وَأَنزَلَ الَّذِينَ ظَاهَرُوهُم مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ مِن صَيَاصِيهِمْ وَقَذَفَ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِيقًا تَقْتُلُونَ وَتَأْسِرُونَ فَرِيقًا
And He dragged down from their strongholds those who had backed them from among the People of the Book, and He cast terror into their hearts, [so that] you killed a part of them, and took captive [another] part.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:26
[Pooya/Ali Commentary 33:26] The reference is to the Jewish tribe of the Banu Qurayza. As citizens of Madina they were bound by solemn agreement to help in the defence of the city. But on the occasion of the siege by the Quraysh and their allies they intrigued with the enemies and treacherously aided them. The Banu Qurayza were filled with terror and dismay when Madina was free from the Quraysh danger. They shut themselves in their fortress about three or four miles to the east of Madina. Ahul Fida and Tabari in their histories and Hirwi in Habib al Siyar say that soon after his return from the battle of Khandaq, while laying aside his armour, the Holy Prophet was washing his hands and face in the house of his beloved daughter Fatimah whom he used to visit before going to his own quarter on return from an expedition or excursion the angel Jibrail brought a command from Allah to proceed immediately against the Qurayza Jews. The Holy Prophet instantly sent Ali with his standard, and himself following with his army laid siege to the fortress of the Jews. The Holy Prophet himself went near the gate of their fortress and asked them to surrender. They did not. Had they done as suggested by the Holy Prophet they would have enjoyed the fair and lenient terms given to the tribe of Banu Quinuqa It is said that at the command of the Holy Prophet the grove of the trees near the walls of the fortress moved over to a place away from it so as to give shelter to the Muslim army. At last, after twenty five days they offered to surrender, if Sad bin Mu-az, the chief of their allies-the Bani Aws- might be appointed to decide their fate. The Holy Prophet agreed. Sad decreed that the male captives should be put to sword, women and children be sold as slaves and their goods be confiscated and divided among the besiegers. This decision was given by Sad in the light of the verses 13 and 14 of Deuteronomy 20: "You shall put all its males to the sword, but you may take the women, the dependants, and the cattle for yourselves." Please refer to Deuteronomy 20: 10 to 18.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:26-27
2- جنگ بنی قریظہ کے واقعات
