۞قَدۡ يَعۡلَمُ ٱللَّهُ ٱلۡمُعَوِّقِينَ مِنكُمۡ وَٱلۡقَآئِلِينَ لِإِخۡوَٰنِهِمۡ هَلُمَّ إِلَيۡنَاۖ وَلَا يَأۡتُونَ ٱلۡبَأۡسَ إِلَّا قَلِيلًا
Allah knows those of you who discourage others, and those who say to their brethren, ‘Come to us!’ and take little part in the battle,
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 33:9-20
Like an engine, the human body derives energy from carbon of food and oxygen is breathed in from outside air, through the nose and larynx of the lungs, and the left side of the heart below the lungs circulates blood through arteries and to the right of which, through veins is transmitted for purification to the lungs which return it to the left side of the heart in turn. Couplet 17 was revealed on utterance of Khalifa 2 when he saw Omer ibn Abdewad challenging them. Temperament of the faith of the Prophet’s companions (hypocritical mostly) be compared with those Hussain at Karbala. Their rewards shall be likewise. On Shawwal 5th Hijra, Quraish infidels travelled all over Arabia to collect an army, as also from various Jewish tribes until their forces numbered 10,000. The Prophet had been driven out of Medina to Khaibre on breach of covenant. Bani Nazeer, a Jewish tribe of descent of Aaron. Hai ibn Akhtab, their leader, in conspiracy with the infidel Quraish said, “The Prophet has driven out Bani Kaiaka out of their houses and Bani Kariza, 700 strong, men of whom lived two miles away from Medina had a pact with the Prophet to assist him in the time of need. Hai succeeded in getting the pact breached, the result was the infidel Quraish attacked from higher plateau and they (Jews) from a lower plateau. To meet 10,000strong, the Prophet, on the advice of Sulman the Persian, dug a trench to safeguard the Medinites near Uhud. The infidel Quraish besieged the Muslim army and Umar ibn Abdawad crossed the trench on horseback and offer to fight out the contest. The Prophet’s companions got nervous and the 17th Couplet was revealed. The Prophet asked three times his companions to respond to the call and none would come forward each time except Ali, who ultimately was selected with prayers to God. Ali offered three alternatives to the adversary, viz. to embrace Islam, to go back taking is army, to come down for his horse, as Ali was also on foot. Rejecting the first offers he accepted the third and was beheaded by Ali. This created a panic. Ali, without removing his (enemy’s) most precious armour, took his head to the Prophet upon which the prophet said Ali’s single stroke of his sword of the was more than joint prayers of man and spirit until the Day of