ٱلَّذِينَ يُبَلِّغُونَ رِسَٰلَٰتِ ٱللَّهِ وَيَخۡشَوۡنَهُۥ وَلَا يَخۡشَوۡنَ أَحَدًا إِلَّا ٱللَّهَۗ وَكَفَىٰ بِٱللَّهِ حَسِيبٗا
such as deliver the messages of Allah and fear Him, and fear no one except Allah, and Allah suffices as reckoner.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:39
[Pooya/Ali Commentary 33:39] Man's responsibility is to Allah; and particularly a prophet's submission to Allah's will had to be of the highest degree. In conveying Allah's message or in carrying out His commands a prophet had to fear none other than Allah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:39
سوره احزاب / آیه 39
(39) اَلَّـذِيْنَ يُبَلِّغُوْنَ رِسَالَاتِ اللّـٰهِ وَيَخْشَوْنَهٝ وَلَا يَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّـٰهَ ۗ وَكَفٰى بِاللّـٰهِ حَسِيْبًا ترجمہ (39) (گذشتہ پیغمبر کہ) جو خدائی پیغامات کی تبلیغ کرتے تھے اور (صرف) اسی سے ڈرتے تھے اور خدا کے علاوہ کسی سے خوف نہیں کھاتے تھے اور یہی کافی ہے کہ خدا حساب لینے والا (اور ان کے اعمال کا اجر دینے والا) ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:39
4- کیا انبیاء بھی تقیہ کرتے ہیں؟
4- کیا انبیاء بھی تقیہ کرتے ہیں؟ کچھ لوگوں نے زیربحث آیت سے یہ سمجھا ہے کہ انبیاء کے لیے تبلیغ رسالت کے فریضے میں تقیہ کرناجائز نہیں ہے کیونکہ قرآن کہتاہے۔ "ولا فيخشون احدًا الا الله"۔ لیکن توجہ رکھنا چاہیئے کہ "تقیہ" کی کئی قسمیں ہیں جن میں سے ایک قسم کانام "تقیرخونی" ہے جس کی مذکورہ بالا آیت میں انبیاء کی دعوت اور ابلاغ رسالت کے سلسلے میں نفی کی گئی ہے۔ لیکن تقیہ کی کچھ اور اقسام بھی ہیں جن میں سے ایک "تقیہ تجیبی" اور "پو ششی" ہے اور"تقیہ تجیبی“ سے مراد یہ ہے کہ انسان کبھی فریق مخالف کا دل جیتنے کے لیئے اپنے عقیدے کو چھپاتا ہے تاکہ اسے فکری و نظری طور پراپنا ہم نوا بناسکے۔ اور "تقیہ پوششی" سے مراد یہ ہے کہ کبھی ہدف اور منزل مقصود تک پہنچنے کے لیے منصوبوں اور ان کے مقدمات کو چھپایا جاتا ہے۔ کیونکہ اگر وہ عام ہوجائیں اور دشمن ان سے آگاہ ہوجائیں میں تر ہوسکتا ہے کہ یہ منصوبے ناکام ہرجائیں۔ انبیاءاکرام خصوصًا پیغمبر اسلام کی زندگی تقیہ کی اس قسم سے بھری پڑی ہےکیونکہ سب کو معلوم ہے کہ بہت سے مواقع پر جب آپؐ میدان جنگ کی طرف روانہ ہوتے تو اپنے مقصد کو مخفی رکھتے ، جنگ کے تمام منصوبے مکمل طور پر معرض خفا میں رہتے اوراستثنار کا انداز یعنی مقصد کو چھپائے رکھنا جو تقیہ کی ایک قسم ہے ، تمام مراحل میں نافذ ہوتا۔ بعض اوقات کسی حکم کے بیان کرنے میں ایک مرحلہ وار روش سے بھی استفادہ کرتے جو تقیہ کی ایک قسم ہے ،مثلًا "تحری ربا" (سودکی حرمت) اور "شرب خرم" ( شراب پینے) کا مسئلہ ہے تو یہ ایک ہی مرحلہ میں بیان نہیں ہوئے بلکہ فرمان الٰہی سے کئی مراحل میں صورت پذیر ہوتے ہیں۔ یعنی زیادہ ہلکے مرحلے سے شروع ہوکر اپنے آخری اور اصلی حکم جاپہنچے۔ بہرحال تقیہ کا ایک بہت ہی وسیع معنی ہے یعنی "مقصد کے حصول کو خطرے میں پڑنے سے بچانے کے لیے حقیقت کو چھپانا "۔اور یہ ایسی چیز ہے اپنے تمام عقلائے عالم نے اپنایا ہوا ہے اور خدائی رہبرا اپنے مقدس مشن کوکامیاب کرنے کے لیے کئی مراحل پر اپاناتے ہیں۔ جبکہ توحید کے ہیرو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی داستان میں ہے کہ جس دن بت پرست لوگ عید کے مراسم کی ادئیگی کےلیے شہر سے باہرجا رہے تھے توآپ نے اپنے مقصد کومخفی رکھا تاکہ موقع سے فائدہ اٹھاکربتوں کو پاش پاش کردیں۔ نیز "مومن آل فرعون" نے حساس مواقع پر حضرت موسٰی کی مدد کرنے اور انھیں قتل ہونے سے بچانے کےلیے اپنے ایمان کو پوشیدہ رکھا جس کی وجہ سے قرآن نے انھیں عظمت کے ساتھ یاد کیاہے۔ بہرحال صرف" خوف والاتقیہ" ہی ہیغمبروں کے لیے جائز نہیں نہ کہ تقیہ کی دوسری اقسام بھی۔ اگرچہ اس سلسے میں بہت سخن ہائے گفتنی ہیں لیکن امام جعفر صادق علیہ اسلام کے ایک جامع فرمان کے ساتھ اس بحث کو ختم کرتے ہیں ۔ امام علیہ السلام فرماتے ہیں: "التقية دیني ودین ابائی ، ولادین لمن لا تقية له والية ترس الله في الارض، لان مؤمن آل فرعون لو اظهرالاسلام لقتل"۔ "تقیہ میرا اور میرے آباؤ اجداد کا دین ہے۔ جو شخص تقیہ نہیں کرتا اس کا دین نہیں ہے ، تقیہ خدا کی مضبوط ڈھال ہے کیونکہ اگر مومن آل فرعون اپنے ایمان کوظاہر کرتے تو یقینًا قتل ہوجاتے (خطرہ کی صورت میں دین موسٰی کی حفاظت کے سلسلے میں پیغام حق کا فریضہ انجام نہ پاسکتا)۔ ؎1 تقیہ کے بارے میں ہم تفصیلی بحث جلد 11 میں سورہ نحل کی آیت نمبر 106 کے ذیل میں کرچکے ہیں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:39
3- ایک سوال کا جواب
3- ایک سوال کا جواب
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:39
5- تبلیغی امور کامیابی کی شرط
5- تبلیغی امور کامیابی کی شرط : اوپر والی آیت اس امر کی واضح دلیل ہے کہ تبلیغی مسائل میں ترقی کے لیے بنیادی شرط قاطعیت ، خلوص اور خدا کے علاوہ کسی سے نہ ڈرنا ہے۔ جولوگ خدائی امور کے مقابلہ میں ہر کہ دمہ کی خواہشات اور مختلف گروہوں کے بے بنیادر حجانات کو پیش نظر رکھتے ہیں اور اپنی ناشائستہ۔ ناویلوں کے ذریعے حق و عدالت کو نظر انداز کر دیتے ہیں ، وہ کبھی بنیادی نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے ۔ کوئی نعمت ہدایت کی نعمت سے بڑھ کر نہیں ہے اور کوئی خدمت کی نعمت کوکسی انسان کو دینے سے افضل نہیں ہے ، اسی بناء پر اس کا اجر وثواب سب سے برتر ہے ـــــــــــــ ہم ایک حدیث میں امیرالمومنین سے پڑھتے ہیں آپ نے فرمایا کہ : "جس وقت رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا۔ جب تک کسی کوحق کی دعوت نہ دے دیں ، اس وقت تک جنگ نہ کرنا"۔ "وایم الله لئن يهدی الله على يديك رجلًا خبر مما طلعت الشمس وغربت"۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ----- ؎1 تفسیر مجمع البیان جلد 8 ص 521 سورہ مؤمن کی آیت 28 کے ذیل میں۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ----- "یعنی خدا کی قسم اگر تمھارے ہاتھوں ایک شخص کو ہدایت مل جائے تو یہ تمھارے لیے ان تمام چیزوں سے بدرجہابہتر ہے جن پر سورج طلوع وغروب کرتا ہے". ؎1 اس لیے ضروری ہے کہ سچے مبلغین لوگوں سے بے نیاز اور اعلٰی سے اعلٰی عہدے دار سے بے خوف ہوکر اپنا فریضہ تبلیغ انجام دیں ۔ کیونکہ "نیاز" اور "خوف" ہی ان کے افکار وارادہ پر ہرحالت میں اثر انداز ہوں گے۔ ایک مبلغ زباني"وكفٰى باللہ حسیبا" کے تقاضوں کے پیش نظرصرف یہ سوچتاہے کہ اس کے اعمال کا حساب لینے والا صرف خدا ہے۔ اور یہی عرفان وآگاہی اسے اس نشیب فراز والے راستے میں مدد دیتی ہے۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ---- ؎1 کافی و منقول از بحاالانواز جلد 2 ص 361
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:39
2- "خشیت" کا معنٰی
2- "خشیت" کا معنٰی: اس کا معنی ایساخوف ہے جب تعظیم کے اور احترام کے ساتھ ہوا۔ اس بنا پر اس کا خوف کا معنی الگ ہوگا جس میں یہ خصوصیت ، پانی جاتی ہو اور جی کبھی کبھار یہ لفظ مطلق خوف کے معنی میں بھی آتا ہے۔ محقق طوسی کی بعض تالیفات میں ان دوالفاظ کے فرق کے بارے میں گفتگو ہوئی ہے جو درحقیقت اس کے عرفانی معنی کی غمازہے نہ کہ اس کے لغوی معنی کی۔ وہ کہتے ہیں "خشیت" اور "خوف" اگرچہ لغت میں ایک ہی معنی (یاتقریبًا ایک معنی) میں ہیں۔ لیکن صاحب دل کے افراد کے ان دونوں کے درمیان فرق ہے اور وہ یہ کہ "خوف" اس مجازات اور سزاسے باطنی خلش اور پریشانی کے معنی میں ہے کہ انسان گناہ کے ارتکاب یا اطاعت میں کوتاہی کی وجہ سے جس کی توقع رکھتا ہے اور یہ کیفیت اکثرلوگوں کی ہوجاتی ہے۔ اگر اس کے مراتب بہت مختلف ہیں اوراس کا اعلٰی مرتبہ بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔ لیکن "خشیت" ایک ایسی کیفیت ہے جو خدا کی عظمت اور اس کی ہیبت کے ادراک اور اس کے فیض کے انوار سے دور اور محروم رہنے کے خوف سے کسی انسان پر طاری ہوجاتی ہے اور یہ ایسی حالت ہے جو سوائے ان لوگوں کے جو ذات پاک کی عظمت اور اس کے مقام کبریائی سے واقف ہیں اور انھوں نے اس کے قرب کی لذت چکھی ہوئی ہو ، کسی اور کو حاصل نہیں ہوتی۔ اسی لیے قرآن نے اس حالت کو عالم آگا بندوں کے ساتھ مخصوص کیا ہے اور کہا ہے : "انا یخشی الله من عباده العلماء" اللہ سے خشیت کرنے والے بس علماء ہی ہیں۔ ؎1
