إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِم مِّلْءُ الْأَرْضِ ذَهَبًا وَلَوِ افْتَدَى بِهِ أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ
Indeed those who turn faithless and die while they are faithless, a world of gold will not be accepted from any of them should he offer it for ransom. For such there will be a painful punishment, and they will have no helpers.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:91
[Pooya/Ali Commentary 3:91] Aqa Mahdi Puya says: The rebellious heart and the indifferent attitude toward Allah's laws and commandments, of a disbeliever, render him liable for an everlasting painful punishment, and from him shall not be accepted an earthful of gold if he were to give it in alms in this world to ransom himself from punishment in the hereafter. The decree of punishment for him is final and definite. No amount of charity will be of any use to alleviate the deserved punishment from Allah.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:91
فصول کفارہ
فصول کفارہ ” إِنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا وَمَاتُوا وَهم کُفَّارٌ فَلَنْ یُقْبَلَ مِنْ اٴَحَدِہِمْ مِلْءُ الْاٴَرْضِ ذَہَبًا وَلَوْ افْتَدَی بِہِ“ یہ آیت ایسے افراد کے بار ے میں ہے جنہوں نے حالت کفر میں زندگی گزاری ہے اور اسی حالت میں دنیا سے چلے گئے ہیں ، قرآن کہتا ہے : جو لوگ راہ حق واضح ہونے جاکے باوجود طغیان اور سر کشی کا راستہ اختیار کئے رہے ہیں اور حقیقتاً سر تسلیم خم نہیں کرتے ان کی بخششیں اور عطیات قابلِ قبول نہیں ہوں گے اور ان کے لئے راہ نجات نہیں ہے اگر چہ خرچ کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان کی بخشش کتنی بھی زیادہ کیوں نہ ہو قلب و روح کی آلودگی اور حق سے دشمنی کے ہوتے ہوئے ان کے لئے موٴثر نہیں ہے ورنہ واضح ہے کہ اگر ساری زمین سونے سے پر ہوجائے تو سونے کی قدر و قیمت مٹی کے برابر ہو جائے گی اس بناء پر مندرجہ بالاجملہ اس معاملے کی اہمیت ثابت کرنے کے لئے ہے ۔ اس بارے میں کہ اس انفاق اور خرچ کرنے سے مراد اس جہان میں انفاق کرنا ہے یا دوسرے جہاں میں تو اکثر مفسرین نے دونوں احتمالات ذکر کئے ہیں لیکن آیت کا ظہور دوسرے جہاں سے ربط رکھتا ہے یعنی حالت کفر میں مرجانے کے بعد اگر فرض کریں کہ زمین کی بہت بڑی دولت و ثروت ان کے اختیار میں ہو اور وہ خیال کریں کہ اس جہان کی طرح اس سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو سزا سے بچالیں گے تو یہ ان کا بہت بڑا اشتباہ ہو گا اور یہ مالی جرمانہ اور فدیہ ان کی سزا کی کیفیت پر کسی قسم کا کوئی اثر نہیں ڈال سکے گا ۔ ”اٴُوْلَئِکَ لَهم عَذَابٌ اٴَلِیمٌ وَمَا لَهم مِنْ نَاصِرِین“ ان کے لئے دردناک عذاب یقینی ہے اور اس عظیم سزا سے بچا نے کے لئے انہیں کوئی حامی و مدد گار نہیں مل سکے گا اور شفاعت کرنے والوں کی شفا عت بھی انہیں میسر نہ ہوگی ۔