قَالَ رَبِّ اجْعَل لِّي آيَةً قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًا وَاذْكُر رَّبَّكَ كَثِيرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِيِّ وَالْإِبْكَارِ
He said, ‘My Lord, grant me a sign.’ Said He, ‘Your sign is that you will not speak to people for three days except in gestures. Remember Your Lord much, and glorify Him morning and evening.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 3:41
[Pooya/Ali Commentary 3:41] Owing to his curiosity to know as to when a son will be born in spite of their natural disability, Zakariyya had asked the Lord to appoint a sign for him. "You will not speak to men for three days" was the sign given to him. "You will lose your power of speech, and remain silent until the day when these things happen to you." (Luke 1: 20) The verb tukallima is in a tense which is used for the present and the future. It is wrong to translate la tukallima as "you should not speak." "You will not speak" is the true translation as explained by Aqa Mahdi Puya in the following note. Aqa Mahdi Puya says: In reply to Zakariyya's request for a sign which could let him know that his wife was blessed with a child, the almighty Lord gave him the sign that he would not be able to talk to the people whilst being fully occupied with remembrance and praise and glorification of Allah, day and night. The command was to remember Allah and glorify Him all the time. So it was obvious that a prophet of Allah, while carrying out his Lord's command, would not find time to speak to the people at all, otherwise there was no restriction on uttering words from the mouth. Praise and glorification of Allah takes man into the pure domain of spiritualism through which he overcomes physical disabilities and obstacles, and obtains grace and blessings of Allah. The laws of nature, known to man, can be controlled, modified or altered by the spiritual and divine agency. It is said that through the science of hypnosis the will of the living being can be controlled, then how can one deny the superior power of the spirit which can effect any change in any natural phenomenon?
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:41
حضرت یحییٰ کی ولادت کی بشارت
یہاں حضرت زکری(ع) حضرت یحییٰ کی ولادت کی بشارت پر کسی نشانی کی درخواست کرتے ہیں ۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اس عجیب و غریب واقعہ پر حضرت زکریا (ع) کا اظہار تعجب اور پروردگار سے کسی نشانی کا تقاضا کسی طرح سے بھی اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر بے اعتمادی کی دلیل نہیں ہے ۔ خصوصاً جب کہ ” کذٰلک اللہ یفعل من یشآء “۔ ( اسی طرح خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے ) کہہ کر بشارت الہٰی کی تاکید بھی کی جاچکی ہے ۔ حضرت زکریا (ع) چاہتے تھے کہ اس امرسے ان کا ایمان ، ایمان شہودی کا درجہ حاصل کرلے ۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کا دل ایمان سے مالا مال ہو جائے جیسے حضرت ابراہیم (ع) نے مشاہدہ حسّی کے ذریعے اطمینان کے حصول کی خواہش کی تھی ، وہ بھی اس مرحلے تک جاپہنچیں ۔ ”قَالَ آیَتُکَ اٴَلاَّ تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلاَثَةَ اٴَیَّامٍ إِلاَّ رَمْزًا “۔ ” رمز “ اصل میں ہونٹوں سے اشارہ کرنے کو کہتے ہیں ۔ آہستہ آہستہ کی جانے والی گفتگو کو بھی ” رمز “ کہتے ہیں ۔ تدریجاً ” رمز “ کے مفہوم میں وسعت پیدا ہو گئی ہے اور اب ہر ایسی بات، اشارہ اور نشانی کو رمز کہا جا نے لگا ہے جو صریح اور مخفی طور پر ہو ۔ خدا تعالیٰ نے حضرت زکریا (ع) کی یہ درخواست بھی قبول فرمالی اور ان کے لئے ایک نشانی مقرر فرمائی گئی کہ ان کی زبان کسی طبیعی عامل کے بغیر تین دن کے لئے بے کار ہو گئی ۔ وہ عام گفتگو نہ کرسکتے تھے لیکن خدا تعالیٰ کے ذکر اور اس کی تسبیح کے وقت ان کی زبان بغیر کسی تکلیف کے کام کرتی تھی ۔ یہ عجیب و غریب کیفیت تمام امور پر اللہ کی قدرت کے لئے ایک نشانی تھی ۔ وہ خدا جو بندزبان کو اپنے ذکر کے وقت کھول دینے کی طاقت رکھتا ہے وہ یہ قدرت بھی رکھتا ہے کہ کسی بانجھ رحم سے ایک ایسا بایمان بچہ پیدا کردے جو ذکر پر وردگار کا مظہر ہو اسی سے اس نشانی کا اس چیز سے ربط ظاہر ہوجاتا ہے جو حضرت زکریا (ع) چاہتے تھے ۔ یہی مضمون سورہ ٴ مریم کی ابتدائی آیات میں بھی ہے ۔ ممکن ہے اس نشانی میں ایک اور نکتہ پنہاں ہو اور وہ یہ کہ اس مسئلے میں جناب زکریا (ع) کا زیادہ اصرار اور نشانی کا تقاضا اگر چہ فعل حرام اور مکروہ نہ تھا لیکن بہرحال ترکِ اولیٰ سے کچھ مشابہ ضرور تھا اسی لئے خداتعالیٰ کی طرف سے ایسی نشانی دی گئی جو قدرت نمائی بھی تھی اور ترک اولیٰ پر تنبیہ اور اشارہ بھی تھا ۔ یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے کہ کیا پیغمبروں کی زبان کی بندش ان کے مقام نبوت اور تبلیغی فریضے سے مناسبت رکھتی ہے ؟ اس سوال کا جواب زیادہ مشکل نہیں کیونکہ یہ بات اس وقت فریضہ نبوت سے مناسبت رکھتی جب اس کا عرصہ طویل ہوتا، ایسی تھوڑی سی مدت جس میں پیغمبر اپنی امت سے الگ ہو کر عبادت ِخدا میں مشغول رہے تو کچھ غیر مناسب نہیں جبکہ وہ اس مدت میں بھی ضروری امور اشارے سے بتا سکتے تھے یا آیاتِ خدا کے ذریعے حقائق سمجھا سکتے تھے کیونکہ آیا ت خدا تو ذکر پروردگار شمار ہوتی تھیں اور اتفاق کی بات ہے کہ ا نہوں نے یہ کام بھی اور اشارے سے لوگوں کو ذکر خدا کی تبلیغ کی ۔ ” وَاذْکُرْ رَبَّکَ کَثِیرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَالْإِبْکارِ“۔ ”لفظ ”عشی“ عموماً”دن کے آخری لمحات“کےلئے استعمال ہوتا ہے جیسے ” دن کی ابتدائی گھڑیوں“کو ”اِبکار “ کہتے ہیں اور بعض کا نظریہ ہے کہ ابتدائے زوال سے لے کر غروب آفتاب تک ” عشی “ ہے اور طلوع فجر کی ابتداء سے لے کر زوال تک ”اِبکار“ ہے ۔ (”المصحف المفتر“از فرید وجدی ، محل بحث آیت کے ذیل میں ۔لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں یہ دونوں لفظ زیادہ تر پہلے معانی کے لئے استعمال ہوتے ہیں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 3:41
حضرت زکری(ع) کا تعجب اور حیرانی کس بناء پر تھی
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضرت زکری(ع) کا تعجب اور حیرانی کس بناء پر تھی جبکہ خدا تعالیٰ کی بے پایاں قدرت پر بھی ان کی نظر تھی ۔ قرآن کی دیگر آیات پر نظرکرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ حضرت زکریا (ع) معلوم کرنا چاہتے تھے کہ ایک بانجھ عورت جو کئی سال سے ماہانہ عادت بھی چھوڑ چکی تھی اس کے ہاں بچہ پیدا ہونا کیونکر ممکن ہ ، اس میں کیا تغیر و تبدل ہو گا کیا پھر سے جوان یا ادھیڑ عمر کی عورتوں کی طرح انہیں ماہواری آنے لگے کی یاوہ کسی اور طرح سے بچے کی پیدائش کے قابل ہو جائے گی ۔ ععلاوہ از ایں قدرتِ خدا وندی پر ایمان شہود اور مشاہدے سے الگ چیز ہے ، حضرت زکریا (ع) در اصل چاہتے تھے کہ ایمان درجہٴ شہادت تک پہنچ جائے ۔ یہ بات حضرت ابراہیم (ع) کے پرندوں کے واقعے سے ملتی جلتی ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا معاد اور قیامت پر ایمان تو تھا لیکن وہ اس طرح اطمینان حاص کرنا چاہتے تھے ۔ یہ فطری امر ہے کہ انسان جب طبعی قوانین کے خلاف کسی امر کا سامنا کرتا ہے تو وہ غور و فکر میں پڑجاتا ہے اور اسے خواہش ہوتی ہے کہ اس کےلئے کوئی حسیِ دلی حاصل کرے ۔ ۴۱۔ قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِی آیَةً قَالَ آیَتُکَ اٴَلاَّ تُکَلِّمَ النَّاسَ ثَلاَثَةَ اٴَیَّامٍ إِلاَّ رَمْزًا وَاذْکُرْ رَبَّکَ کَثِیرًا وَسَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَالْإِبْکارِ۔ ترجمہ ۴۱۔ ( حضرت زکری(ع) نے ) عرض کیا : پروردگار! میرے لئے کوئی نشانی مقرر فرما ۔ ( خدا نے کہا ): تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ تو تین دن تک لوگوں نے اشارے سے گفتگو کرسکے گا ( اور تیری زبان بغیر کسی ظاہری سبب کے لوگوں سے بات نہیں کرپائے گی) اور (اس عظیم نعمت پر شکرانے کے طور پر) اپنے پروردگار کو بہت یاد کرو اور صبح شام اس کی تسبیح کرو ۔