يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تُحَاجُّونَ فِي إِبْرَاهِيمَ وَمَا أُنزِلَتِ التَّوْرَاةُ وَالْإِنجِيلُ إِلَّا مِن بَعْدِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
O People of the Book! Why do you argue concerning Abraham? Neither the Torah nor the Evangel were sent down until [long] after him. Do you not exercise your reason?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:65
[Pooya/Ali Commentary 3:65] Aqa Mahdi Puya says: Judaism and Christianity were instituted after the revelation of the Tawrah and the Injil to Musa and Isa respectively, whereas, according to the Quran, the religion of Allah, Islam, was preached and practised by all His prophets from Adam to Muhammad. From the beginning of the world to its end, Islam (total submission to the will of Allah) remains to be the only religion of Allah. Therefore to argue whether Ibrahim was a Jew or a Christian is a meaningless dispute between the two religions conjured out after centuries and centuries of Ibrahim's time. According to Baqarah: 128 and Hajj: 78. Ibrahim and his descendants were Muslims. Islam is the universal religion. All His prophets and their true followers were Muslims. Badshah Husain, in his English translation of the Quran, writes as under; The Jewish belief is also difficult to define. Time was when it was grossly anthropomorphic and 'monolatros' (as Charles expressively calls it). The Yahweh was only the tribal God of Israel, the gods of other nations were not false, but it was the duty of Israelites to reject them. As culture extended, the other gods began to be denied and Yahweh remained the sole Lord and anthropomorphism also decreased and explanations were devised to interpret passages in the Pentateuch that spoke of God as walking in the gardens, fighting duels with men and the like. (Vol. II p. 53) The Jews and the Christians dispute about the identity of the Holy Prophet whose advent has been clearly mentioned in the Tawrat and the Injil, of which they are fully aware. They do not know anything about the religion of Ibrahim, yet they, out of ignorance, say that he was a Jew or a Christian, whereas only Allah knows that he was a Muslim, neither a Jew nor a Christian. Whoso has submitted to the will of Allah, at any time and in any age, is a Muslim. To every people a prophet had been sent to preach Islam (submission to Allah) but each successive dispensation had been abused by its votaries, who in the course of time had turned aside from the true religion of Allah. It was the mission of the Holy Prophet to re-affirm, complete and perfect the religion of Allah in its minutest details, and make arrangements to let it prevail in all ages for all times to come, through the final book of Allah (the Quran), his Ahl ul Bayt and his way of life (sunnah).
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:65-68
مکتب و ہدف کا رشتہ
” إِنَّ اٴَوْلَی النَّاسِ بِإِبْرَاہِیمَ لَلَّذِینَ اتَّبَعُوہُ .......“ خدا کے عظیم پیغمبر حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے بارے میں اہل کتاب کی باتوں کے خاتمے کے لیے قرآن نے یہاں ایک بنیادی بات کی ہے نیز ان میں سے ہرایک انہیں اپنے میں سے سمجھتا تھا اور شاید زیادہ تر اس عظیم پیغمبر سے قرابت کے مسئلہ کاسہارا لیتے تھے یا نسب و قومیت کو ان سے قربت کی دلیل سمجھتے تھے اس لیے قرآن نے وضاحت کی ہے کہ انبیاء سے دوستی او ر ارتباط صرف ایمان اور ان کی پیروی کے ذریعہ ہوتا ہے ، اس بناء پر ابراہیم (علیه السلام)سے زیادہ وفادار ہیں چاہے وہ لوگ جو ان کے زمانے میں موجود تھے ” للذین اتبعوہ “ اور چاہے وہ لوگ جو ان کے بعد مکتب اور پروگرام کے وفادار رہے ۔ مثلاً پیغمبر اسلام اور آپ کے پیروکار ۔ اس کی دلیل بھی واضح ہے اور وہ یہ ہے کہ انبیاء کا احترام ان کے مکتب ومذہب کی وجہ سے تھانہ کہ ان کی قوم ، قبیلے اور نسب کے سبب۔ لہٰذا ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ اہل بیت کتاب اپنے مشر کانہ عقائد کی وجہ سے حضر ت ابراہیم (علیه السلام)دعوت کی سب سے اہم بنیاد ہی سے منحرف ہو گئے ہیں جب کہ پیغمبر اسلام اور مسلمان اس بنیاد پر قائم ہیں اور اس اصل کو اسلام کے تمام اصول و فروع میں وسعت دیتے ہوئے اس کے مخلص ترین وفادار ہیں ۔ اس لئے یہ اعتراف کرنا چاہئیے کہ ابراہیم (علیه السلام) سے زیادہ قریب یہ لوگ ہیں نہ کہ وہ ۔ مندرجہ بالا آیت میں انبیاء سے رابطے کے لئے صرف مکتب و ہدف سے ربط کو دلیل شمار کیا گیا ہے اور کسی اور چیز کو نہیں لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ پیشوایان اسلام سے مروی روایات میں صراحت سے اسی کا سہارا لیا گیا ہے ۔ ان میں سے ایک روایت تفسیر ” مجمع البیان ” اور ” نو ر الثقلین “ میں حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے ۔ آپ (علیه السلام) نے فرمایا : ” انّ اولی النّاس بالانبیاء اعملھم بما جاء وا بہ ثمّ تلا ھٰذہ الاٰیة ۔ وقال انّ ولی محمد من اطاع اللہ و ان بعدت لحمتہ و انّ عدوّ محمد من عصی اللہ و ان قربت قرابتہ۔“ ”انبیاء سے قریبی تعلق رکھنے والے لوگ وہ ہیں جو ان احکام پر سب سے زیادہ عمل کرتے ہیں محمد کا دوست وہ ہے جو فرمان خدا کی اطاعت کرتا ہے اگر چہ نسبی طور پر وہ آپ سے دور ہو اور محمد کا دشمن وہ ہے جو خدا کی نافرمانی کرتا ہے اگر چہ وہ محمد کا نزدیکی قرابت دار ہو “ ”و اللہ ولی المومنین “۔ آیت کے آخر میں خدا کے عظیم پیغمبروں کے مکتب کے حقیقی پیروکاروں کو بشارت دی گئی ہے کہ خدا ان کا ولی ، سر پرست ، محاظ، یا ور اور نگہبان ہے ۔ ۶۹۔وَدَّتْ طَائِفَةٌ مِنْ اٴَہْلِ الْکِتَابِ لَوْ یُضِلُّونَکُمْ وَمَا یُضِلُّونَ إِلاَّ اٴَنْفُسَهم وَمَا یَشْعُرُونَ ۔ ترجمہ ۶۹۔ اہل کتاب ( یہود) کا ایک گروہ چاہتا تھا کہ تمہیں گرماہ کردے لیکن ( انہیں جالینا چاہیئے کہ وہ تمہیں گمراہ نہیں کرسکتے) وہ اپنے آپ کو ہی گمراہ کرتے ہیں ، مگر سمجھتے نہیں ۔ شان نزول ; بعض مفسرین نے نقل کیا ہے کہ بعض یہودیوں کی کوشش تھی کہ پاک دل مسلمانوں میں سے مشہور افراد مثلاً معاذ اور عمار وغیرہ کو اپنے دین کی طرف دعوت دیں اور شیطانی وسوسوں کے ذریعے انہیں اسلام سے موڑ لیں ۔ اس پرمندرجہ بالاآیت نازل ہوئی جس کے ذریعے تمام مسلمانوں کو اس سلسلے میں خطرے سے باخبر کیا گیا ہے ۔