لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنفِقُوا مِن شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ
You will never attain piety until you spend out of what you hold dear, and whatever you may spend of anything, Allah indeed knows it.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:92
[Pooya/Ali Commentary 3:92] Please refer to al Baqarah: 3, 195, 215, 254. "That which you love" means all that you hold dear and near to your heart. The term covers the spending of one's wealth and possessions and the sacrificing of one's personal significance and pride as well as the shedding of one's blood in the service of Allah. At a time when the religion of Allah and the overall welfare of the human society are in danger of mutilation, a true Muslim (one who has surrendered himself to Allah) acts without any regard to his own interests (selflessness), a hallmark of the truly righteous. The best, the greatest and the most perfect example of "spending that which you love" in the service of Allah was set in Karbala, where Imam Husayn sacrificed his social status, wealth, children, and life in the service of Allah to establish the supremacy of the highest human values without which no human society can survive and progress. In fact it was the Holy Prophet who manifested himself through his grandson, Imam Husayn, to prove his declaration that: "Husayn is from me and I am from Husayn". Aqa Mahdi Puya says: Some passages of the Bible give the impression that the doors of the heavenly kingdom are closed for the rich. It is not true. If a man, be he poor or rich, willingly submits to Allah and spends "that which he loves" in the service of Allah, he becomes entitled to the everlasting bliss of the life of the hereafter. The Holy Prophet has said: The wealthy who does not wait to spend in the way of Allah until a needy comes to his door but goes to the abode of the poor to mitigate his suffering is the true God-fearing pious. There is no restriction or fixation so as to what and how much should be spent in the way of Allah. That which is to be given has to be determined according to the degree of attachment with the commodity. A rich man may not care for the money, he has in abundance, but will not part with some of his belongings he holds near and dear to him, in which case no amount of money, spent in lieu of the things he loves most, can earn for him the righteousness or virtue referred to in this verse. For how much is to be given (the limit), the example has been set in Karbala by Imam Husayn. It should be noted that zakat and khums, the minimum prescribed amounts to be given by every Muslim, have not been referred to here. The spending of "that which you love" is optional. The demand made in this verse can be taken up and fulfilled by only a true believer in Allah who alone can selflessly put aside his own interests to give preference to the overall welfare of his fellow beings, which alone brings harmony and social justice in the human society.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 3:92-101
