قُلْ يَاأَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ
Say, ‘O People of the Book! Come to a common word between us and you: that we will worship no one but Allah, that we will not ascribe any partner to Him, and that some of us will not take some others as lords besides Allah.’ But if they turn away, say, ‘Be witnesses that we have submitted [to Allah].’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:64
[Pooya/Ali Commentary 3:64] Aqa Mahdi Puya says: The Holy Prophet, while preaching the truth, adhered to the policy of peace and rational adjustment with the non-Muslims. The original scriptures of the Jews and the Christians also preached monotheism. See commentary of al Baqarah: 255. Even the corrupted editions of the Old and the New Testaments contain the truth in Exodus 20: l to 4; Deut 6: 4; Isaiah 42: 8, 44: 6-45: 5, 18, 21, 22-48: 12; (1) Corinthians 8: 4, 6; Ephesians 4: 5, 6. The worship of human-gods crept into their religion when they began to consider their rabbis and monks and Isa to be as gods, apart from Allah (see Tawbah: 30 and 31). Therefore, in this verse, the Jews and the Christians are invited to agree to worship none save Allah and not to associate anything with Him, which is a common doctrine between them and the Muslims. If they do not agree, the Muslims have been asked not to accommodate them in any way, since their false faith could contaminate the pure monotheism that the Muslims believe in and hold dear to their hearts. From the beginning of this chapter the Quran refers to the unity of God (tawhid), not only as the creator but also as the absolute sovereign of all that has been created by Him (and everything has been created by Him), unto whose legislative will all have to submit. Every one must obey Him, revere Him, and worship Him. All the created beings, on the earth and in the heavens and in between them (may be some of them are superior to others) are His slaves, servants and subordinates. To associate any thing, in any way, as a separate authority, with Him is polytheism (shirk). "There is no god save Allah" is the divine declaration. All the followers of the heavenly scriptures have been commanded, after giving undeniable proofs that all the prophets including Musa and Isa were the created beings, to base their views and doctrines on this fundamental principle. The views and the theories laid down by any individual or by a group of individuals, concerning the truth, have no value at all. Adherence to such views and doctrines, replacing the divine declarations, means choosing others as an authority besides Allah. "The religion with Allah is Islam" (see verse 19 