وَمِنْ آيَاتِهِ مَنَامُكُم بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاؤُكُم مِّن فَضْلِهِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ
And of His signs is your sleep by night and day, and your pursuit of His bounty. There are indeed signs in that for a people who listen.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 30:23
[Pooya/Ali Commentary 30:23]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:23-25
1- درس خدا شناسی کا ایک مکمل نصاب
چند اہم نکات 1- درس خدا شناسی کا ایک مکمل نصاب : گذشتہ چھ/6 آیات میں خدا شناسی کے مضمون کو مختلف انداز و عنوانات سے بیان کیاگیا ہے جو درحقیقت اس درس کے لیے مکمل نصاب ہے۔ اس مضمون میں آفرینش آسمان سے لے کر مٹی انسان کی تخلیق ، اہل خانہ کی باہمی محبت ، شب و روز کی راحت بخش نیند ، نظام کائنات میں تدبیرالٰہی ، نزول باران اور اقوام عالم کی زبانوں اور ان کے رنگوں کا اختلاف ، غرض کہ انفس و آفاق میں خدا کی جو بھی آیات ہیں ، ان سب ہی کا ذکر ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ ان آیات میں سے ہر ایک میں دلائل توحید کے دو حصے میں ایک حصہ بطورتمہید ہے اور دوسرے میں دعویٰ کا اثبات اور تاکید ہے ، اس کی مثال ایسی ہے جیسے دعویٰ کوثابت کرنے کے لیے دو عادل گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس اعتبارسے چھ آیات میں خدا کی بے پایاں قدرت کے اظہار کے لیے مجموعی طور پر بارہ گواہ ہوگئے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:23-25
انسان کے نفس اورخارجی دنیا میں خدا کی عظمت کی نشانیاں
تفسیر انسان کے نفس اورخارجی دنیا میں خدا کی عظمت کی نشانیاں : گزشتہ بحثوں کے بعد جن میں انفس و آفاق میں آیات الٰہی کا ذکر تھا ، زیر نظر آیات میں ان عظیم آیات کے ایک اور حصہ کا بیان ہے ۔ سب سے پہلے نیند کی طرف توجہ مبذول کرائی گئی ہے کیونکہ وہ ظاہر فطرت میں سے ایک اہم مظہراور نظام عالم میں اس کے خالق کی حکمت کا اظہار ہے، چنانچہ فرمایا گیا ہے. تمهارا دن اور رات میں سونا نیز فضل الٰہی سے حصہ پانے کے لیے تمہاری سعی و کوشش اور ضروریات زندگی کو پورا کرنے کے لیے تمہاری بھاگ دوڑ اور ان کا پورا ہونا یہ سب آیات الٰہی میں سے ہے: (ومن آياته منامكم بالليل والنهار وابتغاؤكم من فضلهٖ) - آیت کے اخیر میں یہ الفاظ ہیں : سننے والوں کے لیے ان امور میں بہت سی نشانیاں ہیں : ( أن في ذلك لايات لقوم لسمعون)۔ کسی سے بھی یہ حقیقت پوشیدہ نہیں ہے کہ تمام "جان داروں" کو صرف شده طاقت کو بحال کرنے اور آئند محنت و مشقت کے واسطے تیار ہونے کے لیے ، آرام کرنے کی ضرورت ہے۔ استراحت اور نیند لازمی طور پر انسان پر طاری ہوجاتی ہے اور وہ لوگ جو کسب معاش میں محنت اور مشقت کرتے ہیں وہ تو ا ناگزیر طور سے تھک کر سو جاتے ہیں ۔ پھر سے تازہ دم ہونے کے لیے نیند سے بہتر اور کونسا ذریعہ ہوسکتا ہے جو فطرتًا انسان پر طاری ہوجاتی ہے اور جو وقتی طور پر انسان کے تمام جسمانی ، فکری اور روحانی اعمال کو معطل کر دیتی ہے ۔ صرف بعض اعضا و قویٰ جن کا مصروف عمل اور بیدار رہنا ثبات حیات کے لیے لازم ہے نہایت آہستگی کے ساتھ اپنے کام میں مصروف رہتے ہیں۔ مثلًا حرکت قلب ، روانی تنفس اور دماغ کے بعض حصے۔ یہ نعمت الٰہی اس امر کا باعث ہوتی ہے کہ انسان کے جسم اور روح میں ازسر نو قوت کار آجاتی ہے ۔ انسانی جب استراحت کرتا ہے تو وہ اس وقت کام سے فارغ ہوتا ہے۔ تھوڑی دیر سونے سے اس کی تھکن دور ہوجاتی ہے اور اس کے اعضا کو آرام مل جاتا ہے اسی طرح انسان میں ایک نئی زندگی ، خوشی اور تازه توانائی پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ اگر انسان سویا نہ کرتا تو اس کا جسم جلد ہی پژمردہ اور فرسودہ ہو جاتا اور بہت جلد ناتوان اورضعیف بوجاتا۔ یہی وجہ ہے نہ مناسب و متعدل نیند انسان کے لیے نشاط جوانی کی بقا ، طول عمر اور صحت و سلامتی کا باعث ہے۔ یہ امر قابل توجہ ہے کہ آیت میں نیند کا ذکر "ابتغاؤكم من فضله" سے پہلے آیا ہے ، جس کے معنی ہیں کہ اپنی روزی تلاش کرو - اس ترتیب میں مصلحت یہ ہے کہ "نیند" تلاش رزق کے لیے بنیادی شرط ہے، کیونکہ اگر انسان نے کافی آرام نہ کیا ہو تو "ابتغاؤكم من فضلہ" بھی مشکل ہے۔ دوسرے یہ کہ یہ بھی درست ہے کہ معمولًا انسان رات کو سوتا ہے اور دن کو اپنا رزق تلاش کرتاہے مگر یہ لازمی نہیں ہے کہ انسان اپنے معمولات حیات کو بدل نہ سکے - خدا نے انسان کی فطرت ایسی بنائی ہے کہ وہ اپنی نیند کی عادت کور بدل سکتا ہے اور ضرورت کے مطابق اس میں تغیر کرسکتا ہے۔ اسی لیے " منامكم بالليل والنهار" کہا گیا ہے ( رات کا ذکر پہلے اور دن کا ذکر بعد میں ہے)۔ بے شک سونے کا اصل وقت رات ہی کا ہے اور تاریکی کے سبب شب کو سکون محسوس ہوتا ہے اس لیے آرام کرنے کے لیے اسے اولیت حاصل ہے مگر انسان کی زندگی میں بعض حالات ایسے پیش آجاتے ہیں کہ اس کے برعکس عمل کرنا پڑتا ہے مثلًا رات کو سفر کرنا پڑے تو دن کو آرام کرنا پڑے گا۔ اسی قیاس پر دیکھئے کہ اگر سونے کے اوقات انسان کے اختیار میں نہ ہوتے تو کتنی دشواری پیش آتی- نیند کی آیات الٰہی میں شمار کرنے کی اہمیت ہمارے زمانے میں اور بھی زیادہ واضح ہو گئی ہے کیونکہ فی زماننا بعض صنعتی کارتانے اور ہسپتال رات دن کام کرتے اور کھلے رہتے ہیں اور ان میں کام کرنے والے تین تین شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ آدمی کے جسم اور روح کو نیند کی ضرورت اتنی زیادہ ہے کہ انسان میں بے خوابی کے تحمل کی توانائی بہت ہی کم ہے اور انسان چند شب و روز سے زیادہ بے خوابی برداشت نہیں کرسکتا۔ اس لیے ظالم اور ستم شعار اہل اقتدار کسی کو بد ترین سزا یہی دیتے ہیں کہ اسے سونے نہیں دیتے۔ برعکس اس کے بہت سی بیماریوں کا موثر علاج یہ ہے کہ بیمار کو گہری نیند سلا دیا جائے. اس طرح سے اس کی قوت مدافعت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ لیکن عام انسانوں کے لیے نیند کی مقدار کو معین نہیں کیا جاسکتا کیونکہ طول خواب کا انحصار انسان کے سن و سال ،اس کے حالات ، اس کی جسمانی بناوٹ اور نفسیاتی کیفیت پر ہے۔ البتہ ـــــــ نیند کی اس مقدار کا قی کہہ سکتے ہیں جس کے بعد انسان اپنے اندر تازگی محسوس کرے ۔ جس طرح پانی پی کراور غذا کھا کر سیری محسوس کرتا ہے۔ یہ امر ملحوظ خاطر رہے کہ نیند کے لیے جس طرح طول زمان کا لحاظ ہے ، اس کا گہرا ہونا بھی اہمیت رکھتا ہے ۔ کیونکہ بسا اوقات ایک گھنٹے کی گہری نیند ، چند گھنٹوں کی اچٹتی ہوئی نیند کے مقابلے میں انسان کی روح اور جسم کو تازگی بخشنے میں زیادہ موثر ہوتی ہے۔ لیکن ـــــــ اگر کسی موقع پر گہری نیند ممکن نے نہ ہو ، صرف خفیف اور اچٹتی ہوئی نیند اور غنودگی بھی خدا کی نعمتوں میں سے ہے ۔ جیساکہ سوره انفال کی آیت 11 میں مجاہدین بدر کے متعلق ذکر ہے کیونکہ میدان جنگ میں گہری نیند مکن ہی نہیں ہے اور نہ مفید و سودمند ہے. بہرحال ـــــ نیند اور استراحت ۔ اور اس سے جوسکون - نشاط اور توانائی حاصل ہوتی ہے . خدا کی ایسی نعمت ہے جس کی کسی طرح بھی توصیف نہیں ہوسکتی۔ اس کے بعد کی آیت میں آیات الہی کی پانچویں قسم کو بیان کیا گیا ہے۔ اس آیت میں بھی خدا کی ان نشانیوں کا ذکر ہے جونفس انسانی سے باہر عالم خارج میں پائی جاتی ہیں۔ اس میں خصوصیت سے رعد و برق ، بارش اور زمین کی موت کے بعد دوباره زندہ ہونے کا ذکر ہے ، چنانچہ فرمایا گیاہے. آیات الٰہی میں سے ایک بجلی بھی ہے جو تمہارے لیے موجب خوف بھی هے اور باعث امید بھی ( ومن آياته يريكم البرق خوفًا وطمعًا)۔ بجلی کا خوف تو یہ ہے کہ وہ کبھی بصورت صاعقہ ٹوٹ پڑتی ہے اور ہر اس چیز کو جو اس کے احاطے میں آجائے جلا خاک کردیتی هے۔ بجلی چمکنے سے "امید" یہ ہوتی ہے کہ عمومًا گرج چمک سے تند و تیز بارش ہوتی ہے . اس بنا پر بجلی نزول بارش کا پیش خیمہ ہے۔ اس کے علاوہ بجلی کے چمکنے میں جو فوائد ہیں انہیں اس زمانے میں سائنس دانوں نے منکشف کیا ہے۔ ہم نے سوره رعد کے آغاز میں ان کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ؎1 اس کے بعد یہ فرمایا گیا ہے کہ خدا آسمان سے پانی برساتا ہے جو زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے: (وينزل من السماء ماء فيحيی به الارض بعد موتها). خشک اور جلتی بھنتی زمین میں جس سے موت کی بو آتی ہے چند حیات بخش بارشوں کے بعد جان آجاتی اور وہ زندہ ہوجاتی ہے۔ اس سے اگنے والے پھولوں ، سبزے اور جڑی بوٹیوں سے اس کے آثار حیات نمایاں ہوتے ہیں اس کی حالت دیکھ کر کوئی یقین بھی نہیں کرسکتا کہ یہ وہی مردہ زمیں ہے۔ آیت کے آخر میں بطور تاکید اضافہ کیا گیا ہے کہ ان چیزوں میں ان لوگوں کے لیے جو فکر کرتے اور عقل سے کام لیتے ہیں خدا کی نشانیاں ہیں۔ (ان في ذلك لايات لقوم یعقلون)۔ اہل عقل و فکر میں یہ سمجھتے ہیں کہ اس مرتب نظام فطرت کے پیچھے کسی قادر مطلق کا ہاتھ ہے جب اس نظام کو چلا رہا ہے، نیز یہ کہ یہ نظام فطرت محض اتفاقًا یا اندھی اور بہری حرکت و ضرورت سے ظہور میں نہیں آگیا۔ زیر نظر آیات میں سے آخری آیت میں ، عالم خارج میں موجود آیات الہی کے سلسلے میں زمین و آسمان کے نظام اوران کی ثبات و بقا کا ذکر ہے ، چنانچہ فرمایا گیا . آیات عظمت الٰہی میں سے ایک یہ ہے کہ آسمان و زمین اس کے امرسے قائم ہے : ( ومن آياته أن تقوم السماء والأرض بامره)۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر نمونہ ، جلد 10 کی طرف رجوع فرمایئے۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- یعنی صرف آسمان و زمین کی تخلیق ہی جیسا کہ آیت 22 میں اشارہ ہوا ہے ، آیت الٰہی نہیں بلکہ ان کے نظام کا باقی رہنا ایک دوسری نشانی ہے ۔ کیونکہ یہ عظیم اجرام اپنی منظم گردش کے لیے اور چیزوں کی احتیاج بھی رکھتے ہیں جن میں سے سب اہم ان کی باہم قوت جاذبہ اور دافعہ ہے۔ خداوند عالم نے کرات سماوی میں ان دونوں قوتوں کو ایسے اعتدال پر رکھا ہے کہ لاکھوں سال گزرنے کے بعد بھی سرمو انحراف کے بغیر اپنے اپنے مدار پر گردش کر رہے ہیں ۔ ایک اور پہلوسے دکھا جاۓ تو گزشتہ آیت میں یہ بیان ہے کہ خالق کائنات ذات واحدہے ۔ اور ــــ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اس کارخانہ عالم کی مربی اور مدبر بھی ذات احدیت ہی ہے۔ آسمان اور زمین کے لیے فعل "تقوم" کا استعمال جس سے ان کا قیام اور ثبات مراد ہے ،ایک لطیف تعبیر ہے۔ جو انسان کے معمولات حیات سے لی گئی ہے کیونکہ انسان کے کام کرنے کے لیے بہترین حالت ، حالت قیام ہے۔ اس حالت میں وہ اپنے تمام کام انجام دینے پر قدرت رکھتا ہے اور اپنے اطراف پر پورا تسلط رکھتا ہے۔ کلمہ "امر" کے استعمال سے پروردگار کی انتہای قدرت مراد ہے کہ اس عظیم و وسیع کائنات کے نظم اور دوام حیات کے لیے اس کا ایک حکم ہی کافی ہے۔ اس آیت کے اخیر میں ، معاد کے لیے توحید کو ، بنیادی شرط قرار دیتے ہوئے ، بحث کا رخ اسی طرف موڑ تے ہوئے فرمایا گیا ہے۔ جب وہ تمہیں زمین میں سے بلائے کا تو سب کے سب باہر نکل آوگے: (ثم اذا دعاكم دعوة من الارض اذا انتم تخرجون )۔ قرآن کریم میں یہ بات بتکرار نظر آتی ہے کہ خدا معاد کو زمین و آسمان میں اس کی قدرت کی نشانیوں کی بنیاد پر ثابت کرتاہے۔ چانچہ آیت زیر بحث بھی ان ہی آیات میں سے ہے ۔ کلمه "دعاکم" سے یہ مراد ہے کہ جس طرح اس کائنات کی نظم و تدبیر کے لیے اس کا ایک حکم کافی ہے ، اسی طرح بروزقیامت دوبارہ جی اٹھنے اور حشرونشور کے لیے بھی اس کا ایک دفعہ بلانا ہی کافی بوگا خصوصیت سے جب اس جملے پر توجہ کی جائے "اذا انتم تخرجون"۔ عربی زبان میں کلمہ "اذا " مناجات کے لیے آتا ہے. اس سے ثابت ہے کہ ایک ہی دفعہ پکارنے سے سب کے سب ناگہانی طور پر قبروں سے باہر نکل آئیں گے۔ اس ضمن میں " دعوة من المرض " کے الفاظ سے معاد جسمانی ثابت ہوتی ہے کہ بروز قیامت انسان اسی زمین سے اٹھایا جائے گا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:23-25
