يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدۡنَ ٱلۡحَيَوٰةَ ٱلدُّنۡيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيۡنَ أُمَتِّعۡكُنَّ وَأُسَرِّحۡكُنَّ سَرَاحٗا جَمِيلٗا
O Prophet! Say to your wives, ‘If you desire the life of the world and its glitter, come, I will provide for you and release you in a graceful manner.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:28
[Pooya/Ali Commentary 33:28] The only youthful marriage of the Holy Prophet was his first marriage to Khadija, mother of Fatimah, the noblest of women and the best of wives. He married her fifteen years before he made known his prophetship; their marriage life lasted for twenty five years, and their love and harmony was ideal. During her life he had no other wife. When she died the Holy Prophet observed "the year of grief". He would probably never have married again, as he was most abstemious in his physical life, but for two considerations which governed his later marriages-(i) compassion and clemency; (ii) help in his duties of prophetship. Some of his wives were gentle and faithful; some were envious and avaricious, whom the Holy Prophet, as commanded by Allah in this verse, offered to set free in a goodly manner. After hearing the Holy Prophet's declaration Ummi Salima stood up and said: "I have chosen Allah and His Prophet". Then verse 29 was revealed. It refers to those wives who did not covet for worldly gains but rejoiced in the honour they had as the wives of the Holy Prophet. For such wives there is a great reward from Allah in the hereafter. Most of the commentators say that this verse was revealed because of the persistent demand of his wives for a high standard of living which was beyond the means of the Holy Prophet. According to Irshadus Sari Sharh Sahih Bukhari, volume 7; page 314, the following wives of the Holy Prophet were divided in two groups, one of which including Hafsa, Sawda, Safiya, was dominated by A-isha. (l) A-isha daughter of Abu Bakr.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 33:28-34
Later part of Couplet 33 refers exclusively to Divine Lights of the Prophet’s family and is misplaced here. Most renowned Sunni Commentators also agree to this claim.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:28-31
شان نزول
شان نزول مفسرین نے ان آیات کی کئی ایک شان نزول ذکر کی ہیں کہ جونتیجہ کے لحاظ سے آپس میں قطعًا مختلف نہیں ہیں۔ ان کے معلوم ہوتا ہے کہ چند جنگوں کے بعد بڑی مقدارمیں غنیمتیں مسلمانوں کے ہاتھ لگ گئیں توازواج پیغمبر نےآپؐ سے نفقہ میں اضافہ اور زندگی کے گوناگوں لوازم کے لیے مختلف تقاضے شروع کر دیئے۔ بعض تفاسیر کے مطابق حضرت أم سلمہ نے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے خدمت گزاری کے لیے کنیز کا تقاضا کیا ، میمونہ نے کوئی خاص لباس مانگا ، زنیب ښت حجش نے ایک خاص یمنی کپڑے کی فرمائش کی ، حفصہ نے مصری جامہ طلب کیا ، جویریہ نے ایک عمدہ لباس چاہا، سودہ نے خیبری گلیم کی درخواست کی۔ خلاصہ یہ کہ ہر اکی نے الگ الگ فرمائش کی۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ اس قسم کی فرمائشوں کے سامنے جھک جانا جو عام طور پر ختم ہونے والی نہیں ہوتیں "ہیئت نبوت" کو کیسے انجام سے دوچار کردیں گی لہذا اپنے ان خواہشات کو پورا کرنے سے انکارکردیا اور پورا مہینہ ان سے کنارہ کشی اختیار کیے رکھی ۔ یہاں تک کہ مذکورہ بالا آیات نازل ہوئیں اور دوٹوک لیکن رحمت رأفت کے لہجہ کے ساتھ انھیں خبردار کیا کہ اگر زیب و زنیت سے آراستہ ، دنیاوی زندگی چاہتی ہو تو تم پیغمبر سے الگ ہوسکتی ہو اور جہاں جانا چاہو جاسکتی ہو اور اگر خدا ، رسول اور روز جزاء سے وابستہ رہنا چاہتی ہو تو پیغمبر کے گھر کی سادہ پر افتخار زندگی پر قانع ہوجاؤ اور پروردگار کے عظیم اجر وثواب سے حصہ لیتی رہو۔ اس طرح سے ازواج پیغمبر صلی الله علیہ و آلہ وسلم نے توقع کا جو دامن اپھیلایا ہوا تھا ، اس کے ضمن میں محکم اور دو ٹوک جواب دے دیا۔ اور انھیں پیغمبر کے گھر میں ٹھہرے رہنے اور الگ ہوجانے کے درمیان اختیار بھی عنایت فرمادیا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:28-31
سوره احزاب / آیه 28 -31
(28) يَآ اَيُّـهَا النَّبِىُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الـدُّنْيَا وَزِيْنَتَـهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَاُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَـمِيْلًا (29) وَاِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ وَالدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّـٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِيْمًا (30) يَا نِسَآءَ النَّبِيِّ مَنْ يَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُّضَاعَفْ لَـهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ ۚ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّـٰهِ يَسِيْـرًا (31) وَمَنْ يَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّـٰهِ وَرَسُوْلِـهٖ وَتَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَآ اَجْرَهَا مَرَّتَيْنِۙ وَاَعْتَدْنَا لَـهَا رِزْقًا كَرِيْمًا ترجمہ (28) اے پیغمبر ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے ، اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمھیں کچھ ہدیہ د ے کر اچھے طریقے سے رخصت کردوں ۔ (29) اور اگر تم خدا ، اس کے پیغمبر اور دار آخرت کی طالب ہو تو خدا نے تم میں سے نیکو کاروں کے لیے عظیم اجر مہیاکر رکھا ہے۔ (30) ا ے نبی کی بیویو ! جو کوئی تم سے صریح گناہ اور برے کام کی مرتکب ہوگی، اس کا عذاب دگنا ہوگا اور یہ خدا کے لیے آسان ہے۔ (31) اور تم میں سے جو کوئی خدا اور اس کے رسول کے لیے خضوع و خشوع اختیار کرے گی اور عمل صالح بجا لائے گی ، ہم ا س کے اجرو اجزاء کو دگنا کریں گے اور اس کے لیے ہم نے با عظمت روزی فراہم کر رکھی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:28-31
گناہ اور ثواب دوگنا کیوں؟
گناہ اور ثواب دوگنا کیوں؟ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ اوپر والی آیات اگرچہ پیغمبر کی ازواج کے بارے میں کہتی ہیں کہ اگر وہ خدا کی اطاعت کریں ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مفردات راغب ، مادہ قنوت۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- تو ان کا اجر کئی گنا ہے اور اگر کسی آشکارا گناہ کا ارتکاب کریں تو ان کی سزاکئی گناہ ملے گی ۔ لیکن چونکہ اصل معیار تو مقام و مرتبہ اور اجتماعی حیثیت کا حامل ہوتا ہے لہذا یہ حکم ان افراد کے بارے میں بھی صادق آتا ہے جو معاشرے میں اچھی حیثیت اور مقام کے حامل ہوتے ہیں۔ اس قسم کے افراد کا تعلق صرف اپنی ذات سے نہیں ہوتا بلکہ ان کا وجود دو جہات کا حامل ہوتا ہے۔ ایک جہت تو خود انھیں کے ساتھ مخصوص ہوتی ہے اور دوسری جہت معاشرے سے تعلق رکھتی ہے۔ لہذا ان کی زندگی کا طرز عمل ہوسکتا ہے کہ کسی گروہ کو ہدایت یا کسی کو گمراہ کر دے ۔ اسی بناء پر ان کے اعمال دوہرا اثر رکھتے ہیں یعنی ایک تو انفرادی اثر اور دوسرا اجتماعی۔ اسی لیے ان میں سے ہرعمل جدگانہ اجر یا سزا کا حامل ہوتا ہے۔ ایک حدیث میں امام جعفرصادق علیہ ا لسلام فرماتے ہیں: ۔ " يغفر للجاهل سبعون ذنبًا قبل ان یغفرللعالم ذنب واحدً ”جاہل کے ستر گناه بخشے جائیں گے اس سے پہلے کہ عالم کا ایک گناہ بخشا جائے"۔ ؎1 اس سے قطع نظر ہمیشہ علمی سطح اور سنرا و جزاء کے درمیان قریبی رابطہ رہا ہے جیسا کہ بعض احادیث میں آیا ہے: "ان الشواب على قدرالعقل" "اجر انسان کی عقل و آگاہی سے ملتا ہے" ؎2 ایک اور حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں : "انمايداق الله العباد في الحساب يوم القيامة على قدر ما أتاهم من العقول في الدنيا" "خداوند عالم قیامت کے دن بندوں کا حساب دنیا میں انہیں دی گئی عقل کے مطابق لے گا"۔ ؎3 یہاں تک کہ ایک روایت میں امام جعفرصادق علیہ اسلام سے منقول ہے : "عالم کی توبہ بعض مراحل میں قبول نہیں ہوگی (پھر اس آیہ شریفہ سے آپ نے ا ستنا و فرمایا)۔ "انما التوبة على الله للذين يعملون السوء بجهالة" (توبہ تو صرف ان لوگوں کے لیے ہے جو جہات سے اور نادانی سے برا کام انجام دیتے ہیں). (نساء ۔۔۔۔۔ 17) ۔ ؎4 یہاں پرواضح ہوجاتا ہے کہ ممکن ہے "مضاعف" یا "مرتين" کا مفہوم بیان ثواب و عقاب کی ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اصول کافى جلد اول ص 37 (باب لزوم الحجۃ على العالم) ۔ ؎2 اصول کافى جلد اول ص 9 کتاب العقل والجہل ۔ ؎3 اصول کافى جلد اول ص 9 کتاب العقل والجہل۔ ؎4 اصول کافى جلد اول ص 37 (باب لزوم الحجۃ على العالم)۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- افزائش ہے۔ کبھی دوگنا اور کبھی اس سے زیادہ ، بالکل ان اعداد کی طرح جن میں "کثرت" کا مفہوم ہوتا ہے خصوصًا راغب اپنی كتاب مفردات میں "ضعف" کے معنی کے بارے میں کہتے ہیں: "صناعفته ضممت اليہ مثله فصاعدًا " "میں نے اسے مضاعف کیا یعنی اس کی مانند یا بیشتر اورکئی گنا کا اس میں اضافہ کیا"۔ مذکورہ روایت جس میں ہم نے عالم و جاہل کے گناہ کے فرق کے بارے میں ستر تک کے برابر کا ذکر کیا ہے، اس مدعا پر ایک اور گواہ ہوا ہے۔ اصولی طور افراد کی اجتماعی حیثیت اور ان کا معاشرتی مرتبہ نیز معاشرے میں ان کا اسوہ اور نمونہ ان کی سزا و جزا میں کمی بیشی کا سبب بن جاتاہے۔ اس بحث کو ہم امام سجاد علیؑ بن الحسین علیہ السلام کی ایک حدیث پر ختم کرتے ہیں۔ کسی نے امام سے عرض کیا : "انكم اهل بیت مغفورلكم"۔ آپ کا وہ خاندان ہے جسے خدا نے بخش دیا ہے"۔ امام غصے میں آکر فرمانے لگے : "نحن احری ان یجری فینا ما اجری الله في أزواج النبی( ؐ ) من ان نكون كما تقول : أنانری لمحسننا ضعفين من الأجر ولمسيئنا ضعفين من العذاب، ثم قرءالا يتين" خداوند عالم نے جو حکم ازواج پیغمبر کے بارے میں جاری کیا ہے ، ہم اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ ہمارے بارے میں بھی جارہی ہو، نہ اس طرح جیسے تو کہتا ہے۔ ہم اپنےنیکوکاروں کےلیے دوہرےاجرکے اور بدکاروں کے کیلئے دوگنا عذاب اور سزا کے قائل ہیں ۔ پھر آپ نے شاہد کے طور پر زیر بحث دو آیات کی تلاوت فرمائی ۔ ؎1 ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- - ؎1 مجمع البیان جلد 8 ص 354 زیربحث آیت کے ذیل میں ۔0
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:28-31
سعادت ابدی با دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ
تفسیر سعادت ابدی با دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ : آپ بھولے نہیں ہوں گے کہ اس سورہ کی شروع کی آیات میں خدا وند عالم نے عزت و افتخار کا تاج پیغمبر کی بیویوں کے سر پر رکھا ہے اور ان کا "ام المومنین" کے عنوان سے تعارف کروایا ہے۔ واضح رہے کہ ہمیشہ حساس اور افتخار آفريں مراتب کے ساتھ بھاری ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں ۔ ازواج رسولؐ کیونکر امہات المومنین ہوسکتی ہیں جب کہ ان کی قلب و نظر دنیا کی زیب و زنیت پرفرایفتہ ہوں اور جب وہ یہ خیال کریں کہ اگر مسلمانوں کو مال غنیمت حاصل ہو تو باد شاہوں کی بیویوں کی طرح اس کا بہترین حصہ انہیں مل جائے اور شہدا کی جاں نثاری اور مقدس خون کے صدقہ میں جو چیز ہاتھ آئی ہے اور ان کے حوالہ کی جائے ۔ جبکہ کئی لوگ فقر وفاقہ کی زندگی بسر کر رہے ہوں؟ اس سے قطع نظر گذشتہ آیات کے مطابقق نہ صرف پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کے لیے اسوه و نمونہ ہیں بلکہ ان کے گھر والوں کو بھی دوسرے خاندانون کے لیے اسوہ اور ان کی بیویوں کو دامن قیامت تک کی باایمان عورتوں کے لیے مقتداء ہونا چا ہیئے ۔ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کوئی بادشاہ نہیں ہیں کہ ان کا شان و شوکت والا حرم سرا ہو اوران کی بیویاں قیمتی جواهرات اور زیب و زینت کی دوسری چیزوں سے لدی پھندی ہوں۔ شاید ابھی تک مکہ کے کچھ مسلمان جو مہاجر ہوکر مکہ سے مدینہ آئے تھے صفہ (وہ مخصوص تھڑا کہ مسجد نبوی کے ساتھ تھا) میں راتیں بسرکرتے تھے۔ اس شہر میں ان کا کوئی خانہ و کاشانہ نہیں تھا۔ ان حالات میں پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہٖ وسلم ہرگزاجازت نہیں دے سکتے تھے کہ آپؐ کی بیویاں آپؐ سے اس قسم کی تو قعات رکھیں۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض بیویوں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سخت کلامی کی حد کردی اور یہاں تک کہہ دیا: "لعلك تظن ان طلقتنا لانجد زوجًا من قومناغيرك " "شایدآپ یہ گمان کرتے ہیں کہ آپ ہمیں طلاق دے دیں تو ہمیں اپنی قوم قبیلے میں کوئی شوہرنہیں ملے گا"۔ ؎1 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 کنزالعرفاب جلد 2 ص 238۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اس موقع پر نبی کریم صلی الله علیہ وآلہ وسلم خدا کے حکم سے مامور ہوئے کہ وہ اس نظریہ کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اوران کے سامنے ہمیشہ کے لیے پوزیشن واضح کردیں۔ بہرحال زیر بحث آیات میں سے پہلی پیغبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہے: "اے پیغمبر! اپنی بیویوں سے کہ دیجیئے کہ اگر تم دنیاوی زندگی اور اس کی زینت کی طلب گار ہو تو میں کسی لڑائی جگڑے بغیر کے کچھ ہدیہ دے کر تمہیں اچھے طریقے سے جدا کیے دیتا ہوں"۔ یاایهالنبي قل لازواجک ان کنتن تردن الحياة الدنيا وزينها فتعالين امتعكن واسرجكن سراحًا جميلًا)۔ "امتعكن" "متعہ" کے مادہ سے ہے اور جیسا کہ ہم سورة بقرہ کی آیت 232 میں کہہ چکے ہیں کہ اس سے مراد ہدیہ ہے جو عورت کے شایان شان ہوتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ مقرر شده مہر پر مناسب ہدیہ دے دیں ، اس قدر کہ وہ راضی اور خوش ہوجائیں اور ان کی علحیدگی دوستانہ ماحول میں ہو۔ "سراح" اصل میں "سرح" (بروزن "شرح") ایسی نبات کے معنی میں ہے جس کے پھل اور پتے ہوں ، اور "سرحت الابل" کا معنی ہے " میں نے اونٹ کو چھوڑ دیا تاکہ وہ نباتات کے پتوں کو چرتاپھرے ، بعد ازاں اک لفظ کا زیادہ اور وسیع معنی ہوگیا ، یعنی ہر چیز اور ہرشخص کو ہر قسم کی رہائی دینا اور چھوڑ دینا ۔ کبھی یہ لفظ طلاق دینے کیلئے کنایہ کے طور بھی آتا ہے۔ "تسريح الشعر" بالوں کو کنگی کرنے کے لیے بولا جاتا ہے کیونکہ اس میں بھی رہا کرنے اور چھوڑنے کے معنی پوشیدہ ہیں۔ بہرحال زیر بحث آیت میں "سراح جمیل" سے مراد عورتوں کو اس انداز سے طلاق دینا ہے جس میں نیکی اور بھلائی ہو اورکسی قسم کا لڑائی جھگڑانہ ہو۔ اس ضمن میں اسلامی فقہا اور مفسرین نے تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے کہ آیت میں اس سے مراد کیا ہے کہ پیغمبر اسلامؐ نے اپنی ازواج کو باقی رہنے اور جدا ہوجانے کے بارے میں جو اختیار دیا تھا ، اگر وہ جدائی اختیار کرلیتیں تو کیاخود یہی امر طلاق شمار ہوتا اور صیغہ طلاق کے اجراء کی ضرورت نہ ہوتی ؟ یامرادیہ تھی کہ وہ ان دو راستوں میں سے کسی ایک کو انتخاب کرلیں۔ اگر جدائی کو انتخاب کریں تو پیغمبر اکرم صلی اله علیہ وآلہٖ وسلم صیغه طلاق جاری کرتے ورنہ طلاق نہ ہوتی۔ اگر دیکھا جائے تو آیت ان دونوں امور میں سے کسی پر بھی دلالت نہیں کرتی اور بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ یہ آیت ازواج پیغمبر کو گھر میں رہنے یا گھر چھوڑ کر چلے جانے کے بارے میں اختیار دے رہی ہے ۔ اور یہ حکم پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے خاص ہے کیونکہ باقی لوگوں پر یہ حکم لاگو نہیں ہوتا۔ لیکن ان کا یہ نظریہ نہیں ہے۔ کیونکہ اس آیت اور آیات طلاق کو جب باہم ملایا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان کی جدائی طلاق کے ذریعہ ہوگی۔ بہرحال یہ مسئلہ شیعہ اور اہل سنت فقہاء کے درمیان اختلافی ہے اگرچہ دوسرا قول یعنی طلاق کے ذریعے جدا ہونا آیات کے ظاہری مفہوم کے زیادہ قریب نظر آتا ہے۔ علاوہ ازیں (اسرحکن" (میں تمھیں آزاد کردوں) کی تعبیر ظاہر کرتی ہے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انھیں جداکرنے پر اقدام فرماتے ، خصوصًا جب کہا وہ "تسریح" قران مجید میں ایک اور جگہ بھی طلاق کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ (بقرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔ 229 ) ۔ ؎1 بعد والی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے۔" لیکن اگر تم خدا اور اس کے پیغمبر کو چاہتی ہو اور آخرت کے گھر کو ، نیز مادی لحاظ سے سادہ زندگی (جس میں محرومیتیں بھی ہیں) پرقانع ہو تو خدا نے تم میں سے نیک خواتین کے لیے عظیم جزاء اوراجر تیار کررکھاہے" (وان كنتن تردن الله ورسوله والدار الاخرة فان الله اعد و للمحسنات منكن اجرًا عظيمًا)۔ درحقیقت ان چند جملوں میں ایمان کی تمام بنیادیں اور مومن کا لائحہ عمل بیان کیا گیا ہے ۔ ایک طرف تو خدا پیغمبر اور روز قیامت پرایمان و اعتقاد کا ذکرہے اور دوسری اور عملی طور پر نیکو کارواں اور محسنین ومحسنات کی صف میں قرار پانا تواس بنا پر صرف خدا ، آخرت کے گھر اور پیغمبر کے ساتھ عشق اور لگاؤ کا اظہار کافی نہیں ہے ، عملی زندگی بھی اس کے ساتھ ہم آہنگ ہونی چاہیئے۔ اس طرح خدانے ازواج پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذمہ داریوں کو جنہیں صاحب ایمان عورتوں کے لیے اسوہ اور نمونہ ہونا چاہیئے، ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا ہے ۔ یعنی زہد و پارسائی کا حامل ہونا اور دنیاوی ٹھاٹھ باٹھ سے بے اعتنائی اورایمان ، عمل صالح اور روحانیت کی طرف خاص توجہ ، اگر وہ ان صفات کی حامل ہیں تو پھر رہ جائیں اور رسول خدا کی زوجیت کے عظیم اعزاز کی حامل رہیں۔ ورنہ اپنی راہ لیں اور ان سے الگ ہوجائیں۔ اگرچہ اس گفتگو میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مخاطب ہیں ، لیکن اپنے مضمون اور نتیجہ کے لحاظ سے سب پر محیط ہے ، خصوصًا وہ لوگ جو مخلوق کی رہبری اور لوگوں کی پیشوائی کے مقام بلند پر فائز ہیں۔ ا یسے افراد ہمیشہ دوراہے پر ہوتے ہیں کہ یا تو خوشحال زندگی تک پہنچنے کے لیے اپنی ظاہری حیثیت سے فائدہ اٹھائیں یا خدا کی رضا کے حصول اورمخلوق کی ہدایت کے لیے اپنے آپ کو ہر قسم کی محرومیوں کے لیے پیش کر دیں۔ پھربعد والی آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج کی سنگین ذمہ داریوں کو قرآن واضح عبارت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے۔ "اے نبی کی جو بیویو! تم میں سے جو بھی آشکارا گناہ اور فحش وغلط کام انجام دے گی، و اس کا عذاب دُگنا ہوگا اور یہ خدا کے لیے آسان ہے:۔ (یانساء النبي من يأت منكن بفاحشة مبينة يضا عفلها العذاب ضعفين وكان ذالك على الله یسيرًا)۔ تم وحی کے گھر اور مرکز نبوت میں زندگی بسر کر رہی ہو، اسلامی مسائل کے سلسلہ میں تمھاری معلومات پیغمبرخدا سے ہمیشہ نزدیک رہنے کی بناء پر عام لوگوں سے زیادہ ہیں، علاوہ ازیں تمہاری طرف دوسری عورتوں کی توجہ ہوتی ہے اور ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لیے فقہی کتب خصوصًا جواہرالکلام جلد 29 ص 123 کی طرف رجوع فرمائیں۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- تم ان کے نزدیک نمونہ عمل ہوتی ہو۔ اس بناء پر خدا کی بارگاہ میں تمھارا گناہ بھی دوسروں کی نسبت زیادہ ہوگا کیونکہ ثواب اور عذاب معرفت اور معلومات کے مطایق ملتے ہیں ، اسی طرح ماحول پراس کا اثر ہوتا ہے۔ تمھیں آگاہی بھی زیادہ ہے اور معاشرے پر اثر انداز ہونے کے لحاظ سے بھی تھاری حیثیت بہت حساس ہے۔ ان سب چیزوں سے قطع نظر تمھارے غلط اعمال ایک تو پیغمبرکو آزروه خاطر کریں گے اور دوسری طرف آنحضرت کی حیثیت کو مجروح کریں گے اور یہ بجائے خود ایک گناہ ہے جو دوسرے عذاب کا مستوجب ہوتا ہے۔ "فاحشة مبينة" سے مراد کھلے قسم کے گناہ ہیں اور واضح ہے کہ ان گناہوں کے مفاسد جو اہم شخصیت سے سرزد ہوتے ہیں، اس وقت زیادہ ہوتے ہیں جب وہ آشکارا اور ظاہربظاہرہوں۔ " ضعف ومضاعف" کے بارے میں نکات کی بحث میں گفتگو ہوگی۔ باقی رہا یہ فرمان کہ "یہ کام خدا پر آسان ہے" اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کبھی بھی یہ گمان نہ کرنا کہ تمھیں سزادینا خدا کے لیے کوئی مشکل کام ہے اور پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآ لہٖ وسلم سے تمھارا رابطہ اس سے مانع ہوگا، جس طرح دنیا کا دستور ہے کہ وہ اپنے دوستوں اور قریب کے رشتہ داروں کے گناہوں سے چشم پوشی کر لیتے ہیں یا انہیں بہت کم اہمیت دیتے ہیں ۔ تو یہاں ہرگز ایسا نہیں ہے بلکہ یہ دوٹوک فیصلہ ہے جو تم بھی نافذ ہے۔ البتہ اس کے برعکس کے بارے میں حکم ہوتا ہے۔" اور جو کوئی تم میں سے خدا اور پیغمبر کے سامنے خضوع اوراطاعت کرےاور عمل صالح بجالائے تو ہم اس کو دوگنا اجردیں گے اور اس کے لیے ہم نے قیمتی رزق فراہم کررکھا ہے: (ومن يقنت منكن لله ورسوله وتعمل صالحانوتها اجرها مرتين و اعتدنا لھارزقًاکریمًا)۔ "يقنت" "قنوت" کے مادہ سے ہے جس میں خضوع و ادب سے ملی ہوئی اطاعت کا معنی پایا جاتاهے۔ ؎1 اور قران یہ لفظ استعمال کرکے انہیں یہ جتانا چاہتا ہے کہ وہ فرمان خدا و رسول کی مطیع بھی ہوں اور شرط ادب بھی مکمل طور پر ملحوظ رکھیں۔ یہاں پھر ہمیں یہ نکتہ بھی ملتا ہے کہ صرف ایمان اور اطاعت کا دعوٰی کرنا کافی نہیں ہے بلکہ "وتعمل صالحًا" اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کے آثارعمل میں بھی ظاہر ہوں۔ "رزق کریم" ایک وسیع معنی رکھتا ہے جو تمام روحانی اور مادی نعمات الٰہی کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے اور اس کا مفہوم "جنت" اس لیے کیا گیا ہے چونکہ بہشت ان تمام نعمات کا مرکز ہے۔