے اور فرشتوں کے بارے میں استغفاراورتقاضاۓ رحمت ہے۔ جیسا کہ سورۂ مومن کی آیت 7 میں ہے: ويستغفرون اللذين امنوا" یعنی حاملین عرش مومنین کے لیے استغفار کرتے ہیں۔ بہرحال یہ آیت ان مومنین کے لیے بشارت عظیم اور بڑی نوید ہے جو ہمیشہ خدا کی یاد میں رہتے ہیں ، کیونکہ آیت صراحت کے ساتھ کہتی ہے کہ وہ اللہ کی طرف سیروسلوک میں تنہا نہیں ہیں بلکہ لفظ "يصلی" فعل مضارع ہے جو استمہراء پر دلالت کرتا ہے اور اس بات کا متقاضی ہے کہ مومنین ہمیشہ خدا اور اس کے فرشتوں کی رحمت کے زیر سایہ رہتے ہیں اور رحمت کے اس سائے میں ظلمت کے پردے شق ہوتے ہیں اور علم و حکمت ، ایمان اور تقوے کانور ان کے قلب و روح پرضو فشانی کرتا ہے۔ جی ہاں! سالکین راہ حق کے لیے یہ آیت بہت بری بشارت ہے اور انھیں نوید دیتی ہے کہ محبوب کی طرف سے زبردست کشش موجود ہے تاکہ بےچارے عاشق کی کوششیں کسی نہ کسی نتیجہ تک پہنچ جائے۔ وہ راہ خدا میں مقدم اٹھانے والے مجاہدین کے لیے ضمانت ہے کیونکہ ایسے لوگوں کاشمارخالص افراد کے زمرے میں ہوتاہے جنہیں گمراہ کرنے سے شیطان نے پہلے دن ہی اپنے عجز و ناتوانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا: "فبعزتك لأغوينهم اجمعين الا عبادك منهم المخلصين" "خداوندا! تیری عزت کی قسم ، سب کو گمراہ کروں گا سوائے تیرے مخلص بندوں کے۔ (ص / 82-83) "وكان بالمؤمنين رحیما" کے جملے میں "كان" فعل ماضی ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کی طرف سے ہمیشہ مؤمنین پر ایک خاص رحمت رہتی ہے اور یہ اس بات کی ایک اور تاکید ہے جو آیت کے آغازمیں ہے ۔ یہ خدا کی خاص رحمت ہی ہے کہ وہ مومنین کو اوہام ، شہوات اور شیطانی وسوسوں کی تاریکیوں سے نکال کریقین واطمینان کے نور کی طرف راہنمائی کرتا ہے کیونکہ اگر اس کی رحمت شامل حال نہ جو تو خطرات اور پیچیدہ راستہ کبھی طے نہ ہو سکے۔ موجودہ سلسلے کی آخری آیت میں مومنین کے مقام اور ان کی جزاء کی عمدہ اورمختصر عبارت میں تصویر کشی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے ۔خدائی فرشتوں کا تحیہ ان کے لیے جس دن (قیامت) وہ اس سے ملاقات کریں گے، سلام ہے"۔ (تحیتهم يوم یلقونہ سلام )- "تحيت" ماده "حیات" سے "سلامتی" اور "ایک اور زندگی" کے لیے دعا کرنے کے معنی میں ہے ( مزید وضاحت کے لیےتفسیرنمونہ جلد 4 ص 55 کی طرف رجوع کریں ۔ یہ ایسا سلام ہے جوعذاب اور ہرقسم کے درد و رنج اور پریشانی سے محفوظ ہے اور سکون واطمیان سے ملا ہوا ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین کا نظریہ ہے کہ "تحتیهم" مومنین کو آپس میں درود وسلام پیش کرنے کی طرف اشارہ ہے ، لیکن اگر گذشتہ آیات کو دیکھیں جن میں خدا اور ملائکہ کی اس جہان میں صلوٰۃ اور رحمت کی گفتگوتھی تو اس کا ظاہر یہ بتایا ہے کہ "یہ تحیہ" بھی اس کے فرشتوں کی جانب سے آخرت میں ہوگا۔ جیسا کہ سورہ رعد کی آیت 23/24 میں ہے۔ "والملائكة يدخلون عليهم من كل باب سلام عليكم بما صبرتم"۔ "اس دن فرشتے ان پر ہر دروازے سے دارد ہوں گے اور ان سے کہیں گے تمھارے صبرکی وجہ سے تم پر سلام ہو"۔ جوکچھ ہم نے کہا ہے اس سے ضمنی طور واضح ہوجاتا ہے کہ "یوم یلقونہ" سے مراد قیامت کا دن جسے "لقاءاللہ کے دن" کا نام دیا گیاہے۔ عام طور پریہ تعبہر قرآنی آیات میں اسی معنی میں استعمال ہوتی ہے۔ اس تحیہ کے بعد جودرحقیقت آغاز کار سے مربوط ہے اس کے انجام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "خدا نے ان کے لیے بڑاقیمتی اجر فراہم کر رکھاہے"۔( واعدلھم اجركريمًا) - یہ ایک ایساجملہ ہے جس میں اختصار کے باوجود تمام چیزیں جمع ہیں اور خدا کی تمام نعمتیں اور ہر قسم کی بخششیں اس میں چھپی ہوئی ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:41-44