of this surah) is the final divine announcement, after which there is no room for the controversies which have created many schools of thought, contradictory and hostile to each other, among the followers of the prophets. If all the followers of the prophets had kept intact the revealed books, and held fast to the true teachings of the messengers of Allah, instead of lending ear to the conjectural theorising of the rabbis and the priests, there would have not been so many dissenting divisions. Some followers of the Holy Prophet also ignored the teachings of the Quran and the declaration of the Holy Prophet regarding his Ahl ul Bayt and have gone astray, because they have turned to others, instead of the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt, for the truth, although the truth had been made clear by the Holy Prophet (see commentary of Ma-idah: 67). To rely on others and ignore the messenger of Allah is to obey a ghayrallah (other than Allah), which is shirk. Here it must be kept in mind that to pay respect, love, or adore those who, in obedience and submission to Allah, are acclaimed as models or ideals, is in itself obedience and submission to Allah. Remembrance or commemoration of such godly servants of Allah serves the purpose of service and devotion to Allah, as has been stated in verses 48 and 49 of al Sad. The surest way to worship and obey Allah is to follow the teachings and directions given by His prophets, messengers, and their appointed successors (please refer to verses 69 and 80 of al Nisa). But if they are held in esteem more or less than that which Allah has determined for them, or some other individuals are given the same status without any divine declaration, then it is like taking others to be gods apart from Allah (Tawbah: 3)
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 3:64-80
Results of mutilating and misrepresenting facts in religion are: 1. No share of eternity, i.e. Hell. 2. No talk with God. 3. No Divine Grace. 4. No acceptance of penance. Note: Those who have misrepresented the Prophet’s sermon in the Valley of Khum must take a lesson.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:64
پیغمبر اکرم کے خطوط دنیا کے بادشاہوں کے نام
تاریخ اسلام سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سر زمین حجاز میں اسلام کافی نفوذ کرچکا تو پیغمبر اکرم نے اس زمانے کے بڑے بڑے حکمرانوں کے نام کئی ایک خطوط روانہ کئے ۔ ان میں بعض خطوط میں مندرجہ بالا آیت کا سہارا لیا گیا ہے ، جس میں آسمانی ادیان کی قدر و مشترک کا تذکرہ ہے ۔ ان میں سے بعض اہم خطوط کا ذکر کیا جاتا ہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:64
یٰا ھل الکتاب لم یحآجّون فیّ ابراہیم
