كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ إِلَّا مَا حَرَّمَ إِسْرَائِيلُ عَلَى نَفْسِهِ مِن قَبْلِ أَن تُنَزَّلَ التَّوْرَاةُ قُلْ فَأْتُوا بِالتَّوْرَاةِ فَاتْلُوهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ
All food was lawful to the Children of Israel except what Israel had forbidden himself before the Torah was sent down. Say, ‘Bring the Torah, and read it, if you are truthful.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:93
[Pooya/Ali Commentary 3:93] Aqa Mahdi Puya says: The Jews in the Holy Prophet's time were accusing the Muslims of taking certain foods which, they said, had been unlawful since the days of Ibrahim. The Quran denies the charge, and puts the Jews to silence by a reference to their own scripture, the Tawrat. The original law of Musa contained the same prohibitions and permissions, concerning eatables, prescribed by Islam, but the Jews had corrupted the book revealed to Musa and replaced it with fanciful customs, acquired paganish points of view and introduced them in their faith over the years. Bahimatul an-am (four-footed animals such as goats, sheep, oxen and camels and those like them who eat grass and vegetation) are allowed (Ma-idah: 1) except a few of them (the clawed flesh-eating animals like tigers, lions, cats, dogs- known as Siba'), eating of which is not allowed. See books of fiqh. According to An-am: 142 to 146 certain parts of the lawful animals were prohibited as a punishment because of the perverse and rebellious attitude of the Jews, otherwise none of the animals which eat grass or vegetation were forbidden even in the law of Musa, but due to the introduction of folklore in their religion, the Jews wrongly presumed that camel and its milk were the forbidden items since the days of Ibrahim. This verse exposes their ignorance. Islam (submission to Allah's will and command) was the religion of Ibrahim. The Tawrat and the Injil also contained the fundamentals of the true religion of Allah which purify the mind and the body in a practical and harmonious way. The harshness of Judaism and leniency of Christianity are far from the universal truth with reference to actuality.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:93-95
موجودہ تورات میں گوشت کی حرمت
موجودہ تورات سفر ” لادیان“ گیارھویں فصل میں حلال و حرام کے بارے میں اس طرح کا حکم موجودہے : جگالی کرنے والے اور پھٹے ہوئے سم والے جانوروں کو نہ کھاوٴ اور اونٹ باوجودیہ کہ وہ جگالی کرتا ہے مگر اس کا سم پھٹا ہو ا نہیں ہے ، وہ تمہارے لئے حرام ہے ۔ مذکورہ جملوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہودی اونٹ کا گوشت اور باقی پھٹے ہوئے سم والے جانوروں کو حرام جانتے تھے ۔ لیکن دین ابراہیم (ع) اور نوح(ع) میں ان کی حرمت پر کسی قسم کی دلیل نہیں ملتی ۔ ممکن ہے یہ چیزیں ان غذاوٴں میں سے ہوں جو یہودیوں پر سزا کے طر پر حرام کی گئی ہوں ۔ ” قُلْ صَدَقَ اللهُ فَاتَّبِعُوا مِلَّةَ إِبْرَاہِیمَ حَنِیفًا وَمَا کَانَ مِنْ الْمُشْرِکِینَ“۔ جب تم نے دیکھ لیا کہ میں اپنی دعوت میں سچا اور راست گو ہوں تو تم میرے دین کی پیروی کرو جو کہ ابراہیم کا پاک اور بے آلائش دین ہے ۔ کیونکہ وہ ضعیف تھا یعنی باطل ادیان کو چھوڑ کر حق کی طرف مائل تھا اور اس کے احکام میں پاک غذاوٴں کے متعلق ایک حکم بھی انحرافی اور بے دلیل نہیں تھا اور وہ ہر گز مشرکین میں سے نہیں تھا اور یہ جو مشرکین عرب اپنے کو دین ابراہیم (ع) کا پیرو سمجھتے ہیں بالکل لغو اور بے معنی ہے ۔ بت پرست کہا اور بت شکن کہاں توجہ طلب امر یہ ہے کہ قرآن میں متعدد مقامات پر اس جملہ کو دہرا یا گیا ہے کہ ابراہیم (ع) مشر کین میں سے نہیں تھے۔ کیونکہ پہلے ہی اشارہ کیا گیا ہے کہ زمانہ جاہلیت کے بت پرست اپنے آپ کو دین ابراہیم (ع) کا پیرو سمجھتے تھے اور وہ اس دعویٰ میں اتنے سخت تھے کہ دوسرے لوگ حنفاء ( ابراہیم کے پیرو کار ) کے طور پر ان کا تعارف کراتے تھے ۔ اس لئے قرآن بار بار اس بات کی نفی کرتا ہے ۔ ۹۶۔ إِنَّ اٴَوَّلَ بَیْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِی بِبَکَّةَ مُبَارَکًا وَہُدًی لِلْعَالَمِینَ ۔ ۹۷۔ فِیہِ آیَاتٌ بَیِّنَاتٌ مَقَامُ إِبْرَاہِیمَ وَمَنْ دَخَلَہُ کَانَ آمِنًا وَلِلَّہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنْ اسْتَطَاعَ إِلَیْہِ سَبِیلًا وَمَنْ کَفَرَ فَإِنَّ اللهَ غَنِیٌّ عَنْ الْعَالَمِینَ ۔ ترجمہ ۹۶۔ پہلا گھر جو لوگوں ( اور خدا سے تضرع و خضوع) کے لئے مقرر کیا گیا ہے وہ سر زمین ِ مکہ میں ہے جو بار برکت ہے او ردنیا کے لئے ہدایت و رہبری کا سبب ہے ۔ ۹۷۔ اس واضح و آشکار نشانیاں ہیں ۔ ان میں سے مقام ابراہیم ہے اور جو شخص اس میں داخل ہو وہ امان میں ہے اور جو لوگ اس کی طرف جانے کی قدرت رکھتے ہیں ان پر واجب ہے کہ وہ خدا کے لئے ( اس کے ) گھر کی زیارت کریں اور جو کوئی کفر کرے ( حج ترک کرے ) اس نے اپنے آپ کو نقصان پہنچا یا ، تو پھر خدا تو تمام جہانوں سے بے نیاز ہے۔ ۱#عرق النساء ایک اعصابی مرض ہے اس کی وجہ سے کمر اور پاوٴں کے اعصاب میں تکلیف ہوتی ہے جس سے بعض اوقات انسان چل پھر نہیں سکتا ۔