2- کون لوگ ان آیات سے کسب حکمت کرتے ہیں
2- کون لوگ ان آیات سے کسب حکمت کرتے ہیں : ان چھ آیات میں سے درمیان کی چار آیات میں تاکیدًا کہا گیا ہے کہ ان حوادث عالم اور اجزاء کائنات میں علماء ، عقلاء ، متفکرین اور سننے والوں کے لیے روشن نشانیاں ہیں مگر آیت 20 اور 25 میں ہے یہ ذکر نہیں ہے۔ فخرالدین رازی نے اس کی یہ وجہ بتائی ہے کہ آیت 20 میں اس امر کا ذکر نہ ہونے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے ۔ آیات بیس اور اکیس ایک دوسرے کے بعد آئی ہیں اور دونوں میں ان آیات کا ذکر ہے جو انسان کے عالم انفس میں ہیں۔ اور آخری آیت میں مطلب اس قدر واضح ہے کہ اس پر غور کرنے کے لیے تعقل و تفکر کی ضرورت ہی نہیں۔ ؎1 قابل غور بات یہ ہے کہ پہلے کلمہ "تفکر" استعمال ہواہے ، اس کے بعد "علم" کا ذکر ہے۔ کیونکہ علم کے لیے فکر کی بنیادی حیثیت ہے۔ اس کے بعد سننے والے کا ان کا ذکر ہے۔ کیونکہ عالم وآگاہی کے طفیل ہی انسان کلمہ حق سننے اور قبول کرنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے۔ جس طرح سے کہ قرآن میں مذکورہے: فبشر عباد الذين يستمعون القول فيتبعون احسنہ میرے ان بندوں کو بشارت دو جو باتوں کوسنتے ہیں اور ان میں سے بہترین پرعمل کرتے ہیں۔ (زمر -17- 18)۔ آیت 24 میں "عقل" کا ذکر ہے۔ کیونکہ عقل کامل کی منزل پر وہی لوگ پہنچیں گے جو سننے والے کان رکھتے ہیں۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ زیر نظر آیات میں سے آیت 20 میں انسان کی خلقت اور اس کی نسل کے زمین پر پھیلنے کا ذکر ہے: ثم اذا انتم بشر تنتشرون اور آخری آیت 25 میں بروز قیامت زمین سے جی اٹھنے کا ذکر ہے: ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 تفسیر کبیر فخررازی ، زیربحث آیات کے ذیل میں ۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اذا انتم تخرجون - پہلی آیت - 20 میں آغاز انسان کا ذکرہے اور آخری 25 میں اس کے انجام کا ذکر ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:23-25
3- عالم خواب کے عجائبات
3- عالم خواب کے عجائبات : علما نے خواب اور اس کی خصوصیات کے بارے میں جو بحثیں کی ہیں ، ان کے باوجود ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی اس پراسرار عالم کے تمام پہلو روشن نہیں ہوئے اور انسان کی اس کی پیچدہ حقیقتوں تک رسائی نہیں ہوئی۔ ابھی اہل علم میں یہ امر زیر بحث ہے کہ انسان کے جسم میں کون سا عمل اور رد عمل ہوتا ہے کہ ناگہانی طور پر اس کے دماغ اور بدن کے عمل کا ایک حصہ معطل ہو جاتا ہے اور اس کی روح اور جسم میں ایک نئی حالت پیدا ہوجاتی ہے. بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ انسان کے جسم میں تبدیلیاں نیند آنے کا باعث ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب دماغ سے جسم کے دوسرے حصوں میں خون جاتاہے تو یہ کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ انھوں نے اپنے نظریے کو ثابت کرنے کے لیے ایک آلہ ایجاد کیا ہے جو مغز سے باقی اعضاء کی طرف انتقال خون کو ظاہر کرتا ہے ۔ علماء کا ایک اور گروہ جسم میں کیمیائی تبدیلیوں کو نیند کا باعث سمجھتا ہے۔ ان لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ جس وقت انسان محنت مشقت کرتا ہے تو اس کے جسم میں ایک زہر پیدا ہوجاتا ہے جو دماغ کے ایک حصے کو بیکار کر دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان سو جاتا ہے اور جب یہ زہر جزو بدن بن کر زائل ہو جاتا ہے تو انسان بیدار ہو جاتا ہے ۔ سائنس دانوں کی ایک اور جماعت کا نظریہ یہ ہے کہ "نیند" کا ایک عامل اعصابی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دماغ میں بھی ایک خاص قسم کا فعال نظام اعصاب موجود ہے ۔ جس کی مثال موٹر کے پیٹرول کی سی ہے۔ یہ نظام اعصاب تھک کر بیکار ہو جاتا ہے اور آدمی سوجاتا ہے۔ مگر ان تمام نظریات پر اعتراضات کیے گئے ہیں جن کے ابھی تک شافی جوابات نہیں دیئے جاسکے ۔ اس لیے ابھی تک" نیند" ایک پراسرار چیز ہی ہے۔ سائنس دانوں نے جن عجابات خواب کا انکشاف کیا ہے ، ان میں سے ایک یہ ہے کہ بوقت خواب جب دماغ کے خلیوں کا اکثر حصہ اپنا کام ترک کر دیتا ہے تو بعض خلیے جنھیں " خلاہائے نگہبان" کہنا چاہیئے ، بیدار رہتے ہیں اور انسان عالم بیداری میں ان خلیوں کو یہ پیغام بھی دیتا یا جو نصحیت بھی کرتا ہے وہ اسے ہرگز فراموش نہیں کرتے۔ یہاں تک کہ وہ مغز کو بیدار کرکے اسے متحرک کر دیتے ہیں۔ مثلاً ـــــ ایک تھکی ماندی ماں جب رات کو سونے لگتی ہے اور اس کا شیر خوار بچے اس کے قریب ہی گہوارے میں محوخواب ہوتا ہے تو وہ لاشعوری طور پر دماغ کے "نگهبان" خلیوں سے ( جو روح اور جسم کے درمیان رابطے کا کام دیتےہیں) یہ کہتی ہے کہ میرا بچہ جس وقت بھی روئے تو مجھے جگا دینا ۔ ماں کے نزدیک اس کے علاوہ دوسری آوازوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ہوسکتا ہے کہ بادل کی گرج اس ماں کو نیند سے بیدار نہ کرے۔ لیکن بچے کی ہلکی سی آواز بھی اسے جھگا دیتی ہے اور دماغ کے نگہبان خلیے اس فرض کو ادا کرتے ہیں۔ ہم نے اس بات کو خود اپنے اوپر بارہا آزما کے دیکھا ہے کہ اگر ہم نے اپنے دل میں یہ طے کرلیا ہے کہ صبح سویرے یا آدھی رات کو ہمیں کسی سفر یا کسی اہم پروگرام پر جانا ہے تو عین وقت پر آنکھ کھل جاتی ہے۔ جب کہ دیگر مواقع پہ ہم گھنٹوں پڑے سوتے رہتے ہیں۔ خلاصه گفتگو یہ ہے کہ نیند ایک روحانی مظہر ہے اور روح ایک پراسرار عالم ہے۔ لہذا ـــ کیا عجب ہے کہ اس مسئلے کے بہت سے پہلو ایسے ہوں جو ابھی انسان پر منکشف نہ ہوئے ہوں ۔ مگر انسان اس اسرار کی گرہ کشائی میں جتنا بھی زیادہ غور و فکر کر رہاہے اتنا ہی اس پر اس مظہر کے خالق کی عظمت واضح ہوتی جاتی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:23-25
