قَالَتْ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ قَالَ كَذَلِكِ اللَّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ
She said, ‘My Lord, how shall I have a child seeing that no human has ever touched me?’ He said, ‘So it is that Allah creates whatever He wishes. When He decides on a matter He just says to it ‘‘Be!’’ and it is.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:47
[Pooya/Ali Commentary 3:47] Anna means "how", used by Maryam to express her surprise or curiosity as Zakariyya did in verse 40 of this surah. There is no room for translating anna as "when" in both the events. Lam yamsasni basharun (when no man has touched me) clearly shows that the news of the forthcoming birth of Isa was given to Maryam in her state of virginity, which was going to take place without the agency of a male partner, suspending the natural process necessary for a woman to conceive a child. As stated in the preceding verse the Ahmadi commentator overlooks and takes no notice of the clear words of this verse and makes desperate attempts to put forward his outlandish theory that though the Quran does not mention the name of Isa's father but as Maryam had other children (the four gospels in which this is stated are inauthentic and come in the category of folklore, therefore, should be rejected in view of the verses of the Quran) there should have been a man who had begotten Isa. By stating that Maryam was not a virgin he belies verses 42, 45, 46 and 47 Of this surah and verses 17 to 22 of Maryam wherein it is clearly mentioned that Isa was a gift from Allah given to Maryam when she, surprised, asks the angel: "How can there be a son (born) to me when no man has touched me?" In between the lines the Ahmadi commentator has tried to tell the Muslims that the reporting of the Quran is incredible, therefore, false, and Maryam's statement (lam yamsasni basharun) is a lie, which has not been exposed in the Quran because Allah does not know what she had been doing secretly. The reasons for this mischief-making has been given in the commentary of the preceding verses 45 and 46. One of the reasons for revealing these verses was to counter and squash doubts and misgivings that people may have and express so as not to believe in the possibility of the birth of a child (Isa) to a virgin female (Maryam) without a male partner, otherwise if Isa was to be born in the ordinary course of nature, there should have been no necessity to mention these events at all. Aqa Mahdi Puya says: The religion of Allah, Islam, emphatically states that Maryam, the mother of Isa, was a virgin. She did not have any kind of sexual relation with any man before or after the birth of Isa and remained a virgin in the strict sense of the word till she departed from this world, as has been mentioned in verse 12 of al Tahrim that Maryam, the daughter of Imran, guarded her chastity, and Allah breathed into her His spirit (Isa), and she was an obedient servant of Allah, and she testified the truth of the words of her Lord-she neither lied nor kept anything hidden, because, as Allah says, she was truthful. Kadhalikallahu yakhlaqu ma yasha (even so Allah creates whatsoever He wills) refers to the process of creation in which the principal active factor is His will or command-Ali ibna abi Talib has said that kun (be) is not a sound or voice which the ear receives and hears, but Allah's word is His work which takes effect at once whenever He wills. In this sense every creature is the result of His creative word or the manifestation of the imperative word kun (be); therefore, every creature is the word of Allah. The obvious inequality in the creatures is due to the variance in presentation of His notion and attributes by each creature.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:47
اوصاف مسیح