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:39
1- تبلیغ سے مراد
چند اہم نکات 1- "تبلیغ" سے مراد: اس سے مراد ابلاغ اور پہنچاناہے اور جب تبلیغ "رسالت اللہ" سے ربط پیدا کرے تو اس کا مفہوم یہ ہوجاتاہے کہ جو کچھ خدا نے وحی کے ذریعے سے پیغمبروں کو تعلیم دی ہے وہی وہ لوگوں کو تعلیم دیں اور اسے استدلال ، انداز ، بشارت اور وعظ نصیحت کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں جاگزیں کریں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:39
سچے مبلغ کون ہیں؟
تفسیر سچے مبلغ کون ہیں؟ پہلی زیربحث آیت میں اس گفتگو کی مناسبت سے جو گذشتہ آیات میں سے آخری آیت میں پیغمبروں کے بارے میں گزری تھی ، انبیاء کے عمومی فرائض میں سے ایک اہم ترین فرض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ "وہ (گذشتہ انبیاء) ایسے لوگ تھے جو خدائی پیغامات کی تبلیغ کرتے تھے اور اس سے ڈرتے تھے اور خدا کے علاوہ کسی سے خوف نہیں کھاتے تھے"۔ (والذين يبلغون رسالات الله ويخشونه ولا يخشون احدا الا الله). آپؐ کو بھی پروردگار کے پیغاموں کی تبلیغ کے سلسلے میں کسی سے ذرہ بھر بھی نہیں گھبرانا چاہیئے ، خدا آپؐ کو حکم دیتا ہے ، کہ ایک جاہلانہ رسم کو منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کرلیں توڑیں اور یہ مطلقہ بیوی زینب کے ساتھ شادی کرلیں اور اس فرض کی ادائیگی میں کسی قسم کی پریشانی اور گھبراہٹ کا اظہار نہ کریں ۔ کیونکہ نہ گھبرانا پیغمبروں کی سنت ہے۔ اصولی طور پر پیغمبروں کا کام بہت سے مراحل میں اس قسم کی رسومات کو توڑنا ہے۔ اگر وہ تھوڑے سے بھی خوف اور وحشت کا مظاہرہ کریں گے تو یقینًا اپنے فرائض کی بجاآوری میں ہرگز کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ انھیں فیصلہ کن انداز میں آگے بڑھنا چاہیئے اور بد زبان لوگوں کی نازیبا باتوں کو برداشت کرنا چاہیئے ، لوگوں کی افواہوں اور شوروغوغا کرنے والے کمینہ فطرت اور مفسد لوگوں کی شازشوں کی پرواہ کیے بغیر اپنے منصوبوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا چاہیئے، سب حساب و کتاب خدا کے پاس ہے ۔ اسی لیے آیت کے آخرمیں فرمایا گیا ہے۔ "یہی کافی ہے کہ خدا خود بندوں کے اعمال کا محافظ ، محاسب اور ان کی جزا دینے والا ہے"۔ (وكفی بالله حسيبًا)۔ اس راہ میں انبیاء کے ایثار و قربانی کے حساب کی بھی حفاظت کرتا ہے، اس کا اجر بھی دیتا ہے اور دشمن کی نازیبا گفتگو اور وہ سرائی کا محاسبہ کرکے انھیں کیفر کردار تک پہنچاتا ہے۔ حقیقت میں "كفى بالله حسيبًا" کیا جملہ اس امر کی دلیل ہے کہ خدائی رہبروں کو اپنے دین کی تبلیغ میں پریشانی اورخوف میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ان کی زحمتوں ، تکلیفوں اورمشقتوں کا حساب کرنے اور جزاء دینے، والا خود خدا ہے ۔