سوره احزاب / آیه 41 - 44
(41) يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّـٰهَ ذِكْرًا كَثِيْـرًا ٓ (42) وَسَبِّحُوْهُ بُكْـرَةً وَّّاَصِيْلًا (43) هُوَ الَّـذِىْ يُصَلِّىْ عَلَيْكُمْ وَمَلَآئِكَـتُهٝ لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ ۚ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا (44) تَحِيَّتُهُـمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهٝ سَلَامٌ ۚ وَّاَعَدَّ لَـهُـمْ اَجْرًا كَرِيْمًا ترجمہ (41) اے وہ لوگ جو ایمان لائے ہو ! خدا کو بہت یادکرو۔ (42) اور صبح وشام اس کی تسبیح کرو۔ (43) وہ وہی ہے جو تم پر درود اور رحمت بھجیتاہے اور اس کے فرشتے بھی (تمھارے لیے رحمت کا تقاضاکرتے ہیں) تاکہ تمھیں (جہالت ، شرک اور گناہ کی) تاریکیوں سے (ایمان ، علم اور تقوٰی کے( نور کی طرف رہنمائی کرے وہ مومنین پر بہت ہی مہربان ہے۔ (44) ان کا تحیہ ، سلام ہے جس دن وہ اس سے ملاقات کریں گے اور خدانے ان کے لیے نہایت ہی قمیتی جزاء مقررکررکھی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:41-44
2- لقاء اللہ کیا ہے؟
2- لقاء اللہ کیا ہے؟ ہم نے کہا ہے کہ قرآن مجید میں عام طور پر یہ تعبیر قیامت کی طرف اشارہ ہے اور چونکہ پروردگار کے بارے میں حسی ملاقات کوئی مفہوم نہیں رکھتی کیونکہ وہ جسم ہے، نہ ہی عوارض جسم کا حامل ، لہذا بعض مفسرين مجبورًا اصطلاح کے مطابق یہاں مضاف کو مقدر مان کر کہتے ہیں کہ"لقاء ثواب اللہ" یا "خدا کے فرشتوں کی ملاقات" ہے ،لیکن یہاں پر "لقاء" کو "لقاء اللہ" کے حقیقی اور دل کی آنکھ کے ساتھ دیکھنے کے معنی میں بھی لیاجاسکتا ہے۔ کیونکہ قیامت کے دن تمام پردے ہٹ جائیں گے اور خدا کی عظمت اور اس کی نشانیاں ہرزمانے سے زیادہ روشن اور واضح طور پر جلوہ گرہونگی۔ انسان باطنی شہود اور دل کی آنکھوں کے اندر دیکھنے کے مقام پر پہنچ جائے گا اور ہرشخص اپنی معرفت اور عمل صالح کی مقدار کے مطابق اس شہود کے عالی مرحلے پر فائز ہوگا۔ اسی مناسبت سے جناب فخررازی نے اپنی تفسیر میں نہایت ہی قابل توجہ بات بیان کی ہے جسے ہماری مذکورہ گفتگو کے ساتھ ملایا جاسکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں: اس دنیا میں انسان مادی امور اور تلاش معاش میں مستغرق ہونے کی وجہ سے عام طور پر خدا سے غافل ہوجاتا ہے لیکن ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 کافی جلد 2 کتاب الدعاء (باب ذکرالله عزوجل) - ؎2 کافی جلد 2 کتاب الدعاء (باب ذکرالله عزوجل) - ؎3 خصائل صدوق مطابق نقل تفسیر المیزان جلد 7/6 ص 353۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ قیامت میں جب یہ تمام امور برطرف ہوجائیں اور انسان فکرمعاش سے بے نیاز ہوجائے گا تو اپنے پورے وجود کے ساتھ پروردگارعالم کی طرف متوجہ ہوجائے گا اور یہی "القاءالله" کا معنی ہے ۔ ؎1 یاد رہے جو کچھ ہم عرض کرچکے ہیں اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ بعض مفسرین نے یہاں پر جو موت اور فرشتہ موت سے ملاقات کے لمحے کی طرف اشارہ سمھجاہے، نہ تو مذکوره آیات سے مناسبت رکھتا اور ہی ان جیسی دوسری قرانی آیات کی تعبیرات سے۔ خصوصًا "يلقونہ" میں مفعول کی ضمیر مفرد کی صورت میں آئی ہے جواس ذات پاک خدا وند متعال کی طرف اشارہ ہے ، جبکہ روح کو قبض کرنے والے فرشتوں کے لیے جمع کا صیغہ ہوتاہے اوراس سے قبل کی آیت میں لفظ "ملائکہ" جمع کی صورت میں آیا ہے (مگر یہ کہ کوئی کلمہ مقدر مانا جائے) ۔