4- میاں بیوی کی باہمی محبت
4- میاں بیوی کی باہمی محبت: اگرچہ ــــــ انسان کا اپنے والدین اور بھائی بہنوں سے رابطہ نسبی ہے جس کی بنیاد رشتہ داری کے گہرے تعلق پر ہے۔ اس کے مقابلے میں زوجین کا باہمی تعلق قانون اور معاہده باہمی پر ہے۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان محبت رشتہ داری کے تعلق پر سبقت لے جاتی ہے۔ مذکورہ بالا آیات میں "وجعل بينكم مودة ورحمة" میں انسان کی اسی فطرت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ جناب رسالتمآبؐ سے ایک حدیث مروی ہے کہ : جنگ احد کے یہ آپؐ نے بنت حجش سے فرمایا کہ "تیرے ماموں حمزہ شہید ہوگئے "۔ تو اس نے جواب دیا : "إنا لله وانا اليه راجعون" میں خدا سے اس مصیبت کا اجر چاہتی ہوں "۔ آپ نے پھر اس سے کہا ـــــــــ تیرا بھائی بھی شہید ہوگیا"۔ اس لڑکی نے میر "انا للہ" پڑھا اور اس کا اجر خداسے مانگا۔ مگر جناب رسالت مآبؐ نے جیسے ہی اسے اس کے شوہر کے مرنے کی خبر سنائی ، تو ، وہ سر پٹنے اور فریاد کرنے لگی۔ ہاں ــــــــ یہ قول کتنا سچاہے : " مایعدل الزوج عند المرأة شي ء عورت کے لیے کوئی شے بھی اس کے شوہر کے مانند نہیں ہے ۔ ؎1 ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 تفسیر نورالثقلین ، جلد 4 صفحہ 174۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 30:23-25
سوره روم / آیه 23 - 25
(23) وَمِنْ اٰيَاتِهٖ مَنَامُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّـهَارِ وَابْتِغَآؤُكُمْ مِّنْ فَضْلِـهٖ ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّـقَوْمٍ يَسْـمَعُوْنَ (24) وَمِنْ اٰيَاتِهٖ يُرِيْكُمُ الْبَـرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَيُحْيِىْ بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِـهَا ۚ اِنَّ فِىْ ذٰلِكَ لَاٰيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ (25) وَمِنْ اٰيَاتِهٓ ٖ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ ۚ ثُـمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْاَرْضِ اِذَآ اَنْتُـمْ تَخْرُجُوْنَ ترجمہ (23) اور اس کی آیات میں سے تمہاری رات اور دن کی نیند بھی ہے۔ اور تمہاراس کے فضل کو تلاش کرنا ہے تحقیق کہ ان امور میں ان کے لیے جوسنتے ہیں بہت سی نشانیاں ہیں۔ (24) اور اس کی آیات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ تم کو بجلی دکھاتا ہے جو خوف کا باعث بھی ہے اور (بارش کی ) امید کا بھی اور وہ آسمان سے پانی برساتا ہے جس سے وه زمین کو اس کی موت کے بعد زندہ کر دیتا ہے۔ اس میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ (25) اور اس کی آیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آسمان و زمین اس کے حکم سے قائم ہیں پھر جب وہ تمہیں (قیامت میں) زمین سے بلائے گا تو تم فورًا نکل پڑوگے (اور میدان حشر میں حاضر ہو جاؤگے )۔