جو افراد خدا طرف سے لوگوں کی پدایت کے لیے مامور ہوتے ہیں ان کے لئے ضروری ہے کہ پہلے مرحلے میں علم دانش کے ذریعے لوگوں کو دعوت دیں ، اور زندہو انسان ساز آئین و قوانین پیش کریں ۔ پھر دوسرے مرحلے میں خدا سے اپنے ارتباط کے لیے واضح اسناد دکھائیں اور یوں خدا کی طرف سے اپنے منصوب ہونے کا ثبوت پیش کریں ۔ اس مقصد کے لئے ہر پیغمبر اپنے زمانے کے ترقی یافتہ علوم کی قسم کے معجزے سے لیس ہوتاتھا کہ جہان ماوراءء طبیعت سے ان کا ارتباط زیادہ واضح ہوجائے اور ہر زمانے کے علماء ان کے مقابلے میں اپنے عجز کی وجہ کی وجہ سے ان کی دعوت کی حقانیت کا اعتراف کریں ۔ یہ بات ایک حدیث میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے منقول ہے ۔ ان سے سوال کیا گیا تھا : ہر پیغمبر کے پاس کچھ نہ کچھ معجزات کیوں ہوتے ہیں ، اس سوال کے جواب میں آپ (ع) نے وضاحت فرمائی جس کا خلاصة کچھ یوں ہے : حضرت موسیٰ کے زمانے میں جادو گر بہت زیادہ تھے ۔ حضرت موسیٰ (ع) نے ایسا عمل انجام دیا جس کے مقابلے میں تمام جادو گر عاجز آگئے ۔ حضرت مسیح (ع) کے زمانے اور دعوت موقع پر اطباء بیماروں کے علاج کے معالجے میں بہت مہارت رکھتے تھے ۔ جناب عیسیٰ (ع)نے لا علاج بیماروں کو مادی وسائل کے بغیر شفا دیکر اپنی حقانیت کو ثابت کردیا ۔ پیغمبر اسلام کے زمانے میں خطباء ، شعراء اور سخنور بہت زیادہ فصاحت و بلاغت کے مالک تھے اور اب سب نے قرآنی فصاحت و بلاغت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ۔ ۱ مندرجہ بالا آیت میں حضرت مسیح (ع) کی ماموریت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ۔ خدا وند عالم نے پہلے فرمایاہے : خدا نے اسے کتاب و حکمت کی تعلیم دی (” ویعلمہ الکتاب و الحکمة۔ “ اور اس کے بعد کتاب وحکمت کے مصداق کی نشاندھی کی گئی ہے ۔ فرمایا : تو ریت و انجیل سکھائی (” و التوراة و الانجیل “۔؛) اس کے بعد بنی اسرائیل کے منحرف لوگوں کی ہدایت کے لیے ان کی ماموریت کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کیونکہ وہ ان دنوں طرح طرح کے خرافات ، آلودگیوں اور اختلافات میں گرفتار تھے ، فرمایا: ” و رسولا ً الیٰ بنی اسرآئیل “۔ یہ بات قابل ذخر ہے کہ مندرجہ بالا آیت سے ابتداء میں یہ لگتا ہے کہ حضرت عیسیٰ کے ذمہ صرف بنی اسرائیل کو دعوت دیتا تھالیکن یہ ان کے اوالعزم ہونے کی نفی نہیں ہے کیونکہ اولو العزم پیغمبر وہ ہے جو نیا دین و آئین لے کر آئےاگر چہ اس کی مامویت عالمی نہ ہو ۔ تفسیر نو الثقلین میں حضرت عیسیٰ (ع) کی ماموریت عالمی تھی اور نبی اسرائیل میں منحصر ماموریت کے بارے میں ایک روایت بھی منقول ہے ۔ ۲ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ حضرت عیسیٰ کی ماموریت عالمی تھی اور بنی اسرائیل میں منحصر نہ تھی ۔ البتہ وہ کہتے ہیں کہ جن کی ہدایت ان کے ذمے تھی ان میں بنی اسرائیل پہلی صف میں تھے ۔ مرحوم علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں اولو العزم کے معنی میں رویات نقل کی ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی دعوت جہانی اور پوری دنیا کے لیے ہونی چاہئیے ۔ ۳ در حقیقت انبیاء کی دعوت زندگی کی طرف دوعت ہے اس لئے مندرجہ بالاآیت میں حضرت مسیح (ع) کے معجزات کی تفصیل کے موقع پر سب سے پہلے حکم خدا سے بے جان چیزوں میں زندگی پید اکرنے کا تذکرہ ہے اور حضرت عیسیٰ (ع) کی زبا نی فرمایا گیا ہے ۔ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے لیے نشانی لایاہوں ، میں گیلی مٹی سے پرندے کی شکل کی کوئی چیز بناتاہوں اور اس میں پھونکتا ہوں تو وہ حکم خدا سے پرندہ بن جاتا ہے ۔ حکم خدا سے ایجاد حیات کا مسئلہ کوئی پیچیدہ مسئلہ نہیں ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ دنیا کے تمام زندہ موجودات مٹی اور وجود میں آئے ہیں ، زیادہ سے زیادہ اسے تدریجی تحول و تغیر کہہ سکتے ہیں اور یہ تبدیلی عرصہ دراز میں وقوع پذیر ہے تو کای مانع ہے کہ خدا تعالیٰ تمام عوامل کو جمع کردے اور وہ تمام مراحل تیزی سے صورت پذیر ہو جائیں اور مٹی زندہ موجود میں بدل جائے ، جبکہ یہ معجزہ پیش کرنے والے کا ربط ماواء الطبیعات اور پروردگار کی لامتناہی قدرت کے ساتھ ہے ۔ اس کے بعد ان بیماروں کے علاج کا تذکرہ ہے جن کا علاج بہت مشکل ہے یا جو معمول کے طریقوں سے قابلِ علاج نہیں ہیں ۔ ارشاد ہوتا ہے : میں مادرزاد اندھے اور ابرص ، ( برص اور سفید داغ والی بیماری میں مبتلا لوگوں کا علاج کرسکتا ہوں اور مردوں کو بھی لباسِ حیات پہناسکتا ہوں ۔ واضھ رہے کہ یہ امور خصوصاً اس زمانے کے اطباء اور علماء کے لیے ناقابل انکار معجزات تھے ۔ بعد کے مرحلے میں لوگوں کے پوشیدہ اسرار کی خبر دینے کی بات کی گئی ہے کیونکہ ہر شخص کی اپنی انفرادی اور شخصی زندگی سے کچھ ایسے اسرار اور راز ہوتے ہیں جن سے دوسرے لوگ آگاہ نہیں ہوتے ۔ اب اگر کوئی شخص کسی قسم کے سابقہ روابط کے بغیر ایسے امور کی اطلاع دے دے مثلا ً جو کھانے انہوں نے کھا ئیں ہیں ان کی خبر دے یا جو کچھ انہوں نے پس انداز کر رکھا ہے اس کی تمام تفصیلات بتادے تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اس نے غیبی منبع و مصدر سے الہام حاصل کیا ہے ۔ جناب مسیح (ع) کہتے ہیں ؟: میں ان امور سے آگاہ ہوں او ر تمہیں ان کی خبر دیتا ہوں ۔:۔ ”وَاٴُنَبِّئُکُمْ بِمَا تَاٴْکُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِی بُیُوتِکُمْ“ آخر میں فرمایا گیا ہے : ان تمام چیزوں میں تمہارے لئے نشانیاں ہیں اگر تم صاحب ایمان ہوں اور حقیقت کے متلاشی ہو:۔ ”إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَةً لَکُمْ إِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنینَ ۔“