This is the stand of Shias who claim all prophets and imams are Divine Lights – having brought Divine message, receiving training for them directly, under Divine Dictates; hence, there is no difference in their elucidation of Islam which cannot be interpreted in any other way.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:92
ابتداء میں یہ تمام اشیاء بنی اسرائیل کے لئے حلا ل و جائز تھیں سوائے
کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِبَنِی إِسْرَائِیلَ إِلاَّ مَا حَرَّمَ إِسْرَائِیلُ عَلَی نَفْسِہِ مِنْ قَبْلِ اٴَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قُلْ فَاٴْتُوا بِالتَّوْرَاةِ“۔ مندرجہ بالاآیت مکمل وضاحت کے ساتھ یہودیوں کے ان خیالات کو رد کرتی ہے جو وہ کھانے کی پاک اور حلال اشیاء( مثلاً اونٹ کا دودھ اور گوشت) کے متعلق رکھتے تھے ۔ یہ آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ابتداء میں یہ تمام اشیاء بنی اسرائیل کے لئے حلا ل و جائز تھیں سوائے ان اشیاء کے جن کو اسرائیل ( یہ حضرت یعقوب (ع) کا دوسرا نا م تھا) نے اپنے اوپر حرام قرار دی تھیں ۔ا س آیت میں اس بات کی نشاندہی نہیں کی گئی کہ حضرت یعقوب (ع) نے کونسی غذا کس سبب سے حرام قرار دی تھی لیکن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت یعقوب (ع) اونٹ کا گو شت کھاتے تھے تو آپ پر عرق النساء ۱# کا شدید حملہ ہوتا ۔ لہٰذا انہوں نے اس غذا سے ہمیشہ کے لئے اجتناب کرنے کا ارادہ کرلیا اور آپ کی اتباع میں آپ کے پیروکاروں نے بھی اس سے اجتناب کیا اور یہ بات ان کے اذھان میں پختہ ہو گئی لہٰذا انہوں نے اسے حرام سمجھا اور اسے ایک دینی حکم کی طرح کی طرف سے منسوب کیا۔ قرآن کریم کی مذکورہ آیت ان کے اس خیال کر غلط قرار دیا اور یہ واضح کیا کہ یہ صرف ان کی تہمت ہے ۔ اس آیت کے دوسرے حصہ من قبل ان تنزل التوراة سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول ِ تورات سے پہلے کوئی پاکیزہ غذا بنی اسرائیل پر حرام نہ تھی البتہ تورات کے کے نازل ہونے اور حضرت موسیٰ (ع) کی آمد کے بعد یہودیوں کے ظلم و ستم کے نتیجہ میں کچھ پاک چیزیں ان پر حرام کرد ی گئیں ۔ ”قل فاٴتوا بالتوراة فاتلوھا ان کنتم صادقین “۔ اس جملے میں خدا وند عالم نے اپنے بنی کو حکم دیا ہے کہ وہ یہودیوں کو دعوت دیں کہ وہ اسی موجودہ تورات کو لے آئیں اور اسے کھول کر پرھیں تاکہ انہیں معلوم ہو جائے کہ ان اشیاء کی حرمت کے بارے میں ان کا فتویٰ غلط ہے ۔ لیکن وہ اس بات کو قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوئے ۔ اس لئے کہ انہیںیقین تھا کہ تورات میں اس قسم کی کوئی بات موجود نہیں ہے اور یہ صرف ان کی تہمت ہے ۔ ” فَمَنْ افْتَرَی عَلَی اللهِ الکَذِبَ مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ فَاٴُوْلَٰئِکَ ھُمْ الظَّالِمُونَ“۔ جب وہ لوگ تورات کو لانے پر آمادہ نہ ہوئے اور خدا ان کا بہتان باند ھنا مسلم ہوگیا تو اس آیت میں انہیں خبر دار کیا گیا کہ جو لوگ خدا پر جھوٹ بادنھتے ہیں وہ ظالم و سمگر ہیں ۔ ایک طرف وہ اپنے آپ کو خدائی سزا اور عذاب میں گرفتار کرکے اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ جھوٹ و مکرو فریب سے اور لوگوں کو بھی سیدھی راہ سے بھٹکا کردوسروں پر ظلم کرتے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:92