Judgment. Omar ibn Abdawad’s sister, when she approached to mourn her brother’s death, seeing his body, was surprised at Ali’s having left her brother’s most precious armour untouched, and said, “Verily he (Ali) was chivalrous.” And God had declared, through Gabriel, previously on the battlefield of Uhud in which Ali was the only warrior. Thus is established Ali as a hero of the Text (i.e. in the Glorious Qur’an), for God is Pure and Truth and loves truth, and Ali has been personified as Truth in the words of the Prophet. Therefore, cursed be his enemy as they are enemies of Truth (i.e. God the Almighty). It is indisputably affirmed under the Prophet’s confirmation, Ali’s sword established Islam.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:18
[Pooya/Ali Commentary 33:18] (see commentary for verse 10)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:18-20
روکنے والا ٹولہ
تفسیر روکنے والا ٹولہ : اس کے بعد منافقین کے اس گروہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو جنگ احزاب کے میدان سے خود بھی کنارہ کش ہوا اور دوسروں کو بھی کنار کشی کی دعوت دیتاتھا۔ فرماتاہے۔ "خدا تم میں سے اس گروہ کو جانتا ہے جو کوشش کرتے تھے کہ لوگوں کو جنگ سے منحرف کردیں ": (قديم یعلم الله المعزقين منكم)۔ اور اسی طرح سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو اپنے بھائیوں سے کہتے تھے کہ ہماری طرف آؤ۔ "اور اس خطرناک سے جنگ سے دستبردار ہوجاؤ (والقائلين لاخوانهم هلم الينا)۔ وہی لوگ جواہل جنگ نہیں ہیں اور سوائے کم مقدار کے اور وہ بھی بطور جبرواکراہ یا دکھا وے کہ جنگ کے لیے نہیں جاتے"۔ ( ولا يأتون الباس لاقلیلًا )۔ "معزقين" "عوق" (بروزن شوق) کے مادہ سے کسی چیزسے روکنے اور باز رکھنے کے معنی میں ہے۔ اور "باس" اصل میں سختی کے معنی میں ہے اور یہاں پراس سے مراد "جنگ" ہے۔ اوپر والی آیت احتمالی صورت میں دو گروہوں کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ ایک منافقین کے گروہ کی طرف جو مسلمانوں کی صفوں میں موجودتها ("منکم" کی تعبیراس امر کی گواہ ہے) اور ان کی کوشش تھی کہ ضعیف الایمان مسلمانوں کو جنگ سے روکے رکھیں ، یہ وہی "معوقین" تھے۔ دوسرے منافقین یا یہودیوں کے اس گروہ کی طرف اشارہ ہے جو میدان سے باہر بیٹھے ہوئے تھے اور جس وقت اسلام کے مجاہد سپاہیوں سے آمنا سامنا ہوتا تو کہتے کہ ہمارے پاس آؤجا اور اپنے آپ کو اس معرکہ سے نکال لو۔ (یہ وہی لوگ ہیں جن کی طرف دوسرے جملہ میں اشارہ ہوا ہے)۔ یہ احتمال بھی موجود ہے کہ شاید یہ آیت ایک ہی گروہ کی دو مختلف حالتوں کا بیان ہو۔ وہ لوگ جب دوسروں کے کی درمیان ہوتے ہیں توانھیں جنگ سے روکتے ہیں اور جب ایک طرف ہوجاتے ہیں تو دوسروں کو اپنی طرف دعوت دیتے ہم ایک روایت میں پڑھتے ہیں کہ ایک صحابی رسولؐ کسی ضرورت کے تحت میدان "احزاب" سے شہر میں آیا ہوا تھا۔ اس نے اپنے بھائی کو دیکھا کہ اس نے اپنے سامنے روٹی، بھنا ہوا گوشت اور شراب رکھے ہوئے تھے ، توصحابی نے کہا،تم تو یہاں عیش و عشرت میں مشغول ہو اور رسول خدا نیزوں اور تلواروں کے درمیان مصروف پیکار ہیں۔ اس نے جواب میں کہا، اے بے وقوف !تم بھی ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ اور مزے اڑاؤ۔ اس خدا کی قسم جس کی محمدؐ قسم کھاتا ہے وہ اس میدان سے ہرگز پلٹ کرواپس نہیں آئے گا ۔ اور یہ عظیم لشکر جو جمع ہوچکا ہے اسے اور اس کے ساتھیوں کو زنده نہیں چھوڑے گا۔ یہ سن کر وہ صحابی کہنے لگے تو جھوٹ بکتا ہے ، خدا کی قسم میں ابھی رسول اللہ کے پاس جاکر تمھاری اس گفتگو سے باخبر کرتا ہوں۔ چنانچہ انھوں نے بارگاہ رسالت میں پہنچ کر تمام ماجرا بیان کیا تو اوپر والی آیت نازل ہوئی۔ اس شان نزول کی بناء پر "اخوانهم" (ان کے بھائی) کا لفظ ہوسکتا ہے کہ حقیقی بھائی کے معنی میں ہو یا پھر ہم مسلک کے معنی میں ہو جیساکہ سورہ اسراء (بنی اسرائیل) کی آیت 27 میں اسراف اور فضول خرچی کرنے والوں کو شیطانوں کے بھائی کا نام دیا گیا ہے": ان المبذرين كانوا اخوان الشياطين"۔ بعد والی آیت میں فرماتابے " ان تمام رکاوٹوں کا باعث یہ ہے کہ وہ تمھاری بابت تمام چیزوں میں بخیل ہیں": (اشحة عليكم)۔ ؎1 نہ صرف میدان جنگ میں جان قربان کرنے میں کہ وسائل جنگ مہیا کرنے کے لیے مالی امداد اور خندق کھودنے کے لیے جسمانی امداد حتی کہ فکری امداد مہیا کرنے میں بھی بخل سے کام لیتے ہیں ۔ ایسابخل جو توام ہوتا ہے اور ایسا حرص میں روز بروز اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ان کے بخل اور ہرقسم کے ایثارسے دریغ کرنے کے بیان کے بعد ان کے ان دوسرے اوصاف کو جو ہر عہد اور ہر دور کے تمام منافقین کے لیے تقریبًا عمومیت کا درجہ رکھتے ہیں ، بیان کرتے ہوئے کہتا ہے "جس وقت خوفناک اور بحرانی لمحات آتے ہیں تو وہ اس قدر بزدل اورڈرپوک ہیں آپ دیکھیں گے کہ وه آپ کو دیکھ رہے ہیں حالانکہ ان کی انکھوں میں ڈھیلے بے اختیار گردش کر رہے ہیں، اس شخص کی طرح جو جاں کنی میں متبلا بو":(فاذا جاء الخوف رايتهم ينظرون اليك تدور اعينهم كالذى یغی عليه من الموت)۔ چونکہ وہ صحیح ایمان کے مالک نہیں ہیں اور نہ ہی زندگی میں ان کا کوئی مستحکم سہارا ہے، جس وقت کسی سخت حادثہ دوچار ہوتے ہیں تو کلی طور پر اپنا توازن کھو بیٹھتے ہیں گویا چاہتے ہیں کہ ان کی روح قبض ہوجائے۔ پھرمزید کہتا ہے" لیکن یہی لوگ جس وقت کہ طوفان رک جاتا ہے اور حالات معمول پرآجاتے ہیں تو تمھارے پاس توقع لے کر آتے ہیں کہ گویا جنگ کے اصل فاتح یہی ہیں اور قرض خواہوں کی طرح پکار پکار کر اورسخت اور درشت الفاظ کے ساتھ مال غنیمت سے اپنے حصہ کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس میں سخت گیر ، بخیل اور حریص ہیں (فاذا ذهب الخوف سلقوكم بالسنة حداد اشعة على الخير)- ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "اشعه" "شع" کے مادہ "شحبح" کی جمع ہے۔ اس کا معنی سے ایسابخل جس سے حرص ملا ہوا ہو۔ اور یہ لفظ اکثر مفسرین بقول یہاں محل اعراب کے لحاظ سے "حال" واقع ہورہا ہے۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بیان علت کے مقام کے میں حال ہو۔ (غور کیجیئے گا)۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- "سلقوكم" "سلق" (بروزن خلق) کے مادہ سے کسی چیز کو غیظ و غضب سے کھولنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، چاہے ہاتھ کا کھولنا ہو یا زبان کا۔ یہ تعبیر ان لوگوں کے بارے میں استعمال ہوئی ہے جو آمرانہ اور تحکمانہ لب و لہجے میں چیخ و پکار کر کسی چیز کو طلب کرتے ہیں۔ "السنة حداد" تیز و تند زبانوں کے معنی میں ہے اور یہاں سختی کے ساتھ بات کرنے سے کنایہ ہے۔ اس آیت کے آخر میں ان کی آخری صفت کی طرف جو واقع میں ان کی تمام بدبختیوں کی جڑ اور بنیادہے ، اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے" وہ ہرگزایمان نہیں لاۓ": (اولٰئک لم یومنواء )۔ "اور اسی بناء پر خدا نے ان کے اعمال نیست و نابود کر دیئے ہیں": (فاحبط الله اعمالهم) - کیونکہ ان کے اعمال ہرگز خداکی منشا اور ان کے خلوص پر مبنی نہیں ہیں اور "یہ کام خدا کے لیے بہت ہی آسان ہے": (وكان ذالک على الله بسيرًا) - مجموعی طور پر ہم اس طرح نتیجہ نکالتے ہیں کہ "معوقين" (باز رکھنے والے) ایسے منافق تھے جن کی یہ صفات تھیں: 1- بہت ہی کم تعداد کے علاوہ باقی کوئی بھی اہل جنگ و جہادنہیں تھے۔ 2- وہ کبھی جان و مال کے لحاظ اسے ابل ایثار و قربانی نہیں تھے ۔ اور تھوڑی سے تھوڑی پریشانی کے متحمل میں نہیں ہوتے تھے۔ 3- طوفانی اور بحرانی لمحات میں شدت خوف کی وجہ سے اپنے آپ کو کلی طور پرکھو بیٹھتے تھے۔ 4- کامیابی کے موقع پر اپنے آپ کو تمام اعزازات کا وارث سمجھتے تھے۔ 5- چونکہ وہ بے ایمان تھے لہذا ان کے اعمال بھی بارگاہ الٰہی میں بے قدروقیمت تھے۔ یہی حال ہر دور اور زمانہ کے ہر معاشرہ کے منافقین کا رہا ہے۔ قرآن مجید نے ان کی ظریفانہ انداز میں صفات بیان کی ہیں، جن کے ذریعہ ان کے ہم فکر لوگوں کو پہچانا جاسکتا ہے اور موجودہ دور میں ہم اس کے کتنے نمونے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں !! بعد والی آیت اس گروہ کی بزدلی اور خوف کی زیادہ فصیح انداز میں تصویرکشی کرتے ہوئے کہتی ہے، "وہ اس قدر وحشت زدہ ہوچکے ہیں کہ احزاب اور دشمن کے لشکروں کے پراگندہ ہوجانے کے بعد بھی یہ تصور کرتے ہیں کہ ابھی وہ نہیں گئے": (یحسبون الأحزاب الم يذهبوا)۔ وحشتناک اور بھیانک تصور نے ان کی فکر پرسایہ ڈالا ہوا ہے ۔ گویا کفرکی افواج پے در پے ان کی آنکھوں کے سامنے قطار در قطار جاری ہیں ،ننگی تلواریں لیے اور نیزے تانے ان پر حملہ کررہی ہیں۔ یہ بزدل ، جھگڑالو ، درپوک منافق اپنے سائے سے بھی ڈرتے ہیں، جب کسی گھوڑے کے ہنہنانے یا کسی اونٹ کے بلبلانے کی آواز سنتے ہیں تو مارے خوف کے لرزنے لگتے ہیں کہ شاید احزاب کے لشکر واپس آرہے ہیں۔ آگے چل کر کہتا ہے "اگر احزاب دوبارہ پلٹ کر آجائے تو وہ اس بات پر تیار ہیں کہ بیابان کا رخ کرلیں اور بادیہ نشین بدوؤں کے درمیان منتشر ہوکر پنہاں ہو جائیں": (وان یات الاحزاب يودوالوانهم بادون في الإعراب )۔ ہاں، ہاں وہ چلے جائیں اور وہاں جاکر رہیں "اور ہمیشہ تمھاری خبروں کے جویا رہیں": (یسئلون عن انبائكم) - ہر مسافر سے تمھاری ہر ہر پل کی خبر کے جویا رہیں۔ ایسا نہ ہوکہ کہیں احزاب ان کی جگہ کے قریب آجائیں اور ان کا سایہ ان کے گھر کی دیواروں پرآپڑ ے اور تم پر یہ احسان جتلائیں کہ وہ ہمیشہ تمھاری حالت اور کیفیت کے متلاشی تھے۔ اور آخری جملہ میں کہتا ہے کہ "بالفرض وہ فرار بھی نہ کرتے اور تمھارے درمیان ہی رہتے، پھر بھی سوائے تھوڑی سی جنگ کے وہ کچھ نہ کرتے :" (ولوكانوا فيكم ماقاتلوا الأقليلًا)۔ نہ ان کے جانے سے تم پریشان ہونا اور نہ ہی ان کے موجود رہنے سے خوشی منانا ، کیونکہ نہ تو ان کی قدروقیمت ہے اور نہ ہی کوئی خاص حیثیت ، بلکہ ان کا نہ ہونا ان کے ہونے سے بہتر ہے۔ ان کی یہی تھوڑی سی جنگ بھی خدا کے لیے نہیں کہ لوگوں کی سرزنش اور ملامت کے خوف اور ظاہرداری یاریاکاری کے لیے ہے کیونکہ اگر خدا کے لیے ہوتی تو اس کی کوئی حدوانتہانہ ہوتی اور جب تک جان میں جان ہوتی وہ اسی میان میں ڈٹے رہتے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:18-20
سوره احزاب / آیه 18 -20
(18) قَدْ يَعْلَمُ اللّـٰهُ الْمُعَوِّقِيْنَ مِنْكُمْ وَالْقَآئِلِيْنَ لِاِخْوَانِـهِـمْ هَلُمَّ اِلَيْنَا ۖ وَلَا يَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِيْلًا (19) اَشِحَّةً عَلَيْكُمْ ۖ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَيْتَـهُـمْ يَنْظُرُوْنَ اِلَيْكَ تَدُوْرُ اَعْيُنُـهُـمْ كَالَّـذِىْ يُغْشٰى عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَيْـرِ ۚ اُولٰٓئِكَ لَمْ يُؤْمِنُـوْا فَاَحْبَطَ اللّـٰهُ اَعْمَالَـهُـمْ ۚ وَكَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّـٰهِ يَسِيْـرًا (20) يَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ يَذْهَبُوْا ۖ وَاِنْ يَّاْتِ الْاَحْزَابُ يَوَدُّوْا لَوْ اَنَّـهُـمْ بَادُوْنَ فِى الْاَعْرَابِ يَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْبَآئِكُمْ ۖ وَلَوْ كَانُـوْا فِيْكُمْ مَّا قَاتَلُوٓا اِلَّا قَلِيْلًا ترجمہ (18) خدا ان افراد کو اچھی طرح جانتا ہے جو لوگوں کو جنگ سے روکتے ہیں اور ان کو بھی جو اپنے بھائیوں سے کہتے تھے کہ ہماری طرف آؤ (اور اپنے آپ کو معرکہ جنگ سے باہر نکالو) وہ (کمزور افراد ہیں ۔ اور) سوائے تھوڑی سی مقدار کے جنگ نہیں کرتے۔ (19) وہ تمھارے بارے میں ہر چیز میں بخیل ہیں اور جس وقت خوف اور بحران کے لمحات پیش آتے ہیں، تو آپ دیکھیں گے کہ وہ آپ کی طرف اس طرح سے دیکھتے ہیں اور ان کی آنکھوں کے ڈھیلے یوں چکر لگاتے ہیں ، گویا (اپنے قالب کو چھوڑ رہے ہیں اور) ان پر موت کی غشی طاری ہے ۔ لیکن جب خوف اور وحشت کی یہ حالت ختم ہوجاتی ہے تو وہ تمھارے خلاف غیظ و غضب سے لبریز تیز اور تند زبانیں کھولتے ہیں۔ (اور مال غنیمت سے اپنے حصے کا مطالبہ کرتے ہیں) حالانکہ وہ اس میں بھی حریص اور بخیل ہیں وہ ہرگز ایمان نہیں لائے۔ لہذا خدا نے ان کے اعمال کو حبط اور نابود کر دیا اور یہ کام خدا کے لیے آسان ہے۔ (20) وہ گمان کرتے ہیں کہ ابھی احزاب کا لشکر نہیں گیا اور اگر پلٹ آئیں تو یہ دوست رکھتے ہیں کہ باد یہ نشین بدؤں کے درمیان منتشر اور مخفی ہوجائیں اور تمھاری خبریں حاصل کرتے رہیں اور تمھارے درمیان رہیں تو سوائے تھوڑی سی دیر کے جنگ و پیکار نہ کریں۔