تفسیر : ” یٰا ھل الکتاب لم یحآجّون فیّ ابراہیم ..............“ تاریخ کے مطالعہ سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ یہودی ظہور اسلام کے وقت ہی سے اس دین سے خاص دشمنی اور عداوت رکھتے تھے ۔ اسلام کے نفوذ، پھیلاوٴ اور اس جدید دین کے ذریعے دین مسیح کے منسوخ ہوجانے سے عیسائیوں کا ایک گروہ بھی اس کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ۔ یہ لوگ کبھی کبھی بحث مباحثے ، حجت بازی اور جھگڑے کے لئے اپنے وفادار افراد کو نبی اکرم کے پاس بھیجتے تھے اور وہ اس طرح اپنے دین کو بہتر ثابت کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ ان امور میں سے ایک یہ تھا کہ وہ سب کے سب کوشش کرتے کہ خدا کے عظیم پیغمبر حضرت ابراہیم (علیه السلام) کو اپنے میں سے ثابت کریں کیونکہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) تمام مذاہب کے پیروکاروں میں معظم ومحترم سمجھے جاتے تھے ۔ یہودی مدعی تھے کہ وہ ان میں سے ہیں اور ان کے دین کے پیرو ہیں ۔ یہی دعویٰ عیسائی بھی کرتے تھے ۔ مندرجہ با لا آیت میں قرآن انہیں جواب دیتا ہے کہ اصولی طو رپر خدا کے مبارزو مجاہد پیغمبر حضرت ابراہیم کے بارے میں تمہارا جھگڑا او ر گفتگوہی بیکار ہے کیونکہ وہ تو سالھا حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ سے پہلے ہو گزرے ہیں اور تورات و انجیل ان کے کئی سال بعد نازل ہوئیں ۔ (”وَمَا اٴُنْزِلَتْ التَّوْرَاةُ وَالْإِنجِیلُ إِلاَّ مِنْ بَعْدِہِ“) کیا یہ چیز معقول ہے کہ گزشتہ پیغمبراپنے سے بعد والے دین کا پیرو کار ہو اٴَفَلاَتَعْقِلُونَ کیا تم تفکر و تعقل نہیں کرتے ۔ ”ہَآ اٴَنْتُمْ ہَؤُلاَءِ حَاجَجْتُمْ فِیمَا لَکُمْ بِہِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّونَ فِیمَا لَیْسَ لَکُمْ بِہ عِلْمٌ “ یہاں خدا تعالیٰ انہیں سر زنش کرتا ہے کہ اپنے مذہب سے مربوط مسائل جن کا تمہیں علم تھا ان کے بارے میں تم نے گفتگو اور بحث کی ہے ( اور تم نے دیکھ لیا جن مباحث کے بارے میں تمہارے خیال میں علم تھا ان میں بھی تم کیسے کیسے اشتباہات میں مبتلا اور حقیقت سے دور تھے واقع میں تمہارا علم جہل مرکب تھا ۔ اس کے باوجودجس چیز کی تمہیں خبر نہیں اس کے بارے میں بحث مباحثہ کرتے ہو اور نتیجے کے طور پر تم ایسا دعویٰ کرتے ہو جو کسی تاریخ کے مطابق درست نہیں ۔ اس کے بعدآیت کے آخر میں گزشتہ مطالب کی تاکید کے لئے اور بعد والی آیت کی بحث کی طرف متوجہ کرنے کے لئے فرمایا گیا ہے : خدا جانتا ہے اور تم جانتے ” وَاللهُ یَعْلَمُ وَاٴَنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ “ ” مَا کَانَ إِبْرَاہِیمُ یَہُودِیًّا وَلاَنَصْرَانِیًّا .......“ یہاں صراحت سے ان کے دعووٴں کا جواب دیا گیا ہے اور فرمایا گیا ہے : ابراہیم یہودی تھے نہ عیسائی بلکہ پاک اور خالص موحّد تھے اور خدا کے حضور سر تسلیم خم کئے ہوئے تھے اور کبھی تمہاری طرح شریک ِ خدا کے قائل نہیں ہوئے تھے ، توجہ رہے کہ لفظ ” حنیف“ مادہ ” حنف“ ( بروزن ” انف“) سے ہے اور ایسے شخص یا چیز کے معنی میں بولاجاتا ہے جو کسی طرف مائل ہو اور قرآن کی زبان میں ایسے شخص کے لئے بولا جاتا ہے جو اپنے زمانے کے باطل دین سے منہ موڑ کر دین حق کی طرف مائل ہو ۔ مندرجہ بالا آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی ” حنیف“ کے لقب سے توصیف کی ہے کیونکہ انہوں نے تقلیداورتعصب کے پردے چاک کردئے تھے آپ (علیه السلام) ایسے ماحول اور زمانے میں ہر گز بتوں کے سامنے نہیں جھکے جو بت پرستی میں غرق تھا لیکن زمانہ جاہلیت کے بت پرست عرب بھی اپنے کو ابراہیم کے دین ” حنیف“ کے لقب سے توصیف کی ہے کیونکہ انہوں تقلید اور تعصب کے پردے چاک کردئے تھے آپ ایسے ماحول اور زمانے میں ہر گز بتوں کے سامنے نہیں جھکے ج وبت پرستی میں غرق تھا لیکن زمانہ جاہلیت کے بت پرست عرب بھی اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے دین ” حنیف “ پر سمجھتے تھے اور یہ بات اتنی مشہور تھی کہ اہل کتاب انہیں ” حنفاء“کہتے تھے یوں لفظ ” حنیف “ کا بالکل متضاد معنی پیدا ہوگیا تھااور ان کی نظر میں یہ لفظ بت پرستی کا مترادف اور ہم معنی ہوچکا تھا لہٰذا خداوند عالم نے حضرت ابراہیم (علیه السلام) کی ” حنیف“ کے عنوان سے توصیف کرنے کے بعد ” مسلماً “ اور ” وماکان من المشرکین “۔ کہہ کر ہر قسم کے دوسرے احتمال کی نفی کردی ۔ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کس طرح مسلمان تھے یہاں سوال پیداہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کو دین ِموسیٰ (علیه السلام) و عیسی (علیه السلام) کا پیرو کار نہیں کہا جاسکتا تو بطریق اولیٰ انہیں مسلمان بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ وہ تو ان ادیان سے پہلے تھے ، پھر قرآن ان کا تعارف ” مسلم “ کے طور پر کیوں کروارہا ہے ۔ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآن کی اصطلاح میں مسلم صرف پیغمبر اسلام کے پیرو کاروں کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اسلام کا ایک وسیع معنی ہے اور خدا کے حضور تسلیم مطلق، توحید کامل، نیز پر قسم کے شرک اور دوگانہ پرستی سے پاک کے معنی میں ہے اور اسی کے حضرت ابراہیم (علیه السلام)علمبردار تھے -
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:64
۲۔ قیصر روم کے نام خط
۲۔ قیصر روم کے نام خط ” بسم اللہ الرحمٰن الرحیم “۔ من محمد بن عبد اللہ الیٰ....... ھر قل عظیم الروم سلام ٌ علیٰ من اتّبع الھدیٰ امّا بعد ؛ فانّی ادعوک بد عایة الاسلام اسلم تسلم ، یوٴتک اللہ اجرک مرّتین فان تولّیت فانّما علیک اثم الاریسین۔۔۔۔۔۔” یآھل الکتاب تعالوا الیٰ کلمةٍ سوآءٍ بیننا و بینکم الاّ نعبد الاّ اللہ ولا نشرک بہ شیئاً وّلا یتّخذ بعضاً ارباباً من دون اللہ فان تولّوا فقو لوا اشھدوا بِانّا مسلمون“۔ ” اس پراسلام ہے جو ہدایت کی پیروی کرے میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں ۔ اسلام لے آوٴ تاکہ امام میں رہو ۔ خدا تجھے دو گناہ اجر دے گا (ایک تیرے ایمان لانے کا اور دوسرا ان لوگوں کا جو تیری وجہ سے ایمان لائیں گے) اور اگر تونے روگردانی کی تو اریسٰیوں ۔ کا گناہ بھی تیری گردن پر ہو گا ۔ اسے اہل کتاب ہم تمہیں مشترک بنیاد کی طرف دعوت دیتے ہیں کہ غیر خدا کی عبادت نہ کرو اور کسی کو اس کا شریک قرار نہ دو ۔ ہم میں سے بعض، دوسرے بعض کو خدا کے طور پر قبول نہ کریں اگر وہ دین حق سے سر تابی کریں تو کہہ دو کہ گواہ ہو ہم تو مسلمان ہیں “۔ قیصر کے پاس نبی اکرم (صلی الله علیه و آله وسلم) کا پیغام پہنچا نے کے لیے وجیہ کلبی مامور ہواسفیر پیغمبر عازم روم ہوا ۔ قیصر کے دار الحکومت قسطنطنیہ پہنچنے سے پہلے اسے معلوم ہو اکہ قیصر بیت المقدس کی زیارت کے ارادے سے قسطنطنیہ چھوڑ چکا ہے لہٰذا اس نے بصری کے گورنر حارث بن ابی شر سے رابطہ پیدا کیا اور اسے اپنا مقصد سفر بتایا ۔ ظاہر اً پیغمبر اکرم نے ابھی اجازت دے رکھی تھی کہ وجیہ وپ خط حاکم بصری کو دے دے تاکہ وہ اسے قیصر تک پہنچا دے ۔ سفیر پیغمبر نے گورنر سے رابطہ کیا تو اس نے عدی بن حاتم کو بلایا اور اسے حکم دیا کہ وہ وجیہ کے ساتھ بیت المقدس کی طرف روانہ ہوجائے اور خط پہنچا دے ۔ حمص میں سفیر کی قیصر سے ملاقات ہوئی لیکن ملاقات سے قبل شاہی کار کنانوں نے کہا: ” تمہیں قیصرکے سامنے سجدہ کرنا پڑے گا ورنہ وہ تمہاری پروہ نہ کرے گا “۔ وجیہ ایک سمجھدار انسان تھا ، کہنے لگا:۔ ” میں ان غیر مناسب رسموں کو ختم کرنے کے لئے اتنا سفر کرکے آیا ہوں ۔ میں اس مراسلہ کو بھیجنے والے کی طرف سے آیاہوں تاکہ قیصر کو یہ پیغام دوں کہ بشر پرستی کو ختم ہونا چاہئیے اور خدائے واحد کے سوا کسی کی عبادت نہیں ہونی چاہئیے اس عقیدے کے باوصف کیسے ممکن ہے کہ میں غیر خدا کے لیے سجدہ کروں “۔ پیغمبر کے قاصد کی قومی منطق سے وہ بہت حیران ہوئے ۔ درباریوں میں سے ایک نے کہا : تمہیں چاہئیے کہ خط بادشاہ کی میز پر رکھ کر چلے آوٴ اس میز پر رکھے ہوئے خط کو قیصر کے علاوہ کوئی نہیں اٹھا سکتا ۔ “ وجیہ نے اس کا شکریہ ادا کیا ، خط میز پر رکھا اور خود واپس چلا گیا ۔ قیصر نے خط کھو لا ۔ خب جو بسم اللہ سے شروع ہوا تھا اسے متوجہ کیا اور کہنے لگا ۔ ” حضرت سلیمان (علیه السلام) کے خط کے سوا آج تک میں نے ایسا خط نہیں دیکھا “ اس نے اپنے مترجم کو بلا یاتاکہ وہ خط بڑھے اور اس کا ترجمہ کرے ۔ باد شاہ ِ روم کو خیال ہوا کہ ہوسکتا ہے خط لکھنے والاہی نبی ہو جس وعدہ انجیل اور تورات میں کیا گیا ہے ۔ وہ اس جستجومیں لگ گیا کہ آپ کی زندگی کی خصوصیات معلوم کرے ، اس نے حکم دیا کہ شام کے پورے علاقے میں چھان بین کی جائے ، شاید محمد کے رشتہ داروں میں سے کوئی شخص مل جائے جو ان کے حالات سے واقف ہو ، اتفاق سے ابو سفیان اور قریش کا ایک گروہ تجارت کے لئے شام آیاہوا تھا ۔ شام اس وقت سلطنت روم کا مشرقی حصہ تھا ۔ قیصر کے آدمیوں نے ان سے رابطہ قائم کیا اور انہیں بیت المقدس لے گئے ، قیصر نے ان سے سوال کیا:۔ کیا تم میں سے کوئی محمد کا نزدیکی رشتہ دار ہے ؟ ابو سفیان نے کہا:۔ ” ابو سفیان نے کہا میں اور محمد ایک ہی خاندان سے ہیں اور ہم چھوتھی پشت میں ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں ۔ پھر قیصر نے اس سے کچھ سوالات کئے ۔ دونوں میں یوں گفتگو ہوئی :۔ قیصر: اس کے بزرگوں میں سے کوئی حکمراں ہواہے ؟ ابو سفیان : نہیں قیصر: کیا نبوت کے دعویٰ سے پہلے وہ جھوٹ بولنے سے اجتناب کرتا تھا؟ ابوسفیان : ہاں محمد راست گو اور سچا انسان ہے ۔ قیصر: کونسا طبقہ اس کا مخالف ہے اور کونسا موافق ؟ ابو سفیان : اشراف اس کے مخالف ہیں ، عام اور متوسط درجے کے لوگ اسے چاہتے ہیں ۔ قیصر : اس کے پیرو کار میں سے اس کے دین سے کو ئی پھیرا بھی ہے ؟ ابوسفیان : نہیں قیصر : کیا اس کے پیرو کار روز بروز بڑھ رہے ہیں ؟ ابو سفیان : ہاں اس کے بعد قیصر نے ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں سے کہا : ” اگر یہ باتیں سچی ہیں تو وہ یقینا پیغمبر موعود ہیں ۔ مجھے معلوم تھا کہ ایسے پیغمبر کا ظہور ہو گا لیکن مجھے یہ پتہ نہ تھا کہ وہ قریش میں سے ہوگا ، میں تیار ہوں کہ اس کے لئے خضوع کرو اور احترام کے طور پر اس کے پاوٴں دھووٴں2 میں پیش گوئی کرتا ہوں کہ اس کا دین اور حکومت سر زمین روم پر غالب آئے گی ۔ “ پھر قیصر نے وجیہ کو بلا یا اور اس سے احترام سے پیش آیا ۔ پیغمبر اکرم کے خط کا جواب لکھا اور آپ کے لئے وجیہ کے ذریعے ہدیہ بھیجا اور آپ کے نام اپنے خط میں آپ سے اپنی عقیدت اور تعلق کا اظہار کیا ۔ 3 ۶۵۔ یَااٴَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تُحَاجُّونَ فِی إِبْرَاہِیمَ وَمَا اٴُنْزِلَتْ التَّوْرَاةُ وَالْإِنجِیلُ إِلاَّ مِنْ بَعْدِہِ اٴَفَلاَتَعْقِلُونَ ۔ ۶۶۔ہَااٴَنْتُمْ ہَؤُلاَءِ حَاجَجْتُمْ فِیمَا لَکُمْ بِہِ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَاجُّونَ فِیمَا لَیْسَ لَکُمْ بِہِ عِلْمٌ وَاللهُ یَعْلَمُ وَاٴَنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ ۶۷۔ مَا کَانَ إِبْرَاہِیمُ یَہُودِیًّا وَلاَنَصْرَانِیًّا وَلَکِنْ کَانَ حَنِیفًا مُسْلِمًا وَمَا کَانَ مِنْ الْمُشْرِکِینَ۔ ۶۸۔ إِنَّ اٴَوْلَی النَّاسِ بِإِبْرَاہِیمَ لَلَّذِینَ اتَّبَعُوہُ وَھَذَا النَّبِیُّ وَالَّذِینَ آمَنُوا وَاللهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِینَ۔ ترجمہ ۶۵۔اسے اہل کتاب !( حضرت ) ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو( اور تم میں سے ہر ایک انہیں اپنے دین کا پیرو کار سمجھتا ہے)حالانکہ تو ریت اور انجیل ان کے بعد نازل ہوئی ہیں ، کیا تم عقل و فکر نہیں رکھتے ۔ ۶۶۔تم تو وہی ہو جو اس چیز کے بار ے میں فکر کرتے تھے جس کے بارے میں آگاہ ہوتے تھے اب ان چیزوں کے بارے میں گفتگو کیوں کرتے ہو جن سے آگاہ نہیں ہو، خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔ ۶۷۔ابراہیم یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ مخلص موحّد اور مسلمان شخص تھے اور وہ ہر گز مشر کین میں سے نہیں تھے ۔ ۶۸۔ ابراہیم سے اولویت ( اور زیادہ نسبت ) رکھنے والے وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور ان دور میں ان کے مکتب کے وفا دار تھے اور اس طرح )یہ وہ لوگ جو ( اس پر ) ایمان لائے ہیں اور خدا مومنین کا ولی اور سر پرست ہے ۔ ۱.مقوقس“( بروزن مفوض۔ بہ ضم میم و بہ فتح ہر دو قاف) ۔ ” ھرقل“ بادشاہ روم کی طرف سے مصر کا والی ۔ 2.یہ احترام کے اظہار کا ایک طریقہ تھا جو ان دنوں مروج تھا ۔ 3.مکاتیب الرسول ، ج۱ ، ص ۱۰۹۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:64
مقوقس۱ کے نام خط