آیات قرآنی کا مسلمانوں کے دلوں پر اثر
قرآن کریم کی آیات کا مسلمانوں کے دلوں پر اتنا گہرا اثر ہوتا تھا کہ آیات کے نازل ہوتے ہی ان کے اثرات ظاہر ہوجاتے تھے ۔ اسی ضمن میں مذکورہ آیت کے متعلق تواریخ اور اسلام تفسیروں میں یہ واقعات لکھے گئے ہیں : ۱۔ ایک صحابیٴ رسول ابو طلحہ انصاری کے متعلق کہا جاتا ہے کہ مدینہ منّورہ میں اس کا کھجوروں کا ایک بہت ہی صاف ستھرا اور خوبصورت باغ تھا۔ پورے مدینہ میں اس کا چرچا تھا ۔اس باغ میں صاف و شفاف پانی کا ایک چشمہ تھا ۔ جس وقت پیغمبر اکرم اس باغ میں تشریف لاتے تو وہ پانی نوش فرماتے اور اس سے چلو بھر تے ۔ ان تمام خصوصیات کے علاوہ ابو طلحہ اس سے بہت زیادہ آمدنی حاصل کرتا تھا ۔ اس آیت بر کے نزول کے بعد وہ آنحضرت کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ میرے اموال میں سے میرے نزدیک زیادہ محبوب صرف یہی باغ ہے ۔ میں چاہتا ہوں کہ اسے راہ خدا میں خرچ کردوں تاکہ یہ میرے لئے توشہٴ اخرت بنے یہ سن کر آپ نے ارشاد فرمایا: ’بَخٍ بَخٍ لَکَ مَالٌ رابحٌ لک۔“ آفرین ۔ آفرین تمجھ پر یہ ایسی ثروت ہے کہ جو تیرے لئے نفع مند ہوگی۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا میرا مشورہ ہے کہ اسے اپنے رشتہ داروں کو دے دو ۔ ابو طلحہ نے آپ کے حکم کی تعمیل کی اور اسے اپنے رشتہ داروں میں تقسیم کردیا۔۱# ۲۔ ایک دن ابو ذر کے ہاں مہمان آیا ابوذر انتہائی سادہ زندگی بسر کرتے تھے ۔ انہوں نے مہمان سے معذرت طلب کی کہ میں اپنی ابتلاء کی وجہ سے خود تیری پذیرائی نہیں کرسکتا۔ میرے چند اونٹ فلاں مقام پر موجود ہیں زحمت کرکے ان میں سے ایک بہترین اونٹ لے آوٴ (تاکہ اسے تمہارے لئے نحر کردوں )۔ وہ ایک کمزور اونٹ لے آیا ۔ جناب ابو ذر نے اس سے کہا کہ تونے میرے ساتھ خیانت کی، یہ اونٹ کس لئے لے کر آئے ہو ؟ اس نے جواب میں یہ سوچا کہ دوسرے اونٹ کی کبھی آپ کو ضرورت پڑ جائے گی ۔ تو ابوذر نے کہا کہ مجھے ان کی اس وقت کے لئے ضرورت ہے جب میری آنکھیں اس جہان فانی سے بند ہوں گی) کیا ہی اچھا ہے کہ اس دن کے لئے سامان کرلوں)۔ خدا فرماتا ہے کہ : ” لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ “ ۳۔ ہارون رشید کی زوجہ کے پاس قرآن مجید کا ایک بہترین قیمتی نسخة تھا جو جواہرات سے مزین و مرصّع تھا اور وہ اس کو بہت پسند کرتی تھی۔ ایک روز قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے جب اس آیت ” لن تناالبر ...“پر پہنچی تو آیت پڑھتے ہیں وہ درطہٴ معیرت میں پڑ گئی اور اپنے دل میں خیال کر نے لگی کہ اس قرآن مجید سے میرے نزدیک کوئی چیز بہتر نہیں ہے لہٰذا اسے راہ خدا میں خرچ کرنا چاہئیے اس نے جواہر فروشوں کو بلواکر اس کی زیب و زینت کی چیزیں اور جواہرات فورخت کردئے اور ان کی قیمت سے مجاز کے بیابانوں میں بادیہ نشینوں کے لئے پانی مہیا کیا۔ کہا جاتاہے کہ آج بھی ان میں سے کچھ کنویں موجود ہیں اور اسی کے نام سے منسوب ہیں ۔ ۹۳۔ کُلُّ الطَّعَامِ کَانَ حِلًّا لِبَنِی إِسْرَائِیلَ إِلاَّ مَا حَرَّمَ إِسْرَائِیلُ عَلَی نَفْسِہِ مِنْ قَبْلِ اٴَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قُلْ فَاٴْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوھَا إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِینَ۔ ۹۴۔ فَمَنْ افْتَرَی عَلَی اللهِ الکَذِبَ مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ فَاٴُوْلَئِکَ ھُمْ الظَّالِمُونَ۔ ۹۵۔ قُلْ صَدَقَ اللهُ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاہِیمَ حَنِیفًا وَمَا کَانَ مِنْ الْمُشْرِکِینَ۔ ترجمہ ۹۳۔تمام ( پاک ) غذائیں بنی اسرائیل کے لئے حلال تھیں سوائے ان کے جنہیں اسرائیل ( یعقوب ) نے تورات کے نزول سے پہلے اپنے لئے حرام قرار دیا تھا ( مثال کے طور پر اونٹ کو گوشت جو ان کے لئے ضرر رساں تھا)ان سے کہوتم (اپنے اعتراض میں ) سچّے ہو تو لاوٴ تورات اور اسے پڑھو( یہ غلط باتیںجو تم گذشتہ انبیاء کی طرف منسوب کرتے ہو تمہاری تحریف شدہ تورات میں بھی نہیں ہیں ۔ (مجمع البیان جلد ۲ صفحہ ۴۷۴۔) ۹۴۔اس کے بعد بھی جو اپنی گھڑی ہوئی جھوٹی باتیں خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں ( اور وہ جان بوجھ کر ایسا کرتے ہیں ) وہی در حقیقت ظالم ہیں ۔ ۹۵۔کہہ دو ، اللہ نے سچ فرمایا ( اور یہ ابراہیم کے پاک دین میں نہیں تھا )لہٰذا تم یکسو ہو کر ابراہیم ابراہیم کے آئین کی پیروی کرو جو حق پسند تھے اور یقینا ابراہیم شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے ۔ شان نزول مفسرین کے اقوال سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہودیوں نے پیغمبر اکرم پر خصوصیت کے ساتھ دو اعتراض کئے تھے: ۱۔ پیغمبر اسلام نے اونٹ کے گوشت اور دودھ کو حرام کیوں نہیں قرار دیا جبکہ یہ نہ صرف ابراہیم (ع) بلکہ حضرت نوح(ع) کے دین میں بھی حرام تھے اور ان کی پیروی کرتے ہوئے یہودی بھی اسے حرام سمجھتے تھے ۔ ۲۔ رسول اکرم کیونکر گذشتہ انبیاء خصوصاً حضرت ابراہیم (ع) کے وفا دار ہوسکتے ہیں حالانکہ تمام پیغمبر بیت المقدس کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور اس کی طرف نماز پرھتے تھے ۔ لیکن ختمی مرتبت نے اس کی بجائے کعبہ کو قبلہ بنا لیا ۔ مندرجہ بالا آیات میں ان کی پہلی بات کا جواب دیا گیا ہے اور آئندہ آیات ان کے دوسرے اعتراض کا جواب دیں گی ۔ ۱# مجمع البیان ، صحیح مسلم و بخاری۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:92
ایمان کی ایک نشانی
ایمان کی ایک نشانی ” لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ“ لفظ ”بَرّ“ عربی زبان میں وسعت کا ہم معنیٰ ہے اسی لئے وسیع صحرا کو ”بَرّ“ (باکی فتح کے ساتھ ) کہاتا جاتا ہے اور اسی مناسبت سے ان نیک کاموں کو بِر( باکی زیر کے ساتھ ) کہتے ہیں جن کا ثمرہ و نتیجہ عام اور وسیع ہو اور دوسروں تک پہنچے،”بِر“ ” خیر “ کے درمیان لغت عرب کے لحاظ سے یہ فرق ہے کہ ”بِر“وی نیک کام ہوتا ہے جو تو جہ اور قصد و اختیار کے ساتھ ہو لیکن ” خیر“ ہر قسم کی نیکی کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ خواہ وہ کسی توجہ اور التفات کے بغیر کی گئی ہو۔ مندرجہ بالا آیت میں فرمایاگیا ہے تم لوگ اس وقت ”بر“ اور نیکی کی حقیقت کو نہیں پا سکتے جب تک اس چیز میں سے راہ خدا میں خرچ نہ کرو جس سے تم محبت کرتے ہو۔ اس آیت میں لفظ ”بر“ کے متعلق مفسرین حضرات نے تفصیلی گفتگو کی ہے بعض نے اس کا معنیٰ بہشت بتا یا ہے اور بعض کے نزدیک یہ تقویٰ اور پر ہیز گاری کا ہم معنیٰ ہے جب کہ ایک زمرہٴ مفسرین نے اس سے نیک جزاٴ امر اولیٰ ہے ۔ لیکن قرآنی آیات سے مفہوم ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ بر ایک وسیع معنی میں ہے جس میں تمام نیکیاں خواہ ایمان ہو یا پاک عمل شامل ہیں ، جیسا کہ سورہ بقرہ کی آیت ۱۷۷ سے معلوم ہوتا ہے ” لَیْسَ الْبِرَّ اٴَنْ تُوَلُّوا وُجُوھَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَکِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلاَئِکَةِ وَالْکِتَابِ وَالنَّبِیِّینَ وَآتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّہِ ذَوِی الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِینَ وَابْنَ السَّبِیلِ وَالسَّائِلِینَ وَفِی الرِّقَابِ وَاٴَقَامَ الصَّلاَةَ وَآتَی الزَّکَاةَ وَالْمُوفُونَ بِعَھْدِہِمْ إِذَا عَاھَدُوا وَالصَّابِرِینَ فِی الْبَاٴْسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِینَ الْبَاٴْسِ اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ صَدَقُوا وَاٴُوْلَئِکَ ھمْ الْمُتَّقُون۔“ یعنی ..... نیکی یہ نہیں کہ تم اپنا منہ مشر ق و مغرب کی طرف پھیرلو ۔ نیک لوگ تو وہ ہیں جو اللہ ،یوم آخرت ، ملائکہ ، کتاب اور انبیاء پر ایمان لائے اور انہوں نے اس کی محبت میں رشتہ داروں ، یتیموں اور فقیروں کو ( اپنا )مال دیا اور اسی طرح مسافروں کے لئے سوال کرنے والوں کے لئے اور غلاموں کو آزاد کروانے کے لیے اپنا مال خرچ کیا، نماز قائم کی اور زکوٰة ادا کی اور جب وہ عہد کرتے ہیں تو اسے پورا کرتے ہیں وہ فقر ، بیماری اور جنگ میں صبر کرنے والے ہیں ۔ یہی لوگ راستباز اور پر ہیز گار ہیں ۔ مذکورہ بالا آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ پر ور دگار ِ عالم ،روز جزاء اور انبیاء و مرسلین پر ایمان لانا، حاجتمندوں کی مدد کرنا ، نماز پڑھنا ، روزہ رکھنا ، عہد پورا کرنا او رمشکلات و حوادث کا استقامت اور پا مردی سے مقابلہ کرنا یہ سب بِرّکے شعبے شمار ہوتے ہیں ۔ بنابر این حقیقی نیک لوگوں کا مقام حاصل کرنے کے لئے بہت سی شرائط ہیں ان میں سے ایک شرط ان اموال میں سے راہ خدا میں خرچ کرنا جن سے انسان کا ولی لگاوٴ ہو کیونکہ خدا کے ساتھ حقیقی عشق و محبت انسانیت و اخلاق کا احترام اس وقت ظاہر ہوتا ہے جن انسان ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہو جہاں ایک طرف مال و ثروت یا مقام و منصب ہو جوکہ انسان کو اپنی طرف کھینچے ہیں اور اس کے مقابلے میں دوسروں طرف خدا، حقیقت ، انسانی ہمدردی اور نیکو کاری ہو ۔ اگر اس نے پہلی جانب سے صرف دوسری جانب کو اختیار کیا تو اس سے اس کے عشق اور لگاوٴ کا علم ہو سکتا ہے ۔ ۹۲۔ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَیْءٍ فَإِنَّ اللهَ بِہِ عَلِیمٌ ۔ ترجمہ ۹۲۔تم ہر گز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں ( خدا کی راہ میں ) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو او جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے بے خبر نہ ہوگا ۔