وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ
He will teach him the Book and wisdom, the Torah and the Evangel,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:48
[Pooya/Ali Commentary 3:48] "Allah taught Isa the book and wisdom, and the Tawrat and the Injil" brings up the question as to when Isa received the education promised in this verse. In the light of verse 46 of this surah, he was sent into this world with the knowledge of the book and wisdom, the Tawrat and the Injil. All the Muslims know and acknowledge that the Holy Prophet, the seal of prophethood, is the superior-most prophet of Allah, the chief of all the prophets, whose advent has been continuously promised by Allah long before the birth of Isa-see Deuteronomy 18: 5, 15, 18 and 19 text of which has been mentioned in the commentary of al Baqarah: 253, wherein is also mentioned that which Isa said about the advent of the Holy Prophet (the comforter, the spirit of truth) John: 14: 16, 17; 15: 26; 16: 7 to 13. Is there any sense in saying that the Holy Prophet was an illiterate who acquired whatever learning he had from ordinary mortals, when Isa came into this world endowed with divine knowledge? Please refer to the commentary of al Baqarah: 78. All Muslims should feel ashamed to believe in the lie that the Holy Prophet took fright at the sight of angel Jibrail on the mountain of Hira; he returned home scared stiff; his wife, Khadija al Kubra, consoled him and took him to Warqa bin Nawfil, a Christian, who informed him that prophethood had been bestowed on him, because it was not a devil that he saw on the mountain of Hira but an angel. May Allah forgive them for believing in such nonsense which the devil must have invented to lead the so-called Muslims astray. Please refer to verses 1 to 4 of al Rahman wherein it is said that Allah, the beneficent, Himself taught the Quran to the Holy Prophet, described as the MAN, the divinely perfected ideal man, to be followed by every man who desires to be a real human being. The Holy Prophet has said: I was a prophet when Adam was yet amidst water and clay. The birth of Isa was a miracle. He lived a godly life, exposed the hypocrisy and corruption of the Jews, and gave the glad tidings of the advent of the Holy Prophet. Please also refer to verses 27 to 34 of Maryam which confirm that which has been stated in verses 46 and 48 of this surah. Aqa Mahdi Puya says: Isa, a muta-allim (student), was taught the book and wisdom, the Tawrat and the Injil and sent to the children of Israil as a prophet, whereas the Holy Prophet, endowed with the divine wisdom, and knowledge of all creation, with the Quran, was sent as the last prophet to all those who are born to women (ummi), all the human beings including the Jews, the Christians and those who do not follow any heavenly scripture, to rehearse to them the divine signs, to purify them and to teach them.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:48-49
کیا یہ معجزات باعث تعجب ہیں ؟
تفسیر المنار کے موٴلف اور دیگر مفسرین مصر ہیں کہ آیت بالا میں مذکور معجزاتی امور جو حضرت مسیح (ع) کے بارے میں قرآن میں بیان کئے ہیں کی کچھ نہ کچھ تو جیہ کی جانا چاہئیے ۔ مثلاً وہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی (ع) نے تو فقط دعوی کیا تھا کہ میں حکم خدا سے ایسا کر سکتا ہوں لیکن عملی طور پر یہ کام ہر گز انجام نہیں دئے ، حالانکہ کہ اگر فرض کریں اس آیت میں یہ احتمال ہو پھر بھی سورہٴ مائدہ آیہ ۱۱۰ میں ہے : ” و اذ تخلق من الطین کھیئة الطیر“ (اے عیسیٰ )خد اکی نعمتوں میں سے ایک نعمت تم پر یہ بھی تھی کہ تم گیلی مٹی سے پرندہ بناتے تھے ، اس میں پھونکتے تھے اور وہ حکم خدا سے زندہ ہوجاتا تھا ۔ لہٰذا مندرجہ بالا دلیل قابلِ قبول نہیں کیونکہ سورہٴ مائدہ کی مذکورہ آیت تو پوری صراحت سے ان کے عملاً کر گزر نے کا ذکر ہے ۔ علاوہ از ایں ایسی تو جیہات پر اصرار کے لیے کویہ وجہ بھی نہیں کیونکہ اگر مراد انبیاء کے خارق عادہ افعال کا انکار ہے تو قرآن نے بہت سے مواقع پر اس کی تصریح کی ہے اور بالفرض ایک آدھ جگہ پر توجیہ کربھبی لیں تو بقیہ مواقع پر کیا کریں گے ۔ اس سب پہلووٴں سے صرف نظر کرتے ہوئے جب ہم خدا کو تمام قوانین فطرت و طبیعت پر حاکم جانتے ہیں نہ کہ ان کا محکوم تو پھر کیا مانع ہے کہ اس کے حکم سسے استثنائی مواقع پر طبیعت کے معمول کے قوانین میں غیرمعمولی طریقے سے تبدیلی وقوع پذیر ہوجائے ۔ اگر وہ یہ تصور کرتے ہیں کہ یہ امر خد اکی توحید افعالی، اس کی خالقیت اور لاشریک ہونے کے ساتھ ساز گار نہیں تو قرآن نے اس کا جواب دیا ہے کہ کیونکہ تمام جگہوں پر ان قاعات کے وقوع کو حکم خدا سے مشروط دیا ہے یعنی کوئی شخص بھی اپنی ذاتی قوت و طاقت کے ذریعے ایسے ایسے کاموں میں ہاتھ نہیں ڈال سکتا مگر یہ کہ خدا اور اس کی بے پایاں قدرت کو منظور ہو اور یہ عین توحید ہے شرک نہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:48-49
ولایت تکوینی
اس آیت اور اس سے مشابہ دیگر آیات جن کے بارے میں ہم انشاء اللہ اشارہ کریں گے ۔ سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کے بھیجے ہوئے افراد اور اولیاء اللہ اللہ کے فرمان اور اذن سے بوقت ضرورت عالم تکوینی و اافرینش میں تصرف کرسکتے ہیں اور خلاف معمول اور طبیعی قوانین سے ہٹ کر کچھ واقعات کو جنم دے سکتے ہیں ” ابرء “ شفا دیتا ہوں (” حی الموتی ٰ “) ( مردوں کو زندہ کرتا ہوں ) اور اس قسم کے دیگر الفاظ جو فعل متکلم کی صورت میں ذکر ہوئے ہیں، اس بات کی دلیل ہیں کہ اس قسم کے افعال خود پیغمبروں سے صادر ہوتے ہیں اور ان عبارات کو انبیاء کی دعائیں قرار دینا بلا دلیل دعوی ٰہے ۔ ان عبارات کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ وہ عالم تکوینی میں تصرف کرتے تھے اور ان واقعات کو عالم وجود میں لاتے تھے ۔ زیادہ سے زیادہ اس چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ کوئی شخص یہ تصور نہ کرے کہ خڈا کے انبیاء و اولیاء ذاتی طور پر صاحب استقلال تھے اور ان کی کوئی قدرت خدا کی قدرتِ خلقت کے مقابل تھی نیز دوگانہ پرستی کے احتمال کو بر طرف کر نے کے لئے چند مواقع پر ” باذن اللہ “۔ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ( محل بحث آیت میں دو مرتبہ اور سورہ مائدہ کی آیت ۱۱۰(ع) میں چار مرتبہ ” بان اللہ “ کا تکرار ہے ) ۔ ولایت تکوینی سے بھی اس کے علاوہ کچھ مراد نہیں کہ انبیاء اور آئمہ علیہم السلام ضرورت کے وقت اذن پروردگار سے عالم خلقت میں تصرفات کرسکتے ہیں اور یہ چیز ولایت تشریعی یعنی عوام پر حکومت ، قوانین کی نشر و اشاعت اور براہ راست دعوت و ہدایت کرنے سے بالاتر ہے ۔ جو کچھ کہا جا چکا ہے اس سے ان لوگوں کا جواب بھی اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے جو مردان خدا کی ولایت تکوینی کے منکر ہو جاتے ہیں اور اسے شرک کی ایک قسم سمجھتے ہیں کیونکہ کوئی شخص بھی حضرات انبیاء اور آئمہ علیہم السلام کو خدا کے مقابلے میں صاحب قدرت نہیں سمجھتا ۔ وہ حضرات یہ سب کام خدا کے فرمان اور اس کی اجازت سے انجام دیتے ہیں لیکن ولایت تکوینی کے منکر یہ کہتے ہیں کہ انبیاء کا کام صرف تبلیغ احکام اورخدا کی طرف دعوت دینا ہے اور کبھی کبھی وہ بعض امور تکوینی کی انجام دہی کے لیے دعا سے استفادہ کرتے ہیںاوراس سے زیادہ ان سے کوئی کام نہیں ہو سکتا حالانکہ مندرجہ بالاآیت اور اس کے مشابہ دیگر آیات کچھ اور کہتی ہیں ۔ ضمنی طور پر مندرجہ بالا اایت سے معلوم ہوتا ہے کہ کم از کم انبیاء کے بہت سے معجزات تو ایسے افعال ہیں جو خود انہی کے ذریعے انجام پاےتے ہیں اگر چہ وہ فرمان خدا کے تحتاور خدائی طاقت کی مدد سے ہوتے ہیں ، اس لئے حقیقت میں کہا جاسکتا ہے کہ معجزہ انبیاء کا فعل بھی ہے کیونکہ ان کے ذریعے انجام پاتا ہے اور خدا کا کام بھی ہے کیونکہ پروردگار کی قدرت سے مدد طلب کرتے ہوئے اور ا س کے اذن سے انجام پاتا ہے ۔1 ۵۰۔وَمُصَدِّقًا لِمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنْ التَّوْرَاةِ وَلِاٴُحِلَّ لَکُمْ بَعْضَ الَّذِی حُرِّمَ عَلَیْکُمْ وَجِئْتُکُمْ بِآیَةٍ مِنْ رَبِّکُمْ فَاتَّقُوا اللهَ وَاٴَطِیعُونِِ۔ ترجمہ ۵۰۔ اور میں تصدیق کرتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں اس کی جو تورات میں مجھ سے پہلے تھا اور ( میں آیا ہوں تاکہ ) بعض چیز یں جو ( ظلم و گناہ کی وجہ سے) تم پر حرام تھیں (جیسے بعض چوپایوں کا گوشت اور مچھلیاں ) انہیں حلال کروں اور تمہارے پرورداگر کی طرف سے تمہارے لیے نشانی لایا ہوں ۔ اس لیے تم خدا سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ۔ 1.لہٰذا یہی صورت آئمہ ٴ ہدیٰ علیہم السلام کے بارے میں ہے ( مترجم ) ۔