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ من ۔۔۔۔۔۔محمد بن عبد اللہ الیٰ .....المقوقس عظیم القبط، سلام ٌ علیٰ من اتبع الھدیٰ ، اما بعد : فانّی ادعوک بدعایة الاسلام ، اسلم تسلم، یوٴتک اللہ اجرک مرّتین فان تولّیت فانّما علیک اثم القبط،یا اھل الکتاب تعالوا الیٰ کلمة سواء بیننا و بینکم ان لا نعبد الاّ اللہ و لانشرک بہ شیئاًوّ لا یتّخذ بعضنا بعضاً ارباباً مّن دون اللہ فانّ تولّوا اشھدوا بانّا مسلمون“۔ اللہ کے نام سے جو بخشنے والا اور برا مہر بان ہے از محمد بن عبد اللہبطرف قبطیوں کے مقوقسِ بزرگ حق کے پیرو کار کاروں پر سلام ہو ۔ میں تجھے اسلام کی دعوت دیتا ہوں ۔ اسلام لے آوٴ تاکہ سالم رہو ۔ خدا تجھے دو گناہ اجر دے گا ( ایک کود تمہارے ایمان لانے پر اور دوسرا ان لوگوں کی وجہ سے جو تمہاری پیروی کرکے ایمان لائیں گے ) اور اگر تونے قانون اسلام سے روگردانی کی تو قبطیوں کے گناہ تیرے ذمہ (ہوں گے ۔ ( قبطی قوم مصر میں آباد تھی ) اہل کتاب! ہم تمہیں ایک مشترک بنیادکی طرف دعوت دیتے ہیں اور وہ یہ کہ ہم خدا ئے یگانہ کے سوا کسی کی پرستش نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک قرار نہ دیں اور ہم میں سے بعض دوسرے بعض کو خدا کے طور پر قبول نہ کریں اور جب وہ دین ِ سے روگردانی کریں توان سے کہو کہ گواہ رہو ہم تو مسلمان ہیں ۔ ( مکاتیب الرسول ، ج ۱ ص ۹۷) جب مقوقس مصر کا حاکم تھا پیغمبر اسلام نے دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں اور حکام کو خطوط لکھے اور انہیں اسلام کی طرف دعوت دی ۔ حاطب ابن ابی بلتعہ کو آپ نے حاکم مصر مقو قس کی طرف یہ خط دے کر روانہ کیا ۔ پیغمبر کا سفیر مصر کی طرف روانہ ہوا، اسے اطلاع ملی کہ حاکم مصر اسکندریہ میں ہے لہٰذا وہ اس وقت کے ذرائع آمد و رفت کے ذریعے اسکندریہ پہنچا اور مقوقس کے محل میں گیا ۔ حضرت کا خط اسے دیا ۔ مقوقس نے خط کھول کر پڑھا کچھ دیر تک سوچتا رہا ۔ پھر کہنے لگا: ” اگر واقعاًمحمد کا بھیجا ہوا ہے تو اس کے مخالفین اسے اس کی پیدا ئیش کی جگہ سےباہر نکالنے میں کیوں کامیاب ہوئے اور وہ مجبور ہواکہ مدینہ میں سکونت اختیار کرے؟ ان پر نفرین اور بدعا کیوں نہیں کی تاکہ وہ نابود ہوجاتے ؟“ پیغمبر کے قاصد نے جواباً کہا : ” حضرت عیسیٰ (علیه السلام) خدا کے رسول تھے اور آپ بھی ان کی حقانیت کی گواہی دیتے ہیں ۔ بنی اسرائیل نے جب ان کے قتل کی سازش کی تو آپ(علیه السلام) نے ان پر نفرین اور بد دعا کیوں نہیں کی تاکہ خدا انہیں ہلاک کردیتا؟ یہ منطق سن کر مقوقس تحسین کرنے لگا اور کہنے لگا :۔ ” احسنت انت حکیم من عند حکیم “ ” آفرین ہے ، تم سمجھدار آدمی ہو اور ایک صاحب ِ حکمت کی طرف سے آئے ہو“۔ حاطب نے پھر گفتگو شروع کی اور کہا:۔ ” آپ سے پہلے ایک شخص( یعنی فرعون) اس ملک پر حکومت کرتا تھا ۔ وہ وہ مدتوں لوگوں پر اپنی خدائی کا سودا بیچتا رہا ، بآلاخر اللہ نے اسے نابود کردیا تاکہ اس کی زندگی آپ کے لئے باعث ِ عبرت ہو لیکن آپ کوشش کریں کہ آپ کی زندگی دوسروں کے لئے نمونہٴ عبرت نہ بن جائے “۔ ” پیغمبر اسلام نے ہمیں پاکیزہ دین کی طرف دعوت دی ہے ، قریش ن ے ان سے بہت سخت جنگ کی اور ان کے مقابل صف آراء ہوئے ، یہودی بھی کینہ پروری سے ان کے مقابلے میں آکھڑے ہوئے اور اسلام سے زیادہ نزدیک عیسائی ہیں“۔ ” مجھے اپنی جان کی قسم جیسے حضرت موسیٰ (علیه السلام) نے حضرت عیسیٰ (علیه السلام) کی نبوت کی بشارت دی تھی اس طرح حضرت عیسیٰ (علیه السلام) حضرت محمد (صلی الله علیه و آله وسلم) کے مبشر تھے ۔ ہم آپ کو اسلام کی دعوت دیتے ہیں جیسے آپ لوگوں نے تو ریت کے ماننے والوں کو انجیل کی دعوت دی تھی ۔ جو قوم پیغمبر ِ حق کو سنے اسے چاہئیے کہ اس کی پیروی کرے ۔ میں نے محمد کی دعوت آپ کی سر زمین پر پہنچا دی ہے ۔ مناسب یہی ہے کہ آپ اور مصری قوم یہ دعوت قبول کرلے “۔ حاطب کچھ عرصہ اسکندریہ ہی میں ٹھہراتاکہ رسول اللہ کے خط کا جواب حاصل کرے ۔ چند روز گزر گئے ۔ ایک دن مقوقس نے حاطب کو اپنے محل میں بلایا اور خواہش کی کہ اسے اسلام کے بارے میں کچھ مزید بتایا جائے ۔ حاطب نے کہا : ” محمد ہمیں خدائے یکتا کی پرستش کی دعوت دیتے ہیں اور حکم دیتے ہیں کہ لوگ روز و شب میں پانچ مرتبہ اپنے پروردگار سے قریبی رابطہ پیدا کریں اور نماز پڑھیں ، سال میں ایک ماہ روزے رکھیں، خانہ ٴ خدا( مرکز توحید) کی زیارت کریں، اپنے عہد و پیمان پورے کریں، خون اور مردار کھانے سے اجتنا ب کریں “۔ علاوہ از ایں حاطب نے پیغمبر اسلام کی زندگی کی بعض خصوصیات بھی بیان کیں ۔ مقوقس کہنے لگا: یہ تو بڑی اچھی نشانیاں ہیں ، میرا خیال تھا کہ خاتم النبیین سر زمین ِ شام سے ظہور کریں گے جو انبیاء کی سر زمین ہے ، اب مجھ پر واضح ہوا کہ وہ سر زمین ِ حجاز سے مبعوث ہوئے ہیں ۔“ اس کے بعد اس نے اپنے کاتب کو حکم دیا کہ وہ عربی زبان میں اس مضمون کا خط تحریر کرے :۔ محمد بن عبد اللہ ....... کی طرف قبطیوں کے بزرگ مقوقس.....کی جانب سے ” آپ پر سلام ہو ۔ میں نے آپ کا خط پڑھا ، آپ کے مقصد سے باخبر ہوا اور آپ کی دعوت کی حقیقت کو سمجھ لیا، میں یہ تو جانتا تھا کہ ایک پیغمبر ظہور کرے گا لیکن میرا خیال تھا کہ وہ خطہٴ شام سے مبعوث ہوگا ۔ میں آپ کے قاصد کا احترام کرتا ہوں ۔“ پھر خط میں ان بدیوں اور تحفوں کی طرف اشارہ کیا جو اس نے آپ کی خدمت میں بھیجے ۔ خط اس نے ان الفاظ پر تمام کیا ۔ ” اور آ پ پر سلام ہو“( مکاتیب رسول ، صفحہ ۱۰۰) تاریخ میں ہے کہ مقوقس نے کوئی گیارہ ہدیے پیغمبر اکرم کے لئے بھیجے ۔ تاریخ اسلام میں ان کی تفصیلات موجود ہ ہیں ۔ ان میں سے ایک طبیب بھی تھا تاکہ وہ بیمار ہونے والے مسلمانوں کا علاج کرے ۔ نبی اکرم نے دیگر ہدیے تو قبول فرمالیے لیکن طبیب کا قبول نہ کیا اور فرمایا : ” ہم ایسے لوگ ہیں کہ جب تک بھوک نہ لگے کھانا نہیں کھاتے اور سیر ہونے سے پہلے کھانے سے ہاتھ روک لیتے ہیں ۔ یہی چیز ہامری صحت و سلامتی کے لیے کافی ہے ۔ شاید صحت کے اس عظیم اصول کے علاوہ پیغمبر اسلام اس طبیب کی وہاں موجودگی کو درست نہ سمجھتے ہوں کیونکہ وہ ایک متعصب عیسائی تھا لہٰذا آپ نہیں چاہتے تھے کہ اپنی اور مسلمانوں کی جان کا معاملہ اس کے سپرد کردیں ۔ مقوقس نے جو سفیر پیغمبر کا احترام کیا ، آپ کے لیے ہدیے بھیجے اور خط میں نام محمد اپنے نام سے مقدم رکھا یہ سب اس بات کی حکایت کرتے ہیں کہ اس نے آپ کی دعوت کو باطن میں قبول کرلیا تھا یا کم از کم اسلام کی طرف مائل ہوگیا تھا ۔ لیکن اس بناء پر کہ اس کی حیثیت اور وقعت کو نقصان نہ پہنچے ظاہری طور پر اس نے اسلام کی طرف اپنی رغبت کا اظہار نہ کیا ۔