2- جنگ بنی قریظہ کے واقعات: ہم بتاچکے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جنگ احزاب ختم ہوتے مامورہو گئے کہ بنی قریظہ کے یہودیوں کا حساب چکادیں لکھا ہے کہ مسلمانوں نے بنی قریظہ کے قلعوں کی طرف اس قدرجلدی کی کہ بعض لوگ اپنی نماز عصر سے بھی غافل ہوگئے اور مجبورًا انھیں بعد میں قضا بجالانی پڑی، پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے قلعوں کا محاصره کاحکم صادر فرمایا۔ پچیسں دن تک محاصرہ جاری رہا۔ قرآن کے فرمان کے مطابق خدا نے شدید رعب اور وحشت دشمنوں کے دلوں میں ڈال دیں۔ کعب بن اسد کا شماریہودیوں کے سرداروں میں ہوتا تھا ۔ اس نے اپنی قوم سے کہا ، مجھے یقین ہے کہ محمدؐ ہمیں اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک ہم جنگ نہ کریں۔ لہذا میری تین تجاویز ہیں ، ان میں سے کسی ایک کو قبول کرلو۔ پہلی تجویز تو یہ ہے کہ اس شخص کے ہاتھ میں باتھ دے کر اس پر ایمان لے آؤ اور اس کی پیروی اختیارکرلو ۔ کیونکہ تم پر ثابت ہوچکاہے کہ وہ خدا کا پیغمبر ہے اور اس کی نشانیاں تمھاری کتابوں میں پائی جاتی ہیں تو اس صورت میں تمھارے مال ، جان اور اولاد اور عورتیں محفوظ ہو جائیں گی۔ وہ کہنے لگے کہ ہم ہرگز حکم تورات سے دست بردار نہیں ہوں گے اور نہ ہی اس کا متبادل اختیار کریں گے۔ اس نے کہا: اگر یہ تجویز قبول نہیں کرتے تو پھراؤ اور اپنے بچوں اور عورتوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرڈالو تاکہ ان کی طرف سے آسوده خاطر ہوکر میدان جنگ میں کود پڑیں اور پھر دیکھیں کہ خدا کیا چاہتا ہے؟ اگر ہم مارے گئے تو اہل وعیال کی جانب سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی اور اگر کامیاب ہو گئے تو پھر عورتیں بھی بہت بچے بھی بہت ۔ وہ کہنے لگے کہ ہم ان بے چاروں کو اپنے ہی ہاتھوں سے قتل کر دیں ؟ ان کے بعد ہمارے لیے زندگی کی قدرو قیمت کیا رہ جائے گی؟ کعب بن اسد نے کہا اگر یہ بھی تم نے قبول نہیں کیا تو آج چانکہ ہفتہ کی رات ہے ، محمدؐ اوراس کے ساتھی یہ خیال کریں گئے کہ ہم آج رات حملہ نہیں کریں گے۔ انھیں اس غفلت میں ڈال کر ان پر حملہ کر دیں شاید کامیابی حاصل ہوجاۓ۔ وہ کہنے لگے یہ کام بھی ہم نہیں کریں گے ۔ کیونکہ وہ کسی بھی صورت میں ہفتہ کا احترام پامال نہیں کریں گے۔ کعب کہنے لگا : پیدائش سے لے کر آج تک تمھارے اندر عقل نہیں آسکی۔ اس کے بعد انھوں نے پیغمبراکرم صلی الله علیہ و آلہ وسلم سے بات کی کہ ابولباہ کو ان کے پاس بھیجا جائے تاکہ وہ ان سے صلاح مشورہ کرلیں۔ جس وقت ابولبابہ ان کے پاس آئے تو یہودیوں کی عورتیں اور بچے ان کے سامنے گریہ و زاری کرنے لگے۔ اس بات کا ان کے دل پر بہت اثر ہوا۔ اس وقت لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں مشورہ دیتے ہیں کہ ہم محمد کے آگے ہتھیار ڈال دیں؛ ابولبابہ نے کہا ہاں اور ساتھ ہی اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا، یعںی تم سب کو قتل کر دیں گے۔ ابو لبابہ کہتے ہیں ، جیسے ہی میں وہاں سے چلا تو مجھے اپنی خیانت کا شدید احساس ہوا ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے پاس نہ گیا ، بلکہ سیدھا مسجد کی طرف چلا اور اپنے آپ کو مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا اور کہا میں اپنی جگہ سے اس وقت تک حرکت نہیں کروں گا جب تک خدا میری توبہ قبول نہ کرلے۔ آخر کار خدا نے اس کا یہ گناہ اس کی صداقت کی بناہ پربخش دیا۔ اور اسی سلسلے میں یہ آیت "وأخرون اعترفوا بذنوبهم ..... نازل ہوئی. (توبہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 102) آخرکار بنی قریظہ کے یہودیوں نے مجبور ہو کر غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیے۔ جناب پیغمبراکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سعد بن معاذ تمہارے بارے میں جو نیک کردیں ، کیا تمھیں قبول ہے؟وہ راضی ہو گئے۔ سعد بن معاذ نے کہا کہ اب وہ موقع آن پہنچا ہے کہ سعدکسی ملامت کرنے والے کی علامت کو نظر میں رکھے ۔ بغیر حکم خدا بیان کرے۔ سعدنے جس وقت یہودیوں سے دوبارہ یہی اقرار لے لیا تو آنکھیں بند کرلیں اور جس طرف پیغمبر کھڑے ہوئے تھے ادھر رخ کرکے عرض کیا ، آپ بھی میر فیصلہ قبول کریں گے ؟ آنحضرت نے فرمایا، ضرور! تو سعد نے کہا، میں کہتا ہوں کہ جو مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے پر آمادہ تھے (ننی قریظہ کے مرد) انھیں قتل کر دینا چاہیئے ، ان کی عورتیں اور بچے قید اور ان کے اموال تقسیم کردیئے جائیں۔ البتہ ان میں سے ایک گروہ اسلام قبول کرنے کے بعد قتل ہونے سے بچ گیا۔ ؎1 ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 سیرت ابن ہشام جلد 3 ص 224 اور کامل ابن اتیرج جلد 2 ص 185(کچھ تخلیص کے ساتھ)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:26-27
3- جنگ بنی قریظہ کے نتائج
3- جنگ بنی قریظہ کے نتائج : ظالم اور ہٹ دھرم گردہ پرفتح وکامرانی مسلمانوں کے لئے نہایت مفید نتائج کی حامل تھی۔ ان میں سے بعض یہ ہیں: الف - مدینہ کا داخلی محاذ ختم ہوگیا اور یہودی جاسوسوں مسلمان آسودہ خاطر ہوگئے۔ ب - مدینہ کے اندر مشرکین عرب کے اڈے منہدم ہوگئے اور اندرونی شورش سے ان کی امیدیں ختم ہوگئیں۔ ج - جنگ سے حاصل ہونے والے مال غنیمت سے مسلمانوں کی مالی بنیادیں مستقم ہوگئیں۔ د - آینده کی کا میاہیوں کے لیے راہ ہموار ہوگئی، خصوصا خیبرکی فتح کے لیے ہ - مدینہ کے اندر اور باہر دوستوں اور دشمنوں کی نگاہ میں حکومت اسلامی کی حیثیت مستحکم ہوگئی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:26-27
4- آیات کی معنی خیز تعبیریں
4- آیات کی معنی خیز تعبیریں: زیر نظر آیات میں مختلف تعبیریں دکهائی دیتی ہیں ۔ ان میں ایکی یہ ہے کہ اس جنگ میں قتل ہونے والوں کے بارے میں قران کہتا ہے "فریقًا تقتلون يعني" فریقًا" کو "تقتلون" پر قدم رکھا گیا ہے ۔ حالانکہ قیدیوں کے بارے میں "فریقًا" کو اس کے فعل یعنی "تأسرون " سے موخر رکھا گیا ہے۔.بعض مفسرین نے اس بارے میں کہا ہے کہ یہ اس بناء پر ہے کہ قتل ہونے والے زیادہ یہودیوں کے سرغنے تھے لیکن قید ہونے والے غیرمعروف افرادتھے ۔ علاوہ ازیں یہ تقدیم وتاخیر سبب ہوئی کے قتل اور قید جو دشمن پر کامیابی کے دو اہم عامل تھے ایک دوسرے کے ساتھ آگئے ہیں اوران کے درمیان تناسب اور تعلق کو مد نظر رکھا گیا ہے ۔ نیز پہلی زیر بحث آیت میں ، یہودیوں کو ان کے قعلوں سے نیچے لانا "قذف في قلوبهم الرعب" (خدانے ان کے دلوں میں رعب و وحشت ڈال دی) سے پہلے ذکر کیا ہے۔ حالا تک فطری ترتیب اس کے برخلاف ہے یعنی پہلے رعب پیدا ہوتا ہے اور پھران محکم قلعوں سے نیچے آنا ہوتاہے ۔ یہ اس بناء پر ہے کہ جو کچھ مسلمانوں کے لیے زیادہ اہم اور مسرورکن تھا اور ان کے اصل مقصد کو تشکیل دیتا تھا، وہ ان کے بہت ہی مستحکم قلعوں کا ٹوٹنا تھا۔ " اورثكم ارضهم و دیارھم " کی تعبیر بھی اس حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ تم بغیر اس کے کہ اس جنگ کے لیے کچھ بھی زحمت برداشت کرتے ، خدا نے ان کی زمینیں ، گھر اور مال و دولت سب کچھ تمھارے اختیار میں دے دیا۔ آخری آیت میں خدا کی لازوال قدرت کا ذکر اور " وكان الله على كل شيءٍ قديرًا " اس طرف اشارہ ہے کہ اس نے ایک دن آندھی اور طوفان اور نظرنہ آنے والے لشکر کے ذریعہ احزاب کوشکست دی اور دوسرے دن رعب و وحشت کے لشکرسے ان کے حامیوں یعنی بنی قریظہ کے یہودیوں کا ستیاناس کردیا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:26-27
سوره احزاب / آیه 26 -27
(26) وَاَنْزَلَ الَّـذِيْنَ ظَاهَرُوْهُـمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتَابِ مِنْ صَيَاصِيْهِـمْ وَقَذَفَ فِىْ قُلُوْبِهِـمُ الرُّعْبَ فَرِيْقًا تَقْتُلُوْنَ وَتَاْسِرُوْنَ فَرِيْقًا (27) وَاَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُـمْ وَدِيَارَهُـمْ وَاَمْوَالَـهُـمْ وَاَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا ۚ وَكَانَ اللّـٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْـرًا ترجمہ (26) خدا نے اہل کتاب میں سے جن کی (مشرکین عرب کی طرف سے) حمایت کی گئی، انہیں ان کے محکم قلعوں سے نیچے کھینچا اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا (اور ان کا معاملہ یہاں تک پہنچا کہ) ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قیدی بنارہے ہو۔ (27) اور ان کی زمینوں ، ان کے گھروں اور ان کے مالوں کو تمھارے اختیار میں د ے دیا۔ اور (اسی طرح) اس زمین کو بھی جس میں تم نے کبھی قدم بھی نہیں رکھا تھا اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:26-27
ایک اور عظیم کامیابی
تفسیر ایک اور عظیم کامیابی : مدینہ میں یہودیوں کے تین مشهور قبائل رہتے تھے ، بی قریظہ ، بنی النضیر اور میں قینقاع - تینوں گروہوں نے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ پہلے سے معاہدہ کر رکھا تھا کہ آپؐ کے دشمنوں کا ساتھ نہیں دیں گے ، ان کے لیے جاسوسی نہیں کریں گے اورمسلمانوں کے ساتھ مل جل کر امن و آشتی کی زندگی گزاریں گے لیکن قبیلہ بنی قینقاع نے ہجرت کے دوسرے سال اور قبیلہ بنی نضیر نے ہجرت کے چوتھے سال مختلف حیلول بہانوں سے اپنا معاہدہ توڑ ڈالا اور پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مقابلہ کے کیلئے تیار ہو گئے۔ آخر کار ان کی مزاحمت اور مقابلہ کی سکت ختم ہوگئی اور وہ مدینہ سے باہر نکال دیئے گئے۔ بنی قینقاع اذرعات شام کی طرف چلے گئے اور بنی نضیر کے کچھ لوگ تو خیبر کی طرف اور کچھ شام کی طرف چلے گئے ۔ ؎1 اسی بناء پر ہجرت کے پانچویں سال جبکہ جنگی احزاب پیش آئی تو صرف قبیلہ بنی قریظہ مدینہ میں باقی رہ گیا تھا۔ اور جیسا کہ جنگ احزاب کی سترہ آیات کی تفسیر میں ہم نے کہا ہے ، وہ بھی اس میدان میں اپنے معاہدہ کو توڑ کر مشرکین عرب کے ساتھ مل گئے اور مسلمانوں کے مقابلے میں تلواریں سونت لیں۔ جب جنگ احزاب ختم ہوگئی اور قریش ، بنی غطفان اور دیگر قبائل عرب بھی رسوا کن شکست کے بعد مدینہ سے پلٹ گئے تو اسلامی روایات کے مطابق پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر لوٹ آئے اور جنگی لباس اتار کر نہانے دھونے میں مشغول ہوگئے تو اس موقع پر جبرائیل حکم خدا سے آپ پر نازل ہوئے اور کہا ، کیوں آپ نے ہتھیار اتار دیئے ہیں جبکہ فرشتے ابھی تک آماده پیکار ہیں۔ آپؐ فورًا بنی قریظہ کی طرف جائیں اور ان کا کام تمام کریں. واقعًا بنی قریظہ کا حساب چکانے کے لیے اس سے بہتر کوئی اور موقع نہیں تھا۔ مسلمان اپنی کامیابی پر خوش وخرم تھے ، بنی قریظہ شکست کی شدید وحشت میں گرفتار تھے اور قبائل عرب میں سے ان کے دوست اور حلیف تھکے ماندے اور بہت ہی پست حوصلوں کے ساتھ شکست خوردہ حالت میں اپنے اپنے شہروں اور علا قوں میں جاچکے تھے اور کوئی نہیں تھا جو ان کی حمایت کرے۔ بہرحال منادی نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و لہٖ وسلم کی طرف سے ندادی کہ نماز عصر پڑھنے سے پہلے بنی قریظہ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 کامل ابن کثیر جلد 2 ص 173 - 137 ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کی طرف چل پڑو۔ مسلمان بڑی تیزی کے ساتھ جنگ کے لیے تیار ہوگئے اورغروب آفتاب کے ساتھ ہی بنی قریظہ کے محکم و مضبوط قلعوں کومسلمانوں نے اپنے محاصرے میں لے لیا۔ پچیسں دن تک محاصرہ جاری رہا ۔ اس کے بعد جیسا کہ نکات کی بحث میں آئے گا ، ان سب نے ہتھیار ڈال دیئے اور اپنے آپ کو مسلمانوں کے سپرد کر دیا۔ ان میں سے کچھ کو قتل کردیاگیا اورمسلمانوں کی کامیابیوں میں ایک اور فتح کا اضافہ ہوا اور سرزمین مدینہ ہمیشہ کے لیے ان منافق اقوام اور زبردست ہٹ دھرم اعداءکے ناپاک جود سے پاک ہوگئی۔ زیر بحث آیات اس ماجرا کی طرف مختصر اور بلیغ اشارہ کرتی ہیں۔ جیساکہ ہم کہہ چکے ہیں کہ یہ آیات کامیابی کے حصول کے بعد نازل ہوئیں اور اس ماجرے کاتذکر ہ خدا کی عظیم نعمت اور عنایت کے طور پر ہوا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے۔ "خدا نے اہل کتاب میں سے ایک گروہ کو جنہوں نے مشرکین عرب کی حمایت کی تھی ، ان کے محکم ومظبوط قلعوں سے نیچے کھینچا"۔ (وانزل الذين ظاهروهم من أهل الكتاب من صياصيهم)۔ "صياصي" جمع ہے "صيصیہ" کی جو مضبوط قلعوں کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں اس لفظ کا دفاع کے ہر ذریعے پراطلاق ہونے لگا ، جیسے بیل کے سینگ یا مرغے کی ٹانگ والا کانٹا۔ یہاں سے وا/ضح ہوجاتا ہے کہ یہودیوں نے اپنے قلعے مدینہ کے پاس بلند اور اونچی جگہ پر بنارکھے تھے اور ان کے و بلند برجوں سے اپنا دفاع کرتے تھے " انزل" (نیچے لے آیا) کی تعبیر اسی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس کے بعد مزید فرمایا کیا ہے۔ "خدا نے ان کے دلوں میں خوف اور رعب ڈال دیا": (وقذف في قلوبهم الرعب)۔ آخرکار ان کا معاملہ یہان تک پہنج گیا کہ "تم ان میں سے ایک گروہ کوقتل کرتے تھے اور دوسرے کو اسیر بنا رہے تھے "۔(فریقًا تقتلون وتأسرون فریقًا)۔ "اور ان کی زمینیں گھر اور مال ومتاع تمھارے اختیار میں دے دیا"۔ (و اورتكم ارضهم وديارهم و اموالهم )۔ یہ چند جملے جنگ بنی قریظہ کے عام نتائج کا خلاصہ ہیں۔ ان خیانت کاروں میں سے کچھ مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوگئے، کچھ قید ہو گئے اور بہت زیاده مال غنیمت جس میں ان کی زمینیں ، گھر، مکانات اور مال و متاع شامل تھا، مسلمانوں کو ملا ۔ ان غنائم کو "ارث" سے تعبیر کرنا اس بناء پر ہے مسلمانوں نے ان کے حاصل کرنے میں کوئی زیادہ زحمت نہیں اٹھائی بلکہ آسانی کے ساتھ و تمام مال ان کے ہاتھ آگیا جو یہودیوں نے سالہا سال کے عرصے میں ظلم اور بیدادگری اور لوٹ کھسوٹ کے ذریعے حاصل کیا تھا۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے۔ "اسی طرح وہ زمین بھی تھارے اختیارمیں دے دی جس پر ہرگز تم نے قدم نہیں رکھاتھا"۔ (وارضًالم تطوما )۔ "اور خدا ہر چیز پر قادر و توانا ہے": (وكان الله على كل شيء قديرًا)۔ " ارضالم تطوفا" سے مراد کونسی زمیں ہے؟ مفسرین کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہے ۔ بعض نے اسے سرزمین "خیبر" کی طرف اشارہ سمجھاہے جوبعد میں مسلمانوں کے ہاتھوں فتح بوئي۔ بعض نے سرزمین کی طرف اشاره سمجھاہے بعض اسے سر زمین "روم اور ایران" جانتے ہیں۔ اور بعض سب سر زمینوں کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں تواس دن سے لے کر قیامت تک مسلمانوں کی قلم رو میں قرار پائیں گی۔ لیکن ان احتمالات میں سے کوئی بھی ظاہر آیت کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے۔ کیونکہ آیت فعل ماضی کے قرینہ سے جو اس میں آیا ہے یعنی" اورثكم" اس بات کی شاہد ہے کہ یہ سرزمین اسی جنگ بنی قریظہ کے واقعے میں مسلمانوں کے تصرف میں آئی تھی ۔ علاوہ ازیں سرزمین مکہ ایسی نہیں تھی کہ جس میں مسلمانوں نے قدم نہ رکھا ہو جبکہ قرآن کہتا ہے کہ ایسی زمین تمھارے قبضہ میں دی کہ جس میں تم نے قدم نہیں رکھا تھا۔ ظاہرًا یہ جملہ ان مخصوص باغات واراضی کی طرف اشارہ ہے جو بنی قریظہ کے قبضے میں تھے اور کوئی بھی ان میں داخل ہونے کا حق نہیں رکھتا تھا۔ کیونکہ یہود اپنے اموال کی حفاظت اور اس کا زبردست خیال رکھتے تھے۔ نیز اگراس فتح و کامیابی کے ماضی میں ہونے سے صرف نظر کرلیں تو بھی زیادہ مناسب زمین خیبر سے تعلق رکھتی ہے جو بہت ہی مختصر عرصے میں یہودیوں سے لے لی گئی تھی اورمسلمانوں کے قبضے میں آ گئی تھی۔ (جنگ خیبر ہجرت کے ساتویں سال وقوع پذیر ہوئی تھی) -
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:26-27
1- جنگ بنی قریظہ کے علل واسباب
چند اہم نکات 1- جنگ بنی قریظہ کے علل واسباب : قرآن مجید اس چیز پر گواہ ہے کہ اس جنگ کا اصل سبب بنی قریظہ کے یہودیوں کی جنگ احزاب میں مشرکین عرب کی حمایت تھی کیونکہ خدافرماتاہے: " الذين ظاهروهم " "وہ لوگ کہ جنہوں نے ان کی حمایت کی".... اس کے علاوہ اصولی طور مدینہ کے یہودی دشمنان اسلام کا پانچواں ستوں ( FIFTH COLOMN) شمار ہوتے تھے۔ اسلام کے برخلاف پروپگنڈے میں کوشاں رہتے تھے اور مسلمانوں پر کاری ضرب لگانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے ۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ، کہ یہودیوں کے تین قبائل ، بنی قینقاع بنی نضیر اور بی قریضہ میں سے آخری گردہ جنگ احزاب کے موقع پر مدینہ میں باقی رہ گیا تھا اور پہلا اور دوسرا گروہ بالترتیب ہجرت کے دوسرے اور چوتھے سال عہد شکنی کی وجہ سے مدینہ سے نکال دیئے گئے تھے۔ ضروری تھا کہ یہ تیسرا گروہ جنہوں نے سب سے زیادہ کھلی عہد شکنی کی تھی اور دشمنان اسلام سے الحاق کی طرف ہاتھ بڑھایا تھا ، انھیں ان کے پست اعمال کی وجہ سے کیفر کردارتک پہنچایا جائے۔